Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گلگت ؛ آغا خان ایجوکیشن سروس کے زیر اہتمام ہفت روزہ تربیتی پروگرام

    July 11, 2019 at 7:07 pm

    گلگت ( چترال ٹائمزرپورٹ ) آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ، گلگت بلتستان کی طرف سےاُن تمام سکولوں کے لئے ایک ہفت روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جوآغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے ساتھ ملحق ہیں ۔ اس پروگرام میں 125 اساتذہ کو پیشہ وارانہ تربیت سے گزارا گیا ۔ اختتامی تقریبمیں جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت بلتستان اور چترال بریگیڈئیر (ریٹائرڈ ) خوش محمدخان کی شرکت اور کورس کے شرکأ سے خطاب اس پروگرام کا خاصہ رہے ۔

    تفصیلات کے مطابق آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ( AKESP) ، گلگت بلتسان کی اکیڈمک یونٹ ( AKU-EB Support Unit) نے آغا خان یونیوررسٹی ایگزامینیشن بورڈ ( AKU-EB) کے ساتھ ملحق تمام سکولوں کے لئے ایک ہفت روزہ تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا تھا جس میں ڈائمنڈ جوبلی سسٹم کے دس سکولوں کےعلاووہ گلگت بلتستان کے تمام چاروں آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولوں کے فکلٹی ممبررا ن نے شرکت کی ۔ اس تربیتی پروگرام میں قومی نصاب کو مد نظر رکھتے ہوئےAKU-EB کی توقعات کے مطابق درس و تدریس کے جدید طریقوں کے علاوہ نصاب میں شامل تمام آٹھ مضامیں ( انگریزی، اُردو، اسلامیات، مطالعۂ پاکستان ، بیالوجی ، کمسٹری ، ریاضی اور فزکس ) کے مواد کو بہتر انداز سے طلبہ میں منتقل کرنے کی مہارتیں سکھائی گئیں ۔ اس ہفت روزہ تربیتی پروگرام کےلئے بحیثیت تربیت کارآغا خان یونیوررسٹی سے فارغ التحصیل اُن پیشہ ورافراد سے مدد لی گئی تھی جو آغا خان یونیورسٹی سے اپنی دو سالہ پیشہ وارانہ تربیت مکمل کرنے کے بعد چترال اور گلگت کے آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

    دوران تربیت آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ کےنصاب میں شامل تمام بنیادی نکات پر تفصیلی بحث و تمحیص ہوئی ،۔ مذکورہ بورڈ کا نصاب اگرچہ پاکستان کے قومی نصاب سے ماخوذ ہے تاہم آغا خان ایگزامینیشن بورڈ کے ماہرین تعلیم نے مذکورہ نصاب کے درست اور مؤثر اطلاق کے ضمن میں دنیائےعلم و ہنر کے قد آور محققین ، مدبرین ، مبصرین اور مؤ رخین کے صدیوں پر محیط تجربات اور نظریات کی روشنی میں انسانی دماغ کی اِدراکی صلاحیت کو تین درجوں، ‘جاننا’ ” سمجھنا” اور ” اطلاق” ، میں تقسیم کرتے ہوئے مخصوص حاصلات کا اجرا ٔ کیا ہے ۔

    یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ مذکورہ بورڈ درسی کتب کے مقابلے میں طلبہ کی مجموعی صلاحیتوں کو زیادہ اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے کیوں کہ جہاں درسی کتابوں کا ذکر ختم ہوتا ہے وہاں سے طلبہ کے سیکھنے کی صاحیتوں کے عمل میں غور و فکر اور تدّبر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ آغا خان ایگزامینیشن بورڈ کی جانب سے مہیا کردہ مخصوص تعّلمی حاصلات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے درس و تدریس کےلئے ایک خاص تربیت کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ طلبہ کے اذہان میں زندگی ( آئین فطرت) پر تدبر اور غور وفکر کی آزادی میں غیر ضروری طور پر مخل ہوئے بغیر باریک بینی اور نظر ِتدقیق سے اپنے معاشرتی اقدار کے مطابق درست خطوط پر اُن کی ذہنی استعداد کی جانچ پڑتال کر نا اور اُنہیں آفاقی شہری بنانا ایک چیلنج ہے جسے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ نے خندہ پیشانی سے قبول کیا ہوا ہے ۔ لہذا پاکستان میں جتنے بھی سکول اس بورڈ سے ملحق ہیں اُن سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو ایک خاص تربیت سے گزارا جاتا ہے۔

     

    تربیت کا یہ بار گراں بھی آغا خان ایگزمینیش بورڈ گزشتہ عشرے سے اپنے شانوں پر ا ُٹھاتا رہا ہے لیکن اس سال جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس ، گلگت بلستان و چترال بریگیڈئیر ( ریٹائرڈ) خوش محمد خان نے آغا خان ایگزامینیشن بورڈ سے ملحق گلگت بلتسان اور چترال میں مصروف عمل تمام سکولوں کے لئے ایک ایسی اکیڈمک یونٹ کا خیال پیش کیا جو AKU-EB سے ملحق تمام اساتذہ کے لئے تمام مضامین میں وقتی معاونت کے علاوہ طویل المیعاد حکمت عملی پر بھی کام کر سکے ۔ اس خیال کو بڑی پذیرائی ملی اور یوں کچھ تجربہ کار پیشہ وروں پرمشتمل ایک ٹیم کی تشکیل عمل میں آئی جوکہ AKU-EB کے تین اہم پروگرام : MSP, SSC and HSSC میں مذکورہ بورڈ کے ساتھ مل کر سکولوں کی معاونت کر رہی ہے ۔

    مذکورہ تربیتی پروگرام اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی لہذا جنرل منیجر نے اس پروگرام کو بڑی جانفشانی اور ذاتی دلچسپی سے پایئہ تکمیل تک پہنچانے میں AKU-EB Support Unit کی علمی اور مالی اعانت کی ۔ یہاں تک کہ سکول اپریشن اور سکول ڈیویلپمنٹ ٹیم کو ساتھ لیکر ہفتے کی دو چھٹیوں کو بھی اس پروگرام کی نذر کی ۔ اس ہفت روزہ پروگرام کے اختتام پر صاحب موصوف نے تمام شرکائے تربیت میں پیشہ وارانہ تربیت بہ حسن خوبی مکمل کرنے پر اسناد تقسیم کئے اور شرکائے تربیت سے جاندار انداز میں اختتامی گفتگو بھی فرمائی ۔ انہوں نے کہا کہ خصوصیت اور مقام کے حوالے سے ہمیں یعنی اساتذہ کوایک ایسا فرض تفویض ہوا ہے جسکا مؤازنہ دنیا میں کسی بھی پیشے کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اسی پیشے سے دنیا کے تمام پیشے وجود میں آئے ہیں ۔ اگر ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارا پیشہ تمام پیشوں کے وجود کی وجہ ہے تو ہمیں اس کام کے تقاضوں پر سوچنے کی ضرورت ہوگی ۔ دنیا میں ہر وہ پیشہ جس کا تعلق تخلیق سے ہو وہبا برکت ہوتا ہے ۔ دنیا کی تاریخ میں جتنے بھی مصلحین اس دنیا میں آئے اُنہوں نے پہلا کام تربیت کا کیا ۔ یہ پیغبروں کی میراث اور مصلحین قوم کا پیشہ ہے ۔ یہ وہ فرض ہے جسے عشق و محبت اور خلوص کے جذبے سے انجام دیا جاتا ہے اور دیا جانا چاہیئے ۔

    تربیتی کورس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پروگرام مختصر وقت پر محیط تھالیکن اس کی اہمیت کا اندازاہ آنے طلبہ کے مستقبل پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات سے کیا جا سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس پیشےسے وابستہ افراد کا سفر کٹھن ضرور ہے لیکن منزل تابناک ہے ۔ انہوں نے ادارے کے مشن اسٹیٹمنٹ کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ہز ہائنس آغا خان کے اس قول کا ذکر کیا جس میں ہز ہائنس فرماتے ہیں کہ تعلیم کا مطلب طلبہ کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تعلیم سے روشناس کرانا اور اُن دونوں میں توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اُنہیں زندگی گزارنے کے اعلیٰ اقدار کو حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے ۔ انہوں نے علم وہنر کے ساتھ روحانی پختگی کے حصول کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ مربوط قرار دیکر تدریس اسلامیاتکو جاندار بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی کو ششوں کو سراہتے ہوئے اساتذہ پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں پڑھانے کے روایتی طریقوں سے نکل کر مذکورہ بورڈ کے جدید طریقہ ہائے تدریس کو اپنانا ہوگا ۔ اگرچہ اس میں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوگی تاہم ایک بہتر قوم کی تشکیل کے لئے سخت محنت اور بغیر کسی وقفے کے کام کی ضرورت ہوگی تب جاکے ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل بن سکتے ہیں ۔

  • error: Content is protected !!