Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پھیکا نمکین……. انسانیت اور اخلاق……. صہیب عمر

شیئر کریں:

( ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ)


زندگی نے بہت کچھ سکھایا کتابوں نے بھی رہنمائی کی ۔لیکن انسانی رویوں نے جو سبق دیا ،وہ زندگی کے کسی ورق میں ہے اور نہ ہی کسی کتاب کے صفحے پر تحریر ہے۔ انسان کسی کیلئے بہترین یاد ہوتی ہے اور دوسری طرف سر سے پاوں تک وجود کانپنے کی وجہ کوئی کسی کی قربت کو ترستا ہے تو کوئی کسی کے سائے سے بھی دور بھاگتا ہے اور کوئی کسی کیلۓ مثال بنتی ہے کوئی کسی کیلئے سبق! آہستہ آہستہ انسان دوسروں کو قائل کرنا چھوڑ دیتا ہے اسے سمجھ اجاتی ہے کس کی کتنی پرواہ کرنی ہے؟کس سے کتنی امید رکھنی ہے؟اور کس سے کتنا فاصلہ رکھنا ہے؟زندگی سب سکھا دیتی ہے کیونکہ محنت کے بغیر اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ملتا،انسان کا سایہ بھی دھوپ میں جانے کے بعد ہی اسکو مل جاتا ہے۔


انسان کبھی بھی کمزور نہیں ہوتا بس اس کا نفس اسے کمزور بنا دیتی ہے،اور اسکے عمل میں تاخیر نہیں ہوتی ،بس اسکے نیت میں خلل ہوتی ہے۔وقت کی بھی کمی نہیں ہوتی بس سستی کی لت پڑ تی ہے، اور رزق کی بھی کمی نہیں ہوتی بس حرص کی بہتات ہوتی ہے اور خوش مزاجی بھی مشہور ہوتی ہے اور سادگی بھی کمال کا ہوتا ہے۔


ضروری نہیں جو شخص آپکو نصیحت کررہا ہے وہ اپنی ذات میں بلکل مکمل ہے وہ تو آپ کو بس اتنا کچھ دینے کی کوشش کر رہا ہے جس سے آپ مکمل ہو جائیں۔اختلافات پر صبر کرنا اور دوسروں کو برداشت کرنا ہی اچھے اخلاق ہیں۔


میں یہاں کسی کی کردار کشی نہیں بلکہ صرف انسانیت کا مختصر مفہوم بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔کیونکہ انسانیت اور اخلاق کے بغیر انسان،انسان کہلانے سے قاصر ہے۔


اچھے اخلاق کیا ہیں؟جو توڑے اسے جوڑو،جو سلام نہ کرے اسے سلام کرو،جو غیبت کرے اسکی تعریف کرو،جو گالی دے اسکو دعا دو،جو برا چاہے اسکا اچھا چاہو۔ تبلیغ کا،دین کا،تصوف کا،علم کا،مدرسے کا سب سے مشکل سبق اچھے اخلاق ہیں۔جبکہ لوگ انسانیت اور اخلاق قضا کرکے مصلے اٹھائے پھرتے ہیں۔ساری زندگی مسجد کے کونے میں اللہ اللہ کرکے گزارو پھر بھی وہ مقام نہ ملےگاجو ایک اچھا اخلاق والا اللہ کے دربار میں لے جائے گا کیونکہ اخلاق کا اچھا ہونا اللہ سے محبت کرنے کی دلیل ہے۔


میرے عزیزو! ہمیشہ اخلاق کو اپنا زیور بنالو,دوسروں کے کام آنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنالو کیونکہ وہ زندگی فضول ہے جو دوسروں کے کام نہ آئے ورنہ اپنے لئے تو جانور بھی جی لیتے ہیں۔ہمیشہ اپنے اخلاق کو پھول جیسا بنا لو،اور کچھ نہیں تو پاس بیٹھنے والا خوشبو تو حاصل کر لے گا۔ہمیشہ خدمت خلق کواپنامقصدبنائیں،دوسروں کے کام آئیں اور غریبوں کی خدمت کریں،لاچاروں کے کام آئیں،مستحق لوگوں کو ان کے حقوق دیں اور بزرگوں کی خدمت کرکے ان سے دعا لیں۔


اللہ پاک کی عبادت انسانوں کی خدمت سے شروع ہوتی ہے بےشک کسی کا اچھا چاہو گے تو تمہارے ساتھ بھی اچھا ہوگا۔ عبادت اس مقام تک نہیں پہنچا سکتی جہاں غریب کی خدمت پہنچا دیتی ہے۔
کیونکہ مذہب سے اگر انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلئے پروردگار کے ہاں “فرشتوں”کی کوئی کمی نہیں۔

سر محفل جو بولوں تو زمانے کو کھٹکٹاتا ہوں
رہوں میں چپ تو اندر کی بغاوت مار دیتی ہے۔


شیئر کریں: