Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈینگی بخار اور کورونا ویکسنیشن حوالے چیف سیکریٹری کے زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے صوبے میں ڈینگی بخار کے بڑھتے کیسز کی روک تھام اور امسال ڈینگی بارے اقدامات میں کوتاہیوں اور کمیوں کی نشاندہی کے لئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نیاز کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔کمیٹی سپیشل سیکرٹری ہوم، 11 کور اور ضلعی انتظامیہ کے ایک ایک نمائندے پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی ڈینگی وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لے گی اور اس ضمن میں کوتاہیوں کی نشاندہی کرکے رپورٹ چیف سیکرٹری کو جمع کرائے گی۔ کمیٹی کی سفارشات سے مستقبل میں حکومتی اقدامات مزید موثر بنانے اور ڈینگی کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ یہ ھدایات چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے منگل کے روز سول سیکرٹریٹ میں ڈینگی وائرس کے تدارک بارے میں اعلی سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز، ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نیاز محمد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 6986 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اور 1412 فعال کیسز ہیں 168 افراد ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ اب تک ڈینگی بخار سے 8 افراد انتقال کر چکے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کمشنر پشاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ پشاور میں ڈینگی کیسز کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی تیار کریں اور جہاں سے بھی کیس رپورٹ ہو وہاں لاروا کش سپرے کیلئے گھر گھر مہم شروع کیا جائے تاکہ ڈینگی وائرس پر قابو پا یا جاسکے۔

دریں اثناء چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے کورونا ویکسینیشن بارے جائزہ اجلاس میں تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کیں کہ کورونا ویکسینیشن کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کوششیں مزید تیز کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز لازمی کورونا ویکسینیشن ریجیم کے تحت بازاروں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس میں سہولیات کی فراہمی کو ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کے ساتھ مشروط کریں۔ موبائل ویکسینیشن ٹیموں کو مزید فعال بنایاجائے۔ مارکیٹس میں ویکسینیشن کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ویکسینیشن کے اہداف کے حصول اور اس مہلک مرض کی روک تھام اور خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے.


شیئر کریں: