Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ کے زیر انتظام کھوت میں پانی کی فراہمی کا منصوبہ مکمل، آغاخان کونسل برائے پاکستان  کے صدرنے افتتاح کیا

Posted on
شیئر کریں:

آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ کے زیر انتظام کھوت میں پانی کی فراہمی کا منصوبہ مکمل، آغاخان کونسل برائے پاکستان  کے صدرنے حافظ شیر علی افتتاح کیا

 صاف پانی کی سہولت سے  1,000سے زائدباشندوں کو فائدہ پہنچے گا

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز) آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک(AKDN)کے ادارے، دی آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ(AKAH,P)نے اپر چترال کے گاؤں کھوت(Khot)میں صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ مکمل کیا ہے جس سے 265 گھروں کو صاف پانی سہولت میسر آئے گی۔یہ پراجیکٹ اْن 500سے زائد منصوبوں کے علاوہ ہے جو آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ نے پاکستان میں تباہی کے شکار پہاڑی علاقوں میں قائم کیے ہیں اور جن کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی میسرہورہا ہے۔

افتتاحی تقریب میں، آغاخان کونسل برائے پاکستان  کے صدر حافظ شیر علی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں چترال کی ضلعی انتظامیہ کے سربراہان،AKAH کے ریجنل پروگرام منیجر، سینئر انتظامیہ، آغا خان ریجنل اور لوکل کونسلات کی قیادت اور کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
کھوت ایک بلند، دشوار اور دور دراز علاقے میں واقع ایک گاؤں ہے جہاں تک رسائی  میں نہ صرف انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی انتہائی مشکل ہے۔ آلودہ پانی   اس گاؤں میں بیماریوں کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں جن کے باعث صحت کی ہنگامی صورت حال پیدا ہو تی ہے۔ خواتین اور بچے  اپنے گھروں سے دورچشموں سے پانی لاتے تھے اور اس دوران  اْنھیں، اس دشوار خطے میں،زخمی ہونے کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔

قدرتی ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے مقامی کمیونٹی کی مدد سے، آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ، پاکستان نے مذکورہ گاؤں کے لئے چودہ ہزار فٹ بلندی پرموجودچشمے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجس میں اسٹوریج ٹینکس، چینلز، پائپ لائن اور ٹیپ اسٹینڈز وغیرہ شامل ہیں۔ اس طرح، کھوت کے 1,000 سے زائد باشندوں کو، اْن کے گھروں پر،اورشدید موسمی حالات میں بھی، سال بھر، پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہوگی۔

پانی کی سکیم کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر حافظ شیر علی نے مستحکم  وسائل کے ذریعے بنیادی ضروریات جیسے صاف پانیکے فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کیا جس میں کمیونٹی کی شرکت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اْنھوں نے کہا:”ترقیاتی کاموں کے بارے میں AKDN کے  نقطہ نظر کے مطابق ایسے نظاموں کی تیاری، آپریشنز اور دیکھ بھال میں کمیونٹیز بھی شامل ہیں۔“

پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا زیادہ سامنا ہے جس میں صحت و صفائی اور نکاسی آب کے ناقص نظاموں اور غیر مناسب بندوبست کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرات بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ اور پاکستانی حکام کے مطابق، ملک بھر میں 30سے 40 فیصد بیماریوں اور اموات کا تعلق آلودہ پانی سے ہے۔

صدر ریجنل کونسل اپر چترال امیتاز عالم نے علاقے کے لوگوں کو خوش قسمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ بھی دنیا کے ان دس فیصد افراد میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں پینے کا صاف پانی میسر ہے۔

آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ کی ریجنل پروگرام منیجر امیر محمد کمیونٹی کی شرکت کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ”ایک کمیونٹی کے طور پر آپ سب کو، سال بھر، صاف پانی سے مستفید ہوتے رہنے کے لیے، اِس کی دیکھ بھال میں اور بھی زیادہ دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔ اس سے صحت کی صورتحال کو بہتر بنانے اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔“

chitraltimes akah water supply scheme khot inaguration 1

chitraltimes akah water supply scheme khot inaguration 5

chitraltimes akah water supply scheme khot inaguration 2 chitraltimes akah water supply scheme khot inaguration 3 chitraltimes akah water supply scheme khot inaguration 4


شیئر کریں: