Chitral Times

Jan 17, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہلاکو خان ، علقمی اور طوسی! – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

بغداد اور اس کے نتیجے میں عباسی حکومت کا خاتمہ، تاریخ کا بڑا المیہ ہے، یہ تباہی ہلاکو خان کے ہاتھوں سے ہوئی تھی، لیکن افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ اسے خود حکومت کے وزیر علقمی نے دعوت دے کر بلایا تھا، یہ داستان بڑی سبق آموز اور عبرت انگیز ہے، علقمی نے خلیفہ سے کہا کہ سلطنت کا خزانہ بڑا زیر بار ہورہا ہے، اس لئے اخراجات میں کمی کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس کی موثر ترین تدبیر یہ ہے کہ فوج میں کمی کردی جائے، سبکدوش سپاہیوں کے پاس کوئی ہُنر تو تھا نہیں جس سے وہ اپنی روزی کمالیتے، انہوں نے ملک میں لوٹ مار شروع کردی جس سے امنِ عامہ قتل ہوگیا، ایسے حالات پیدا کرکے علقمی نے ہلاکو کو دعوت بھیج دی کہ حالات بڑے نامساعد ہیں، جلد آجائیے، اس طرف علقمی تھا اور دوسرا ہلاکو خان کا مشیر بھی خیر سے ایک مسلمان ہی تھا اور مسلمان بھی بڑا ’نامور‘ نصر الدین طوسی۔


 علقمی او ر طوسی کی سازش سے ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی، مؤرخین کے اندازے کے مطابق اس قتل عام میں قریباً ایک کروڑ 6 لاکھ مسلمان، زن و مرد، بچے، بوڑھے قتل کردئیے گئے، لوٹ مار اور غارت گری اس وسیع پیمانے پر ہوئی کہ قیامت خیز حادثہ تاریخ میں ضرب المثل بن گیا، ہلاکو نے خلیفہ (معتصم باللہ) کو قتل کرنا چاہا، تو علقمی اور طوسی کی انتقام جوئی نے ایک اور ستم ظریفی کی۔ ہلاکو سے کہا کہ مسلمانوں کے نزدیک ان کے خلیفہ کا وجود بڑا مقدس ہوتا ہے، اس لئے اس کے خون کا قطرہ زمین پر نہیں گرنا چاہیے۔ چنانچہ ان کی تجویز کے مطابق، خلیفہ کو نمدے میں لپیٹ کر، لاتوں سے کچلوادیا گیا، لیکن تاریخ نے خود علقمی کا یہ عبرت انگیز انجام بھی اپنے صفحات میں محفوظ کردیا کہ ہلاکو نے اسے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ تُو نے جب اپنے آقا سے بے وفائی کی تو میرا کب وفادار رہے گا، اس لئے وہ کتے کی موت مرگیا۔ دکن کے غدار میر صادق اور بنگال کے میر جعفر کی سازشیں، جیسے ابھی کل کی بات ہے۔ ملک و ملت کے ساتھ غداری کرنے والے کا انجام کس قدر سنگین اور مہیب ہوتا ہے، اس کا اندازہ لگانا بڑا تکلیف دہ عمل ہے۔


مملکت خدادِاد پاکستان پر روز بڑھتے قرضوں کا بوجھ اور عوام پر ٹیکسوں کے انبار عباسی حکومت کی یاد دلاتے ہیں کہ اپنوں کے ہاتھوں ملک کا معاشی نظام تباہ و برباد ہوگیا، عالمی مالیاتی اداروں کی مثال ہلاکو کی طرح ہے، جس نے اپنی شرائط سے کروڑوں انسانوں کا معاشی استحصال کیا ہوا ہے۔ یہ بھی درست کہ کوئی قرضے، امداد غیر مشروط نہیں دیتا، اگر آپ کو ضرورت نہیں تو شرائط نہ مانیں، لیکن ملک کو مالی خودمختاری اور خود انحصاری کی طویل المدت پالیسیوں پر نہ لے جانے سے ذخیرہ اندوزوں اور لوٹ مار مافیا نے عوام کا کچھ ایسا معاشی قتل عام کیا کہ اس کے اثرات سے نہ جانے کتنی دہائیاں متاثر ہوں گی، مضمرات سے نہ جانے جان کب چھوٹ سکے گی۔ نئی نسل ملک کو کس سمت لے جائے گی، سمجھ سے بالاتر ہے۔ تعلیم اداروں سے ہُنرمند طلبہ کے بجائے ’بابو‘ صاحبان کی ایسی فوج تیار ہوتی رہی اور ہے کہ ان کے پاس نہ ملک کو آگے لے جانے کا کوئی فارمولا موجود اور نہ ہی اپنا مستقبل بنانے کے لئے کوئی آئیڈیا ہے۔ ہلاکو خان ٹائپ مالیاتی اداروں کے سامنے آج کے علقمی و طوسی قوم کو نمدے میں لپیٹ کر پیش کردیتے ہیں، اس کا بھی بڑا عبرت ناک پہلو یہی ہے کہ اس کے ذمے دار بھی کوئی بیرونِ دشمن نہیں بلکہ ملک و قوم سے خود کو خیرخواہ کہنے کے دعویدار نام نہاد لیڈر ہوتے ہیں۔


قوم و ملک سے غداری صرف یہی نہیں کہ دشمنوں کو اپنی سرزمین میں عسکری مداخلت کا موقع یا دعوت دی جائے، بلکہ غداری کی سب سے غیر مقبول قسم یہ بھی ہے کہ قوم کو معاشی زنجیروں میں جکڑ کر، ہاتھ پائوں باندھ کر ایسے مالیاتی اداروں کے آگے پھینک دیا جائے جو اپنے سود اور منافع کے لئے خون پسینے کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیں۔ جب معاشی صورت حال ابتر ہوتی ہے تو ملک میں بے امنی بھی پروان چڑھتی ہے، کسی انسان کی جان لینے کے لئے معمولی رقم پر بھی اکتفا کرلیا جاتا ہے۔ ملک میں جو سیاسی خلفشار اور معاشی تحفظات رونما ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی ذمے داری صرف موجودہ حکومت پر عائد کرنے سے سب کو بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا، معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو مستحکم حکومت کے ساتھ مسلسل چلانا سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، لیکن ان حالات میں کہ کسی غریب، متوسط اور سفید پوش طبقے کی شہہ رگ پر معاشی خنجر رکھا ہوا ہے، معاشی بحران سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی۔


قوم کو تسلی دینے کے بجائے اربابِ نظم و نسق کی طرف سے ایسے بیانات بھی منصۂ شہود پر آتے رہے کہ ملک میں بے یقینی کی صورت حال مزید گمبھیر ہوتی جارہی ہے۔ اس موقع کا فائدہ ایسے عناصر بھی اٹھارہے ہیں جنہیں ملک دشمن خارجی قوتوں سے فنڈنگ ملتی ہے، ضروری ہے کہ فروعی اَنا کو اب ایک طرف رکھ دیا جائے، ایسے ضروری اقدامات متفقہ لائحہ عمل سے کیے جائیں، تاکہ کسی نئے بحران سے بچا جاسکے۔ کیا عوام کسی ایسی تدبیر سے مطمئن ہیں کہ موجودہ معاشی حالات کو کنٹرول کیے جانے کے اقدامات کو موثر سمجھتے ہوں تو بدقسمتی سے ایسا نہیں۔ بحرانوں کی کئی اقسام پنپ رہی ہیں، تمام سٹیک ہولڈرز کو عزم اور حزم سے اس صورت حال کا مقابلہ کرکے ملک کو معاشی بھنور سے بچانا ہوگا، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ملک کو پوری طرح کنگھالا جائے اور ایسے عناصر کی جڑ کو بنیاد سے اکھیڑ کر رکھ دیا جائے جو قومی دولت پر سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھے اور مملکت کے اثاثوں کی رگ رگ سے خون چوس رہے ہیں۔ صرف ایک جماعت کے پاس معاشی بحران کا حل قطعاً نہیں، کم ازکم کوئی بھی سیاسی جماعت یہ دعویٰ نہ کرے کہ وہ دودھ میں دھلی ہوئی ہے، چند افراد قوم کو بگاڑ دیتے ہیں، جیسے ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندا کردیتی ہے، کوئی باہر سے آکر ہماری غلطیوں کو درست نہیں کرسکتا، ہمیں اپنی غلطیوں کو خود ہی درست کرنا ہوگا، لیکن اس کے لئے اَنا اور غرور کو ایک جانب رکھنا ہوگا۔


شیئر کریں: