Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

معدنیات، سیاحت،جیم اسٹونز جیسے قدرتی وسائل کی ترقی سے صوبہ کو پسماندگی سے نکال کر ملکی معیشت میں بڑا حصہ دار بنایا جا سکتا ہے، حاجی غلام علی

Posted on
شیئر کریں:

معدنیات، سیاحت،جیم اسٹونز جیسے قدرتی وسائل کی ترقی سے صوبہ کو پسماندگی سے نکال کر ملکی معیشت میں بڑا حصہ دار بنایا جا سکتا ہے، حاجی غلام علی

گورنر کی اندرون شہر نمک منڈی میں آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن(APCEA) کے دفتر آمد،قیمتی پتھروں کا کاروبار کرنیوالے تاجر برادری، اپسیا کے نمائندوں, عوام علاقہ سے ملاقات

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ جیم اسٹونز شعبہ سے وابستہ افراد سمیت صوبہ کی تمام بزنس کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی اور صوبہ میں کاروبار و صنعت کے فروغ سے ہی معاشی استحکام لایا جا سکتا ہے، جیم اسٹونز سیکٹر میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس شعبہ میں نمایاں ترقی ممکن بنائی جا سکتی ہے اس ضمن میں جیم اسٹونز شعبہ سے وابستہ کاروباری طبقہ کو جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت رکھنے والے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طالبعلموں کی معاونت حاصل کرنی چاہئے جس سے نوجوانوں کو روزگار کے ساتھ صوبہ کے قیمتی پتھروں, سیاحت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ بڑھائی جا سکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اندرون شہر پشاور کے گنجان علاقے نمک منڈی میں واقع آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن(APCEA) کے دفتر دورہ کے دوران وہاں پر موجود ایسوسی ایشن کے نمائندوں و عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا، اس موقع پر سابق نگران صوبائی وزراء فضل الٰہی، عدنان جلیل، اپسیا کے چیئرمین سید منہاج الدین باچا، سرپرست اعلیٰ حاجی معمور خان،ایف پی سی سی آئی کے سابق کورٹینیٹر سرتاج احمد، سابق چئیرمین ملک نوید،فاروق زمان، افتخار احمد،ڈاکٹر مدیحہ، سارہ تفشین اور دیگر موجود تھے،

 

اپسیا کے دفتر پہنچنے پر گورنر کا پرتپاک استقبال کیاگیا،ہار پہنائے گئے،صدر اپسیا سید منہاج الدین شاہ باچا نے گورنر کو جیم اسٹونز سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل و مشکلات اور مذکورہ شعبہ کی ترقی کیلئے تجاویز و مطالبات پر مشتمل اسپاس نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جیم اسٹونز شعبہ کو انڈسٹری کا درجہ دیا جائے اوریونیورسٹیوں میں جیالوجی سنٹر کا قیام عمل میں لایاجائے اس کے علاوہ افغانستان سے آنیوالے قیمتی پتھروں میں مشکلات کا خاتمہ کرنے سمیت ڈیوٹی فری کرنے کا بھی مطالبہ کیاگیا۔ اس موقع پر گورنر حاجی غلام علی نے کہاکہ میری خواہش اور کوشش ہے کہ صوبہ کی تمام بزنس کمیونٹی کے مسائل کا خاتمہ کیاجائے۔جیم اسٹونز سیکٹر اس صوبہ کا بہت بڑا قیمتی شعبہ ہے،معدنیات، سیاحت، جیم اسٹونز سمیت قدرتی وسائل کو استعمال میں لا کر ہم نے ثابت کرنا ہے کہ ہمارا صوبہ پسماندہ نہیں اور ملکی معیشت میں اس صوبہ کا بڑا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ سوات، کوہستان سمیت ضم قبائلی اضلاع قیمتی پتھروں سمیت کوئلہ، کاپر، ماربل و دیگر معدنیات کی بہت بڑی استعداد رکھتے ہیں، جیم اسٹونز سیکٹر کی ترقی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ناگزیر ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کامقابلہ کیاجاسکے۔

 

انہوں نے کہا کہ بہترین منصوبہ سازی و پالیسی سے جیم اسٹونز سیکٹر کی ترقی ممکن بنائی جا سکتی ہے،صوبہ میں قیمتی پتھروں کی استعداد سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس شعبہ سے وابستہ افراد کے ساتھ مکمل معاونت کریں گے۔گورنرنے کہاکہ یونیورسٹیوں کو اپسیا کے ساتھ جیم اسٹونز شعبہ کی ترقی کیلئے ایم او یو معاہدہ کرنیکی ہدایات جاری کروں گا، انہوں نے کہا کہ اپریل میں پاک افغان انٹرنیشنل ایکسپو منعقد کرایا جائے گا اور جلد بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر پشاور کو جیمز ایکسپورٹ سٹی بنائینگے، انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں نے بزنس کمیونٹی کی سرپرستی کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہینگے اس موقع پر ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید منہاج الدین و دیگر عہدیداروں نے گورنر خیبرپختونخوا کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا عوامی گورنر ہے جو کہ بغیر کسی پروٹوکول کے بزنس کمیونٹی، عوام سے ملاقاتیں اور گنجان ترین علاقوں کا دورہ کرتے ہیں جس پر پشاور کے عوام اور بزنس کمیونٹی کو ان پر فخر ہے، انہوں نے اپسیا کے دفتر آمد اور جیمز اسٹونز شعبہ کی ترقی کیلئے معاونت و تعاون کی یقین دہانی پر بھی گورنر کا شکریہ ادا کیا.

chitraltimes governor kp visiting gems stone association office 1


شیئر کریں: