Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یہ ہیں میرے سرکار، درود ان پر کروڑ ہا بار……… تحریر: حسن آراگلگت

Posted on
شیئر کریں:

طلوع آفتاب بس ہونے ہی والا تھا۔ آفتاب کی کرنوں میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ آفتاب آج خود بھی زیادہ بیتاب اور کرنوں کو زیادہ روشن اور جگمگانے میں مگن تھا۔ ہر کرن کی یہ خواہش تھی کہ وہ سب سے پہلے روئے زمین کو چھوئےاور اسے ایک ایسی روشنی کی نوید سنائے جو زمین پر تاریکیوں کے مدتوں سے چھائے نحوست ظلم و جبر نا انصافی عدم مساوات اور جنگ وجدل کے کالے سیاہ بادلوں کو رحمتوں برکتوں انصاف مساوات امن و سلامتی صلہ رحمی اور بھائی چارگی کے خوبصورت گلدستوں میں بدلنےوالی ہے۔آخر وہ نیک گڑھی آن پہنچی۔ جب محسن انسانیت سرکار دو عالم سرور کونین رحمت ا للعالمین کو اللہ پاک نے انسانیت کے لئے ھادی اور رحمت بنا کر اس روئے زمین پر بھیجا۔ جونکہ یہ بابرکت اور سلامتی والی گھڑی ربیع الاول کے بابر کت مہینے میں ساری عالم انسانیت کے لئے امید امن اور سلامتی کا ضامن بن کر نازل ہوئی اس لئے یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے تمام اسلامی مہینوں سے افضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مبارک گھڑی رب کانئات کے لئے اتنی قابل احترام اور مقدم ہے کہ ابو لہب جس کی سفاکیت اور ظلم وجبر کی مذمت میں رب کریم نے سورہ لہب نازل کی۔اس پر بھی خاص کرم رہا۔ روایات میں ہے کہ جب آپ صلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے ابو لہب کو خوشخبری سنائی اور اس نے اس خوشی میں اسے اپنی انگلی کے اشارے سے آذاد کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ ابو لہب کے موت کے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور اس سے حال دریافت کیا تو ابو لہب نے کہا کہ ظلم و جبر اور کفر کی وجہ سے سخت عذاب میں گرا ہوا ہوں البتہ ہر پیر کو عذاب میں کمی ہوتی ہے اور جس انگلی کے اشارے سے حضرت محمد کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آذاد کیا تھا اس انگلی کو چوسنے سے پانی ملتا رہتا ہے۔ اس سے کوئی بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ابو لہب جسے رب نے ناپسند فرماکر سورہ لہب اتاری اسپر جب اتنی مہربانی ہوسکتی ہے تو عاشقان رسول اور خاص طور پر وہ صحابہ جنہوں نے آپ صلم سے محبت اور عقیدت میں ازیتیں اور تکلیفیں سہیں اور جانوں کا نظرانہ پیش کیا ان پر رب کے کرم اور فضیلت کا تو شائد کوئہ احاطہ ہی نہ کر پائے۔
.
یوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کی زندگی سراپا رحمت برکت اور پوری عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ آپ صلم نے قرآن پاک کا صرف درس نہیں دیا بلکہ اس کے ایک ایک ارشاد کو اپنے کردار میں ڈھال کر عملی طور پر نمونہ پیش کیا۔ معاشرتی زندگی کےہر پہلو پر ھدایت اور رہنمائی فراہم کی۔ اگر ہم ان تمام پہلووں کا احاطہ کرنے بیٹھے تو ساری دنیا کی قلم کاغذ اور سیاہی ختم ہوجائے گی لیکن تشنگی پھر بھی باقی رہے گی۔ گرچہ آپکی سیرت طیبہ کا ہر پہلو انتہائی قابل صد احترام اور اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن مجھ جیسے کم علم کے لئے انہیں دلچسپ اور پراثر انداز میں پیش کرنا قدرے مشکل ہے البتہ اپکی سیرت کا ایک خاص پہلو جس کے بارے میں ہم سب بچپن سے پڑھتے آئے ہیں لیکن بدقسمتی سے آج پوری مسلم امہ آپ صلم کی سیرت کے اس خاص پہلو سے پہلوتہی برت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک نہ صرف اندرونی انتشار اور بدامنی کا شکار ہے بلکہ خارجی سطح پر بھی آپسی چپقلش کا شکار ہے۔ آپ صلم کی سیرت طیبہ کا یہ وہ پہلو ہے جس نے بدترین دشمن کو بھی گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ اور دین اسلام امن و سلامتی کا دین بن کر چہار سو پھیل گیا۔ یہ پہلو آپ صلم کا عفو ودرگزر، صبر وتحمل رحم وکرم شفقت ومحبت اور نرم دلی کا پہلو ہے جس کی آپ صلم نے نہ صرف درس دیا بلکہ کردار اور عمل سے بھی ثابت کیا۔
.
آپ صلم کی زندگی کا وہ واقعہ آج بھی میرے زہن میں نقش ہے جسے میں نے بچپن میں اسلامیات کی کتاب میں پڑھا تھا جس میں ایک بوڑھی مشرک عورت روز اپنے گھر کی صفائی کرنے کے بعد سارا کوڑا ایک ٹوکرے میں جمع کرکے آپ صلم کی تاک میں بیٹھی رہتی تھی۔ آپ صلم جیسے ہی وہاں سے گزرتے سارا کچرا آپ کے اوپر پھینکتی۔ آپ صلم اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے اپنے کپڑے جھاڑتے اور وہاں سے گزرتے۔ یہ کوئی ایک دن کا نہیں بلکہ روزانہ کا معمول تھا۔ لیکن ایک دن جب آپ وہاں سے گزرے تو حسب معمول وہاں موجود نہیں تھی آپ صلم کو شک پڑ گیا کہ اماں آج کہیں بیمار تو نہیں پڑ گئی۔ آس پاس کے لوگوں سے پتہ چلا کہ بڑھیا شدید بیمار ہے۔ آ پ صلم خیریت دریافت کرنے کے لئے اس بڑھیا کے گھر پہنچے۔آپ صلم کو دیکھ بوڑھی عورت خوف زدہ ہوگئی اور سوچنے لگی کہ آج محمد اپنا بدلہ نکال کر رہے گا۔ لیکن آپ صلم نے بہت ہی شفقت اور محبت سے اس کا حال پوچھا۔ اسے پانی پلایا۔ آپ صلم کا حسن اخلاق دیکھ کر بوڑھی عورت بہت روئی آپ صلم سےمعافی مانگی اور مشرف بہ اسلام ہوئی۔ یہ تھا آپ صلم کا عفو ودرگزر اور حسن سلوک جس نے آپ صلم کے لئے نفرت سے بھرے دل کو محبت کے پھولوں کا گلزار بنادیا۔
طائف کا وہ واقعہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں جس میں آپ صلم نے صبروتحمل کی ایسی عظیم مثال قائم کی جسے رہتی دنیا تک
عالم انسانیت یاد رکھے گی جب آپ صلم دین حق کی دعوت دینے طائف تشریف لے گئے اور سرداران طائف کو جب دین حق کی دعوت دی تو ان ظاموں نے نہ صرف آپکو نعوذباللہ جھوٹا قرار دیا بلکہ طائف کے اوباش اور شرارتی لڑکوں کو آپکے پیچھے لگادیا۔ ان نامرادوں نے آپ صلم کو اتنے پتھر مارے کہ جوتی مبارک خون سے بھر گئی۔ اسی دوران جبرائیل علیہ سلام تشریف لائے اور انتہائی غیض و غضب سے کہا کہ اگر آپ صلم حکم دیں تو یہ دونوں پہاڑ ان طائف والوں کے اوپر گرادوں اور انہیں نیست ونابود کردوں۔ آپ نے منع فرمادیا اور کہا کہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ان کے لئے ہدایت کی دعا کی اور اور ارشاد فرمایا کہ آج اگر یہ نہیں تو ان کی آنے والی نسلیں دین اسلام کی پیروی کرینگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی طائف کا چپہ چپہ آپ صلم کے عاشقان کی آماجگاہ بن گیا۔
.
آپ صلم کا سراپا صبر وتحمل اور عفو ودرگزر کا پیکر تھا۔ آسلام کی دعوت کے آغاز سے لیکر فتح مکہ تک صبر وتحمل اور عفوودرگزر کی ایسے بے مثال روایات قائم کیں جن کی نظیر قیامت تک کوئی قائم نہیں کرسکتا۔
فتح مکہ کے موقعہ پر ان تمام دشمنوں کو معاف کردیا جنہوں نے مسلسل 13 سالوں تک آپ صلم اور تمام اہل ایمان پر عرصیہ حیات اسقدر تنگ کر دیا کہ مجبورا بحکم خدا آپ صلم کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ ان لوگوں میں حرب کا بیٹا ابو سفیان اور اسکی بیوی ہندہ بھی شامل تھے جنہوں نے آپ صلم اور اسلام قبول کرنے والوں ہر طرح کی اذیت اور تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے آپ صلم کے پیارے چچاجان حصرت حمزہ کی نعش مبارک کو جنگ احد میں چیر پھاڑ ڈالا اور کلیجہ نکال کر انتقامی جذبے سے چبا ڈالا تھا کیونکہ حضرت حمزہ نے جبگ بدر میں ہندہ کے باپ عتبہ کو جہنم واصل کیا تھا آپ صلم نے نہ صرف اس سفاک عورت کو معاف فرمادیا بلکہ اعلان کیا کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگا اسے امن و سلامتی دی جائے گی۔ آپکے اس حسن سلوک نے آخر کار مشرکین کو آپ کا گرویدہ بنا دیا اور سب نے بے چون وچرا دین حق کو قبول کیا۔ ان روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام کا پھیلاو کسی جبر وتسلط کا پیش خیمہ نہیں بلکہ آپ صلم کا حسن اخلاق، عفو ودرگزر اور صبروتحمل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
.
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلم نے ارشاد فرمایا کہ “جسے یہ پسند ہو کہ جنت میں اس کے لئے محل بنائے جائیں اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کردے جو اسے محروم کردے اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے تعلق جوڑے”۔
آپ صلم نے پوری زندگی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کسی کو برا بھلا کہا۔
.
یہ ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عفوو درگزر صبر وتحمل ، رحم وکرم ، شفقت و محبت اور نرم دلی کی مختصر سی وضاحت۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہم نے آپ صلم کے قائم کئے ان سنہری اقدار اور روایات کو یکسر فراموش کر دیا ہے۔ غصہ نفرت حسد اور انتقام کی بے مثال روایات قائم کرکے نہ صرف اپنی دین ودنیا کو تباہ وبرباد کررہے ہیں بلکہ بحیثیت مسلم امہ کے دین اسلام کے اصل تشخص کو بھی پامال کررہے ہیں۔ ہماری بقا سلامتی اور ترقی کا راز صرف اور صرف سیرت طیبہ کی پیروی میں ہے مضمر ہے۔ مدینے کی جس فلاحی ریاست کی ساخت اور بنیاد بھی انہی اصولوں پر قائم تھی انہیں بھلائے مسلمانوں کو عرصئہ دراز ہوگیا۔ آج بیشتر ممالک میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہے لیکن مدینے کی فلاحی ریاست کے خدوخال کہیں بھی نظر نہیں آتے۔ مدینے کی اس فلاحی ریاست کے خدوخال کو مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں نے اختیار کیا ہوا ہے۔ جہاں پر قانون کا بول بالاہے۔ ان کا علم سر چڑھ کر بولتا ہے۔ میعاری علم اور ٹیکنالوجی کے لئے ہم ان کے دست نگر ہے۔ اسی لئے علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ جب میں مغرب گیا تو اسلام دیکھا لیکن مسلمان نظر نہیں آئے۔ اور جب مشرق آیا تو یہاں مسلمان دیکھے لیکن اسلام نظر نہیں ایا۔

اللہ پاک ہم سب کو صرات المستقیم پر کار بند رکھ کر سیرت نبوی پر عمل کرنے کی پوری توفیق عطا فرمائے

                                                        آمین

شیئر کریں: