Chitral Times

Sep 23, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مدینے کی ریاست میں طالبان کی ضرورت-تحریر: گل عدن

شیئر کریں:

ہمارے ہمسائے میں طالبان کی حکومت اور امریکہ کی شکست ہمارے لئے یقینا خوشی کی بات ہے ۔لیکن افغانستان کا مستقبل ‘افغانستان کی معاشی اقتصادی ترقی پر بات کرنا قبل از وقت ھوگا۔ لیکن طالبان کی حکومت سے مغربی دنیا اور اندرون ملک روشن خیال طبقے میں جو واضح خوف اور بے چینی نظر آرہی ہے ۔ وہ “شریعت” کے نفاز کا خوف ہے ۔

جن لوگوں کو پچھلے کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بربریت اور ظلم کا نشانہ بننے والے خواتین اور بچوں کا مستقبل کبھی نظر نہیں آیا وہ عظیم ہستیاں آج افغانستان کے بچوں اور خواتین کی تعلیم و ترقی کے لئے ازحد پریشان ہیں ۔میں ان سے اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کیوں صرف افغانستان کی عوام کی آزادی تعلیم اور روشن مستقبل آپکے لئے اتنا اہم ہوگیا ہے؟

کیا کشمیر فلسطین اور ایسے کئی دوسرے ممالک جو سالوں سے ملک دشمن افواج کے ہاتھوں پس رہے ہیں کیا انکا سکون انکی تعلیم مستقبل انکی جان و مال کوئی حیثیت نیں رکھتا؟کیا چین و سکون کی زندگی پر انکا کوئی حق نہیں ؟ کیوں سالوں سے انسانی حقوق کے علمبردار تنظیمیں کشمیر کے حق میں مردہ تصور کی جا رہی ہے ۔امریکہ چین اور دوسرے کئی ممالک میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہے ۔لیکن کوئی آہ تک نہیں کرسکتا۔میڈیا پرلانا یا انہیں انصاف دلانا تو دور کی بات۔

موجودہ حالات میں امریکا اور اسکے اتحادیوں کی تلملاہٹ بے چینی اور بے سکونی مجھ جیسے پاکستانیوں کے لئے کسی کامیڈی ڈرامے سے کم نہیں تھا ۔لیکن جو حالات ہمارے ملک میں چل رہے ہیں وہ ہماری ہر خوشی اور فخر کو خاک میں ملانے کے لئیے کافی ہے ۔محرم کے پاک مہینے میں پڑوس میں طالبان کی فتح لیکن دوسری طرف کلمے کی بنیاد پر اور ہزاروں قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چودہ اگست کے دن اقبال پارک میں جشن آزادی کے نام پر آزادی امن قربانی اور مذہب نام کی جو دھجیاں اڑا دیں گئیں اسکی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔

یہ اور اسکے علاوہ آئے روز پاکستان میں جس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ زبان پر لانے کے قابل بلکل نہیں ہیں ۔ لیکن خاموش تماشائی کا کردار تو ہمارے حکمران خوب نبھا رہے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خان صاحب کو اقتدار میں صرف شریف خاندان کوسزا دلوانے کے لئے لایا گیا ہے باقی ملک جائے بھاڑ میں ۔مجھے تو اس بھولی عوام پر ترس آرہا ہے جو اس حکومت سے انصاف کی توقع رکھتی ہے ۔جو حکومت چار سال کی زینب کو انصاف نیہں دلاسکی ۔جو موٹڑ وے کیس کے چار درندوں کو سزا نہیں دلواسکی وہ حکمران چار سو درندوں کو چوک پر لٹکائیں گے؟؟!

یہ سوچ کر بھی گھن آتی ہے کہ وہ کم و بیش چار سو درندے چار سو گھرانوں کے چشم و چراغ تھے ۔چار سو ماؤں کے بیٹے کہلاتے رہے ہیں ۔نجانے کتنی ہی بیٹیوں کے باپ اس غلیظ مجمع کا حصہ ہوںگے۔ان بہنوں پر رحم آرہا ہے جن کے وہ بھائی ہیں۔اور ان ان چار سو مردوں کی جو مرد نام پر دھبہ ثابت ہوچکے ہیں ‘ ان کی نسل پروان چڑھے گی پاکستان کی سر زمین پر۔ ۔قلم اٹھانے پر مجھے ان تبصروں نے مجبور کیا جو نجانے کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ وہ لڑکی خود قصوروار ہے لہذا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو بدنام نہ کیا جائے۔۔ یعنی ایک لڑکی کی وجہ سے چار سو مردوں کا کردار بے نقاب ہو جائے تب بھی مرد کو بد کردار نہ کہا جائے۔ایسا ہے پاکستانی معاشرہ۔


میں اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ مردوں کو کیوں لگتا ہے کہ آپکا کردار کوئی معنی نہیں رکھتا؟؟؟آپکو کیوں لگتا ہے کہ آپ کچھ بھی کرکے دامن جھاڑ دیں گے اور آپکا دامن پاک ہوجائگا؟؟ جنکی سوچ ہے کہ مفت کی شراب قاضی بھی نہیں چھوڑتا میں کہتی ہوں مفت کی شراب نہ چھوڑنے والے قاضی کے کردار پر بھی لعنت۔معاشرہ آپکے کردار کومرد پیدا ہونے کے ناطے سائیڈ پر ضرور رکھتا آیا ہوگا۔مگر اللہ کی عدالت میں کسی بدکردار مرد کو کسی باکردار عورت پر فوقیت حاصل نیہں ہوگی۔انشاءاللہ


اور میں یہ نیہں کہتی کہ راہ چلتی عورت کی عزت آپکی ذمہ داری ہے موقع نیہں مگر میں یہ کہتی ہوں کی آپکی شرافت اور آپکا کردار صرف اور صرف آپکی اپنی ذمہ داری ہے ۔یہ آپ مان لیں۔


آئے روز کے ان واقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک کی بقا ء شریعت کے نفاز میں ہے ۔پاکستان کو طالبان کی شدید ضرورت ہے۔وہ دن دور نہیں جب پاکستانی عوام اپنی حکمرانوں اور عدالتوں سے مایوس ہوکر طالبان سے مدد کی اپیل کریں گے ۔کیونکہ عوام کو غرض اپنی جان مال اور عزت سے ہے۔

عوام کو اس سے کوئی غرض نیہں کہ اقتدار کی کرسی پر بیھٹنے والا آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہے یا غاروں میں پلنے والا انپڑھ مجاہد۔ایک آزاد ریاست کی عوام کو صرف تحفظ درکار ہے جو اب شریعت سے ہی ممکن ہے ۔


شیئر کریں: