Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بخدمت جناب وزیر تعلیم آزادکشمیر دیوان چغتائی صاحب – پروفیسرعبدالشکورشاہ

Posted on
شیئر کریں:

بخدمت جناب وزیر تعلیم آزادکشمیر دیوان چغتائی صاحب – پروفیسرعبدالشکورشاہ

 

بچوں کے حقوق کے کنونشن (سی آر سی) کے آرٹیکل 28  کے مطابق ہر بچے کو مفت بنیادی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔(سی آر سی) کا آرٹیکل(29)  مزید کہتا ہے کے ریاست اس امرکی ذمہ دار ہے وہ بچوں کو اس میعار کی تعلیم فراہم کرے جو ان کی شخصیت کو ہر لحاظ سے نہ صرف نکھارے بلکہ بچوں اور ان کے والدین دونوں کی ثقافتی شناخت کی ضامن بھی ہو۔سی آر سی ریاستی اور بین الاقوامی حکومتوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ آپس میں تعاون کو فروغ دیتے ہوئے بچوں کے حقوق کے اہداف کا حصول یقینی بنائیں۔ تعلیم سب کے لیے     : کے نام سے تھائی لینڈ میں یو این ڈی پی،یونیسکو،یونیسیف اور ورلڈ بینک کے تعاون سے ہونے والی عالمی تعلیمی کانفرنس نے عالمی سطح پر مشترکہ تعلیمی کوشش میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کانفرنس نے بنیادی تعلیم اور اس کے طریقہ تدریس کے ضمن میں دُنیا کے غریب ممالک کو سر فہرست رکھا۔ اگرچہ ہمارے خطے کاتقریبا %28بجٹ تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے تاہم آزاد کشمیر میں تعلیم کے اہداف کبھی بھی حاصل نہیں کیے جا سکے۔آزاد کشمیر میں کم و بیش 4202 سرکاری پرائمری سکول ہیں جن میں تقریبا9589 اساتذہ موجود ہیں۔ %43 بچے سکول نہیں جاتے۔

سکول چھوڑنے کی شرح %35 ہے۔ اساتذہ کی غیرحاضری کی شرح%12 ہے۔ علاقائی اثرات کی وجہ سے زبانی مہارت بہت کمزور ہے۔ ملک کے %42 فیصد سکول بغیر عمارت کے ہیں۔%87 میں بجلی نہیں،%73 میں پینے کے پانی کا انتظام نہیں اور %82 سکولوں کی کوئی حفاظتی دیوار نہیں ہے۔ یہ حقیقت جی ڈی پی کے تناسب سے عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان ایشیا میں سب سے کم %2 جی ڈی پی کے ساتھ سرفہرست ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر میں بجٹ کا تقریبا %14.28 تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ وادی نیلم جو کہ ریاست میں تعلیمی لحاظ سے 58 ویں نمبر پر ہے اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔تعلیمی بجٹ کا %99 تنخواہوں اور الاونسسز کی مد میں چلا جاتا اور صرف %01 آپریشنل اخراجات کے لیے بچتا ہے۔ ریاستی بجٹ کے علاوہ %9 تعلیمی امداد بھی شامل ہے۔ آزاد کشمیرکے چیف اکانامسٹ کے مطابق کل بجٹ کا 1.15%بنیادی یعنی پرائمری تعلیم پر خرچ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے وادی نیلم میں گذشتہ کچھ دہایوں میں گنتی کے چند ادارے بنائے گئے ہیں جوکہ متذکرہ بالا اعدادوشمار کے مطابق تمام تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ مڈل،سکینڈری اور ہائیر ایجوکیشن کا حصہ بالترتیب %9.25, 23.73, اور 9.46 فیصد ہے گزشتہ پنج سالہ تعلیمی منصوبے کے لیے مختص کردہ بجٹ خطے کے دیگر ممالک اور اضلاع کی نسبت انتہائی کم تھا اورنصف سے بھی کم تعلیمی اہداف حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔قومی دھارے میں لانے کی پالیسی جسے نیشنلائیزیشن کہا جاتا ہے خود بخود دم توڑ گئی۔ بلاآخر 1979میں پہلی قومی پالیسی کا قیام عمل میں لایا گیا جس پر 1992 میں نظر ثانی کی گئی۔

تا ہم دونوں تعلیمی پالیسیاں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ پالیسی سازوں  نے 2005 میں اس کا جائزہ لیا جس کے نتیجے میں پہلا وائٹ پیپر 2007 میں شائع ہوا۔ اس وائٹ پیپر نے 2009 کی قومی تعلیمی پالیسی کی بنیاد رکھی۔ اس وائٹ پیپر کے مطابق % 52 بچے بغیر کسی سہولت کے ایک کلاس روم میں پرھائے جاتے۔ اس لحاظ سے تعلیمی نتائج زیرو ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق کلاس میں جتنے کم طالبعلم ہوں گے اتنا اچھا تعلیمی نتیجہ نکلے گااوروہ استاد کی اتنی ہی زیادہ توجہ حاصل کر سکیں گے۔ مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ایک استاد کو 50 سے 60 بعض حالات میں اس سے بھی کہیں زیادہ طلبہ پڑھانے کے لیے دیے جاتے۔آزادکشمیر بھر میں اساتذہ کی ایک بڑی تعدادکئی ماہ اور کچھ اساتذہ کئی سالوں سے سکولوں سے غائب ہیں۔ کشمیر بھر میں محکمہ تعلیم نے تعلیمی شعبہ ٹھیکہ سسٹم پر دے رکھا ہے۔سیاسی پشت پناہی والے اساتذہ تو ڈیوٹی حاضری کے بعد غائب ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اس معاملے پر کئی مرتبہ آواز بلند کی گئی مگر وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم، ڈی ای اوز اور دیگر متعلقہ افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

سیاست، اقربہ پروری، چاپلوسی، سفارشی کلچر، رشوت خوری اور دیگر بیماریاں نظام تعلیم کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔اس وقت پاکستان سکول چھوڑنے کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں پر 5-16عمر کے تقریبا 22.8ملین بچے سکول نہیں جاتے جواس عمر کی کل آبادی کا 44% بنتے ہیں۔5-9سال کی عمر کے 5ملین بچے کبھی سکول نہیں گئے اور پرائمری کے بعد سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد دوگنا ہو جاتی ہے۔لڑکپن کی عمر کے 11.4ملین طلبہ کسی بھی قسم کی رسمی تعلیم سے محروم ہیں۔سندھ میں 52%غریب بچے جن میں 58%لڑکیاں ہیں سکول نہیں جاتے،بلوچستان میں 78%لڑکیاں سکول نہیں جاتی،تقریبا 10.7ملین لڑکے اور 8.6ملین لڑکیاں پرائمری سکولوں تک نہیں پہنچتی۔ لڑکیوں میں سکول چھوڑنے کا تناسب 3.6ملین جبکہ لڑکوں میں 2.8ملین ہے۔آزاد کشمیر کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے یہاں کیا تناسب ہے متذکرہ بالا اعدادو شمار سے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ موجودہ وزیر تعلیم جناب دیوان چغتائی صاحب تو اساتذہ کو حاضر کرنے اور شعبہ تعلیم سے ٹھیکہ سسٹم ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو کر اس مافیا کے سامنے گھنٹے ٹیک چکے ہیں ان سے مزید سکولوں اور کالجوں کی تعمیر اور تعلیمی بہتری کی امید لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

آزادکشمیر کے 10اضلاع میں سے صرف ایک ضلع نیلم کی مثال پیش کروں گا جہاں  کے دوحلقوں سے اس وقت 3ایم ایل ایزاسمبلی فلور پر موجود ہیں۔اگر اس ضلع میں تعلیم کا یہ حال ہے تو کشمیر کے دیگر9اضلاع کا حال کیا ہو گا؟لگ بھگ 60سے زیادہ اساتذہ یا تو غیر حاضر ہیں یا انہوں نے ہمارے بچوں کا مستقبل ٹھیکے پر دے رکھا ہے۔ یہ تعلیمی میر جعفر اور میر صادق قوم کا مستقبل سنوارنے کے بجائے تاریک کرنے کے درپے ہیں اور عرصہ دراز سے گھر بیٹھ کر ان والدین کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لے رہے ہیں جو اپنے بچوں کو سال میں دوجوڑے کپڑے مہیا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ مگر اپنے پیٹھ پر پتھر باندھ کر ان کی بھاری تنخواہیں کے لیے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کر تے ہیں۔ اگر کسی کو میری کوئی بات تضحیک محسو س ہو و ہ پہلے حرام کی تنخواہ کھانا بند کرے ڈیوٹی کرے۔

درجہ ذیل اساتذہ عرصہ دراز سے گھربیٹھ کرنہ صرف خود حرام کھا رہے بلکہ اپنی بیوی بچوں کو بھی حرام کھلا رہے۔ مسسز ڈی ای او زنانہ ناصر حبیب اور معلمہ نازنین گورنمنت پرائمری سکول ناڑ شاہکوٹ ٹھیکہ سسٹم پر دے کر ایک سال سے غیر حاضر، ڈی ای اور ناصر حبیب صاحب ہی کا چچازاد بھائی معلم احسن خان کراشی دنجر سے غیر حاضر، پرائمری سکول دواریاں بالا سے معلمہ ا مرینہ بی بی غیر حاضر، ہلمت ہائیر سکول اینڈ کالج سے چپڑاسی شفیع اخون ولد بشیر احمد اخون غیر حاضر، معلم سلطان صاحب پرائمری سکول مرناٹ غیر حاضر، گرلز مڈل سکول پھولاوئی بالامعلمہ وقاالنساء اور جونیئر معلمہ نسیمہ بی بی اور انچارج پروین اشرف غیر حاضر،کنڈل شاہی گرلز مڈل سکول سے پرائمری معلمہ صبیحہ سعیدٹھیکہ سسٹم کے تحت غیر حاغر،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سالخلہ معلمہ قمر بی بی کبھی حاضر نہیں ہوئی اور دوبئی میں مقیم ہیں، پرائمری سکول دواریاں پائین معلمہ زوجہ جاوید اقبال، معلمہ نصرت عارف، ٹھیکہ سسٹم کے تحت غیر حاضر،گورنمنٹ بوائز پرائمر ی سکول پرانا گراں سے جناب صغیر احمد شیخ ٹھیکہ سسٹم کے تحت عرصہ 4سال سے غیر حاضر،اشفاق صاحب غیر حاضر، گورنمنٹ پرائمر ی سکول دوسٹ سے انچارج معلمہ پروین اعجاز کیانی غیر حاضر، گورنمنٹ پرائمری سکول کشن گھاٹی شاردہ سے معلمہ عابدہ سلطان 6سال سے غیر حاضر،گورنمنٹ گرلز مڈل سکول لالہ سے محترمہ معلمہ فخرالنساء6ماہ سے غیر حاضر، گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول چلائی سے جناب عبدالرشید اعوان ٹھیکہ سسٹم کے تحت دو سال سے غائب، گورنمنٹ پرائمری سکول ناڑشاہکوٹ سے کمپیوٹر آپریٹربشارت صاحب ایک سال سے غیر حاضر،

گورنمنٹ گرلز پرائمر ی سکول سنجلی سے مسسز خواجہ صدیق احمدسابقہ پی آراو وزیر تعلیم میاں وحید صاحب غیر حاضر،چلہانہ باب نیلم سے پرائمری سکول معلمہ کوثر گیلانی غیر حاضر، گرلز پرائمری سکول رتہ پانی سے معلم خورشید میر، پرائمری سکول کیل سیری، گرلز ہائی سکول سرداری سے سمراء بی بی، نجمہ بی بی،سینئیر معلمہ شہناز بی بی، چپڑاسی مظفر شاہ غیر حاضر، بوائز پرائمری سکول سرداری سے معلم اسلم صاحب،بوائز سیکنڈری سکول ہلمت سے معلم محمد شفیع،سرفراز احمد، غلام احمد آزاداور محمد اصغر غیر حاضر ہیں۔مڈل گرلز سکول ہلمت سے مریم بی بی صدرمعلمہ، ٹھیکہ سسٹم، معلمہ ثوبیہ کلثوم بھی غیر حاضر،جانوئی گرلز مڈل سکول سے شمیم بی بی،جبکہ جونئیر معلمہ کی سیٹ تاحال خالی ہے۔ چچڑ مانوں رحمان آباد سے معلم محمد یونس،گورنمنٹ پرائمری سکول سرگن لسیاں سے ریشم بی بی، عاصمہ بی بی ٹھیکہ سسٹم کے تحت غیر حاضر، سامگام گرلز پرائمری سکول سے عابدہ بی بی اور شمیم بی بی، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بگنواں سے راشتہ لعل 2سال سے غیر حاضر،

سامگام بوائز سکول سے مالی، معلمہ زیب النساء بھی ٹھیکہ سسٹم پر گھر بیٹھ کر تنخواہ لے رہے۔ صدر معلم دنجرجناب رفیق صمد صاحب 2ماہ سے غیر حاضر ہیں۔معلمہ بیگم نذیر احمد خان گورنمنٹ ہائی سکول شکول میرپورہ 6ماہ سے غیر حاضر، روبینہ نظیر صاحبہ ایلیمنٹری سکول کٹھہ چوگلی عرصہ دراز سے غیر حاضر، مسسزبابو راجہ شامیر احمد خان صاحبہ، انچارج صدرمعلمہ کٹھہ چوگلی، نذیر ممتاز صاحب بوائز مڈل سکول فلاکن8ماہ سے غیر حاضر اور ٹھیکہ سسٹم کے تحت گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کر رہے۔ ہم کیوں توجہ دیں!!حکمرانوں کے بچے تو سرکاری سکولوں میں نہیں پڑھتے۔مندرجہ بالا حقائق اور غیر سرکاری و غیر جانبدارسروے اور رپورٹس کے مطابق حکومت آزاد کشمیر میعاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ نیلم میں میعاری تو دور کی بات معمولی تعلیمی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پانچویں جماعت کے %39 طلبہ اردو میں لکھی ہوئی ایک سادہ کہانی نہیں پڑھ سکتے، جو کے دوسری کلاس کے طلبہ کو روانی کے ساتھ پڑھنی آنی چاہیے۔ پانچھویں کلاس کے %41 طلبہ انگریزی کا ایک سادہ جملہ نہیں پڑھ سکتے۔اور اسی کلاس کے %47 طلبہ ریاضی کی دو حرفی رقم کو تقسیم کرنا نہیں جانتے۔پرائیویٹ سکولوں کا حال بھی تسلی بخش نہیں ہے صرف %30 پبلک سکولوں میں واش روم کی سہولت دستیاب ہے۔

 


شیئر کریں: