Chitral Times

Nov 15, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گلگت کی بارشیں، پُرانی فائلیں اور پروفیسر کمال الہامی کی محبتیں….کریمی

    November 7, 2019 at 5:14 pm

    عرصے بعد گلگت میں بارشوں نے نہال کر دیا۔ ہم جیسے لوگ تو بارشوں کو کچھ زیادہ ہی انجوائے کرتے ہیں کہ کسی دل جلے نے خوب ہی کہا تھا کہ مجھے بارشیں اس لیے بھی پسند کہ یہ میرا غم چھپاتی ہیں۔ بارش کے قطروں میں آنسو کے قطرے جب جذب ہوتے ہیں تو یہ بہانہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ آنکھوں میں درد ہے۔ اب آنکھوں میں درد ہے یا یادِ ماضی۔۔۔۔۔۔ اظہار تو آنکھوں سے ہی ہوتا ہے ناں۔ خیر رم جھم میں یادِ ماضی کچھ زیادہ ہی ستاتی ہے۔

    آج ہمیں بارشوں پر بات نہیں کرنی۔ بس کچھ دیر بارش میں بھیگنے کے بعد پرانی فائلوں میں کھو گیا تھا۔ آفس بوائے نے چائے کا مک تھما کے لطف دوبالا کر دیا۔ اسی اثنا ہمیں ایک فائل سے ایک ’’ولادت نامہ‘‘ ملا۔ یہ ہمارے بیٹے کی پیدائش پر دوستِ محترم پروفیسر کمال الہامی نے لکھا تھا۔ یہ شاہکار نظم پڑھ کر دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ پروفیسر صاحب کی محبتیں آپ کے ساتھ بھی بانٹوں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ رم جھم بارش ہو، پڑھنے کو کمال الہامی کی شاعری ہو اور ہاتھ میں گرم گرم چائے کا مک ہو تو بندے کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہییے۔ برخوردار سمیر کے نام لکھا گیا ولادت نامہ آپ کی بینائیوں پر ٹانکتا ہوں۔ آپ پڑھیے اور ممکن ہو تو چائے کا پیالہ بھی سامنے رکھیے۔ یہ خوبصورت شاعری، بارش اور چائے کا ساتھ آپ کے لطف کو دوبالا کر دے گا۔

    ولادت نامہ

    برخوردار سمیر آذین کریمی، فرزندِ ارجمند، عبدالکریم کریمی و سوسن پری کریمی، برادرِ کوچک آشا سوزین کریمی بہ تاریخ چھبیس جنوری دوہزار سولہ بروز منگل بہ وقت پانچ بجے صبح۔

    تخلیق کار و اِہدا:
    منجانب: پروفیسر حشمت علی کمال الہامی

    کریمی کو ملی نعمت، سمیر آذین آئے ہیں
    خدا کی، ہے بڑی رحمت، سمیر آذین آئے ہیں

    کریمی کے چمن میں ہے کِھلا، سوسن پری کا پھول
    بنا گھر، خانۂ جنت، سمیر آذین آئے ہیں

    مبارک ہو! مبارک ہو! مبارک، صد مبارک ہو!
    ملی اس گھر کو اب زینت، سمیر آذین آئے ہیں

    اِسے نورِ نظر، یا قلبِ مضطر کا سکوں کہیے!
    بڑھی، ماں باپ کی عزّت، سمیر آذین آئے ہیں

    مہینہ جنوری، چھبیس، سن تھا، بیس سو سولہ
    بڑھی تاریخ کی شُہرت، سمیر آذین آئے ہیں

    تھا دن منگل، بجے تھے پانچ، وقتِ صبحِ صادق تھا
    کہ، چمکا، کوکبِ قسمت، سمیر آذین آئے ہیں

    بہن آشا، بہت خوش ہے، کہ بھائی مل گیا اُس کو
    کہ پائی اُس نے اب قوّت، سمیر آذین آئے ہیں

    دُعا یہ ہے، کریمی کا یہ بیٹا، خوش رہے ہر دَم
    یہی ہے مژدۂ حشمت، سمیر آذین آئے ہیں

    چہکتے ہیں سحر دَم، گُلشنوں میں خوش نوا بُلبُل
    حَسیں تر ہوگئی فطرت، سمیر آذین آئے ہیں

    خوشی کے طائرانِ نو بہاری کا، بسیرا ہے
    غموں کی ہوگئی ہجرت، سمیر آذین آئے ہیں

    کریمی کو ملی ہے، ایسی دولت، مخزنِ رب سے
    جو ہے دارین کی ثروت، سمیر آذین آئے ہیں

    مہِ ہنزہ، غذر کے آفتابِ وقت کے مابین
    ہوئی گلگت میں جب قربت، سمیر آذین آئے ہیں

    کریمی بھی حلیم الطبع، سوسن میں لطافت ہے
    لیے نرمی کی اِک خصلت، سمیر آذین آئے ہیں

    کمالِ مرتبہ یہ ہے، علیؑ کا سر پہ سایہ ہے
    رہے گی ہمقدم عظمت، سمیر آذین آئے ہیں

  • error: Content is protected !!