Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے بھر میں اس وقت آٹھ دارالامان فعال ہیں، اب تک تقریباً 97 ہزار لوگ مستفید ہو چکے ہیں،بریفنگ

شیئر کریں:

صوبے بھر میں اس وقت آٹھ دارالامان فعال ہیں، اب تک تقریباً 97 ہزار لوگ مستفید ہو چکے ہیں،بریفنگ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے میں پناہ گاہوں اور دارالامانوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہواجس میں گزشتہ اجلاس میں پناہ گاہوں اور دار الامانوں سے متعلق وزیراعلیٰ کے جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس، سیکرٹری سوشل ویلفیئر ذوالفقار علی شاہ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئرحبیب آفریدی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔


اجلاس کو صوبے میں قائم دار الامانوں کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبہ بھرمیں اس وقت آٹھ دار الامان مکمل طور پر فعال ہیں جبکہ لوئر دیر میں دارالامان قائم کرنے پر کام جاری ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ کوہاٹ میں بھی پہلے سے قائم دارالامان کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں چوکیدار کے علاوہ دارالامانوں میں تعینات تمام میل سٹاف کو ہٹا کر فی میل سٹاف تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ دارالامانوں میں ضروری عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 72 نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ دارالامانوں کیلئے ایڈوائزی کمیٹیوں کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے اور تمام دارالامانوں کیلئے یکساں فوڈ مینول متعارف کرایا گیا ہے ۔ اجلاس میں ڈی آئی خان ، صوابی، نوشہرہ اور بونیر میں بھی دارالامان قائم کرنے کی اُصولی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس کے شرکاءکو پناہ گاہوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں آٹھ پناہ گاہوں کے قیام کیلئے پاکستان بیت المال کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے جس کے تحت پاکستان بیت المال کی شراکت سے اس وقت چار پناہ گاہیں مکمل طور پر فعال ہیں اور ان پناہ گاہوں سے اب تک تقریباً 97 ہزار لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مزید چار پناہ گاہیں اس سال ستمبر تک فعال کی جائیں گی جبکہ ان پناہ گاہوں کیلئے عملے کی بھرتی اور گاڑیوں سمیت دیگر سامان کی خریداری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پناہ گاہ ایکٹ 2020 کے تحت رولز کی منظوری ہو چکی ہے، جس کے تحت ان پناہ گاہوں کے لئے بورڈ تشکیل دیئے جارہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پناہ گاہوں کے بورڈ ز میں غیر سیاسی اور فلاحی اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کوشامل کیا جائے تاکہ ان کے بہتر انتظام و انصرام کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے دارالامانوں میں یونیفارم فوڈ مینول پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کیلئے ٹیمیں باقاعدگی سے دارالامانوں کا دورہ کر کے رپورٹ پیش کریں ۔

وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ نشے کے عادی افراد کی بحالی اور انہیں فنی تربیت کی فراہمی کیلئے تربیتی مرکز کے قیام کیلئے ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں تاکہ نشے کے عادی افراد کو بھی تربیت دے کر ایک پرامن اور باعزت شہری بنایا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ ©”کوئی بھوکا نہ سوئے ” پروگرام کے تحت مفت فراہم کئے جانے والے کھانے کے معیا رکو بھی یقینی بنایا جائے اور اس پروگرام کی تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک توسیع کیلئے بھی ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ پناہگاہوں کو فلاحی ریاست کے قیام کے لئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کا اہم جز قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ان پناہگاہوں کو منظم انداز میں چلانے اور ان کے بہتر انتظام و انصرام کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق لوگ ان سے مستفید ہو سکیں۔

cm KP Mahmood chaired darul amans and panagahs meeting

شیئر کریں: