Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بجلی کی نعمت سے محروم علاقوں میں منی مائیکروہائیڈل سٹیشنزکی تعمیرناگزیرہے،تاج محمد

شیئر کریں:

پسماندہ علاقوں میں چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیرحکومت کا مثالی کارنامہ ہے،جلدمنصوبوں پرسائیٹس وزٹ کروں گا
صوبائی معاون خصوصی توانائی کاجائزہ اجلاس سے خطاب


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی تاج محمد ترند نے کہا کہ بجلی کی نعمت سے محروم صوبے کے پسماندہ علاقوں میں چھوٹے پن بجلی گھروں (منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز) کی تعمیرموجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبے میں 356منی مائیکروہائیڈل سٹیشنزکی تعمیر کا منصوبہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا ایک مثالی کارنامہ ہے جہاں بجلی کی نعمت سے ہزاروں خاندان مستفید ہورہے ہیں۔اگلے مرحلے میں مزید672منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز پر جلدکام کا آغازکیاجائے گا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پیڈو میں منعقدہ توانائی منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محکمہ توانائی کے فوکل پرسن ایم پی اے شرافت علی سمیت ادارے کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر چیف ایگزیکٹوپیڈوانجینئرنعیم خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوامیں اس وقت اپنے وسائل سے مکمل شدہ7پن بجلی گھروں سے162میگاواٹ بجلی پیداہورہی ہے جس کونیشنل گرڈ میں شامل کرکے صوبے کوسالانہ تقریباًپونے چارارب روپے کی آمدن ہورہی ہے۔صوبے میں پن بجلی کے منصوبوں پر3مرحلوں میں کام جاری ہے۔شارٹ ٹرم پلان کے تحت رواں سال کے آخر تک 96میگاواٹ کے مزید6منصوبے مکمل کرلئے جائیں گے جن سے صوبے کو تقریباً4ارب روپے کی اضافی آمدن ہوگی۔ مڈٹرم پلان کے تحت223میگاواٹ کے6منصوبوں پر کام جاری ہے جو2024میں مکمل کئے جائیں گے جبکہ لانگ ٹرم پلان کے تحت9منصوبوں سے1899میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی جو2027اور28میں مکمل ہونگے۔

انہوں نے بتایاکہ صوبے کے 8ہزارسکولوں،4400مساجد،187بنیادی مراکزصحت کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ وہاؤس سمیت سول سیکرٹریٹ کو پہلے ہی شمسی توانائی نظام پر منتقل کیا جاچکا ہے جس سے صوبے کو سالانہ کروڑوں کی بچت ہورہی ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی توانائی تاج محمد ترندنے کہا ہے کہ صوبے میں پن بجلی کی پیداوارکے قدرتی وسائل یہاں کا قیمتی خزانہ ہیں جن کو بروئے کارلاکرنہ صرف سستی بجلی پیداکرکے ملک کوتوانائی بحران سے نکالاجاسکتاہے بلکہ ان منصوبوں سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی آمدن ممکن ہے۔آخر میں معاون خصوصی نے پیڈوکی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیااور پراجیکٹ سائیٹس پرکام کا ازخودجائزہ لینے کے لئے تفصیلی وزٹ پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی انہوں نے توقع کااظہارکیاکہ پیڈوکا ٹیکنیکل پراجیکٹ عملہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن بنائیں گے۔


شیئر کریں: