Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ایک انمول آرزو……تحریر: اقبال حیات آف برغذی

    May 3, 2019 at 7:31 pm

    تین معصوم بچے بستے اٹھائے راستے پر چلتے ہوئے ایک ساتھ رب زدنی علما کا ورد کررہے تھے۔جب ان کے قریب پہنچا تو بچوں نے مجھے سلام کئے۔ انہیں پیار کرنے کے بعد ان سے قرآنی الفاظ کے معنی پوچھنے پر تینوں نے بیک زبان کہا کہ یہ اللہ پاک سے علم میں اضافے کا سوال ہے۔ ان کے جواب پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سکول کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے ایک دینی درسگاہ کا نام لئے۔
    بچوں کا یہ طرز عمل جہاں ابتدائی تربیت کے مثبت اثرات کا مظہر ہے وہاں “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”کے مصداق انسانی خواہشات کے متلاطم سمندر کے تناظر میں ان بچوں کے معصوم لبوں سے نکلنے والے آرزو کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ آرزواپنی نوعیت کے لحاظ سے پوری انسانی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ایسا آرزو ہے کہ جس کی تکمیل میں دونوں جہانوں کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی ضمانت ہے۔ یہ ایسا آرزو ہے کہ جس سے سرفرازی نے انسانوں کو فرشتوں سے اونچے اور ارفع مقام سے نوازا۔ اس آرزو کی برآوری کے لئے تگ ودو اور کاوش کے راہوں میں فرشتے اپنے پر پھیلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس آرزو کے لئے زبان سے نکلنے والے الفاظ کی مہک سے کائنات معطر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس آرزوکی کوکھ سے جنم لینے والے احساسات اورجذبات مخبر صادق کی تلقین کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔یہ آرزو اور راہ حق کی پہچان اور خالق حقیقی تک رسائی کے لئے رہنمائی کی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ آرزو دین حق سے شناسائی اور راہ مستقیم کے لئے شمع فیروزان سے مماثلت رکھتاہے۔ اس آرزو کے حصول سے انسان نہ صرف اشرف المخلوقات کا تاج سر پر سجا لیتا ہے۔ بلکہ تخلیق کائنات کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی اہلیت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اگرچہ فلک دنیاکو اکب کی روشنیوں سے مزین ہے۔ اور کائنات کی رعنائیاں اپنی نوعیت کے لحاظ سے بصارت کو جلد بخشتی ہیں۔ مگر شمع علم سے پھوٹنے والی کرنوں کی تابانی اور دل آویزی کا نعم البدل ملنا نہ صرف ناممکن ہے بلکہ ناقابل تصور ہے۔
    ان ہی حقائق کی بنیاد پر دین حق کے رہنماوں نے علم کی شمع سے مستفید ہونے کی تاکید فرماچکے ہیں اور اسے راہ حق کے متوالوں کی میراث سے تعبیر کئے ہیں۔ علم کو نور قرار دئیے ہیں جو انسان کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور علم کو چشمے کا درجہ دیا ہے۔ کہ جس کے فیض سے ضلالت اور گمراہی کے امراض کا تدارک ممکن ہوتا ہے۔ ایسے خزانے سے موسوم کیا گیا ہے جسے ہمیشہ بڑھنے سے کام ہے اور جس کے استعمال سے اس میں کمی پیدا ہونے کا احتمال نہیں ہوتا بلکہ اضافہ ہی اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک امت مسلمہ نے اس مشغل کو اٹھائے رکھا عروج کی بلندیوں کو چھوتی رہی اور لادینیت اور گمراہی کے پیروکاروں کی آنکھیں خیرہ ہوتی رہیں۔ مگر اس درشہوار کی صنوفشانیوں سے استفادے میں غفلت اور کوتاہی پیدا ہوتے ہی یہ امت اوج ثریا سے تحت الشری میں گر گئی اور حسرت ویاس کے عالم میں اغیار کے منہ تکنے اور کف افسوس ملتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوئی۔
    ہائے ناکامی متاع کاروان جاتا رہا
    کاروان کے دل سے احساس زیان جاتا رہا

  • error: Content is protected !!