Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہماری ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں شکر کے ساتھ  – تحریر :محمد نفیس دانش 

Posted on
شیئر کریں:

ہماری ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں شکر کے ساتھ  – تحریر :محمد نفیس دانش

دعاؤں کی قبولیت کے بارے میں لوگوں میں ایک عام شکوہ یہ پایا جاتا ہے کہ “میں نے اللہ تعالی سے یہ نعمت اور یہ دعا بار بار مانگی ہے مگر میری دعائیں قبول نہیں ہوتی حالانکہ میں پنج وقتہ نماز بھی ادا کرتا ہوں اور گاہ بہ بگاہ صدقہ بھی کرتا ہوں لیکن پھر بھی… وغیرہ وغیرہ ایسے لوگ اکثر شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔
حالانکہ اللّٰہ رب العزت نے انسان کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے کہ انسان ان نعمتوں کو شمار ہی نہیں کر سکتا انسان سوچتا ہے کہ مجھے فلاح چیز کی ضرورت ہے، فلاح کے پاس یہ چیز ہے میرے پاس کیوں نہیں ہے، فلاح کو اللّٰہ نے یہ دے دیا مجھے کیوں نہیں دیا، لیکن اگر یہی انسان چند لمحوں کے لیے اللّٰہ کی عطا کردہ ان نعمتوں کے بارے میں سوچے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہیں، ان میں سے بہت سی ایسی نعمتیں ہیں جو اللّٰہ رب العزت نے اسے بن مانگے عطا کی ہیں جن کے لیے بہت سے لوگ اللّٰہ کے سامنے گڑگڑاتے ہیں.
 مثلاً چہرہ میں آنکھیں، کان، ہونٹ، ناک اور زبان وغیرہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمتیں ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے بن مانگیں عطا کی ہیں ۔
اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں مکمل جسمانی اعضاء کے ساتھ ساتھ عقل و شعور اور ہر محرومی سے پاک ایک مکمل انسان بنایا، اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آئیں گے جو بہت سی محرومیوں کا شکار ہیں اس لیے ہمیں ان سب نعمتوں پر جو اللّٰہ رب العزت نے ہمیں عطا کی ہیں تہہ دل سے اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہیے.
الغرض اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ہم ایک وقت میں ایک ساتھ اللّٰہ تعالٰی کی عطا کردہ بہت سی نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں.
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
“وہ اللّٰہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کیا مگر تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو”(سورۃ النحل=78)
“اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہیں کرسکو گے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔” (سورۃ النحل: 18)
دعائیں قبول ہونے کی چار صورتیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”بہت سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں لیکن جلد بازی کی وجہ سے ان کی دعائیں ضائع کر دی جاتی ہے”
 صحابی نے جب وضاحت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ جو بھی دعا مانگی جائے وہ قبول ضرور ہوتی ہے مگر اس کی قبولیت کی چار صورتیں ہیں ۔
1:جو اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا اللہ وہی عطا کر دے(لوگ اسی کو قبولیت کی نشانی سمجھتے ہیں حالانکہ باقی بھی صورتیں ممکن ہیں)
2: جو اللہ سے مانگا ہے اللہ اس کا نعم البدل عطا کر دے۔
 مثلاً فلاں شخص سے مکان خریدنے یا فلاں سے شادی کرنے کی دعا مانگی لیکن وہ مکان یا وہاں ازدواجی رشتہ کی بجائے کسی دوسری جگہ ہو جاتا ہے تو انسان سمجھتا ہوں میں نے دعا میں صرف یہی تو ایک چیز مانگی تھی وہ بھی نہیں ملی وغیرہ وغیرہ لیکن کچھ مدت کے بعد جو مانگ رہا تھا اس کی دو نمبر ہونے کی حقیقت کھلتی ہے تو انسان فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے کہ اچھا ہوا یہ مکان یا فلاں جگہ شادی نہیں ہوئی وگرنہ مجھے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا؛ اس لیے جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے ۔
3:اس دعا کے سبب بندہ کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔
 4 :دعاؤں کا پورا کر دینا نا دعا و کے بدلے دعاؤں کو پورا کرنے کی خاطر نیکیوں میں بدل دینا
دعا کی قبولیت کی چار صورتیں ہیں نمبر1 جو مانگا جائے وہی اللہ دے دے ہم اسی کو قبول یہ سمجھتے ہیں نمبردو نعم البدل عطا کردے مثلا لینے کا ارادہ کرتا ہے وغیرہ کوئی سفر کو شادی ہو گا لیکن وہ دعا قبول نہیں ہوتی اس کے بدلے میں کوئی اور چیز مل جاتی ہے اور جب کچھ وقت گزر جاتا ہے اس کے کھولتی ہے پھر اس وقت بندہ یہ سمجھتا ہے کہ میرے ساتھ اللہ نے صحیح تیسری صورت یہ ہے کہ انسان کے گناہ معاف کر دینا چوتھی صورت یہ ہے کہ دعاؤں کو پورا کرنے کی خاطر اللہ تعالی نے کیوں بدل دیتا ہے حدیث میں ہے کہ مل جاتی لہذا ناشکری کے کلمات اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں وغیرہ کے الفاظ سے بچنا چاہیے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے. مولانا یوسف خان صاحب مکتب تعلیم القرآن کراچی میں اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں کہ شکر ادا کرنے کا بھی اسلام نے ہمیں خوبصورت طریقہ بتلایا ہے۔
شکر ادا کیسے کریں؟
شکر ادا کرنے کے چار طریقے ہیں.
1:دل سے شکر ادا کریں
2:دوسرا طریقہ زبان سے شکر ادا کرے.
3:نعمتوں کے استعمال سے شکر ادا کریں.
4:مخلوق خدا کی خدمت سے شکر ادا کریں.
دل سے شکر ادا کرنے کا طریقہ
دل سے شکر ادا کرنے کے دو طریقے ہیں احترام منعم اور محبت منعم احترام منعم کا مطلب ہے کہ نعمت دینے والے کا احترام کیا جائے.
اور محبت منعم کا مطلب یہ ہے کہ نعمت دینے والے سے محبت کرنا.
خواہ وہ انسان ہو یا اللہ ہو دونوں برابر ہیں. مثلا اگر کوئی آپ پر احسان کرتا ہے اور آپ اس کی بجائے احترام کسی اور کا کریں تو وہ ناراض ہو جائے گا بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اگر ہم اللہ کی بجائے کسی اور کا احترام و اکرام کریں گئے تو اس عمل سے اللہ تعالیٰ بہت سخت ناراض ہو جاتے ہیں۔
ہم اللہ اکبر تو کہتے ہیں لیکن دل میں احترام پیسے کا ہے کہ اس سے سب کچھ ہوتا ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا. ایسے نظریے اور عقیدہ سے اللہ ناراض ہوتے ہیں.
یہ ایک فطرتی اصول ہے” الانسان عبد الاحسان “کہ جس شخص پر کوئی احسان کرتا ہے وہ بندہ اس کا غلام بن جاتا ہے اور اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اور اس کی پسند کو ترجیح بھی دیتا ہے اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے منعم حقیقی اللہ تعالیٰ کے احکامات کو ہر وقت ماننے کی اور ترجیح دینے کی کوشش کریں.
 زبان سے شکر ادا کرنے کا طریقہ
زبان سے شکر ادا کرنے کے بھی دو طریقے ہیں تحدیث بالنعمت اظہار کرنا اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے تعریف کرنا.
زبان سے تحدیث بالنعمت کا مطلب ہے کہ انسان اس کا اقرار اور اظہار کرے کہ یہ چیز میرے ابو نے یا بھائی وغیرہ نے دی ہے اس میں ریا کاری مقصود نہ ہو.
اللہ کا شکر ادا کرنے کا طریقہ آپ کی تعلیم سے یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر دی ہوئی چیز پر الحمدللہ کہیں. مثلاً الحمد للہ اللہ نے مجھے آنکھوں کی نعمت سے نوازا وغیرہ.
بندوں کا شکر ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آپ کو کوئی چیز دے اس پر اس کو “جزاک اللہ” کہ دیا جائے تاکہ اس کے ذریعے اس کی دی ہوئی نعمت کا اس کو بدلہ مل جائے. حدیث میں آپ نے فرمایا :”جو شخص بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ میرا بھی شکر ادا نہیں کرتا “
نعمتوں کے عملی استعمال سے
عملی استعمال کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کو عملی طور پر استعمال کرنا اور اس کا استعمال کر کے اظہار کرنا
 ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک صحابی آپ کے پاس آئے اور انہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے جس پر آپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ کپڑے صاف ستھرے پہن کر آؤ کیونکہ
“اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہیں اور خوبصورت اور جمال کو پسند کرتے ہیں”
جب ہم اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کا اپنے وجود پر اظہار کرتے ہیں تو اس سے اللہ تعالی بہت خوش ہوتے ہیں لیکن اگر استعمال نہ کی جائیں تو یہ بھی ایک ناشکری ہے
مخلوق خدا کی خدمت کر کے شکر ادا کرنا
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا مثلاً اپنے علم، عمل، ہنر، مال اور تزکیہ نفس وغیرہ سے دوسروں کی رہنمائی کرنا یہ بھی ایک شکر کا بہت بڑا طریقہ ہے.
 شکر ادا کرنے کی کیفیت کیسے پیدا ہو؟
ہمارے طبیعتوں میں اس وقت شکر ادا کرنے کی کیفیت ہوگی جب ہم “دنیا کے معاملات میں ہمیشہ اپنے سے نیچے والے طبقے کو دیکھیں اور اس کے کے بارے میں سوچیں اس سے شکر کی کیفیت پیدا ہو گئی اور ہر وقت ہائے ہائے کے رونے دھونے سے بھی جان چھٹ جائے گی.
شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور حکایت ہے کہ کسی شہر میں پہنچے تو انکی جوتی پھٹ گئی اور نئی خریدنے کی استطاعت نہ تھی تو بیحد ملول ہوئے کہ اتنے فضل وکمال کے باوجود اللّٰہ نے اس حال میں رکھا ہے کہ پاؤں میں جوتی نہیں وہ جیسے ہی شہر کی مسجد میں داخل ہوئے تو انکی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جسکے پاؤں نہیں تھے، یہ دیکھتے ہی اللّٰہ رب العزت کے آگے سجدے میں گر گئے اور اللّٰہ کا لاکھ شکر ادا کیا کہ جوتی نہیں تو کیا ہوا پاؤں تو ہیں جبکہ اس بیچارے کے پاؤں نہیں ہیں.
 انسان کے ناشکر ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے دنیا کے معاملات میں اپنے سے اوپر والے طبقے کو دیکھنا شروع کر دیا اور دین کے معاملہ میں اپنے سے نیچے کو دیکھنا شروع کر دیا حالانکہ اگر ہم سکون اور شکر گزاری والی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے برعکس عمل کرنا ہوگا پھر ہمارے اندر شکر کا مادہ خود بخود پیدا ہوجائے گا ان شاء اللہ انسان ترقی کے زینوں کو عبور کرتا رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے :
اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گئے تو میں نعمتوں میں اور زیادتی کروں گا “

شیئر کریں: