Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی طرف سے چترال ٹاون میں کھلی کچہری کا انعقاد، شکایات کے حل کیلئے موقع پر ہدایات

شیئر کریں:

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کے زیر صدارت ٹاؤن ہال چترال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر چترال لوئیر حسن عابد،سابق تحصیل ناظم سرتاج احمدخان اور مختلف محکموں کے سربراہا ن کے علاوہ تجار برادری اور عوامی حلقے شریک ہوئے۔ کھلی کچہری میں عوام نے شکایات کے انبھار لگائے۔


اس موقع پر بار ایسوسی ایشن کے صدر نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، عبد المجید قریشی ، محکم الدین، عنایت اللہ اسیر، شبیر احمد، امیر علی ودیگر نے مختلف مسائل کی نشاندہی کی ۔ جن میں این ایچ اے کے ٹھیکہ داروں کی ناقص کام، مختلف موبائل سروس مہیا کرنے والی کمپینوں کی ناقص سروس ، سڑکوں کی ناگفتہ بہہ حالت، چترال میں پانی ، ہیلتھ اوربازار کے مسائل اور خصوصی طور پر چترال گول نیشنل پارک میں قیمتی جانور مارخور کی تعداد میں تشویشناک حد تک کمی کو کمشنر کے نوٹس میں لایا گیا ۔ اور ساتھ چترال میں جلانے کی لکڑی کی نایابی اور عمارتی لکڑی کوبھی ہرایک کیلئے اسان دستیابی کا مطالبہ کیا گیا ۔انھوں نے کہا کہ کہ چترال یونیورسٹی کیلئے چترال ٹیکنکل کالج کی بلڈنگ پر قابضہ کیا گیا جس کی وجہ سے ٹیکنکل تعلیم سے چترال کے نوجوان محروم ہوگئے ہیں۔


کمشنر نے کہا کہ چترالی قوم کی شرافت کا مجھ سمیت سب معترف ہیں یہی وجہ ہے کہ مسائل کے انبار کے باوجود یہاں کے عوام کئی دہائیوں سے مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ چترال کو انتظامی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کے باوجود بھی رقبے کے لحاظ سے اپر چترال صوبہ کا سب سے بڑا ضلع ہے ۔ جبکہ وسائل کے مقابلے میں مسائل بہت زیادہ ہیں۔ جن کے تدارک کیلئے صوبائی اور مرکزی دونوں حکومتیں سنجیدہ ہیں۔


انھوں نے بعض مسائل کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنر و دیگر حکام کو موقع پر ہدایت جاری کی ۔ اور کہا کہ کسی کو بھی عوام کے حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے اور لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔


انھوں نے کہا کہ چترال کے تین اہم سڑکوں کی ٹینڈر منظور ہوچکے ہیں ، تین سالوں کے اندر چترال میں سڑکوں کا جال بچھایا جائیگا۔ اور ساتھ آرندو و شیخ سلیم بارڈر بھی تجارت کیلئے کھول دئیے جائیں گے ۔ جس سے چترال ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیگا۔


کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ آئندہ چترال میں جو بھی بلڈنگ تعمیر ہوگی ان کو تب تک اجازت نہ دی جائے جب تک وہ پارکنگ، پانی ، واش رومز ودیگر سہولیات کا پہلے سے نشاندہی نہ کرے۔ لہذا بلڈنگ کوڈز کے بیغیر کسی کو بھی اجازت نہیں ہوگی
انھوں نے کہا کہ دریاکے کنارے سے دو سوفٹ دور عمارتیں تعمیر ہونی چاہیے لہذا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو ہرگز قانون توڑنے کی اجازت نہ دی جائے


کمشنر نے کہا کہ مضر صحت شاپنگ بیگز پر پابندی لگائی جاچکی ہے اب ماحول دوست شاپر استعمال کرنا لازمی ہے خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاروائی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ چترال تعلیم کے لحاظ سے ملاکنڈ میں پہلا ضلع ہے یہاں تمام ادارے کم از کم پانچ سال کیلئے پلاننگ کرکے کام کریں۔


انھوں نے چترال کے گیس پلانٹس کیلئے اپنی طرف سے ہرممکن کوشش کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں ایندھن کیلئے متبادل ذرائع کی دستیابی سے یہاں کے جنگلات کو بچایا جاسکتا ہے ۔انھوں نے کچرا دریا کے کنارے نہ ڈالنے ، این ایچ اے والوں سے ناقص کام حوالے باس پرس، چترال گول نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد تشویشاک حد تک کم ہونے کی تحقیقات کرنے، ذمہ داروں کا تعین کرنے او رپسند و ناپسند سے بلا تر ہوکر سب کو کام کرنے کی ہدایت کی ۔

کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ جن جن ڈیپارٹمنٹ کے خلاف شکایت کی گئی ان کے ازالہ کیلئے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ میٹنگ کرکے مسائل کرنے کے ساتھ این ایچ اے، پی ٹی سی ایل اور موبائل فون سروس مہیاکرنے والی کمپنیوں کے ذمہ داروں کو چترال بلاکر لوگوں کے شکایات کی فوری ازالہ کرکے رپورٹ کرنےکی ہدایت کی ۔

انھوں نے کہا کہ چترال حسین وادیوں پر مشتمل علاقہ ہے اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ انھوں نے تمام لائن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ چترال کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش کریں اور حقدار کو ان کا حق دیں ۔

chitraltimes commissioner malakand kuli kachehri chitral lower3
chitraltimes commissioner malakand kuli kachehri chitral lower


شیئر کریں: