Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے بھر میں بجلی چوری کے خاتمے کیلئے مشترکہ ٹیمیں‌تشکیل دینے کا فیصلہ

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )‌ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں بجلی چوری کے خاتمے کیلئے انتظامیہ ، پولیس اور پیسکو کے اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے، لینڈ لائن لاسزکم کرنے کیلئے پیسکو کے انتظامی اور ٹرانسمیشن لائن میں بہتری لانے ، جائز ریکوری کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اور پیسکو چیف کو اہداف پر مبنی بھر پور حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم بجلی چوری کے خاتمے کے اہداف کے تعاقب میں ہیں۔ ہم 100 فیصد نتائج دینے کیلئے تمام اقدامات اُٹھائیں گے ۔ وہ آج وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں بجلی چوری کی حوصلہ شکنی کرنے اور اس سے متعلق دیگر اُمور پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے انرجی اینڈ پاور حمایت اﷲ ، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، چیف سیکرٹری نوید کامران، انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود،ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزد بنگش انتظامی سیکرٹریز اور چیف ایگزیکٹیو پیسکو نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بجلی چوری کے خاتمے ، پیسکو کے سسٹم اور کارکردگی اور کمزوریوں سمیت ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی چوری روک تھام مہم میں کمرشل ، انڈسٹریل اور مقامی سطح پر بجلی چوروں کے خلاف مہم کا آغاز جاری ہے۔ اس دوران پورے صوبے میں 897 بجلی چوروں کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر رجسٹرڈ ہو چکی ہیں جن میں720 افراد کی گرفتاری ہوئی ہے اور پشاور سے 90 غیر قانونی ٹرانسفارمر بھی اُتارے جا چکے ہیں۔ اس ضمن میں 94 ملین کی ریکوری بھی ممکن بنائی جا چکی ہے ۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آئندہ دو ہفتوں میں یہ مہم مزید زور سے جاری رہے گی ۔ مزید بتایا گیا کہ اس مہم سے پورے پاکستان میں 1.5 فیصد لینڈ لاسز میں کمی آئی ہے جبکہ صوبے میں 4 فیصد تک لینڈ لاسز میں کمی ممکن بنائی جا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ 2000 سے زیادہ بجلی میٹر اس مہم کے دوران لگائے گئے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس مہم کو مزید تیز تر اور جامع بنایا جائے ۔ صوبائی حکومت بمعہ پولیس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اس مہم میں مکمل تعاون کرے گی ۔ اُ نہوں نے مزید کہاکہ اُن علاقوں پر زیادہ فوکس کیا جائے جہاں پر لینڈ لاسز اور بجلی چوری زیادہ ہو اور کنڈا کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے ۔چترال ٹائمزڈاٹ کام ذرائع کے مطابق اجلا س کو بتایا گیا کہ پیسکو نے بجلی چوری میں ملوث اپنے اہلکاروں کے خلاف بھی ایکشن لیا ہے جس میں 12 ایس ڈی اوز کو جبری ریٹائرکیا گیا ہے ۔اور ہر اُس علاقے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جہاں پر بجلی چوری زیادہ ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں بجلی چوری کی کل وقتی حوصلہ شکنی کیلئے ایک واضح حکمت عملی تشکیل دی جائے ۔پیسکو اپنے سسٹم ، کارکردگی اور اپنی کمزوریوں پر قابو پائے اور اووربلنگ کے خاتمے اور بجلی چوری کیلئے ایک مکمل سٹرٹیجی وضع کرے۔ صوبائی حکومت انتظامی اور پولیس پر مبنی ٹیمیں تشکیل دے کر پیسکو کی بجلی چور ی کے خاتمے اور جائز ریکوری میں مکمل تعاون فراہم کرے ۔انہوں نے مزید کہاکہ پیسکو چیف اپنے ادارے کے اندرمافیا کو کنٹرول کرے اور حقیقی بجلی چوروں پر ہاتھ ڈالے،صوبائی حکومت اس ضمن میں بھر پور سیاسی عزم کے ساتھ بجلی چوری کا خاتمہ کرنے میں مدد کرے گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت 100 فیصد نتائج دے گی لیکن اس کے لئے پیسکو ایک جامع حکمت عملی وضع کرے۔متعلقہ حکام مربوط حکمت عملی کے ذریعے اپنے اہداف مقرر کرے اور اس کے حصول کو مانیٹر کرے اور یہ حکمت عملی نتیجہ خیز ہونی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ بجلی چوری کی حوصلہ شکنی کیلئے بلا تفریق آپریشن کو مزیدتیز تر کیا جائے جبکہ پیسکو غلط اعداد وشمار کی بجائے حقیقت پر مبنی ڈیٹا اور رپورٹ فراہم کرے۔انہوں نے کہاکہ جن علاقوں میں زیادہ لاسز اور بجلی چور ی ہو ، وہاں سب سے پہلے آپریشن کیا جائے۔بجلی چوری روک تھام مہم کو مزید تیز کرنا چاہیئے ، صوبائی حکومت اس ضمن میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بقایا جات کی ریکوری کیلئے سیکرٹری انرجی اینڈ پاور اور پیسکو حکام مل بیٹھ کر ایک جامع حکمت عملی بنائیں اور اس کو عملی جامہ پہنائے۔ عوام کیلئے بجلی میٹر انسٹالمنٹ کے عمل کو آسان اور باسہولت بنایا جائے تاکہ آئندہ کیلئے بجلی چوری کامکمل خاتمہ کیا جا سکے ۔اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ پیسکو حکام بجلی چوری کی روک تھام اور بقایا جات کی وصولی کیلئے دو تین دن کے اندر لائحہ عمل وضع کریں۔پیسکواپنے اُن اہلکاروں کے خلاف بھی ایکشن لے جو بجلی چور ی اور معاونت میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پیسکو میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا عمل شفاف اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیئے کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت میں میرٹ کی بالاد ستی اور اداروں میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
…………………………………………………………………………………………..

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کاکردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ صوبے میں سابقہ فاٹا کے سات نئے اضلاع شامل ہونے سے ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا فاٹا کے انضمام اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے میں پل کا کردار ادا کریں ۔ وہ پی ٹی آئی کی ملک بھر سے آئی ہوئی سوشل میڈیا کے مندوبین سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پرصوبائی کابینہ اور ممبران صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت کے ترجمان بھی موجود تھے ۔ شرکاء کو سوشل میڈیا کی کارکردگی پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری سوشل میڈیا ہمارا حواص خمسہ ہے اور اس کی کارکردگی اور افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ جب میں پچھلے دور حکومت میں صوبائی وزیر تھا تو ہم نے نوجوانوں کی فلاح و ترقی کیلئے متعدد اقدامات کئے جس میں سیاحت اور کھیل کے بجٹ میں اضافہ ، یوتھ ڈائریکٹوریٹ کا قیام اور پالیسی دی ۔ امپیکٹ چیلنج پروگرام کا اجراء کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اب صوبے میں سات نئے اضلاع کے شامل ہونے سے ہمیں زیادہ محنت اور جانفشانی سے وہاں کے پسماندہ لوگوں کو قومی دہارے میں شامل کرنے کیلئے دن رات کام کرنا ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی نظام کی تبدیلی کے لئے 22سالہ سیاسی جدوجہد میں سوشل میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔سوشل میڈیا نے ہماری پچھلی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو وقتاً فوقتاً عوام کے سامنے پیش کیا اُنہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا نے پی ٹی آئی کے منشور کو عوام تک پہنچایا اورعوام کو آزادانہ رائے قائم کرنے میں مدد کی۔یوں عوام کوایک منفرد ابلاغی پلیٹ فارم فراہم کیاجس سے حکومتی اقدامات کو اُجاگر کرنے کا موقع ملا ۔انہوں نے سوشل میڈیا کی پریزینٹیشن کے حوالے سے کہاکہ یہ پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی کو اُجاگر کرنے کیلئے ایک بہترین ابلاغی حکمت عملی ہے جو سوشل میڈیا وفاقی اور صوبائی حکومت کی عوام دوست کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عوام دشمن پروپیگنڈے کا بھر پور مقابلہ کرے گی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں ہم سوشل میڈیا کی بدولت بیک وقت ہمہ گیریت اور مقامی سطح پردرپیش چیلنجز سے آگاہی حاصل کرسکیں گے۔ ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تیاری کرسکیں گے۔ عوام کی ذہن سازی اور عوام کی اجتماعی رائے کے نتیجے میں بہترین فیصلہ سازی کر سکیں گے ۔ایسی فیصلہ سازی جو ملک وقوم اور عوام کے مفاد میں ہو۔ ہماری حکومت نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک مکمل اور جامع پلان بنا یا ہے ۔ ہم نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفاد کر نا چاہتے ہیں ۔ اس صوبے کو تعلیم یافتہ ، باصلاحیت اور مستعدنوجوانوں نے آگے لے کر جانا ہے ۔ ہم نے صوبے میں ترقیاتی حکمت عملی ، میرٹ کی بالادستی ، شفافیت اورانصاف سب کیلئے کا ایک بھر پور خاکہ بنایا ہے ۔ ہم ثابت کریں گے کہ ہماری حکومت صوبے کو دیرپا ترقیاتی راستے پر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہاں سے نئے پاکستان کا آغاز کیا گیا ہے ۔ یہاں سے ہی میرٹ اور شفافیت کا آغاز ہو ا ۔ یہاں سے ہی کفایت شعاری اوروسائل کے بے دریغ استعمال کی حوصلہ شکنی کی گئی ۔ اور یہاں سے ہی تکمیل پاکستان کا جنون پروان چڑھے گا۔ اس پورے عمل میں سوشل میڈیا کے فعال کردار کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہاکہ اُنہیں سوشل میڈیا ٹیم کی صلاحیتوں پر بھر پور اعتمادہے ۔ وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا ٹیموں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

<><><><><><><><>

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بانی پاکستان قائد اعظم کے وژن کے مطابق نئے پاکستان کی تشکیل کے عملی مراحل میں ہے، ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں امت مسلمہ کے ماضی کا ترجمان، امت مسلمہ کے حال کی شان اور مستقبل کی جان بنانا چاہتے ہیں، اس مجموعی جدوجہد میں تمام قومی اداروں اور عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائد اعظم کے یوم ولادت کے حوالے سے جاری اپنے پیغام میں کیا ہے ۔ برصغیر کے مظلوم مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کے قیام کے سلسلے میں قائداعظم کی والہانہ قیادت اور انتھک جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قائداعظم کے اصولوں ایمان، اتحادا ورتنظیم کو اپنی زندگی کا شعار بنا کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک میں بدعنوان نظام کے خلاف جوجدوجہد شروع کی ہے اس کے ثمرات سامنے آرہے ہیں ، پختونخوا کے عوام نے پاکستان کی بقاء کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور جانی اور مالی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کیا، پی ٹی آئی کی حکومت نے سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور غلط فیصلوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے ازالے اور قومی وقار کی بحالی کا عزم کر رکھا ہے ، ہم نے ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں پورے ملک سے عوام کی پزیرائی ملی ہے جس کی وجہ سے آج عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ اور خوش حال پاکستان ہماری منزل ہے، جس کیلئے کسی قسم کی بھی قربانی اور جدوجہد سے دریغ نہیں کرینگے۔

………………………………………………………………………………………………………………………………….
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کرسمس کے موقع پر پیغام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے مسیحی برادری کے مذہبی تہوار کرسمس پر صوبے اور ملک کی مسیحی برادری کو مبارکباد دی ہے۔کرسمس کے حوالے سے یہاں سے جاری اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسلام واحد مذہب ہے جس نے آج سے صدیوں پہلے اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کو بھرپور تحفظ اور مذہبی آزادی کا کامل احساس اور اطمینان دیا ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ان کے حقوق کا ضامن ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دنیا میں دیرپا امن کے قیام کا پیشگی تقاضا بھی یہی ہے کہ بلا امتیاز رنگ و نسل انسانیت کی تکریم کے جذبے کو زندہ کیا جائے، طاقت کے بل بوتے پر کسی کے بھی حقوق پر ڈاکہ ڈالنا غیر انسانی فعل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں مسیحی برادری سمیت تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی اور سماجی آزادی حاصل ہے انہوں نے اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت آئندہ بھی اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرے گی۔
<><><><><><>

Attachments area


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
17193