Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ایک ڈاکٹر, ہزاروں کہانیاں………..جی ۔کے۔ سریر چترال

    October 21, 2017 at 8:35 pm

    ایک حضرت انساں سے ملاقات ہوئی. فرمانے لگے:
    “ایک ڈاکٹر کے بننے میں کتنی محنت درکار ہوتی ہے. ماں باپ دولت لٹاتے, کبھی کبھار جاگیر تک بیج دیتے ہیں اور بچہ دن رات ایک کرتا ہے. تب کہیں جاکر ہزاروں امیدواروں کو شکست فاش دے کر سیٹ ملتی اور ڈاکٹر بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجاتا ہے. ان میں سے بھی شاذو نادر اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ خون پسینہ بہا کر ایف-سی-پی-ایس کا تاج اپنے سر پر سماتے ہیں. اب انہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ جیسا چاہیں مریضوں سے سلوک روا رکھیں اور دولت کمائیں. لوگوں کا کونسا کردار بنتا ہے کہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر بننے والا ڈاکٹر ان کی بھلائی کا سوچے یا ان کے سامنے جوابدہ ہو؟”

    یہ صاحب صحت کے پیشے سے منسلک ہونے کے باوجوخود ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ ‘شاہ سے بڑھ کر بادشاہ کا وفادار’ کے بمصداق ہمارے علاقے کے ایک جیتے جاگتے کردار کی وکالت میں لب کشا تھے جن کی دھن دولت پر اکثر انگلی اٹھائی جاتی ہے. ممدوح یعنی ڈاکٹر صاحب زندگی کی تمام تر آسائشوں کو اپنا بنیادی حق گردان کر لوگوں کے اعتراضات کو بددیانتی اور حسد کہہ کر ٹال دیتے ہیں. مگر کیا معترض ہونا, جواب طلب کرنا اور ڈاکٹر سے امیدیں رکھنا دراصل حسد ہے؟ کیا واقعی ایک ڈاکٹر کے بننے میں معاشرے کا کوئی حصہ نہیں ہوتا؟

    عوام اپنے خون پسینے کی کمائی پر سالانہ اربوں کی ٹیکس ادا کرتا ہے. حکومت انہی ٹیکسوں سے ادارے بناتی, وسائل اور افرادی قوت مہیا کرتی اور چلاتی ہے. یہی ادارے لاکھوں طالب علموں کو پڑھنے, سیکھنے اور تربیت کے مواقع فراہم کرتے ہیں تبھی جاکر معاشرے کے چپے چپے میں ہم سب روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں جن میں ڈاکٹر کا پیشہ بھی شامل ہے. کہا جاتا ہے کہ ایک عام سا ڈاکٹر کے بننے کے لیے صرف آخری چار سالوں میں سرکار کا 25/30 لاکھ سکہ رائج الوقت لگتا ہے. ظاہر ہے یہ پیسہ درختوں پر نہیں اگتا بلکہ لوگ خون پسینہ ایک کرکے کماتے اور سرکار کے حوالے کرتے ہیں.

    قابل غور یہ ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر کی تمام تر بہتر تنخواہ, مراعات اور زندگی کی سہولیات کے باوجود ان کی ذمہ داریاں اس ذہنیت سے پرکھی جاسکتی ہیں تو معاشرے میں موجود باقی پیشوں سے منسلک افراد کو کیوں کر مستثنیٰ قرار نہیں دیے جاسکتے؟ کیا صرف ایک ڈاکٹر بننے میں محنت, وسائل اور وقت صرف ہوتے ہیں؟ اگر مکافات عمل کے طور پر باقی شعبہ حیات سے متعلق لوگ مثلاً انجنئیر, سوشل ورکر, سیاستدان, وکیل, دوکاندار, مزدور, پانی و بجلی کے محکموں کا عملہ وغیرہ یہی سلوک ڈاکٹر کے ساتھ روا رکھیں گے اور اسی منطق پر دلیل دیں گے تو کیسا لگے گا؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ معاشرتی ذمہ داری اور اجتماعی بھلائی کا کہہ کر ہم ایک ڈاکٹر سے آخر چاہتے کیا ہیں؟ ہمیں اس کی دولت چاہئیے یا ہم مفت کا علاج کروانا چاہتے ہیں؟

    دراصل معاشرے نے جتنی قربانیاں دے کر ڈاکٹر بننے اور عزت ووقار کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنایا ہے جوابأ ہم طب کے پیشے سے منشلک افراد سے بہت معمولی اور ان کے فرائض کے عین مطابق توقع کر رہے ہیں. ہم انہیں براہ راست مخاطب کرکے چاہتے ہیں کہ صحت معاشرے کی بہبودو ترقی کے لیے اولین اور ناگزیر شعبہ ہے. لہذا آپ ڈھیر ساری تنخواہوں اور مراعات کو حلال کرنے کی خاطر وقت پر ہسپتال تشریف لایئے اور مقررہ وقت پر لے جایئے. دفتری اوقات میں مریضوں کا معائنہ پوری دیانتداری اور خلوص سے کیجیئے. ایسا کرتے ہوۓ بین الاقوامی ضابطے کے مطابق 15/20 مریض چیک کرنے پر اصرار مت کیجئے. یہ ملک غریب ہے اور یہاں وسائل کم, مسائل زیادہ ہیں. اگر پھر بھی یہی اصول چاہئیے تو ذاتی کلینک میں بھی اس پر سختی سے عمل پیرا ہوکر ڈیڑھ ڈیڑھ سو مریضوں کا معائینہ بھی مت کیجیئے گا.

    ہم آپ سے یہ چاہتے ہیں کہ میلوں سفر کرکے آۓ ہوۓ ناداروں, مفلسوں, بچوں, عورتوں اور بوڑھوں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں, یقینی بنائیں کہ مرض سے افاقہ ملے گا. ان کو دھتکارنا, ان کی عزت نفس مجروح کرنا یا پھر علاج کے نام پر صحت کی مزید پیچیدگیوں کا باعث بننا قانونی تقاضوں, اخلاقی اقدار, طب کے پیشے اور آپ کے فرائض منصبی سے میل نہیں کھاتا. حسن سلوک کے علاوہ براہ کرم علاج معالجہ اور ادویات تجویز کرتے وقت چند سوالات کو بھی پیش نظر رکھئیے گا کہ:

    جن ادویات کو آپ تجویز فرما رہے ہیں کہیں متعلقہ کمپنیوں کی طرف سے تخفے کا کہہ کر آپ کو رشوت تو نہیں مل رہی ہے؟ غیر ضروری طور پر مہنگی ادویات کی جگہ کہیں متبادل, موثر مگر سستی ادویات تو دستیاب نہیں ہیں؟ کیا مجوزہ دوائیوں میں وہ خاصیت اور صلاحیت موجود ہے جس سے متوقع علاج ممکن ہو؟ کہیں آپ صرف فروخت کی خاطر زیادہ ادویات تو نہیں لکھ رہے؟ کیا کوئی دوائی آپ کے پاس یا اسٹور میں دستیاب ہے کہ جس سے غریب مریضوں پر مالی بوجھ ہلکا ہوسکتا ہے؟ آپ کے زیر نگرانی تکنیکی سہولیات اور عملے وغیرہ کی صورتحال کتنی قابل اطمینان ہے؟

    بغیر معذرت اور تاویلات کے علاوہ ان باتوں اور استفسار کو پیش نظر رکھ کر آپ ہی بتایئے کہ انسانیت اور اجتماعی فلاح کے لیے کیا واقعی ہم آپ سے کچھ زیادہ کا تقاضا کر رہے ہیں؟

    مگر پڑھنے والے ٹھہرئیے! غلط فہمی پر مبنی یہ تصورات اور ان پر بنیاد ذمہ داریوں سے فرار صرف کچھ ڈاکٹروں کے ساتھ مخصوص نہیں. اس کہانی, کردار اور سوچ کے پیچھے ہمارے معاشرتی المیے کا عکس جھلک رہا ہے کہ جسے دیکھ کر ہم سب کو اپنے اپنے منہ پر لپٹی حماقتوں اور بےحسی کا دھول دھونے کی ضرورت ہے. ہمیں وہ اخلاقی ہمت درکار ہے کہ اپنی گریبانوں میں جھانک کر کوتاہیوں کی موٹی موٹی شہتیر اتار پھینکیں. البتہ اتنا اور عرض ضروری ہے کہ کسی دفتر کے بابو, پولیس والے, ٹھیکیدار اور اس طرز و نوغ کے کردار معاشرے کے لیے نمونے نہیں بنتے. مثالیں ہم ان افراد کے اعمال نامے دیکھ کر اپناتے ہیں جن کا تعلق مقدس کہلانے والے پیشوں اور طبقوں سے ہوتا ہے. ہم قانون کی برتری, اعلے اخلاقی رویوں اور انسانی بہبود کی بےعرض کاوشوں کے لیے زیادہ تر اساتذہ, ڈاکٹر, عدلیہ اور اس کے جملہ متعلقین, مذہبی افراد اور سیاست دانوں کی طرف دیکھتے ہیں. اور اگر یہ افراد مجموعی لحاظ سے بےحسی, بدچلنی, غیرذمہ داری اور اخلاقی دیوالیہ پن میں ملوث ہوں تو باقی معاشرے کا بگڑنا مقدر بن جاتا ہے.

    یہ بات دھیان میں رہے کہ کسی بھی کردارکشی کی نیت کے بغیر اس کہانی کا اطلاق ان ڈاکٹروں اور دوسرے سرکاری و غیرسرکاری لوگوں پر ہوتا ہے جن کی تصویرکشی کی گئی ہے. ہم ہزاروں خدمت خلق سے سرشار ان افراد کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ جن کے دم قدم سے ملک اور معاشرے کا پہیہ چلتا ہے, جن میں فرض شناس ڈاکٹر بھی شریک ہیں.

  • error: Content is protected !!