Chitral Times

Feb 2, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تذکرہ ایک شعلہ بیاں مقرراورہردلعزیز لکھاری کا……. از پروفیسر حشمت علی کمال الہامی

Posted on
شیئر کریں:

شگفتہ گلابی چہرہ، رُخسار انارکلی، روشن روشن آنکھیں، اَبرؤں سے ذہانت پھوٹتی ہُوئی، لبوں کے اِبتسام میں کھِلتے ہُوے تازہ غنچے کی گُلکاری، چمکدار دانتوں کی روشنیاں سرخ ہونٹوں پر رقصاں، سر پر سجے ہُوے چمکیلے بالوں میں بائیں طرف ایسی مانگ جو صندل بھرنے کی مستحق ہو، ریش کی فصل سے کشت زارِ رُوئے مبارک پاک صاف، مناسب سبیل سے بالائی لب مزین، موزوں قدو قامت، رفتار و گفتار میں از حد کشش، سجیلا بدن، خوش لباس و خوش وضع، قرینوں اور سلیقوں کے دلدادہ، اِس دَورِ بے ساعت میں بھی بائیں کلائی پر نظر نواز خوبصورت گھڑی باندھے ہُوے، لطافت پسند، میٹھی میٹھی آواز، شیریں گفتار، ہر ادا نفاست سے بھرپور، سیروسیاحت کے از حد شوقین، اہلِ علم و فضل کے والہ و شیدا، اصحابِ قرطاس و قلم اور اربابِ فکرونظر کے از حد قدردان، ادبی زندگی جن کے لیے مایۂ اِفتخار، خُلق و مُروّت کے پیکر، کسی کا دِل توڑنا جن کی فطرت سے خارج، ہر طبقۂ زندگی سے تعلّق رکھنے والوں اور ہر طرح کی طبیعت کے مالک افراد کو مائل بہ کرم کرنا اُن کی خصوصی مہارت، کثیر المشرب، قلیل الھیجان، حوصلے جن کے کبیر، ہو سہائے نفسانی جن کے صغیر، مہرو اُلفت اور جذباتِ بے پناہ میں گرمی، جوشِ بے محابا میں بڑی سردی، انتھک اور وَلولہ انگیز نوجوان، شرافت اور وصنعداری کے پُتلے، جدید ترین رجحانات کا نمایندہ ہونے کے ساتھ ساتھ قدیم ترین روایات کے پختہ علم بردار، الواعظ مگر ادب و اخلاقیات، پیار، محبت، وفا اور اِنسان دوستی کے۔ شاعر مگر بے شعور اور ناآگاہ قابلِ رحم افراد میں شعور و آگہی اور دانائی کے لعل و جواہر کی افزائش کے لیے۔ نثرنگار مگر ابلاغِ خیروبرکت، ترسیلِ اسرار و رموزِ زندگی اور بندگئ خالقِ ذوالجلال کی خاطر۔ اعلیٰ منتظم، گہر بار مقرّر، بہترین دوست، اچھے معاشرتی فرد اور خوبصورت اُمنگوں سے بھرپور پیارے پیارے اِنسان۔ یہ ہے عبدالکریم کریمی کا مختصر شخصی خاکہ اور اُن کے سراپا کا خلاصہ۔

راقم ایک عرصے سے اوّلاً ہفت روزہ پھر روزنامہ ’’بادِشمال‘‘ میں مسلسل اور دیگر اخبارات میں گاہے بہ گاہے چھپنے والے اُن کے متفرق عنوانات پر مشتمل مضامین پڑھتا رہا تھا۔ اِس حوالے سے غائبانہ سرسری تعارف تھا۔ پھر یہ ہُوا کہ اگست 2007ء میں ایک دن اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ریسور اُٹھا کر جب استفسار کیا گیا تو ایک سُریلی آواز گونجی۔ اِس صدائے کوئل سے جواب آرہا تھا جناب! میں عبدالکریم کریمی ہوں۔ میں نے فوراً تصدیق مانگی کہ اچھا آپ وہی عبدالکریم کریمی تو نہیں؟ جو ’’بادِشمال‘‘ کے لیے ’’فکرونظر‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہتے ہیں؟ انہوں نے جی ہاں! جی ہاں! فرماکر میری پُرسش کی تائید کی۔ سلام و دُعا اور تعارفی تبادلۂ خیالات کے بعد مُدّعا بیان کرتے ہُوے وہ فرمانے لگے ’’پروفیسر صاحب! خارزارِ نثر کا ایک عرصے سے راہی ہوں جبکہ گلستانِ نظم کا نووارد ہُوں۔ ماضئ قریب میں جو کچھ مشقِ سخن کی ہے اُس کا مجموعہ چھاپنے کا خواہشمند ہوں۔ ایک عدد کمپوز شدہ مسوّدہ اگر اِجازت ہو تو آپ کی خدمت میں ارسال کروں، ایک ماہ بعد حاضر خدمت ہوکر آپ سے لے لوں گا۔ بس یہی گذارش ہے کہ از اوّل تا آخر نظرِمرحمت فرما کر ادبی فروگذاشتوں اور فنّی درماندگیوں کا ازالہ فرما کر نوک پلک سنوار دیجیئے گا۔‘‘ راقم نے جواباً عرض کیا ’’بہ سروچشم!‘‘ چند دنوں کے بعد مسوّدہ پہنچا۔ وعدے کی تعمیل بھی ہوگئی۔ ایک ماہ بعد ستمبر2007ء میں وہ خود بلتستان پہنچے۔ ملاقات کے لیے گھر تشریف لائے۔ راقم نے عشائیہ کے لیے وقت نکالنے کی درخواست کی۔ خلوص کو کیسے ٹھکرایا جاتا، انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ دعوت قبول کی۔ چند ادبی دوستوں کے ساتھ راقم کے گھر میں عشائیہ کی محفل جم گئی۔ بہ فرمانِ غالب ؂
سیکھے ہیں مہ رُخوں کے لیے ہم مُصوّری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
رات گیے تک محفل سجی رہی۔ اِس دوران فوٹو گرافی کے کئی دور ہُوے۔ گلگت بلتستان کے ادبی منظر نامے کی باتیں ہُوئیں۔ یہاں کی ادبی انجمنوں کے تذکرے چھڑے، ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کا ذکرِ خیر ہُوا، گلگت بلتستان سے چھپنے والے اخبارات اور علمی و ادبی کتابوں پر نقد و تبصرے ہُوے، درمیان درمیان میں کئی مختصر مشاعروں کا سماں بھی باندھا گیا، نجی مصروفیات اور ادبی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس پہلی ہی ملاقات میں کریمی صاحب کی عادات و اطوار، نفسیات و مزاج، نجی زندگی کی سرگرمیوں، مستقبل کے روشن امکانات، ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر عالم شباب اور بچپن کی اٹھکھیلیوں پر مشتمل اُن کی تمثیلانہ زندگی، علمی و ادبی رجحانات و میلانات اورسعی و کوشش کی نہ ختم ہونے والی طویل راہوں کو واضح طور پر محسوس کیا تھا۔
وہ اُس وقت بھی مُجرّد زندگی گذار رہے تھے اور اِس وقت بھی تنہا زندگی گذار رہے ہیں یہ اور بات ہے کہ غالب نے فرمایا ہے ؂
ہے آدمی بجائے خود اِک محشرِ خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
بابائے اُردُو مولوی عبدالحق نے بھی تادمِ مرگ شادی نہیں کی تھی۔ ایک دن کسی دوست نے اُن سے پوچھا کہ ’’مولوی صاحب! آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ انہوں نے فوراً جواب دیا کہ ’’کون کہتا ہے کہ میں نے شادی نہیں کی ہے۔‘‘ دوست نے حیرانگی کے عالم میں پھر پوچھا ’’تو آپ نے کس سے شادی کی ہے؟‘‘ مولوی صاحب نے کہا ’’جناب میں نے اُردُو زبان کے ساتھ شادی کی ہے اب آئی بات سمجھ میں؟‘‘ دوست نے خاموش ہوکر تائید کی۔
اِس میں کیا شک ہے کہ واقعاً شادی ایک زنجیر ہے۔ غالب فرماتے ہیں:۔
’’بیوی کی مثال بیڑی کی ہوتی ہے۔ شادی شدہ گھر کی مثال زندان کی ہوتی ہے اولاد کی مثال ہتھکڑیوں کی ہوتی ہے۔ معاش کی فکر جیل میں مشقّت کے نام سے دئے جانے والے سخت مشکل کام کی سی ہوتی ہے۔ بھلا ایسے میں تخلیقِ علم و ادب اور فکرِ نظم و نثر کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘ خود غالب فرماتے ہیں ؂
فکرِ دُنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
لیکن کریمی صاحب نہ تو مولوی عبدالحق ہیں اور نہ ہی غالب۔ اُنہیں شباب کی رنگینیوں اور جوانی کی بہاروں سے لطف اندوز بھی ہونا ہے۔ گلزاروں کے رنگ برنگے پھولوں کے بھرپور گیت بھی گانے ہیں۔ مولوی عبدالحق شاعر نہیں تھے اِس لیے وہ فطرت کے حُسن و جمال اور لطیف جذبات و احساسات کی پروا کیے بغیر ناز و ادا، غمزہ و عشوہ، خط و خال کی نزاکتوں، شکل و شمائل کی لطافتوں، گُل و بلبل کی سرگوشیوں اور راز داریوں نیز لب و رُخسار کی جلوہ سامانیوں سے دُور اور بہت ہی دُور رہے وگرنہ راقم کے اِس شعر کے بموجب ؂
دِل والوں کے دِل کو تڑپانے کے لیے
رُخساروں پر تل کے دانے ہوتے ہیں
وہ کبھی مُرغِ بسمل کی طرح تڑپ رہے ہوتے اور کبھی قیسِ عامری کی صورت میں دشت نوردی کر رہے ہوتے۔ جبکہ غالب غم روزگار کو سہنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ اُن کی آزاد روی اُن کے لیے بوجھ ثابت ہوگئی۔
عبدالکریم کریمی ایک حساس اِنسان ہیں، جوانی کے تاج محل کے زینوں کو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ وہ ابھی طے کر رہے ہیں۔ اُن کے سینے میں دھڑکتا ہُوا دِل ہے کوئی سنگ و خشت نہیں گویا غالب کا یہ شعر اُن پر منطبق ہوتا ہے ؂
دِل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
میرے خیال میں دوسرا مصرع کریمی پر منطبق نہیں ہوتا کیونکہ اُنہیں خوش کرنے والے تو بہت سارے ہوں گے اور ستانے والا شاید کوئی نہ ہو۔
کریمی بھی فرہاد صفت ایک کوہکن ہے البتہ فرہاد اور کریمی میں فرق صرف یہ ہے کہ فرہاد نے شیریں کے حصول کے لیے کوہِ بے ستوں کو کھودا تھا اور کامیاب ہُوے بغیر سرپر تیشہ مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا ؂
تیشہ بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمارِ رُسوم و قیود تھا
Abdul Karim Karimi 1
جبکہ کریمی نے ادبی اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے ’’فکرونظر‘‘ نامی ’’کے ٹو‘‘، ’’نانگا پربت‘‘ اور ’’راکا پوشی‘‘ جیسے ادبی پہاڑی سلسلوں کی سینہ شگافی کی ہے جس میں وہ بہت کامیاب رہے اور آج گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلوں کے مابین شعرو سخن اور اَدب کے دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کریمی قیس عامری کی طرح کا ایک مجنون بھی ہے مگر قیس اور کریمی کے جنوں میں یہ واضح فرق ہے کہ قیس نے لیلیٰ کے حصول کے لیے دشت نوردی کی، صحرا صحرا کی خاک چھانی اور جنگل جنگل میں ناقۂ لیلیٰ کی تلاش میں حوّاس باختگی اختیار کی مگر وہ ناکام و نامراد، جنون کی کیفیت میں زندگی کی جنگ اور عشق کا معرکہ ہار بیٹھا لیکن کریمی وہ قیس ہے جس کا جنون عین خرد ہے۔ کریمی نے نہ جنگلوں کا رُخ کیا، نہ صحراؤں کی خاک چھانی اور نہ ہی دشت نوردی کی۔ ہاں! انہوں نے چشموں، جھیلوں، گلیشیئروں، دریاؤں، بلندو بالا پہاڑی سلسلوں اور گلزاروں کی سرزمین گلگت بلتستان کی قلمی دُنیا، تخلیقی جہاں اورتعمیرِ اَدب کی کائنات کی سیر کی اور خوب کی۔ اس سفر میں وہ کامیاب رہے، بہت کامیاب رہے۔
بات کہاں سے کہاں پہنچی۔ تذکرہ ہو رہا تھا کریمی کی شادی خانہ آبادی کی۔ لیجیے آپ تمام باذوق سامعین کو ہم یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ وہ عنقریب رشتۂ ازدواج میں جُڑنے والے ہیں۔ مانگی گئی ہے اور منگنی ہوگئی ہے۔ منگیتر بننے کے بعد میاں اور میاں والی بننے میں مزید دیر نہیں لگ سکتی۔
یہ بات تو اٹل ہے کہ وہ مولوی عبدالحق بن کر تو نہیں رہیں گے۔ البتہ غالب کی طرح ان کے معمولاتِ زندگی میں خلل پڑے گا یا نہیں یہ ابھی وقت بتائے گا۔ خود کریمی کا دعویٰ تو یہی ہے کہ شادی خانہ آبادی کے بعد نہ صرف اُن کا گھر آباد ہوگا بلکہ اُس سے کہیں زیادہ اَدب کا آئینہ خانہ آباد ہوگا۔ خوش بختی سے بھابھی ایم۔ اے انگلش ہے۔ اب سہ ماہی علمی و ادبی رسالہ ’’فکرونظر‘‘ کے اُردُو اور انگریزی دو حصے ہوں گے۔ کشورِ اُردُو کے راجا کریمی صاحب ہوں گے اور انگریزی کی راج دھانی کی مہا رانی نئی مہمان صاحبہ ہوں گی۔ خوامخواہ میں نے اُن کے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کی اور شادی کی بھول بھلیوں میں منزل کے اندازے لگانے کی کوشش کی۔
کریمی کے اعزاز میں ستمبر2007ء میں راقم کے گھر میں سجائی گئی عشائیے کی محفل سے یکدم جست لگا کر پانچ سالوں کی لمبی مسافت کو طے کرکے بیجا ہم نے آپ کو لمحۂ حاضر میں پہنچا دیا۔ چلیے پھر پیچھے کی طرف مراجعت کرتے ہیں۔ کریمی جب اپنے پہلے شعری مجموعہ ’’شاید پھر نہ ملیں ہم‘‘ کا مسوّدہ مع راقم کا اظہاریہ لیکر جا رہے تھے تو کتاب کے نام کے حوالے سے میرے ذہن میں کئی خیالات گردش کر رہے تھے۔ اولاً یہ کہ وہ ’’شاید پھر نہ ملیں ہم‘‘ میں، کس سے مخاطب ہیں پھر جس کسی سے بھی وہ خطاب کررہے ہیں کیا اُن کا یہ خدشہ درست بھی ہے کہ دوبارہ وہ اُس سے نہ مل سکیں گے۔ لیکن لفظ شاید کے ذریعے وہ امکان باقی بھی رکھ رہے ہیں۔ بہرحال وہ مختلف شخصیتوں سے بار بار ملتے رہے ہیں اور ملتے ہی رہیں گے۔ راقم سے تو بذریعہ موبائل وہ بے شمار مل چکے ہیں البتہ بلمشافہ ملاقات پانچ سال بعد گذشتہ دنوں ہوئی ہے۔ بننے والی شریکۂ حیات سے بھی وہ عنقریب ملاقات کرنے والے ہیں، ہاں البتہ بعض نامرئی شخصیات ایسی ہوں گی جن سے ایک اتّفاقی اور حادثاتی ملاقات کے بعد پھر ملاقات شاید مشکل ہو۔ بہرحال وجہ تسمیہ کی غرض و غایت کی گہرائیوں میں ہم کیوں جائیں۔ 2008ء میں اُن کا یہ شعری مجموعہ چھپا۔ شعرا کی صف میں سند کے ساتھ وہ باقاعدہ کھڑے ہوگیے۔ 2009ء میں اخباری کالموں کا مجموعہ منظرِ عام پر آگیا۔ ’’فکرونظر‘‘ کی عجیب کشش ہے کہ اُن کے اخباری کالموں کا عنوان بھی ’’فکرونظر‘‘ ہے کالموں پرمشتمل کتاب کا نام بھی ’’فکرونظر‘‘ ہے اور سہ ماہی علمی و ادبی رسالے کا نام بھی ’’فکرونظر‘‘ ہے۔
کریمی صاحب گذشتہ دو سالوں سے گلگت بلتستان سے سہ ماہی علمی و ادبی رسالہ ’’فکرونظر‘‘ نکال رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کے اہلِ قلم کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ عبدالکریم کریمی جیسی پُربہار، شگفتہ مزاج، حد درجہ متحرک اور فعال پڑھے لکھے باکردار و باصلاحیت نوجوان کی اِدارت میں یہ رسالہ جاری و ساری ہے۔ اِن علاقوں سے یوں تو بہت عرصے سے مختلف قسم کے رسائل و جرائد نکل رہے ہیں لیکن آج تک کوئی ایسا رسالہ معرض وجود میں نہیں آیا تھا جو اوّل تا آخر ادب ہی ادب ہو، سر تاپا ادبی ہو۔
ماشاء اللہ………… واہ واہ………… کیا کہنے………… خوب………… بہت ہی خوب………… چشمِ بد دُور………… ’’فکرونظر‘‘ صرف اور صرف علمی ہے، ادبی ہے، تحقیقی ہے، تنقیدی ہے، یہ رسالہ ادبی شاہکار ہے، ادبی شہپارہ ہے۔ اِس میں کیا کچھ نہیں۔ سب کچھ ہیں۔ نظمیں ہیں، غزلیں ہیں، شگفتہ مضامین ہیں، تحقیقی مقالات ہیں، تنقید و تبصرے ہیں، جائزے ہیں، سفر نامے ہیں، افسانے ہیں، طنزو مزاح پرمشتمل تحریریں ہیں، سنجیدہ ادب پارے ہیں، تعار فِ کتب اور ناول ہیں، خطوط ہیں اور گلگت بلتستان کے طول و عرض میں پھیلے ہُوے قلم کاروں کی گونا گوں اور مختلف النّوع قلمی کاوشوں کے خوبصورت نمونے ہیں۔ یہ رسالہ گویا ظلمتِ شب میں آسمانِ ادب پر روشن ستاروں کی کہکشاں ہے۔ چمنستانِ شعروسخن کے رنگا رنگ پھولوں کی روشوں کا سنگم ہے۔ تازہ بہاروں میں فصل گُل کے گیت گانے والے خوش الحان پرندوں کی گلزار تہذیب و ثقافت سے شیفتگی اور وارفتگی کا بھرپور اظہار ہے۔
سہ ماہی ’’فکرونظر‘‘ گلگت بلتستان کی تہذیب و ثقافت، علم و ادب اور شعروسخن کی پہچان بن چکا ہے۔ گویا سرسید کا اجرا کردہ رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘نے قومی بیداری میں جو کردار ادا کیا ہے۔ عبدالقادر کے رسالہ ’’مخزن‘‘ نے علم و ادب کو فروغ دینے کا جو کام سر انجام دیا ہے اور ’’فنون و نقوش‘‘ نے جو فکری و فنّی گہرے نقوش معاشرے پر ثبت کیے ہیں وہی کردار ’’فکرونظر‘‘ بھی سر انجام دے سکتا ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ عبدالکریم کریمی کو خداوندعالم مزید حوصلہ عطا فرمائے، ثابت قدمی سے نوازے اور صبر و تحمّل کی دولت سے مالا مال کرے۔ اِس طرح کے رسالوں کی قدروقیمت حال سے زیادہ مستقبل میں ہوگی۔
ابھی ہی کی بات ہے کہ گذشتہ سال نمل یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک طالبہ راقم پر مقالہ لکھ رہی تھی اُنہیں حوالوں کے ساتھ مواد درکار تھے تو سہ ماہی ’’انتخاب‘‘، سالنامہ ’’کاروان‘‘، ماہنامہ ’’انڈس‘‘ اور سہ ماہی ’’فکرونظر‘‘ کے مختلف شماروں نے کچھ حد تک اُن کی مشکل حل کر دی کیونکہ اِن رسائل و جرائد میں یا تو مختلف علمی و ادبی موضوعات پر راقم کے مقالے چھپے ہُوے تھے یا راقم پر گلگت بلتستان کے نامور اہلِ قلم کے تحقیقی مضامین تھے یا راقم کے مختلف کلام بکھرے پڑے تھے۔ اسی طرح حال ہی میں جامعہ کراچی میں زیر تعلیم ایک طالب علم راجہ محمد علی شاہ صباؔ پر تحقیقی مقالہ لکھنے کے سلسلے میں تعاون اور رہبری کے لیے جب راقم کے پاس پہنچا توراقم نے دیگر ہدایات اور مواد کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی لائبریری سے رسالہ ’’انتخاب‘‘ کے اگست 2003ء کا ’’راجہ صبا نمبر‘‘ فوٹو کاپی کے لیے نکال کر دیا۔ اِس شمارے میں راجہ محمد علی شاہ صباؔ کے فن و شخصیت اور حالات زندگی کے بارے میں بلتستان کے نامور اہلِ قلم کے تحقیقی مضامین تھے نیز راجہ صاحب کے خصوصی انٹرویوز اور کلام بھی تھے۔ اِس طرح کے رسالے کے ہونے سے اور مواد کے ملنے سے تحقیق کرنے والے طالب علم کی بڑی مشکل حل ہوگئی۔ گذشتہ دو سالوں میں بیسیوں تحقیقی طلبا اور سینکڑوں دیگر طلبا تحقیقی امور کے سلسلے میں راقم سے رجوع کر چکے ہیں۔ راقم اُن کو اپنے اپنے موضوعات کی مناسبت سے دیگر مواد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سہ ماہی رسالہ ’’فکرونظر‘‘ کے سارے شماروں کو حاصل کرنے اور اُن سے مواد لینے کا مشورہ دیتا رہا ہے۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ چونکہ سہ ماہی رسالہ ’’فکرونظر‘‘ خالصتاً علمی و ادبی اور تحقیقی ہے۔ اِس لیے حال و مستقبل میں ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ اور دیگر کتاب لکھنے والوں کو اِس کی از حد ضرورت پڑے گی۔ اِس لیے لازمی اور ضروری ہے کہ اِس کے تمام شماروں کی کاپیاں لائبریریوں کے ساتھ ساتھ قلم کاروں کی ذاتی لائبریریوں میں بھی بطور ریکارڈ محفوظ رکھی جائیں۔
کریمی صاحب بڑی تیزی اور سرعت سے علمی و ادبی معرکے سر کر رہے ہیں۔ ’’تیری یادیں‘‘ کے نام سے آپ کا دوسرا شعری مجموعہ بھی گزشتہ سال کے آواخر میں شائع ہوچکا ہے جبکہ ’’سسکیاں‘‘ کے عنوان پر اخباری کالموں کا مجموعہ زیر طبع ہیں۔ کریمی صاحب نے 2009ء میں ’’کاروانِ فکر و ادب‘‘ کے نام سے غذر میں ایک ادبی تنظیم بھی قائم کی ہے جس کے وہ خود بانی، سرپرست اور صدر نشین ہیں۔ وہ اِسماعیلی طریقہ بورڈ برائے پاکستان کے نوجوان الواعظ اور اسکالر ہیں۔ اگرچہ وہ اِس منصب کے پیش نظر دینی رہنما اور خاص جماعت کے نمایندہ ہیں لیکن اُن میں روایتی ایسے منصب داروں کی طرح شمّہ بھر کسی قسم کا کوئی تعصّب، تنگ نظری، بنیاد پرستی، جانب داری، اِنتہا پسندی اور وجودِ ذات کے خول میں بند رہنے کی خاصیتیں نہیں ہیں۔ اُن میں آزاد پسندی ہے، آزاد روی ہے، ذ ہنی کشادگی ہے، فکری وسعت ہے، ہر طبقۂ فکر کے ساتھ چلنے کی صلاحیت ہے، ہر طرح کی سوچ رکھنے والوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی خوبی ہے۔ وہ اعلیٰ و ادنیٰ، بلندو پست، سرخ و سفید اور ہر طرح کے معاشرتی اِنسانوں کو مساویانہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ دُنیا میں کامیابی حاصل کرنے والے اور کامیاب لوگ ایسے ہی ہُوا کرتے ہیں۔
کریمی اور قلم کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ فی الحقیقت فنّی مہارتیں بنیادی طور پر خدا داد ہوتی ہیں۔ مستند اور ترّقی یافتہ فنکار بننے کے لیے خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنی ہوتی ہے اور وہ اِس طرح کہ اُن کو آگے بڑھانے کی مسلسل کوشش کی جائے، اُن کو جلا دینے کے لیے انتھک محنت کی جائے، تجربات و مشاہدات میں اضافہ کرتا رہے، مطالعہ میں وسعت پیدا کی جائے۔ فن کے ساتھ سو فیصد مخلص ہو۔ فن کی آبیاری کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دی جائیں۔ یقیناًکریمی صاحب ایسا ہی کرتے ہیں۔ کریمی صاحب نے اپنے خلوص، اپنی محنت، اپنے ذوق و شوق اور اپنی خدا داد صلاحیت کی بدولت 2003ء میں آل پاکستان مقابلۂ کالم نویسی میں اوّل انعام حاصل کیا تھا۔
یاد رہے کہ قلم میں قُوّت و طاقت پیدا کرنے، قلمی کاوشوں کو از حد مفید اور معلوماتی بنانے اور پُراثر بنانے کے لیے دیگر لوازمات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بنیادی شرط ہے۔ کیونکہ علم سے ہی صلاحیتوں اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اِس لیے قلم کار کو چاہیے کہ وہ اپنے علمی معیار کو بلند کرے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ کریمی صاحب نے سیاسیات میں اعلیٰ نمبروں سے ایم۔ اے کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔
آخر میں سہ ماہی علمی و ادبی رسالہ ’’فکرونظر‘‘ غذر/ گلگت بلتستان و چترال کے ’’کریمی نمبر‘‘ کی اِشاعت پر راقم اپنی اور جملہ اہلِ قلم کی طرف سے اِس کے پبلشر اور چیف اِیڈیٹر جناب الواعظ عبدالکریم کریمی کو دِل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔ یہ اُن کی خوش بختی اور بے پناہ کاوشوں کا صلہ ہے کہ اپنی زندگی میں بلکہ نوجوانی میں، اپنی اِدارت میں، اپنی مرضی سے، ’’کریمی نمبر‘‘ جاری کرنے کی توفیق حاصل ہو رہی ہے وگرنہ عام رَوِش تو یہی ہے کہ زندگی کو رقابتوں کا نمونہ قرار دیا جاتا ہے جب تک کوئی زندہ ہوتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی بلند مرتبہ، عالی جاہ،بے ضرر، معصوم اور چاہا جانے والا علمی و ادبی اِنسان ہی کیوں نہ ہو رقابت کے سبب اُس کا یوم منانا، اُس کا نمبر نکالنا اور اُس پر تعارفی کلمات لکھنا معاصر اہلِ قلم کے لیے الاّماشاء اللہ مشکل سمجھا جاتا ہے۔ حکیم الامت، نبّاض قوم، شاعر مشرق حضرت علاّمہ اقبالؒ سے جب کسی دوست نے یہ سوال کیا تھا کہ ’’علاّمہ صاحب کیا بات ہے کہ مغربی اقوام اپنی بڑی شخصیات کی قدر اُن کی زندگی میں کرتی ہیں۔ اُنہیں زندگی ہی میں انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔ زندگی ہی میں اُن سے فوائد حاصل کیے جاتے ہیں اُن کے فن و شخصیت پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، اُن کی شخصیت پر سمینار اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں جب تک کوئی زندہ ہوتا ہے خواہ وہ کیسا ہی اچھا اِنسان ہو لوگ رقابت کے سبب اُس کی خوبیاں بیان کرنے کے بجائے اُس پر الزامات اور بہتان لگا کر اُس کو خامیوں کا پتلا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جیسے ہی وہ دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے بڑے بڑے اہلِ قلم اُس پر مضامین لکھنا شروع کر دیتے ہیں، مقررّین اُس کی خوبیاں بیان کرنے لگ جاتے ہیں۔ اِس میں بھی یہ شک گذرتا ہے کہ اِس عمل سے مراد بھی اہلِ قلم اور مقررّین کی اپنی صلاحیت اور قوّتِ فن کا مظاہرہ ہو۔ بہر حال ایسا کیوں ہے؟‘‘
علامہ اقبالؒ نے دو مختصر جملوں میں اِس کا جواب دیا۔ ’’زندہ قومیں ہمیشہ زندوں کی قدر کرتی ہیں اور مُردہ قومیں مُردوں کی۔‘‘
ہمیں خوشی ہے کہ اب ہماری قلمی دُنیا زندہ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے اور زندوں کی قدر کی جارہی ہے۔ زندوں کے فن وشخصیت پر مضامین اور اشعار لکھے جا رہے ہیں۔ زندوں کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو سراہا جا رہا ہے۔


شیئر کریں: