Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فلک نور کیس: اب بھی راستہ ہے – خاطرات:امیرجان حقانی

Posted on
شیئر کریں:

فلک نور کیس: اب بھی راستہ ہے – خاطرات:امیرجان حقانی

فلک نور اور فرید کا کیس عدالت کے ذریعے منطقی انجام کو پہنچ گیا. اللہ نہ کرے کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ یہ معاملہ ہو، ایسی کسی سیچوئیشن کی  نوبت ہی نہ آجائے. اولاد بالخصوص بچیوں کی ترتیب و نگرانی کا کڑا خیال رکھا جانا چاہیے. عورت ذات بہر حال جلدی جھانسے میں آجاتی ہے. اور اگر وہ کم عمر بھی ہو تو جلدی ٹریپ میں آجاتی ہے.

 

falak noor gilgit baltistan

 

اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر کیا کیا جائے. یعنی لڑکی اپنی مرضی سے کسی کیساتھ جاکر نکاح کرتی ہے  تو

پہلی صورت:

پہلی صورت میں لڑکا لڑکی کے والدین اور سرپرست کوشش کریں کہ کیس کو اچھالنے کی بجائے باہمی افہام و تفہیم سے، لڑکا لڑکی کی خواہش کا احترام کرکے، شریعت کے احکام کے مطابق ان کو زندگی گزارنے دیں. اس حد سے گزرنے کے بعد مزید روڑے اٹکانے سے گریز بہتر ہے.

دوسری صورت:

دوسری صورت جرگہ کے ذریعے معاملات نمٹا دیے جائیں. یہ بھی ہمارے ہاں روایتی طریقہ کار ہے. تمام مکاتب فکر کے ہاں جرگہ کے ذریعے معاملات نمٹانے کی شکلیں موجود ہیں. ہمارے جی بی میں اسکی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں.

تسیری صورت:

تیسری صورت نظم، قانون اور عدالت کا راستہ اختیار کیا جائے. سسٹم سے مدد لی جائے. یہ والا راستہ مشکل، مہنگا اور جان جوکھوں والا ہے. ہمارا انتظامی اور عدالتی سسٹم کوئی مثالی نہیں، نہ اس سے خیر کی توقع کی جاسکتی ہے. بہر حال ایک راستہ ہے.

چوتھی صورت:

چوتھی صورت عموماً دشمنی، قتل اور اسی شکل میں بدلہ کی ہوتی ہے. بہر حال اس آخری صورت کی نہ شرع اجازت دیتی ہے نہ ملکی سسٹم. اور نہ ہی اس میں خیر ہے. اس سے گریز بہتر ہے.

یہاں تک فلک نور اور فرید کا معاملہ ہے. کسی بھی سنجیدہ فکر انسان نے اس کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کرنے کی گنجائش موجود ہے. اللہ کسی باپ بھائی کو یہ دن نہ دکھلائے.
اب قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ ہوا ہے سب کو قبول کرنا چاہیے. مزید اس سماجی ناسور اور گندگی کو کریدنے کی ضرورت نہیں. جتنا کریدا جائے اتنا ہی بدبو نکلے گا اور کچھ نہیں.

تاہم اگر فلک نور اور اسکا شوہر فرید عالم اور اسکی  فیملی چاہیے تو اب بھی اس تباہی اور بدنامی کا ازالہ ہوسکتا ہے. یہ بدبو کسی حد تک ختم ہوسکتی ہے.
اگر فرید کے والدین اور پوری فیملی خواتین سمیت فلک نور کے والد کے گھر معافی تلافی کے لیے پہنچ جائیں. ان کے گھر، جرگہ بھیج دیں. غلطی کا احساس کریں اور معیاری طریقے سے ازالہ کی کوشش کریں، فلک نور اور فرید عالم بھی ان کے پاؤں پڑ کر معافی مانگ لیں اور اپنی غلطی اور جلدبازی پر  کھلے دل سے معافی مانگ لیں تو بعید نہیں کہ فلک نور کا باپ اور دیگر فیملی والے ان کو معاف نہ کریں. معافی کے لیے گھر پہنچنے پر کئی کئی خون معاف کیے جاتے ہیں. یہ ہمارے رسول اللہ کا طریقہ بھی ہے اور ہماری قدیم روایت بھی.

مجھے معلوم نہیں کہ یہ فرید کون اور کہاں سے ہے. جو بھی ہے اگر یہ فیملی سمیت اپنے سسر اور ساس کے پاس معافی مانگنے کے لیے پہنچ جائے تو فلک نور کا باپ اور فیملی معاف بھی کریں گے اور دل سے قبول بھی کریں گے. اس سے خیر بھی برآمد ہوگا.
ورنا والدین کو ہرا کر ایسے رشتے دیرپا ثابت نہیں ہوتے ہیں. فلک نور اپنے والدین سے جیت گئی. قانون نے ان کا راستہ صاف کیا. اب وہ دل بڑا کرکے ایک دفعہ معافی مانگنے کے لئے اپنے شوہر اور اسکی فیملی لے کر پہنچ جائے.
کاش!
ایسا ہوجائے. ورنا اس رشتے کا انجام برا ہوگا. اس کا احساس اب فلک نور، فرید اور اس کی فیملی کو کرنا چاہیے. زندگی صرف محبت کی شادی کرنا اور کورٹ سے جیت جانے کا نام نہیں. اور نہ ہی والدین کو ہرانا ہے. والدین سے جیت جانے کا انجام بہت برا ہوتا ہے. زندگی یہی ہے کہ اپنی محبت پانے کے بعد جیسے تیسے والدین کو راضی کرنا اور اللہ کو بھی راضی کرنا ہے. والدین اور اللہ کو راضی کرنے کا اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ رو دھو کر ان سے معافی مانگ لی جائے.

ایک بات نوٹ کرنے کی ہے. والدین جتنے بھی سخت ہوں یا جتنے بھی ناراض ہو مگر وہ دل سے ناراض نہیں ہوسکتے اور بہت جلدی معاف کرجاتے ہیں. یہ خدا کی فطرت ہے کہ والدین کے دل میں اولاد کی بے تحاشا محبت ہوتی ہے. بے شک اولاد کا دل کہیں اور ہوتا ہے مگر والدین کا دل ہمیشہ اولاد کے لیے دھڑکتا ہے.

فلک نور بے شک تم نے اپنی محبت کو پا لیا. تم نے فرید کے لیے وہ کچھ کیا جو ایک کم عمر لڑکی یا کوئی خاتون سوچ بھی نہیں سکتی. والدین کا گھر چھوڑنا مذاق نہیں، مگر تم نے کرلیا. بوڑھے باپ کے آنسو تمہارا دل پسیج نہیں سکے، سوشل میڈیا کے ایکٹیوسٹ بھی تمہارا کیس ہار گئے. عدالتوں نے بھی آپ کے جذبات کا احترام کیا. میڈیا نے بھی آپ کی مدد نہیں کی تو مخالفت بھی نہیں کی.

فلک نور تمہاری محبت جیت گئی ہمارا سماج ہار گیا. تمہاری محبت جیت گئی ہماری روایات ہار گئیں. جی ہاں تمہاری محبت جیت گئی والدین کا مان ٹوٹ گیا، بھائیوں کا بھرم بکھر گیا. وہ زندگی بھر خجالت کا یہ داغ لیے پھریں گے. اور کیا پتہ کل تمہارے بچوں کو کوئی طعنہ دے کہ ” تمہاری ماں تو بھاگ کر آئی تھی”. ان بچوں پر کیا گزرے گی..؟

مانتے ہیں تم نے اپنی محبت کے لیے یہ سب کچھ کیا ہوگا، محبت نام ہی قربانی اور ایثار کا ہے. پر تم یہ سب سیدھے طریقہ پر بھی تو کرسکتی تھی نا. تمہارے والدین تو اتنے ریجڈ نہیں ہونگے نا؟ انہیں تو پرنس کریم آغا خان نے بیٹیوں کو پاور فل بنانے کے درس دیا تھا وہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں. تم ان سے بات کرلیتی، اپنے جذبات کنفیڈینس کیساتھ ان کے سامنے رکھ دیتی جیسے تم نے میڈیا اور کورٹ کے سامنے رکھا تو شاید کوئی با عزت راستہ نکل جاتا. لیکن تم نے وہ راستہ اپنا لیا جس سے والدین کی ناک کٹ گئی. تم والد /والدہ نہیں ہو نا اس لئے یہ درد محسوس کرنا فی الحال مشکل ہے. تمہارے ہاں تو بیٹیوں کی خوشی کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے.

چلیں!

تم جہاں بھی رہیو خوش رہیو، ہماری دعا ہے.

مگر ایک بات یاد رکھو!

تم سب کچھ جیت جانے کے بعد بھی تم ہار گئی ہو. تمہارا فرید ہارا ہے. اس کی فیملی ہاری ہے. عنداللہ بھی تم ہارے ہو اور عندالناس بھی تم ہارے ہو.
مگر ہاں تم جیت سکتے ہو. تم بوڑھے والدین سے بھی جیت سکتے. عنداللہ و عندالناس بھی جیت سکتے. اس کے لئے ایک دفعہ، جی ہاں صرف ایک دفعہ اپنی ضد، اکڑ، ہٹ دھڑمی اور  غلطی کا احساس کرکے معافی مانگنے کا راستہ نکال لو.

اے کاش! فلک نور، فرید اور اس کی فیملی اب یہ راستہ اختیار کریں.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
87392