Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 300 سے زائد زچہ و بچہ میڈیکل کیمپس کا انعقاد، کیمپس میں سیفٹی کٹس مہیا، پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی سکریننگ مکمل، سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 20 ہزار زچگیاں متوقع: ترجمان محکمہ صحت

شیئر کریں:

سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 300 سے زائد زچہ و بچہ میڈیکل کیمپس کا انعقاد، کیمپس میں سیفٹی کٹس مہیا، پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی سکریننگ مکمل، سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 20 ہزار زچگیاں متوقع: ترجمان محکمہ صحت حکومت خیبرپختونخوا

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) محکمہ صحت خیبر پختونخوانے صوبے میں سیلاب سے متاثرہ 13 اضلاع میں سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی زچہ و بچہ میڈیکل کیمپس قائم کئے ہیں۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق سوات، چترال کے دور دراز علاقوں سے لیکر ٹانک ڈی آئی خان سمیت لوئر کوہستان و دیگر متاثرہ اضلاع میں ماں وبچے کی صحت کی دیکھ بال کیلئے اب تک تین سو سے زائد میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں نیو بارن اور سیفٹی کٹس مہیا کی گئی ہیں جبکہ تمام ضروری ادویات کی مفت فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق 25 ہزار سے زائد حاملہ خواتین سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں جبکہ ان میڈیکل کیمپس میں اب تک پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی سکریننگ کی گئی ہے۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 20 ہزار زچگیاں متوقع ہیں۔ متاثرین میں زچہ و بچہ کیسز کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق میڈیکل کیمپس میں سکریننگ کی شرح کم ہورہی ہے جبکہ مراکز صحت میں لوگوں کا جانا بڑھ رہا ہے جسکا مطلب ہے کہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر افراد اپنے علاقوں میں لوٹنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں مراکز صحت میں سہولیات کی بحالی بھی کافی حد تک ممکن ہوگئی ہے۔ ترجمان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں مراکز صحت کی صورتحال جانچنے کیلئے ریپڈ اسسمنٹ جلد مکمل ہوجائے گا جس کے بعد ان مراکز صحت کو جُزوی یا مکمل طور پر بحالی کا کام شروع ہوگا جبکہ بہت سے علاقوں سے پانی اُترنے کے بعد حالات معمول پر آگئے ہیں۔


شیئر کریں: