Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تنقید برائےاصلاح……..از:ایس این پیرزادہ

Posted on
شیئر کریں:

اگرچہ تاریخی اعتبار سے ۱۹۷۵ء تک مجموعی طورچترال انتہائی غربت کی زد میں رہا ہے،اس علاقے میں شدید غذائی قلت ،قہت سالی اور اسکے نتیجے میں رونما ہونے والے دلخراش دَستانیں آج بھی زباں زدِ عام ہیں،یوں تو چترال میں بسنے والے تقریبا۸۵فیصد قومیتوں کا دعوا ہے کہ کسی نہ کسی دور میں انکے آباواجداد یہاں پر حکمران یا حکمران جتنے بڑے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں،بقیہ۱۵فیصد کے مطابق انکے باپ دادا بھی کسی زمانے میں پہاڑ کے اس پار یعنی گلگت میں حاکم تھے،چترال کی تاریخ کا تفصیلی جائزہ لینے پر پتہ چلتاہے کہ یہ علاقہ ہر دور میں اندرونی سازشوں کا مرکز رہا ہے،یہاں کی شاعری میں حالات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رجحان اورغیرضروری تعریف کرنے کا عنصر بھی پایا جاتا ہے،دنیا کے مہذب قوموں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کسی حالت میں بھی اپنی شناخت اورخودی کو سب پر مقدم رکھتے ہیں،اورمہذب معاشروں میں کسی کی حد سے زیادہ تعریف یا کسی پر بلاجواز تنقید کو اچھی نظرسے نہیں دیکھا جاتا،

ایک طرف ہمارا معاشرہ غربت اورجہالت کی اندھیروں سے نکل کرروشنی اور ترقی کے دور میں داخل ہورہا ہے ،لوگ مفاد عامہ،اور بہترین معاشرے کی قیام کی خاطرہر شغبہ زندگی میں گران قدر خدمات سرانجام دے رہےہیں تو دوسری طرف چند ناعاقبت اندیش مفاد پرست عناصر مہمان نوازی اور روایات کا نام دے کر ہر باہر سے آنے والے کو اپنے سروں پر بٹھا کر علاقے کے بارے میں غلط تاثرکا سبب بن رہے ہیں،ویسے بھی ملک کے دوسرے حصوں میں چترال کے بارے میں بہت ہی منفی قسم کا راےعامہ موجود ہے،یہ عناصراپنے اس قسم کی حرکتوں سے اس سوچ کو مذید تقویت دے رہے ہیں،
کسی زمانے میں ایک ڈی آئی جی صاحب نے یہاں کا دورہ کیا تو لواری سے لیکر بروغیل تک حسبِ روایت موصوف کا شاندار استقبال کیا گیا،جگہ جگہ خیرمقدمی جلسے منعقد ہوے جس میں عالی مقام سے علاقے کے معتبرات نے ہسپتال،سکول اورسڑکیں بنانے کا مطالبہ کردیا،سیاسی جلسوں سے خطاب کرتے کرتے جب ڈی آئی جی صاحب تورکہو پہنچا تو کسی لیڈر نے تھانہ بنانے کا مطالبہ کردیا تو موصوف نے برجستہ کہا کہ ان لوگوں میں تھوڑا عقل ہے،اسی طرح جب باہرسے آئے اسکیل نائن کے ایک اور سرکاری اہلکار کو کاسہ لیسوں کی طرف سے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا تو حضرت نے جوش میں اکر فرمایا کہ اج پتہ چلا میں کتنا بڑا آدمی ہوں،مرحلہ فکر یہ ہے کہ قانون شکنی اورجرائم کا ریشو زیرو ہونے کے باوجود کیوں کر ہمارے لوگ ہروقت افسرشاہی سے خوفزدہ رہتے ہیں اور اپنے جائزحقوق کی حصول کے لیے بھی کسی سفارش کا سہارا لیتے ہیں،اسکا جواب قانونی حقوق سے لاعلمی یا ملک میں موجود سفارشی کلچر بھی ہوسکتاہےالبتہ مقامی سطح پر یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ بعض عناصرمحض بڑے آفیسرزسےتعلقات استوار کرنے کی خاطر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتے ہیں،اوربعض اپنے علاقے کے لوگوں اورمخالفین کونیچا دیکھانے اورخود کوبڑا آدمی ظاہر کرنے کے لیےکاسہ لیسی کا عظیم خدمات سرانجام دے رہے ہیں،کچھ حضرات نے تو فی سبیل للہ چمچہ گیری کو کئی صدیوں سے اپنے لیے پیشہ بنا رکھا ہے،اورہر بڑے شخصیت کی بے جا تعریف کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں،

آج سے چند سال پہلے کی بات ہے جب ایک مذہبی سیاسی جماعت کے مرکزی قائد نےاس علاقے کا دورہ کیا اور مختلف مقامات پرعوامی اجتماعات سے خطاب کیا،ایک جلسے میں مقامی رہنما جو کہ جھوٹے تعریف کرنے میں ماسٹرڈگری ہولڈر کا درجہ رکھتے ہیں نے معزز مہمان کی تعریف کرتے ہوے اپکو۵۹ پشت میں لے جاکررسولِ خدا کے خاندان سےملا کر موصوف کو آلِ رسول ڈکلیرکردیا توحیرانی کے عالم میں حضرت نے واپس گھر پہنچتے ہی یہ معلوم کرنے کے لیےکہ کہیں واقعی میں وہ آلِ رسول تو نہیں ہیں اپنے شجرہ نصب کی درستگی کے لیے برادری کے عمائدین اورتاریخ دانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیا۔کچھ عرصہ بعد اسی مقامی رہنما نے اسی مقام پردوسرےسیاسی جماعت کے قائد کی آمد کے سلسلے میں منعقد ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس رہنما کے حق میں تعریفوں کا پل باند کریہاں تک کہہ دیا کہ آنجناب پورے صوبے کی وہ واحد شخصیت ہیں کہ آج تک کوئی بھی فرد اپکے حجرے سے کھانا کھائے بغیرنہیں گیا،چونکہ اس مہمان کی سیاست میں وجہہ شہرت غربت تھی اور قومی میڈیا میں آپکے حالات زندگی کے چرچے تھے اسلیے موصوف نے اپنے خطاب میں برملاکہہ دیا کہ انکا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور وہ درمیانہ درجے کا ایک عام آدمی ہے۔یہ ۲۰۱۱کی بات ہے جب اس وقت کے وفاقی وزیرمواصلات صاحب تشریف لائے تو اسٹیج پر موجود خوشامدی ٹولے نے صاحب کو خوش کرنے کے لیے اسکے والد کی زبردست تعریف کرتے ہوے جناب سے درخواست کی چونکہ اپکے والد صاحب کو چترال کے ساتھ دلی محبت تھی اور اس نے بحیثیت گورنر اور وزیر اس علاقے کی ترقی کے لیے شاندار کام کیا،اور امید ہے کہ اپ بھی اپنے والد محترم کی نقش قدم پر چل کرہماری سرپرستی کرینگے،محبتوں بھرے اس جذباتی محفل سے خطاب کرتے ہوئے وزیرموصوف نے یہ انکشاف کیا کہ اللہ کے فصل و کرم سے اسکے خاندان میں اج تک کسی نےجھوٹ نہیں بولا،اور ساتھ ہی یہ جھوٹ بھی بول دیا کہ ہم نے چترال شندور روڈ کے لیے کروڑوں روپے مختص کر کے اسکو این ایچ اے کے حوالے کر دیا ہے،انشاالللہ اگلے سال سے اس روڈ کی تعمیر کا آغاز ہوگا۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہمارے ایک منتخب نمایندے نے اس وقت کے ڈی سی صاحب کومسٹرکلین پرسن بناکرعوام کے سر پر چڑھایا اور۲۸ ہزار غریب زلزلہ زدگان کو نقد امداد سے محروم کر دیا،البتہ غریبوں کی بددعائی کا یہ اثر ضرورہوا کہ چند ہی دنوں بعد ڈی سی آفس کے دروازے پرلیوی اہلکاروں نے اسی نمایندے کی درگت بناڈالی اور ڈی سی صاحب نے کارسرکار میں مداخلت قرار دے کرنمایندے سے معافی مانگنا بھی گوارہ نہ کیا۔

بلاوجہ خوشامدی سیاست اور افسرشاہی کی تابعداری کے اب تک جو نتیجہ سامنے آیا ہے اسکے مطابق بہت سارے معززین علاقہ کے ساتھ ہمارے تین معزز ایم پی اے صاحبان اور دو معززایم این اے صاحبان پولیس،لیویز،اور ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں مار کھا چکے ہیں،اور ہنوز بےعزتی اور بے توقیری کا یہ سلسلہ جاری ہے،پایئدارترقی کے لیے ہمیں اس بیانیے کو اپنی زندگی کے نصاب میں شامل کرنا ہوگا کہ دنیامیں ہمیشہ ان قوموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے جو برابری کی بنیاد پر اپنی بہترین اہلیت اور صلاحیتوں سے تہذیبوں کے ساتھ مکالمہ کرتے ہیں،وگرنہ ہر نیے آنے والے کے سامنے بندر کی طرح ناچنے سے علاقے میں ترقی ہوتا تو آج تک ہم یورپ اور امریکہ سے کہیں آگے نکل چکے ہوتے،زرا سوچیے۔


شیئر کریں: