Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مذہب , قوانین اور سیاست………جی ۔کے۔ سریر

شیئر کریں:

 ! ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں
پرنس کریم آغا خان کی چترال آمد کے موقع پر یوں لگ رہا تھا کہ علاقے کے دونوں سنی اور اسماعیلی برادری کے بیچ عشروں پر محیط غلط فہمیوں اور کدورتوں کا میل دھل رہا ہے. چترال کے طول و عرض میں جہاں سنی برادری اسماعیلی رضاکاروں کے شانہ بشانہ کئی ایک خدمات میں ہاتھ بٹارہی تھی وہاں اہلاً وسہلاً کی گونج پر امن و رواداری کے شادیانے بھی بجاۓ جارہے تھے جس میں چند سنی علماء کا کردار قابل ستائش تھا. جیسا کہ سمندروں کی کچھ زیادہ ہی خاموشی ایک نئی طغیانی کا پیش خیمہ ہوتی ہے, چترال کی فضاؤں میں امن و آشتی پر دل کو راحت  ہورہی تھی. یہاں پر سوشل میڈیا میں ایک  پوسٹ اور اس پر ایک  فرد کی کمنٹ سے متعلق اصول و عواقب پر اتنا کہنا مناسب ہوگا کہ کسی بھی افراط و تفریط سے بچنے کے لیے ان کلمات سے متعلق شرعی و قانونی اصولوں کی دو ٹوک تشریح و وضاحت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے.
سرِ دست قانونی مغالطوں, ارتکابِ جرم اور عوامی ردِ عمل پر لب کشائی کرنا مناسب ہوگا. بہت سوں کا گماں ہے کہ ایسے واقعات میں عدالتیں ملزموں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچاکر انتشارو فسادات کا باعث بنتی ہیں. اس موقف میں جتنی صداقت گستاخی کے واقعات پر ہے اتنی ہی باقی مقدمات پر بھی منطبق ہوتی ہے. مگر یہ طے ہے کہ ملکی قوانین کے اندر جرم اور جرائم کے ساتھ نمٹنا بہرحال قانون کے محافظوں کی صوابدید ہے. یہ دلیل دینا کہ چوںکہ عدالتیں انصاف نہیں کر پارہی, اس لیے ان افراد کے ساتھ قانون سے بالاتر اور اداروں سے باہر ہی نمٹ لینا چاہیئے یا امن و امان کی صورتحال دگرگوں کرکے انصاف کرنے پر مائل بلکہ مجبور کیا جاۓ غلط سوچ کا شاخسانہ ہے. گذارش یہ ہے کہ چوںکہ عدالتیں قتل, دھشت گردی, ڈاکہ زنی, عورتوں کے خلاف تشدد, زنا بالجبر, رشوت ستانی اور دیگر قبیح جرائم پر بھی مسؤلین کی توقعات پر پوری نہیں اترتیں. تو کیوں نہ ہم ایسے مقدمات میں بھی مظلوموں کی دادرسی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ظالموں اور مجرموں کو فسادات کے زریعے کیفر کردار تک پہنچائیں؟ اسی نکتے سے منسلک ایک اور رعایت یہ ہے کہ ملکی قوانین ویسے بھی کاریگر ثابت نہیں ہورہے. تو کیوںکر ان کے وجود, ضرورت اور ان پر کاربند رہنا غیرمفید تصور نہ کیے جائیں؟…درحقیقت اس طرز فکر کو لوگوں کی دیدہ دلیری یا پھر معصومیت کہی جاسکتی ہے جو ایک جانب احترامِ قانون کے مسلمہ اصولوں کی شعوری طور پر خلاف ورزی کرتے ہوۓ ان کے پرخچے اڑاتے ہیں مگر دوسری طرف قانونی اداروں کے کمزور ہونے کا رونا بھی روتے ہیں. ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ چھوٹا ہو یا بڑا جرم صرف جرم ہوتا ہے جن سے متعلق ملک میں قوانین اور متعین سزاء و جزاء کا نظام موجود ہے.  نوغیت کے اعتبار سے کچھ جرائم کو عدالتوں کے اندر اور کچھ باہر بیچ بازار نمٹانے کی حمایت کرنا کسی طور درست نہیں ہے. واضح رہے کہ عوام کی جانب سے قوانین پر من و غن عمل پیرا ہوکر انہیں مضبوط کیا جاسکتا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائی جاسکتی ہے, نہ کہ انہیں جان بوجھ کر ذک پہنچا کر.
اس قسم کے واویلا یا ڈھونک رچانے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اصل معاملہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کا نہیں ہے. ہم بطور قانون پسند اور مہذب شہری زیادہ سے زیادہ کسی جرم کی تردید کرسکتے اور ملزم کو متعلقہ اداروں کے سپرد کرکے اپنے حصے کے قانونی, اخلاقی اور مذہبی فرض سے سبکدوش ہوسکتے ہیں. اگر شواہد یا پھر دعوے کی کمزوری کی بناء مقدمہ ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ملزم بری ہوجاتا ہے تو کسی بھی الزام و نتائج یعنی گناہ و قانون شکنی کے ارتکاب سے ہم بھی بری الزمہ ہوجاتے ہیں. لہذا کسی بھی قیمت پر اپنے من مرضی کے عدالتی فیصلے پر اڑ جانا قانونی ضرورت سے زیادہ سیاسی مصلحت سمجھی جاسکتی ہے.
مذہبی ایشوز کو لوگوں کے جذبات برانگیختہ کرنے, ان سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور خود ہی اقتدار پر متمکن ہونے کے باوجود ہڑتال اور جلسہ جلوس بلانے کی ہر روش و کوشش قابلِ مذمت و مواخدہ ہے. رسولِ پاک ؐ کی ذات کو سیاسی اعراض کے لیے استعمال کرنا انتہائی حرکت اور بددیانتی ہے. اس سے ایک طرف انصاف و اخلاق اور جمہوری اصولوں کا گلا گھونٹا جاتا ہے تو دوسری جانب معاشرے کو ہراساں اور خوف و دھشت میں مبتلا کرکے طرح طرح کے ذہنی امراض, علمی انتشار اور نتیجتاً سماجی پسماندگی کو فروع دیا جاتا ہے.
یہ بات فہم وفراصت سے بالاتر ہے کہ عوامی عدالت لگاکر انفرادی افعال پر لوگوں کو اشتعال دلایا جاۓ یا فرد کے جرم کی سزا پوری کمیونٹی کو دی جاۓ. جس طرح کی ہرزہ سرائی اور میڈیا ٹرائل آج کل دیکھنے کو مل رہی ہے کیا اس قسم کی تادیبی کارروائیوں اور تحقیرو تشنیع کا ہم خود بھی متحمل ہوسکتے ہیں؟ کیا واقعی مذہبی جذبات صرف کسی خاص کمیونٹی کے حصے میں آتے ہیں جبکہ انہیں مجروح کرنے کا قانون کسی خاص جماعت و مسلک کے لیے مخصوص ہیں؟ ہم نے مزید گنجائش نہ رہنے پر “لکم دینکم ولی یدین” کی تلقین پڑھی تھی. جاہلانہ حرکتوں اور دوسروں کی کھلم کھلا دل آزاری کی بےخطر آزادی سے بھلا عشقِ رسولؐ کی کونسی شکل ثابت کی جارہی ہے؟ کچھ لوگ عذرِ لنگ پیش کرتے ہیں کہ ایسے واقعات پر جذبات کا بےساختہ استعمال ایک فطری عمل ہے. تو کیا فطری جذبات کے اظہار کی سبھی شکلوں مثلاً قتل و غارت, زنا وغیرہ کو بھی قابلِ قبول مان کر ارتکاب کرنے والوں کو مواخذے سے مستثنیٰ قرار دیے جائیں؟ کیا آپ نے سوچا ہے کہ ان جیسے منفی رویوں اور نظریات کو بڑھاوا دے کر ہم معاشرے میں کس قسم کے طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں؟ شہریوں کے ایسے رویوں سے قانون کے ہاتھ مضبوط ہوجاتے ہیں یا اپاہچ؟
اس موقع و مقام پر من حیث القوم ہمیں خود اپنی گریبانوں میں جھانکنا ضروری ہے. ہم چترالی شرافت, مثالی امن, بھائی چارے اور رواداری کا گن گاتے رہتے ہیں, مگر عملاً اور حقیقتاً ہم کونسا گل کھلارہے اور علاقے سے باہر کی دنیا کو کس طرح کا پیغام دے رہے ہیں؟ یہ عرض کرنا بےجا نہ ہوگا کہ امن و آشتی کی زیادہ تر زمہ داری اکثریتی طبقے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کھلے دل کا اظہار کرے. ہم میڈیا پر بلند بانگ دعوے کرکے یقین دلاتے پھرتے ہیں کہ مسلمان دنیا بھر کے پرامن مگر مظلوم لوگ ہیں. مگر گھر کے اندر سہی, کیا اس دعوے پر عمل کرکے حق و صداقت ثابت کیا جانا چاہیئے کہ نہیں؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ صبرو استقامت, برداشت و رواداری, حقوق کی پاسداری اور احترام انسانیت وغیرہ کا اصل امتحاں آزمائش کی گھڑیوں میں ہوتا ہے. جوانمردی کا مظاہرہ میدانِ کارزار میں کیا جاتا ہے. اچھے دنوں میں شاید ان کا کوئی مفہوم بھی نہیں بنتا.

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
3176