Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوشل میڈیا کا مثبت استعمال – تحریر:اشتیاق احمد

شیئر کریں:

گلوبلائزیشن کے اس دور جدید میں لاکھوں میل دور رہنے والے افراد کے ساتھ روابط ،میل جول رکھنا اتنا سہل ہو گیا ہے کہ سیکنڈز میں ہم اپنی انگلیوں کے نیچے موجود سمارٹ فون کی فنکشنز سے ایسے انداز میں مستفید ہوتے ہیں اور قربت کا ایسا گمان ہونے لگتا ہے جیسے وہ ہمارے آس پاس ہی موجود ہوں اور اپنے خاندان والوں کے پاس رھ کے بھی ہم ان سے دور ہو جاتے ہیں۔


نئے دور کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے ان کی ایجادات سے استفادہ کئے بغیر آگے بڑھنا دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ نہیں۔
آج ہر شخص کے پاس سمارٹ فون ہے اور کچھ بنیادی فنکشنز سیکھنے کے نتیجے میں معلومات کا ایک خزانہ ہمیں مل۔جاتا ہے جس کا مثبت استعمال کرکے ہم اس کے تمام فوائد سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں نئی تبدیلیوں کو بھی سامان کر سکتے ہیں،اس فون میں ایک بار کلک کرنے سے ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں جو ہمیں ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں ایجادات اور واقعات کا خزانہ ہمارا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور کچھ لمحے کیلئے ہم زندگی کی تلخیوں سے انسان کوسوں دور چلا جاتا ہے اور اس کے فائدے سے بچے بوڑھے جوان مرد وخواتین سب ہی استفادہ حاصل کر رہے ہیں اس کے مثبت استعمال سے لوگ اینکر پرسن اور رپورٹر تک بن بیٹھے ہیں۔


میڈیا انڈسٹری میں Mojo اور سینٹرن جرنلزم نے انقلاب برپا کر دیا ہے جو کہ آنے والے دنوں میں روایتی میڈیا کا سمت کا تعین کرے گا۔
پاکستانی نوجوانوں کو قدرت نے تمام صلاحیتوں سے لیس کیا ہے اور ان صلاحیتوں کو مثبت چیزوں پہ صرف کرکے،ان سہولیات سے استفادہ حاصل کرکے ہم جدید دور میں بہت ترقی کر سکیں گے لیکن افسوس ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے نوجوانوں کے اندر سوشل میڈیا کے استعمال کو نیگیٹو انداز میں پیش کرکے غلط استعمال کرنے کی باقاعدہ ترغیب دی جاتی ہے لیکن ہم سوشل میڈیا انسٹاگرام،فیس بک،وٹس آپ،ٹوئیٹر،ایم ایم ایس، اور ایس ایم ایس کا مثبت استعمال کرکے معلومات کے نہ۔ختم ہونے والے خزانے کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کے استعمال سے ہم اپنی زندگی میں آمن،تعلیم اور شعور کے پرچار کو فروغ دے سکتے ہیں،ہم اپنی زندگی،معاشرے اور قوم میں ایک مثبت تبدیلی،سوچ اور تحریک پیدا کر سکتے ہیں،مختلف چیزوں کے حوالے سے آپنے آراء کا اظہار کر سکتے ہیں اور سوشل میڈیا انسان کی سوچ خیالات اور رجحانات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ہم کس سوچ فکر اور نظریے کے مالک ہیں۔


ان مندجہ بالا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہم لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین بحث و تکرار،فیک بک لائیو،آن لائن ٹی وی،ریڈیو،ویڈیوز،ملکی اور عالمی میڈیا ،دین و دنیا،علم و ہنر،فنون لطیفہ اور کھیل کود کی مفید معلومات سے ایک عدد کلک کرنے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔موجودہ دور کی افرا تفری،بے حسی،مایوسی،ٹینشن کی بیماری کی طرح ہمارے ذہنوں میں سرایت کر گئی ہے،انسان وقت حالات،مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پریشان حال ہے ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو روشنی،امید اور تسلی کا وسیلہ بنیں،لوگوں میں سوشل میڈیا کے موثر،با مقصد اور مثبت استعمال کے فوائد اجاگر کریں جس سے خاطر خواہ آمدنی بھی نہایت آسان ہے اور نوجوانوں میں تجسس کو پالش کرکے ان کو مناسب ٹریننگ دے کر اپنی شوق کو معاشرے میں بہتری لانے کے لئے استعمال کرنے پر صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ضرورت کا پرچار کرنا چاہئے ،اپنے تجربات،کہانیاں،خیالات دوسروں سے شیئر کرنے چاہئیں۔
ضرورت اس آمر کی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے لوگوں کی آمدنی میں بہتری کے ذرائع لانے کے اقدامات ہونے چاہئیں،اس کے غیر ضروری استعمال نے گھروں کے گھر اور خاندانوں کے خاندان اجاڑ کے رکھ دئے ہیں اور ان کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں ایسی صورتحال میں آمن کے سفیروں،اچھائی کے پیامبروں اور دوسروں کے دکھ درد،بھلائی کا پرچار کرنے والوں اور درد دل سے لبریز خدا ترس لوگوں کو اس حوالے سے سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور دور جدید کے نئے تقاضوں سے خاطر خواہ انداز میں استفادے کا حصول ممکن ہو۔


شیئر کریں: