Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ادب کی بے ادبی – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

Posted on
شیئر کریں:

ادب کی بے ادبی – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

ذمہ دار عہدوں پر فائز حکومتی اہلکار اگر قانون کی پاسداری کی مثال پیش کریں گے تو عا م عوام پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اہلکار ایک آئینے کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں زیر اثر افراد خود کو سنواریں گے ۔اس کے برعکس اگر اہلکار خود راہ فصیحت اوروں کو نصیحت کا نمونہ  بنیں گےتو معاشرے کے بگڑنے کے بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتی۔

تاریخ اسلام حکومتی اہلکاروں کی فرض شناسی ،دیانت داری اور بے لوث خدمات کے اوصاف سے مزین ہے۔جس پر ہم صرف بجا طور پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور عملی طور پران کا کوئی نمونہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ایک علاقے کے گورنر کے خلاف صبح تاخیر سے دفتر آنے ،شام کے بعد معروضات نہ سننے اور مہینے میں ایک دن غیر حاضر ہونے کی شکایات لے کر ایک وفد وقت کے خلیفہ حضرت عمر فاروق کی عدالت میں حاضر ہوتا ہے۔ آپ گورنر کو فوری طور پر بلا کر کھڑے کھڑے جواب دیہی کا حکم دیتے ہیں ۔ گورنر فرماتے ہیں کہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ احکامات خداوندی کی بجا آوری کے بعد گھر یلو کام نمٹاتا ہوں۔ اور صبح ناشتے کے بعد بہت دور جاکر ضرورت کے لئے پانی لاتا ہوں ۔گھر میں بچے چھوٹے ہیں اور نوکر کوئی نہیں ۔اسی لئے دفتر پہنچنے میں تھوڑی سی تاخیر ہوتی ہے۔چونکہ میں تمام دن مخلوق خدا کے معاملات نمٹاتا ہوں۔ بحیثیت بشر مجھ سے کوتاہی کا احتمال ناگزیر ہے۔ اس لئے شام کے بعد میں اللہ رب العزت کے حضور معافی کا طلب گار ہوتا ہوں۔ اس لئے انسان جب خود فریادی ہو تو دوسروں کی فریاد کیا سنے ۔ جہاں تک مہینے میں ایک دن غیر حاضری کا تعلق ہے۔ میرے پاس ایک جوڑا کپڑا ہے۔مہینے میں ایک دن ان کے دھونے کے لئے مختص کرتا ہوں اور خود چادر سے پردہ کرکے ان کے سوکھنے کا انتظار کرتا ہوں۔یہ جوابات سننے کے بعد خلیفہ وقت شکایت کنندگان سے ان کی پیروی کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔

آج جب ہمارے اہلکاروں کو اس آئینے کے سامنے لایا جائیگا۔ تو ان کے بگڑے ہوئے چہرے ان کے کردار کے ترجمان ہوں گے۔ ان کے اور ان کی خاندان کے افراد کی رنگ رلیوں کے لئے سرکاری گاڑی فراہم کی جاتی ہے۔ اور گھر کے امور کی انجام دہی ماتحت عملے  سے کرائی جاتی ہے۔ قوم کی اجتماعی حفاظت کے لئے مختص افراد میں سے بعض سرکاری اہلکاران کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ (صد افسوس ہے کہ جو اہلکارخود پہرے میں ہوں وہ دوسروں  کی پہرہ داری کیا کریں گے)۔ہمارے اہلکاروں کے بچوں کی تعلیم کےلئے معیاری درسگاہ ہوتے ہیں۔

اور تمام غریبوں کے بچے سکول میں ٹاٹ کی صحیح سہولت سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ایسے اہلکاروں اور حکمرانوں کی زیر سایہ زندگی گزارنے والے افراد کسی چیز کی قیمت سن کر “آہ” کہتے ہوئے کان پکڑنے کی کیفیت  سے دوچار ہونا لازمی امر ہے۔مگر اس بات پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے کہ پھر بھی ہم ان کی عزت وتکریم اور ادب واحترام  میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ جو یقیناً اد ب کی بے احترامی کے مترادف ہے۔


شیئر کریں: