Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی….تقدیرہ اجمل رضاخیل

شیئر کریں:

سلاطین دہلی کے دور میں سلطنت دس صوبوں پر مشتمل تھی۔ اشوک اعظم اور اورنگزیب کی سلطنت دریائے آموں سے لے کر بحیرہ عرب، خلیج فارس اور مشرق میں جزائیرغرب الہند اور شمال مشرق میں تبت اور کشمیر تک پھیلی ہوئی تھی۔ شمال میں دردستان، بلورستان اور کاشغر کا علاقہ اشوک کی قلمرو میں شامل تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنی بڑی سلطنت بارہ صوبوں پر مشتمل تھی۔ بدھ اور اشوک کے اقوال اور قوانین چٹانوں پر کندہ تھے اور الواحوں کی صورت میں صوبیداروں اور ماتحت انتظامیہ کے دفتروں میں بھی موجود تھے۔پاٹ شالہ علم و ادب، قانون اور عدل کا مرکز تھا۔

شیر شاہ اور اکبر اعظم کے دور میں ملک میں پندرہ صوبے، جہانگیر کے دور میں سترہ، شاہجہان کے دور میں بائیس اور اورنگزیب کے آخری دنوں میں صوبوں کی تعداد اکیس تھی۔ اس دور میں ہرات پر ایران نے قبضہ کر لیا اور مملکت ایک صوبے سے محروم ہوگئی۔


سلاطین اور مغلیہ ادوار میں تیس لاکھ درسگائیں اور دس ہزار لائبریریاں ملک کے طویل و عرض میں قائم تھیں۔ ہر درسگاہ میں طلبأ اور اساتذہ کی خوراک، رہائش اور وظائف کی ذمہ داری حکومت کی تھی۔ 1641؁ء میں صرف آگرہ کی لائبریری میں پینسٹھ لاکھ کی بیس ہزار کتابیں موجود تھیں۔ شاہجہاں کے دور میں لاہور کے مولانا عبدالحمید نے بادشاہ نامہ لکھا۔ شہزادہ داراشکوہ نے سکنیۃ اولیأ، سفینۃاولیأ، مجمع البحرین، نادر النکات، یوگ وشست اور اُپنشدوں کا فارسی ترجمہ کیا۔ شاہجہان کے دور میں مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی کو ان کی علمی خدمات کے صلے میں دوبار سونے میں تلوایا گیا۔


مغل اور ترک شہزادیوں کی علمی و ادبی خدمات بھی کم نہ تھیں۔ گلبدن بیگم نے ہمایوں نامہ لکھا، زیب النسأ بیگم باکمال شاعرہ اور معلمہ تھیں۔ زیب التفسیر اور تفسیر کبیر کا ترجمہ اس شہزادی کے کارناموں میں شامل ہے۔ جہاں آرأ بیگم نے موس الارواح تحریر کی اور الکندی کی کتاب انسأ پر تبصرہ لکھا۔

مالیے اور معصولات پر نظر ڈالی جائے تو سلاطین کے ادوار میں نوسے گیارہ کروڑ سالانہ آمدنی تھی۔ اکبر کے دور میں ساڑے تیرہ کروڑ، شاہجہان کے دور میں بائیس کروڑ اور اورنگزیب کے دور میں پینتیس کروڑ طلائی اشرفیاں تھیں۔ ملک میں ایک ہزار کپڑے کے کارخانے، دو ہزار ریشم کے کارخانے اورپندرہ سو اونی کپڑے کے کارخانے موجود تھے۔ ہر شہر میں سرکاری منڈیاں تھیں جہاں غلہ اور دیگر اشیأ وافر مقدار میں موجود رہتیں۔ نرخ نامہ بادشاہ کی منظوری سے صوبیدار مقرر کرتے اور ہر صوبے کی پیداوار کے مطابق نرخ نامے منظور کئے جاتے۔ عوام کی ضروریات کا غلہ الگ گوداموں میں رکھا جاتا جبکہ فوج اور سرکاری ملازمین کی ضروریات کا غلہ تبقچی (چیف سیکرٹری) کی نگرانی میں محفوظ کیا جاتا۔ بابر، ہمایوں اور اورنگزیب کے دور میں خوشحالی کے باعث ہندوؤں اور دوسری غیر مسلم اقوام کا جزیہ معاف کر دیا گیا۔ یتیموں، بیواؤں، معذوروں، علمأ اور پجاریوں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری تھی۔ تیموری قوانین کے مطابق پیشہ ور گداگروں اور ٹھگوں کے لئے سزائے موت کا قانون تھا۔ فوج اور پولیس کی تنخواہوں کے علاوہ مساجد و مدرسہ، درسگاہ، درگاہ اور مقبرہ و مندر کے اخراجات حکومت برداشت کرتی تھی۔ سڑکوں، فلاحی کاموں، شفاخانوں، حکیموں، سراؤں، اور لنگر خانوں پر حکومت خرچ کرتی تھی۔ مرکز اور صوبوں میں صدقات، خیرات، زکوٰۃ اور عشر کے محکمے قائم تھے جن سے مستحقین کی مدد کی جاتی تھی۔ جس دور میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا اس کی رقم غیر مسلموں پر ہی خرچ کی جاتی تھی۔ مغلوں کے بعد انگریز اقتدار پرقابض ہوئے مگر جاری نظام پر کوئی قدغن نہ لگائی گئی۔ ملک میں رفتہ رفتہ انگریزی قوانین کا اجرأ ہواجس میں مغلیہ اور اسلامی دور کے قوانین کو بھی شامل رکھا گیا۔


فارسی کی جگہ انگریزی زبان، اصلاحات و اصطلاحات نے لی تو بیوروکریسی میں بھی تبدیلی آگئی۔ صوبوں میں گورنر، چیف سیکرٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار اور پٹواری تعینات ہوئے۔ پولیس کا محکمہ از سرے نو قائم کیا گیا۔ تھانیدار، ڈی ایس پی، ایس پی اور بعد میں ڈی آئی جی کے عہدے شامل کئے گئے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر اور ایس پی عدل و امن کے پیامبر سمجھے جاتے تھے۔ ایس پی اور ڈی سی پورے ضلعے کا گھوڑے پر دورہ کرتے جن کے ہمراہ حلقے کا پٹواری اور تھانیدار پیدل چلتے۔ وہ لوگوں کی شکایات موقع پر سنتے اور مسائل حل کرتے۔ اگر تھانیدار اور پٹواری کے خلاف شکایت ہوتی تو انہیں موقع پر ہی نوکری سے برخاست کرکے جیل بھجوا دیا جاتا۔ ایسا ہی احوال عدلیہ کا تھا۔ رشوت، سفارش اور قانون کے دائرے سے باہر نکلنے کا کوئی تصور نہ تھا۔ فوجی افسروں، عہدیداروں اور جوانوں کو ان کی بہادری کی وجہ سے اعزازات، مراحات، خطبات اور انعامات ملتے تھے۔ موجودہ دور کی طرح افسروں کو ہر عہدے پر تعیناتی کی خوشی میں کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی صورت میں مبارک بادی اور مٹھائی نہ دی جاتی تھی۔ سول اداروں کا نظام آمرانہ، باغیانہ اور شاہانہ تو ہے ہی مگر فوج میں بھی بریگیڈیئر رینک سے اوپر مراعات، سہولیات اور انعامات کی بارش برستی ہے جیسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جب سیاسی نظام کرپٹ اور نوکر شاہی بے لگام ہو تو وہ اپنے ہم مرتبہ اور ہم نواؤں کا بھی خیال رکھتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اعلیٰ فوجی افسروں اور ان کے منظور نظر ماتحت افسروں کے کاروبار، کوٹھیاں، بنگلے، قیمتی گاڑیاں، پلاٹ، فارم ہاؤس، پلازے اور وسیع و عریض زرعی زمینیں ملک کے اندر ہی ہیں۔ بہت کم ایسے ہیں جو اپنا مال باہر لے کر گئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو راندہ درگاہ ہوئے اور نشان عبرت بنا دیئے گئے۔


اس سے بھی بدتر احوال سول انتظامی اداروں اور سیاستدانوں کا ہے۔ اب تو صحافی، وکیل، ڈاکٹر،کارخانہ دار اور سرمایہ دار بھی مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں جن پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ جنرل کیانی کے بھائیوں کے قصے مشہور ہوئے تو صوفی منش صحافی اور ایک عالمی روحانی شخصیت کا مرید ہارون الرشید، کیانی برادران کی عالمانہ، صوفیانہ اور دانشورانہ و کالت کا جھنڈا اٹھا کر میدان میں اتر آیا۔
ہر قصے اور کہانی کا ایک پلاٹ اور پس منظر ہوتا ہے۔ پس منظر اور پیش منظر کے علاوہ کرداروں کے بغیر کوئی کہانی آگے نہیں بڑھتی۔ کیانی کی کہانی تخت کیان سے شروع ہو کر گوجر خان اور پھر اقتدار کے ایوان تک آئی جہاں ایک دانشور جرنیل اور زیرک سیاستدان ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے لگے۔ کیانی برادران کے قصے کے کرداروں کی تصویریں دیکھ کر عدل کے ایوان لرز اٹھے اور قصے کو قصیدہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی۔


قصے کے کرداروں میں بڑے بڑے جنات، دیو اور پریاں شامل تھیں جن کے طلسماتی محل سرے محل سے بھی بڑے اور آسٹریلیا کے جزیروں سے زیادہ محفوظ اور بم پروف تھے۔ پاکستان میں ایسے جزیروں کو ہاؤسنگ سکیمیں اور سوسائٹیاں کہا جاتا ہے جن پر پاکستان کا آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتا۔ وہاں پریس اور پولیس کاداخلہ منع اورمکینوں کی فریاد سننا جرم تصور ہوتا ہے۔ لوگ اشتہار دیکھ کر آتے ہیں اور پھر خود اشتہار بن جاتے ہیں۔ اس کھیل میں سیاستدان اور نوکر شاہی کے کردار اہم ہیں جنہیں آئین اور قانون کا تحفظ حاصل ہے۔


پاکستانی سیاسی طبقے کا پس منظر بھیانک اور گھناؤنا ہے۔ بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ جو لوگ دن کی روشنی میں میرے ساتھ ہوتے ہیں وہ رات کے اندھیرے میں انگریز افسروں کے ذریعے ساری معلومات وائسرے ہند کو بھجواتے ہیں۔ یہ معجزہ تھا کہ اس کے باوجود پاکستان تو بن گیا مگر کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام بیوروکریسی کے اتحاد نے اسے پہلے دو لخت کیا اور اب یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہر حکومت کی معاونت مافیا اور کار ٹل کرتے ہیں۔ حکمران ڈنگ پٹا کر چلے جاتے ہیں اور لوٹا ہوا مال ٹھکانے لگا کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ نوکر شاہی،مافیا اور کارٹل کو نئے گُر سکھلاتی ہے اور پینترا بدل کر عوام پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ پاکستان میں سول سروس کا امتحان پاس کرنے کا مطلب کرپشن، لاقانونیت اور جبرواستحصال کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کرنا ہے۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا کہ جناب وزیراعظم کاپرنسپل سیکرٹری بادشاہ ہے۔ عدالت کے طلب کرنے پر بھی نہیں آتا۔ پہلے عرض کیا ہے کہ گزرے زمانوں میں بادشاہ عدالتوں میں پیش ہوتے تھے۔ ترکی کا سلطان مراد عدالت میں آیا، غلطی تسلیم کی اور اپنے دونوں ہاتھ کٹوانے کے لئے جلاد کے سامنے رکھ دیئے۔ کنفیوشس نے چین کے بادشاہ کو اس غلطی پر معزول کیا کہ وہ رات بھر رقص دیکھتا رہا اور صبح تخت شاہی پر بغیر وجہ کے نمودار نہ ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ قاضی کی عدالت میں حاضر ہوئے اور حضرت علیؓ کے حق میں امام حسینؓ کی گواہی قرابت کی وجہ سے قاضی وقت نے قبول نہ کیا۔


قرآن کریم میں ربّ کائنات نے حکم دیا کہ گواہی دو چاہے تمہارا، تمہارے قبیلے اور اولاد کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیلیویژن چینلوں علمأ اور دانشور قصے کہانیاں سناتے ہیں مگر کسی بیوروکریٹ اور سیاستدان کی کرپشن اور لاقانونیت کی بات نہیں کرتے۔ ایسا ہی احوال مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کا ہے۔ اگر لوگ برائیوں پر گواہ بن کر پیش ہوں تو شاید یہ ملک اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچ جائے۔ مگر ایک بھی ممکن ہی نہیں رہا۔ سچا گواہ گواہی سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے یا پھر کسی ناکردہ جرم کی پاداش میں نشان عبرت بن جاتا ہے۔


ایک سروے کے مطابق ملک کی بیوروکریٹک مشینری مکمل طورپر زنگ آلود ہے۔ کرپشن، لوٹ مار اور خودسری کا خناس اس قدر پھیل چکا ہے کہ اب اس مشینری کی مرمت بھی ممکن نہیں رہی۔ یہاں چینی لیڈر ڈنگ ژیاؤپنگ کے فارمولے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ چند پرزے جو سست رفتاری سے چل رہے ہیں انہیں صاف کرنے اور باقی جھاڑ جھنگاڑ اور کباڑ اٹھا کر باہر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ مگر سب سے پہلے اس کچرے کی پرورش کرنے والی سیاست اور سیاستدانوں کی مافیائی اور چانکیائی روش سے چھٹکارہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔


شیخ سعدیؒ کا قول ہے کہ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ سانپ کو ماردیا جائے اور اس کے بچوں کو دودھ پلایا جائے۔ پھر فرمایا کہ قلعے کا دروازہ ہمیشہ اندر سے کھلتا ہے۔ فصیلوں پر فوج بٹھانے سے قلعے محفوظ نہیں رہتے جب تک دروازہ مضبوط اور محافظ قابل اعتماد نہ ہوں۔دور حاضر میں قلعے کا دروازہ پارلیمنٹ کا دروازہ اور محافظ پارلیمنٹیرین ہیں۔ قلعے کی فیصلوں پر تو فوج بیٹھی ہے مگر دروازہ کمزور اور محافظ تاجر اور ساہوکار ہیں جو ہرگز قابل اعتبار نہیں۔


حال ہی میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ نوکر شاہی کا بڑا طبقہ دوہری شہریت کا حامل ہے اور سیاستدانوں سے زیادہ اثاثے بیرون ملک منتقل کر رکھے ہیں۔ یہی حال پارلیمنٹیرین اور عدلیہ کے کچھ معزز ججوں کا بھی ہے جنہیں سیاستدانوں، نوکر شاہی، وکیلوں اور صحافیوں کے ایک ٹولے کی بھرپور مدد حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)


شیئر کریں: