Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پس وپیش ۔۔۔ پیشہ ور چترالی خاتون۔۔۔ اے۔ایم۔خان

شیئر کریں:

چترالی خاتون گھر کا ایک اہم رُکن اور زینت ، اور باہر زندگی کے ہر شعبے میں ایک پیشہ ور فرد اپنی ذمہ داری انجام دے آرہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے خواتین نہ صرف تعلیم ،صحت ، کاروبار، معیشت اور سیاست بلکہ سرکاری اور نجی اداروں،  اور  اب بیوروکریسی کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں اپنے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

چترال میں خواتین کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ چترال کے نوجوان یونیورسٹی گریجویٹس، فارغ التحصیل طالبات، اور وہ خواتین جو گھروں اور مارکیٹ میں مختلیف اداروں — جس میں نجی اور حکومتی ادارے شامل ہیں، میں کام کررہی ہیں۔ اداروں سے منسلک ایسے خواتین ہیں جو ہمارے معاشرے کے رسم ورواج کے دائرے میں [مستثنیات کے علاوہ]، اور وہ جو باہر پنپتی ہے کو ملحوظ خاطر رکھ کر، اپنے اپنے پیشہ ورانہ کام اور کردار ادا کرتی ہیں۔

 مارکیٹنگ پڑھنے، سمجھنے اور ذاتی طور پر اس پر کام کرنے والے  مرد و زن کو اسکی ضرورت—کب اور کہاں ہوجائے ،  وہم شہرت، اور غیر معمولی ہونے یا بننے کی سعی مارکیٹ میں پنپ رہی ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مارکیٹنگ کیوں، کسطرح، کیسے اور کب ہونا چاہیے؟ گوکہ مارکیٹنگ  دور کی پیدوار اور کاروباری دُنیا کی ضرورت ہے جس میں لوگ اور ادارے اپنے اپنے مارکیٹنگ کرتے ہیں۔بعض خواتین میں مارکیٹنگ کا رجحان زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک علامتی بیان زبان زد عام ہے کہ ‘یہ وہ پروموٹ کرنے والی ہے’ شاید  وہ مارکیٹنگ بامقصد اور پیشہ ورانہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیانیہ بن چُکی ہے۔

 چترال میں شروغ سے خواتین کو، اور خواتین بھی تعلیمی اداروں میں کام کو ترجیح دئیے جب  معاشرہ اسکی اجازت دیتی تھی، اور ایک وقت  بعد صحت کے ڈپارٹمنٹس بھی معاشرے میں قانونی حیثیت لے لی۔اور  وقت گزرنے کے ساتھ معاشرہ  ‘جائز ‘ ہونے کا مہر  ثبت کرتی ہے جو ہمارے سامنے ہوتی آرہی ہے۔ اب سوسائٹی میں لوگوں کی رائے وہ طاقت لے چُکی ہے ، جو پہلے فرد  کی رائے تھی، جو ایک آئیڈیا، خیال، سوچ، نظریہ، نظام اور طور طریقے کو ہونے اور کرنے کوجائز بنانے کے ساتھ کرنے کی اجازت  دیتی ہے۔

خواتین کی سیاست میں اب جو کردار ہے وہ اب ایک تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے جب سے چترال سے پہلی خاتون ، مس فلک ناز چترالی ، پاکستان کے ایوان بالا کی نشست میں منتخب ہوئی ۔ معاشرے میں پیشہ ور خواتین، اگر وہ ازواجی رشتے میں منسلک ہیں ،  اُنہیں دوگنا ذمہ داری اُٹھانا پڑتی ہے۔ گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اور اُوپر سے معاشرتی توقعات پر پورا اُترنا ایک امتحان سے کچھ کم نہیں۔ چترال میں زبان زد عام ہے کہ “کُولانو دستور” یعنی مرد آزاد ہے اگر کچھ کرنا  اور فیصلہ لینا چاہے اپنی مرضی کا مالک ہے۔یہ غیرتحریری دستور اور ضوابط تو اُسکی ہے اور یہ رائج عام ہے جس پر سوال تو اب اُٹھ رہےہیں جو قومی اور آفاقی نوعیت کے ہیں۔

گھر میں گھریلو خاتوں بھی ایک تاریخ اور بدلتی کردار ہے۔

چترال میں خواتین کے حوالے سے سب سے بڑی خبر ہوٹل سے آئی جس پر حقوق نسواں پر بات اور کام کرنے والوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ چترال میں چنار، جونیپر اور پہاڑوں کے نام پر ،جیسے تریچمیر، ہندوکش، اور پامیر  وغیرہ کے نام پر، ہوٹل موجود ہیں لیکں ‘عورت’ جو ماں، بیٹی، اور اہلیہ کے روپ میں ہمارے گھروں اور معاشرے میں موجود ہے اسکے نام پر ریسٹورنٹ بن کر کام کر رہی ہے وہ ‘نان کیفے’ ہے  اور ‘بی جان’ فائیو سٹار ہوٹل جوکہ سنگور گانکورینی میں اس کا افتتاح ہوچُکا ہے۔  بونی میں’نان کیفے’ ماں کے نام سے ماں اور بچے چلاتی ہیں  اور سینگور میں  ‘بی جان’  ماں کے نام پر بنے گی دوںوں بڑے اقدام ہیں جو چترال سے کاروبار میں بھی عورت کو امر کر چُکی ہیں۔  

خواتین کے نام پر اور اُن کے حقوق کیلئے بات اور کام بھی ہورہے ہیں، اور کرنے کی ضرورت اب بھی ہے ۔ خواتین اب جو کام کررہی ہیں وہ نمایاں ہیں اور مزید کام کرنے اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ چترال میں لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کے روک تھام کیلئے  لوگوں اور اداروں کو فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ چترال میں خودکُشی زیادہ ہو رہے ہیں اور وہ بھی طالبات میں  جو اکثر  سکول وکالج  کے نتائج آنے کے بعد واقع ہوتے ہیں قابل فہم ہے ۔ اس مسلئے سے نمٹنے کیلئے گھر، سکول اور معاشرہ کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت مندانہ مقابلہ اور محنت کی سبق  اور راہنمائی کے حوالے سے طویل المعیاد کام کی ضرورت ناگزیر ہے۔  اور اگر  این۔ او۔سی ، امن وامان ،نا انصافی، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور تحفظ کے مسائل ہوں وہ علاقے میں پولیس کے دائرہ اختیار اور  پیشہ ورانہ ذمہ داری میں آجاتی ہیں۔

زبیدہ مصطفی اپنے ایک کالم ، جوکہ وہ عورت مارچ کے بعد لکھی ہے، جسمیں  وہ ایک مونوگراف کا حوالہ دے کر لکھتی ہیں کہ یہ ‘ عورت مارچ’  ریاست، سیاسی طاقت کے ذرائع، سیاسی جماعتوں اور  میڈیا کے مرکزی دھارے سے انگیج ہونے سے انکاری آپس میں فیسبک میں رابطے میں ہیں۔  عورت مارچ کو منظم کرنے والوں کو اپنے حکمت عملی پر دوبارہ سوچنےکی ضرورت ہے جس میں تعلیم  اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔وہ مزید لکھتی ہیں کہ  وہ معاشرہ جو انتشار کا شکار ہو اور وہاں ذہنیت  جو کسی بھی بات کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہ ہو  اُس میں تبدیلی تعلیم سے ممکن ہے۔ 

چترال کے تغیر پذیر تمدن میں خواتین کے حوالے سے دوقیانوسی تصورات، سوچ، ذہنیت ،وہم  اور رویہ بدل رہی ہے  اور جو آزادی خاتون کو باہم میسر آج ہے وہ چند سال پہلے سوچ میں شاید موجود ہوگی۔ موجودہ وقت کا تعلیم یافتہ، آزاد خیال اور حساس خاتون  کیلئے یہ غور طلب مسلہ ہونا چاہیے 


شیئر کریں: