Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • طبقاتی نظام کی امد اور معاشرتی بگاڑ………شاہ عالم علیمی

    May 9, 2019 at 5:32 pm

    چند سال پہلے انجم نے مجھے اخبار کا ایک تراشہ بھیجا جس میں گلگت بلتستان کی سیاست کے لاڈلہ گینگ کے ممبرز میں سے ایک کا بیان تھا کہ گلگت بلتستان کے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے مزدوری کا بندوبست کرنے کے لئے حکومت ٹھیکہ داروں کو ٹھیکے جاری کریں۔ اس بیان سے یہ مت سمجھئے گا کہ یہ سادگی کی نشانی ہے یا جہالت کا نتیجہ ہے، دراصل یہ بہت سوچی سمجھی پلان کا ایک حصہ ہے جس کے تحت موجودہ نظام کے اندر گلگت بلتستان میں ایک ایلیٹ طبقے کو پروان چڑھایا جاتا رہا ہے اور غریب اکثریت کو اس طبقے کا محکوم رکھنے کے لئے ایسا نظام واضح کیا جارہا ہے جہاں وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بڑی مشکل سے مزدوری، وہ بھی نیچلے درجے کی ظالمانہ اور غلامانہ، کرسکتی ہے۔ اس بیان دینے والے کی اصلیت بس اتنی سی ہے کہ وہ اسٹپلشمنٹ کا پرانا مہرہ ہے جسے استعمال کر کے عوام کو کنٹرول کیا جا رہا ہے اور جیسا کہ ہم نے اوپر ہی کہا ہے موصوف لاڈلہ گینگ کا ممبر ہے۔ اپ زرا اج اس گینگ کی ان کے خاندانوں کی ان کی اولاد کی اور ان کے اردگرد لوگوں کی حالت دیکھ لیں اور باقی گلگت بلتستان کی حالت دیکھ لیں اپ کو واضح نہیں بلکہ زمین و اسمان اور دن اور رات جیسا فرق نظر آئے گا، اسٹپلشمنٹ کے بعد ان لوگوں کا گلگت بلتستان اور اس کی عوام پر متوازی و متواتر حکمرانی رہی ہے اور عوام کی غلامی کا تسلسل جاری ہے اور رہے گا تاوقتیکہ ان میں اجتماعی شعور نہیں اجاتا۔
    پورے گلگت بلتستان میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان تو ہے تاہم صیح علم کا فقدان ہے اس کی بنیادی وجہ مروجہ تعلیمی نظام ہے جہاں غریب اکثریت کو مذہبی لسانی رنگ و نسل کی بنیاد پر برین واش کیا جاتا ہے، جہاں فرضی کرداروں کی کہانیاں اور مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور سائینس کے مضامین میں بھی مذہب سیکھایا جاتا ہے، تاکہ وہ وفادار محکوم بن کر رہے، حالانکہ ایلیٹ طبقے کے تعلیمی اداروں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا؛ ان کو جدید طرز پر تعلیم دی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا نچوڑ ہے جس میں ان کو سائینس اینڈ ٹیکنالوجی، میوزک اور حکمرانی کرنے کے گر سیکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے اباواجداد کے وارث بن سکے۔ کہا جاتا ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق نے تعلیمی نظام کو اسلامائیز کرنے کا اعلان کیا تو انھوں نے صرف نیچلے طبقے کے تعلیمی اداروں میں مذہبی لٹریچر کا نفاز کیا لیکن ایلیٹ طبقے کے تعلیمی سسٹم کے ساتھ نہیں چھیڑا۔ بدقسمتی سے طبقاتی نظام کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے نہ ہی یہ پاکستان کے بننے کے بعد رائج کیا گیا، دراصل 1870 کی دھائی میں اس سلسلے میں زبردست بحث ہوا تھا، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانا چاہیے اور ان کو یکساں تعلیم دینا چاہئے تاہم کچھ دوسرے لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا نہیں کرنا چائیے اگر ایسا ہوا تو معاشرے کا توازن خراب ہوگا؛ اگرچہ سرسید احمد خان کی تعلیمی خدمات بہت ہیں تاہم وہ اس سلسلے میں پیش پیش تھے، ان کا کہنا تھا کہ اپ ایک نواب زادے کو اور ایک کمی کمین کی اولاد کو ایک ہی قسم کی تعلیم نہیں دے سکتے ان کا کہنا تھا کہ کیا اپ اس بات کا تصور کرسکتے ہیں کہ ایک عام ادمی کا بیٹا تعلیم حاصل کر کے افیسر بن جائے اور ایک نواب زادہ کسی کام کے سلسلے میں ان کے پاس چلا جائے، ایسا نہیں ہوسکتا، اسی طرح ایک چلاک مگر ‘ڈرپوک’ بنگالی اعلی افیسر بن جائے گا جو عملی زندگی میں مصیبت پڑنے پر ڈر کے مارے میز کے نیچے چھپ جاتا جبکہ دوسری طرف ایک خان اسی بنگالی کا محتاج ہوجائے جو عملی زندگی میں اپنی جان دینے سے نہیں کتراتا”۔

    اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں بنیاد ہی غلط مگر سوچ سمجھ کر رکھی گئی تھی۔ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جس طرح ہندومت میں اچھوت اور براہمن کا طبقاتی نظام ہے اسی طرح اس ملک میں بھی واضح طبقاتی نظام رائج ہے۔

    اب اتے ہیں گلگت بلتستان کی طرف؛ یہاں عدل ہے نہ انصاف ہے البتہ اج تک یہاں ‘انارکیزم’ کا جو سسٹم جاری تھا اس کی بدولت عوام کی حالت خراب مگر یکساں تھی۔ لیکن اب ایک ایلیٹ طبقے کو پروان چڑھایا جارہا ہے جس کا شکار ہر سرمایہ دارانہ اور نام نہاد جمہوری معاشرے کی طرح غریب اکثریت ہے۔ اس طبقے کو پروان چڑھانے میں اسٹپشمنٹ کا بلاواسطہ اور بالواسطہ ہاتھ ہے اور ان کو این جی اوز کی باہمی ضرورت کی بنیاد پر مدد بھی حاصل ہے۔ ظاہر ہے اسٹپلشمنٹ اپنا تسلط جاری رکھنا چاہتی ہے اور اس کے لئے ان کو ایسے طبقے کی ضرورت ہے جس طرح متحیدہ ہندوستان میں انگریزوں کو تھی تاکہ وہ ان کو مہروں کے طور پر استعمال کرسکے۔ جبکہ دوسری طرف بظاہر این جی اوز عوام کی مدد کررہی ہیں تاہم اپ ان کے کام اور اس کے مجموعی نتجیے کو دیکھ لیں اپ پر واضح ہوجائے گا کہ درحقیقت عام ادمی کے لئے انھوں نے کیا کیا ہے اور ایک ایلیٹ طبقے کو پروان چڑھانے میں کتنی مدد کرچکی ہیں۔ میں اپ کو ایک مثال دیتا ہوں؛ 1946 میں میرے علاقے میں ایک سکول قائم کیا گیا اج 76 سال گزرنے کے باوجود یہ سکول مڈل کلاسز ہی چلارہا ہے حالانکہ اج اس علاقے کی ابادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ یہاں تین ہائی سکول اور ایک ڈگری کالج کی ضرورت ہے تاہم این جی او اپنے سکول کو اپ گریڈ کررہی ہے اور نہ ہی حکومت کو جگہ دے رہی ہے کیونکہ اگر حکومت خود اگے اکر کچھ کرے تو این جی او کا کام ہی باقی نہیں رہتا تاہم اس جرم میں سب سے بڑی مجرم حکومت/ریاست ہی ہے کیونکہ حکومت اداروں سمیت عوام کو این جی اوز کے حوالے کر کے لمبی تان کر سو گئی ہے. پچھلے کئی دھائیوں میں اس قسم کی بے حسی کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان لڑکیوں کی تعلیم کا ہوا ہے کیونکہ لوگ ان این جی اوز کی تحریک پر اپنی بچیوں کو تعلیم تو دے رہے ہیں تاہم بھاری فیسوں اور بڑے پیمانے پر اخراجات کے باوجود لوگ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ مڈل تک تعلیم دے سکتے ہیں اس کے بعد ڈراب اوٹ اور اگے تعلیم دلانے کے لئے 99.5 فی صد لوگوں کے پاس وسائل تو ہے نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دوسرے علاقوں میں بھیج سکے، تاہم یہاں وہ ٹرنگ پوائنٹ اتا جہاں یہ این جی اوز ان علاقوں میں نئے طبقے کو ہاتھ دیتی ہے یعنی 0.5 فی صد اثر رسوخ والے لوگوں کی اولاد کو ایک جگہ اکٹھا کرکے ان کو اعلی تعلیم مہیا کرتی ہیں، بعد میں سارا نظام ان کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔ اس بہیمانہ عمل کا سلسلہ سات دھائیوں سے جاری ہے مگر چومسکی کی زبان میں “عام ادمی نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا۔”

    اسی سوچی سمجھی انڈاکٹرینیشن indoctrination کا نتیجہ ہے کہ ہمارا نیم جاہل معاشرہ زہنی طور پر مفلوج ہوتا جارہا ہے اور معاشرے میں مذہبی فرقہ وارانہ نسلی قوم پرستی خاندان پرستی اور علاقہ پرستی کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔ رہی سہی کسر اس وقت نکلی جب باہر سے غیر مقامی لوگ اپنے اپنے برانڈ کے مذہبی/فرقہ وارانہ نظریات لے کر اس علاقے میں آپہنچے. میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں؛ جب ہم سکول میں تھے تو ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ہم کس فرقے اور کس مذہب کے فالوور ہیں اور ساتھ والا دوست کونسا مذہبی نظریہ رکھتا ہے، ہمارا طور طریقہ فکر سوچ اور جینے کا انداز سب ایک جیسا اور یکساں تھا تاہم یہ وہی دور تھا جب ہمارے ان پہاڑی علاقوں میں باہر سے ایک گروہ کا نزول شروع ہوا۔ ہمیں یعنی بچوں کو بڑی تیزی سے اس بات کا ‘ادراک’ ہونے لگا کہ ساتھ والا بچہ یعنی دوست ہم جماعت تو ‘کسی اور مذہب’ کا ہے اور اس کے ساتھ ‘احتیاط’ کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔ یہی نہیں ہمارے بچے ہونے کے باوجود جلد ہمارے بیج مذہبی بحث و مباحثوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ اسی دوران کچھ بچوں کو تعلیم کے نام پر علاقے کی تاریخ میں پہلی بار باہر لے جایا گیا ان میں سے کچھ واپس لوٹے تاہم کچھ اب بھی پشاور کراچی اور لاہور میں کباڑ بیج کر گزارہ کر رہے ہیں۔ بہرحال چند سال کے اندر اندر صدیوں سے بھائی چارے کے ساتھ رہنے والے لوگوں کے بیج شک و نفاق کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو ایک دوسرے کے دکھ درد میں ایک ہوتے تھے ان کے بیج تفریق کا زہر بویا گیا۔ ان قبائلی نظریات اور انتہا پسندانہ سوچ اور تنگ نظرفکری تعلیمات سے ایک طرف تو صدیوں سے کھلے زہن اور مثبت سوچ رکھنے والا معاشرے کی تباہی شروع ہوئی دوسری طرف ایک ایسی نسل بھی پیدا ہوئی جس کا وجود تو ان پہاڑی علاقوں کا تھا تاہم ان کی واضع قطع کسی قبائلی معاشرے کا اور سوچ یکسر مختلف کسی اور دنیا کی۔ ایسے لوگوں کے لئے اس سیدھے سادھے خوش باش معاشرے میں رہنا زہنی فکری اور جسمانی طور پر بہت مشکل ہورہا ہے کیونکہ ان کی برین واشڈ طرز فکر جو ہمیشہ تشدد کی تلاش اور دشمن ڈھونڈ میں لگی رہتی ہے جو کہ وہاں مل نہیں پارہے دوسری طرف ان کی دنیاوی اور جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کا انحصار اسی پہاڑی معاشرے اور تہذیب و تمدن کے اندر ہی ہے۔ نتیجتاً یہ لوگ تنہائی کے گہرائیوں میں رہتے ہیں اور معاشرے میں ان کے مل ملاپ میں مشکلات ہے.

    ایک طرف نامکمل تعلیم اور دوسری طرف غلط تعلیم نے اج اپنا اثر دیکھانا شروع کردیا۔ غریب اکثریت یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے اور ایک چھوٹی اقلیت بھرپور طریقے اس اکثریت کا استحصال کرنا شروع کردیا ہے. جنھیں طاقت سونپی گئی ہے وہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے مزدوری کے مواقع پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں جبکہ نوجوان نسل بےروزگاری اور تنگ دستی کے ہاتھوں مجبور زہنی دباو کا شکار ہے اور خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

    زرا سوچیے انے والے دس بیس سالوں میں ہمارا معاشرہ کہاں کھڑا ہے، اور ہمارا مستقبل کیا ہے!!

  • error: Content is protected !!