Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسباب دنیا۔۔۔۔۔۔ تحریر:میر سیما امان

شیئر کریں:

حضرت سلمان فارسی جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص انکی عیادت کے لیے گئے۔حضرت سلمان زار زار رونے لگے ۔حضرت سعد نے پوچھا  ،ابو عبداللہ  یہ رونے کا کونسا محل ہے۔ نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  آ پ سے راضی رخصت ہوئے۔اب تو خضر بریں میں اپنے آ قا  صلی علیہ وآلہ وسلم سے  ملاقات ہوگی۔حضرت سلمان فارسی نے جواب دیا۔   خدا کی قسم میں موت سے نہیں گھبراتا۔نہ مجھے دنیا کی خواہش ہے بلکہ اسلیے روتا ہوں کہ سرور کائنات نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ دنیا جمع نہ کرنا اور دنیا سے اس طرح جانا جسطرح میں جا تا ہوں۔ اب میرے پاس اسباب جمع ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ میں اپنے آ قا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جمال سے محروم نہ ہو جاؤں۔۔۔یہ اسباب جنکی وجہ سے حضرت سلمان فارسی گریہ زاری کر رہے تھے محض ایک بڑے پیالے ،ایک لوٹے ،بوسیدہ کمبل اور ایک تسلا پر مشتمل تھے ۔تکیہ کی جگہ سر کے نیچے دو اینٹیں رکھیں ہوئی تھیں۔۔یہ اسلامی تاریخ کی ایک مختصر جھلک ہے تاریخ ایسی ہزاروں مثالوں سے بھری پڑی ہیں جو آج کے نام نہاد مسلمانوں کے لیے تلخ آ ئینہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

ہمارے درمیاں لاکھوں کی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن سے آ یئڈ ئل شخصیت کا سوال پوچھیں تو انکا جواب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا ہے۔لاکھوں لوگ ہیں جو حضرت عمر  کی مثال دیتے ہیں حضرت حسین کی شہادت پر جان دینے کو تیار رہتے ہیں تو  ایک طرف حضرت علی کی بہادری کو اپنا فخر گردانتے ہیں۔ہماری الماریاں سیرت نبی ۔قران پاک اور تفسیر کی کتابوں سے بھری پڑی ہیں۔

نماز ، روزہ ،حج ،ذکواۃ ادا کرتے ہیں۔اور اس بات پر خوش رہتے ہیں کہ ہم بہت بڑے مسلمان ہیں۔۔۔کبھی کبھار میں سوچتی ہوں پیدائشی مسلمان ہونا بھی ہماری کتنی بڑی خوش قسمتی ہے۔ ورنہ ہمارا مقام کیا ہوتا۔۔۔۔ ہم احمقوں کی ایسی جنت میں رہتے ہیں جو محض ارکان اسلام ادا کرکے جنت کی حوروں کا خواب دیکھتے ہیں۔۔۔

مجھے اس تفصیل پر جانے کی یقیناً ضرورت نہیں کہ آج کا انسان  کس قدر حرص کا شکار ہے۔۔  لالچ اور حرص کی بنیاد پر آ ج کے مسلمان کی تعریف کی جائے تو یہ کہنا کافی ہے کہ آج کا انسان والدین کی عزت بھی تب کرتا ہے جب وراثت میں بھاری اسباب ملنے کی یقین دہانی ہو۔ورنہ یقین  جانیں پانچ وقت نماز پڑھنے والے ۔ سنت نبوی کے نام پر چہروں پر دھاری سجانے والے مومنین کی ایک بڑی تعداد  ایسی ہی ہے جو باپ کو اسکا جائز مقام تک نہیں دے پاتے کیونکہ وہ پیچھے جائداد نہیں چھوڑ کر جا رہا ہوتا۔۔۔ اس سے بھی ایک درجہ آگے بڑھے ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟

غور فرمائیں۔۔۔۔خاندان اور علاقے کے بڑے  اور قابل فخر نام کن لوگوں کے ہیں ؟؟ ہم محفل میں کن لوگوں کو اٹھ کر جگہ دینا پسند کرتے ہیں۔۔۔؟؟ایک لمحہ سوچ لیں آپکے نزدیک کامیابی کا تصور کیا ہے؟ وہی بینک بیلنس ۔جائداد  یا نہیں ؟؟اپ معاشرے میں تعلقات کن لوگوں کے ساتھ بناتے ہیں ؟؟دوسروں کو احترام دینے کے لیے آپکا میعار کیا ہے؟؟ کس بنیاد پر آپ دوسروں کا  احترام کرتے ہیں وہی دو ٹکے کے اسباب۔۔۔۔۔؟

سچ کہوں تو یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ ہماری حد سے بڑھی ہوئی سمجھ داریاں بھی ہمیں جنت کا راستہ نہیں دیکھا پاتیں۔۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ جس معاشرے میں رشوت سے ملنے والی نو کریاں ۔ حرام کی کمائی سے بننے والے محلات اور  گاڑیاں فخر کہلائے ۔۔ آدمی کی عزت کا سبب  ہی اسباب دنیا   ہو جائیں۔۔ تو ایسے معاشروں میں آخرت کی فکر کون پاگل کرے۔۔ اور ایسے معاشرے   میں حلال کا تصور کیونکر پیدا ہوگا۔۔کون ایسا دیوانہ ہوگا جو حضرت سلمان فارسی جیسے اصحاب  کو  بچوں کے لیے ائیڈئلز کرے۔۔۔ وہ شخص جو سر کے نیچے اینٹیں رکھ کر سوتا تھا۔جس کی اسباب دنیا محض ایک تسلا ایک پیالہ ایک لوٹے اور ایک بوسیدہ کمبل پر مشتمل تھا ۔اور ان اسباب پر بھی وہ اپنے اللہ اور رسول کے آگے نادم تھا۔اور ایک طرف ہم  جن کے کند ھوں پر کہیں بنگلوں ۔کو ٹھیوں ۔زمینوں اور  تو اور  بے ضمیری ۔اور حرام خوریوں کا بوجھ ہے۔۔۔لیکن نہ تو ہم اللہ کے آگے شرمندہ ہیں نہ شرمندہ ہونے کا کوئی تصور رکھتے ہیں۔۔۔

میں جب بڑے بڑے ناموں کو اسلام پر لیکچر دیتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مجھے خیال آ تا ہے کہ اسلام کے ان بڑے بڑے دعوے داروں میں کیا کوئی ایک بھی ایسا ہوگا جو اپنے رب سے اور اپنے محبوب رسول  صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے  حضرت سلمان فارسی جیسی محبت رکھتا ہو۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہمیشہ کی طرح مجھے اس نو مسلم کی کہی ہوئی  وہی پرانی  بات یاد آ جاتی ہے جو ہم مسلمانوں کے منہ پر تما نچے کی حثیت رکھتی ہے ۔۔ کہ مسلمان اسلام پر لڑ مر سکتے ہیں لیکن کبھی بھی  اسلام پر عمل نہیں کرسکتے۔۔۔ واقعی نجانے ہم لوگ  اس محدود نظرئیے سے کب  نکلیں گے کب ہم سمجھیں گے کہ اسلام محض پانچ وقت کی نماز کا نام نہیں نہ ہی دھاری اور برقعہ اسکا سمبل ہیں۔اسلام ان چیزوں سے بڑھ کر بھی کچھ ہے۔۔۔۔


شیئر کریں: