Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کورونا صورتحال سے نمٹنے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کا مختصر جائزہ… تحریر: زارولی زاہد

شیئر کریں:

دسمبر2019 کے اواخر میں پڑوسی ملک چین کے شہرو وہان میں سامنے آنے والا کورونا وائرس اس وقت ایک عالمی وباءکے طور پر تقریباًپوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ دُنیا کے جن جن حصوں میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے وہاں پر زندگی تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس وباءسے متاثر ہو چکے ہیں۔  عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ 74 ہزار سے زائد ہے جبکہ اموات کی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔  کورونا کے مریضوں اور اس سے ہونے والی اموات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ کچھ اس طرح کی صورتحال وطن عزیز پاکستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کو بھی درپیش ہے ۔

cm and kp govt efforts for covid 19 3 1

برق رفتاری سے پھیلنے والے اس وباءکا تدارک نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ ترقیافتہ ممالک کیلئے بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے ۔ وباءسے متاثرہ تمام ممالک اپنی اپنی استعداد کے مطابق لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنانے میں مصروف عمل ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی حکومت بھی اس صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے اور اس وباءکے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے مصروف عمل ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کی طرف سے کئے گئے بروقت اقدامات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔پڑوسی ممالک میں اس وباءکے پھیلاﺅ کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں اس مہلک وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے پیشگی اقدامات اور انتظامات کا سلسلہ بروقت شروع کردیا۔

cm and kp govt efforts for covid 19 11

خیبرپختونخوا حکومت نے 3 مارچ2020 کو صوبے میں اُس وقت ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی تھی جب صوبے میں کورونا کا ایک بھی مثبت کیس سامنے نہیں آیاتھا۔ عالمی سطح پر صورتحال کی سنگینی کا صحیح ادراک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے اور اس کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے جملہ اُمور کی بذات خود نگرانی کا فیصلہ کرکے اس سلسلے میں اپنی سربراہی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ کیا جو شروع دن سے صوبے کے تمام محکموں ، ضلعی انتظامیہ ، پاک فوج اور دیگر تمام اداروں کے درمیان شراکت کار کو منظم انداز میں چلانے اور اس سلسلے میں مختلف سطح پر اُٹھائے جانے والے اقدامات کو مربوط بنانے کیلئے موثر انداز میں کام کر رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات پر کورونا کے متوقع متاثرین کے علاج معالجے اور دیگر متعلقہ معاملات کی نگرانی کیلئے محکمہ صحت میں ایک مرکزی کنٹرول روم کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

cm and kp govt efforts for covid 19 1

بعدازا ں ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر بھی کورونا کنٹرول رومز قائم کئے گئے ۔ ابتدائی طور پر محکمہ صحت کو ہنگامی نوعیت کے انتظامات اور تیاریوں کیلئے 100 ملین روپے کی رقم فراہم کر دی گئی ۔ فوری طور پر صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں 596 جبکہ نجی ہسپتالوں میں 387 بستر کورونا کے متوقع مریضوں کیلئے مختص کر دیئے گئے اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ ز قائم کردیئے گئے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام اظلاع میں  ریپڈ ریسپانس یونٹس تشکیل  دیئے گئے۔  صوبہ بھر میں قرنطینہ مراکز، آئسولیشن مراکز اور ہائی ڈیپنڈسی یونٹس کا قیام عمل میں لایا گیا، کورونا کے مشتبہ مریضوں کیلئے ٹیسٹنگ کے استعداد کار کو بڑھانے کیلئے ہنگامی اقدامات شروع کئے گئے۔ کورونا کے پھیلاﺅ کے موثر تدارک کے سلسلے میں سماجی رابطوں کو کم سے کم کرنے کیلئے تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، مارکیٹوں، سیاحتی مقامات اور دیگر عوامی مقامات کی بندش سمیت ہر قسم کی مذہبی و سماجی تقریبات پر پابندی لگانے سمیت متعدد دیگر اقدامات کا بروقت فیصلہ کیا گیا۔

chitral lockdown on corona virus3

  جب سے صوبے میں کورونا کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے تو حکومت نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محکمہ صحت کیلئے آٹھ ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی تاکہ بہتر کیس مینجمنٹ کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر تمام تر درکار انتظامات کئے جا سکیں۔ اسی طرح قرنطینہ مراکز کے قیام اور دیگر ریلیف کے کاموں کیلئے محکمہ ریلیف کو چھ ارب روپے جاری کئے گئے ۔ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات اور انتظامات کو بہتر بنانے اور فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے طبی عملے کے تحفظ کیلئے طبی آلات اور حفاظتی اشیاءکی خریداری کا عمل شروع کر دیا گیا۔

cm and kp govt efforts for covid 19 4

اب تک دو ارب روپے سے زیادہ مالیت کی خریداری کی جا چکی ہے ۔اب تک صوبے بھر کے تمام اضلاع کو مجموعی طور پر 729,000 فیس ماسکس، 39,000 N-95 ماسکس، 64،000  گاﺅئنز، 11,668گوگلز، 47،500 ڈنگریز,  8727 گلوز باکس اور 24,361 یو ٹی ایمز کے علاوہ بہت بڑی مقدار میں ہینڈ سینیٹائزرز اور ہینڈ واش فراہم کئے گئے ہیں جبکہ خریداری اور سپلائی کا عمل بلا تعطل جاری ہے ۔ 

cm and kp govt efforts for covid 19 9 1

وزیراعلیٰ محمود خان نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر تقریباً1300 میڈیکل آفیسر بھرتی کرنے کی منظوری دے دی جنہیں ایک ہفتے کی قلیل مدت میں بھرتی کرکے صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کیا گیا۔ اسی طرح پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھی 800 ڈاکٹرز فوری طور پر بھرتی کئے گئے ۔

cm and kp govt efforts for covid 19 5

اسی طرح طبی عملے کی کمی پوری کرنے اور کسی بھی متوقع صورتحال سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت نے یومیہ اُجرت کی بنیاد پر ریٹائرڈ ڈاکٹرز، نرسز ، پیرا میڈکس اور دیگر پیشہ ور افراد کے علاوہ میڈیکل کے طلباءکو بھرتی کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے ۔ ان بھرتیوں کیلئے اشتہار جاری کر دیا گیا ہے اور یہ عمل جلد سے جلد مکمل کرنے پر کام جاری ہے اور اُمید ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک اس میں اچھی خاصی پیشرفت ہو چکی ہو گی۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات پر وزیراعلیٰ ای ۔ رضاکار پروگرام کا اجراءکیا گیا ہے جس کے تحت محکمہ ریلیف میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جس پر کال کرکے کورونا سے متعلق کوئی بھی معلومات ، طبی مشورے ، نفسیاتی مشورے ، خواتین اور بچیوں کے تحفظ سے متعلق خدمات ، ریسکیو خدمات ، میونسپل خدمات اور دیگر متعلقہ خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ایک اور اہم اقدام کے طور پر وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبہ بھر میں کورونا کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر ہمہ وقت نظر رکھنے کیلئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر رکھا ہے جس میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کا سٹاف 24 گھنٹے ڈیوٹی پر مامور ہوتا ہے ۔ کنٹرول روم کا صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم ہے ۔ عوام کورونا سے متعلق کسی بھی قسم کی شکایات کے اندراج اور معلومات کی فراہمی کیلئے بذریعہ ٹیلی فون، فیکس اور واٹس ایپ کنٹروم روم سے رابطہ کرسکتے ہی جس پر کنٹرول روم کا عملہ فوری طور پر متعلقہ ضروری کاروائی کیلئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کرتی ہے ۔ 

cm kp mehmood khan swat visit 1

کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے لاک ڈاﺅن اور سماجی رابطوں کو کم کرنے کیلئے حکومتی فیصلوں کی وجہ سے صوبے کے عوام اور خصوصاً معاشرے کے کمزو ر طبقوں کو درپیش مالی مشکلات کو کم کرنے اور انہیں اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے صوبائی حکومت ریلیف پیکج دینے کا ایک احسن ا قدام اُٹھایا ہے اس پیکج کے تحت صوبے کے تقریباً22 لاکھ مستحق خاندانوں کو 6000 روپے فی خاندان ادا کئے جائیں گے جس کیلئے شفاف اور غیر جانبدار طریقہ کار کے تحت مستحق خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور امدادی رقوم کی ادائیگی کیلئے تمام تر لوازمات پورے کردیئے گئے ہیں اور اگلے چند دنوں میں ان رقوم کی تقسیم کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس امدادی پیکج پر 13 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی اور اسے صوبے کی تقریباً42 فیصد آبادی مستفید ہو گی ۔

وفاقی حکومت کی طرف سے مستحق خاندانوں کو 12000 روپے فی خاندان ادائیگی اس کے علاوہ ہے۔  علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے زکوة فنڈز کے تحت صوبے کے ایک لاکھ مستحق خاندانوں کو 12000 روپے فی خاندان دینے کا  فیصلہ کر لیا ہے جس پر ایک ارب 20 کروڑ روپے لاگت آئے گی ۔ اس مقصد کیلئے تقریباً30 ہزار مستحق خاندانوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جبکہ باقی ماندہ خاندانوں کی نشاندہی کا عمل جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے زکوة فنڈ کے تحت مستحق خاندانوں کوفوڈ پیکج دینے کا بھی عندیہ دیتے ہوئے محکمہ سماجی بہبود کو اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ فی الوقت صوبائی حکومت صوبے میں قائم تمام قرنطینہ مراکز میں رہائش پذیر افراد کے علاوہ اُن کے گھر والوں کو بھی مثبت فوڈ پیکج فراہم کر رہی ہے جس کیلئے محکمہ ریلیف کو خاطر خواہ فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔

وزیر اعلی محمود خان موجودہ صورتحال میں لوگوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ایک احسن اقدام کو خود سے آغاز کرتے ہوئے کرائے پر لگے اپنی ذاتی جائیداد کے دو ماہ کے کرائے معاف کردیا اور معاشرے کے تمام صاحب ثروت لوگوں سے درمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس مشکل وقت میں اپنے اردگرد مستحق اور نادار لوگوں کا خیال رکھیں ۔  کورونا وائرس کے پھیلاﺅ ک کم سے کم کرنے کیلئے قرنطینہ مراکز کا قیام انتہائی اہم اور موثر حکمت عملی ہے ۔

صوبائی حکومت نے شروع دن سے ہی ان قرنطینہ مراکز کے قیام پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اس وقت صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 300 سے زائد قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں ساڑھے اٹھارہ ہزار سے زائد لوگوں کو قرنطینہ کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ ان قرنطینہ مراکز میں وقت پر کھانے پینے کی فراہمی کے علاوہ دیگر سہولیات کی بھی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں صوبہ بھر میں 554 ہائی ڈیپنڈسی یونٹس اور 2400 بستروں پر مشتمل آئسولیشن مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔  اس ساری صورتحال میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان بذات خود متحرک ہیں ۔ کورونا سے متعلق تمام اُمور کی خود نگرانی کر رہے ہیں جبکہ کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے انتظامات کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے حقائق پر مبنی معلومات کے حصول کیلئے مختلف اضلاع کے دورے کر رہے ہیں اور اب تک وہ صوبے کے تمام ہائی رسک اضلاع کے دورے کر چکے ہیں جن میں ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں، کرم، خیبر ، مردان ، چارسدہ اور سوات شامل ہیں۔

 کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے صوبائی حکومت کی پوری مشینری غیر معمولی طور پر متحرک ہے۔ اس وقت حکومت کی تمام کوششوں اور اقدامات کا محور اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک اور اسے لوگوں کی جانوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ لوگوں اور خصوصا معاشرے کے کمزور طبقوں کو بھوک اور افلاس سے بھی بچانا ہے۔ اس ساری صورتحال میں سول انتظامیہ، پاک فوج، طبی عملے ، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت تمام اداروں کا کردار مثالی رہا ہے۔ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سماجی رابطوں کو محدود کرنے میں عوام کا تعاون بھی قابل ستائش ہے جس کی وجہ سے اس وبا کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کواب تک روکنے میں بہت مدد ملی ہے.

kp corona efforts 1

اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لئے حکومتی کوششیں تب تک بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک عوام انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری نہ رکھیں ۔ اگر عوام اگلے چند ہفتے اپنا یہ تعاون جاری رکھیں، سماجی رابطوں کو کم سے کم کریں، بلا ضرورت اپنے گھروں سے نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو انشاءاللہ ہم اس مشکل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہم سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر دعا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی ہماری کوششوں میں برکت ڈالے اور ہم سب کو اس وبا سےمحفوظ رکھے،  امین۔ 


شیئر کریں: