Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مولاناچترالی قوم سے معافی مانگےورنہ قانونی چارہ جوئی کی جائیگی..عبدالطیف

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے صدر عبداللطیف نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی ذہنیت درجہ چہارم کی ملازمتوں تک محدود ہوکررہ گئی ہے ۔ حالیہ محکمہ تعلیم چترال میں درجہ چہارم کی اسامیوں پر تعیناتیوں کے بعد ہمارے منتخب نمائندوں نے جس غیر سنجیدگی اور سیاسی دوالیہ پن کا ثبوت دیا اس پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔
انھوں نے چترال کے ممبران اسمبلی مولانا عبدالاکبرچترالی اور مولانا ہدایت الرحمن کو خبردار کیا ہے ۔ کہ کلاس فور ملازمتوں کا بہانہ بنا کر ایم پی اے چترال وزیر زادہ اور کالاش قبیلے کو دی گئی دھمکی پر معافی نہیں مانگی ۔ تو ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ۔ چترال پریس کلب میں پاکستان تحریک انصاف کے صدر عبداللطیف ،لائرز فورم کے جاوید علی خان ایڈوکیٹ، الطاف گوہر، نابیگ ، مختار، حیات اللہ ناظم، سینئر رہنما سجاد احمدو دیگر کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ چترال کے ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی اور مولانا ہدایت الرحمن کلاس فور بھرتیوں کی آڑ میں ایم پی اے وزیر زادہ کے خلاف اپنی مذہبی اور سیاسی بُغض کی انتہا کر دی ہے ۔ اور اس سلسلے میں چترال کے امن کو بھی داؤ پر لگاکر انتہائی پُر امن کالاش قبیلے کو میڈیا کے سامنے دھمکیاں دی ہیں ۔ جس کی ہم پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ کلاس فور بھر تیوں کا مسئلہ صوبائی ہے ۔ اُس میں ایم این اے کی مداخلت بالکل غیر قانونی ہے ۔ جس کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا ۔ جبکہ جو تقرریاں کی گئی ہیں ۔ اُس میں بھی مولاناہدایت الرحمن کی سفارش پر 13افراد بھرتی کئے گئے ہیں ۔ اور ایم پی اے وزیر زادہ نے صرف پانچ امیدواروں کی سفارش کی ہے ۔ جبکہ دیگر آسامیاں لینڈ اونرز ، سن کوٹہ اور ریٹائرڈ ملازمین کوٹے میں پُر کئے گئے ہیں ۔ عبد اللطیف نے کہا ۔ کہ جس بندے کو قومی اسمبلی میں قانون سازی اور چترال کے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے آواز ااٹھانے کیلئے اسلام آباد بھیجا گیا تھا ۔ وہ پشاور میں کلاس فور بھرتیوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ ان لوگوں نے ہمیشہ چترال کے لوگوں کو مذہبی طور پر تقسیم کرکے ووٹ حاصل کئے ۔ اور آج بھی اُن کی طرف سے چترال کے اندر مذہبی تفرقہ بازی کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن عوام چترال اُن کے بہکاوے میں ہر گز نہیں آئیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مولانا عبد الاکبر دو مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر رہے ہیں ۔ ہم اُن سے پوچھتے ہیں ۔ کہ وہ وفاق میں کتنے چترالی نوجوانوں کو ملازمتین دینے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ ایم پی اے وزیر زادہ صرف اقلیتوں کا نہیں ۔ پورے چترال کا ایم پی اے ہے ۔ جس میں چترال کے مسائل حل کرنے ، حکومتی طریقہ کار اور قواعد و ضوابط کو سمجھنے اور کام کرنے کی بھر پورصلاحیت موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کے سلسلے میں صوبائی حکومت میں اُن کا بہت بڑا کردار ہے ۔ اور چترال کے کئی مقامات کو سیاحتی فہرست میں شامل کرنے میں اُن کی کو ششیں شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن اور ایم این اے مولانا عبدالاکبر کو ان کی خدمات ہضم نہیں ہوتیں ۔

عبد الطف نے کہا ۔ کہ اقلیتوں کو دھمکی دینے اور مذہبی منافرت پیدا کرنے پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے ۔ اور تحریک انصاف منفی سیاست کرنے والوں اور چترال کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر ے گی ۔
pti abdul lateef press confrence chitral 2
pti abdul lateef press confrence chitral 4


شیئر کریں: