Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحرا میں قدم___!…………..شاہ عالم علیمی

Posted on
شیئر کریں:

کسی عمر رسیدہ شخص کی طرح وہ
درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
چلتے چلتے وہ تھک چکا تھا
اسے سخت پیاس لگی تھی، لیکن
اسے پیاس میں ہی مزہ سا آرہا تھا
جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو
پسینے سے شرابور پایا
اس نے چلنا شروع کردیا
ابھی اسے صحرا کا بڑا حصہ عبور کرنا تھا
چلتے چلتے اس کی نظر ایک باز پر پڑی
جو خود اس کی طرح پیاس سے نڈھال تھا
چند قدم چلنے کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
باز اسے گھور گھور کر تک رہا تھا
اس کے قدم بھاری ہونے لگے
اس کے وجود میں لرزا طاری ہونے لگا
وہ جلدی جلدی چلنا چاہتا تھا لیکن
اس کے قدم بھاری سے بھاری ہوتے جارہے تھے
اسے سخت پیاس لگی تھی
باز کی موجودگی اور وہشت میں
وہ پیاس بھول گیا
اسے انجان خوف نے ان گھیرا تھا
کبھی مصر کے قدما بچوں کی قربان کرتے تھے
کبھی یونان کے قدیم بادشاہت میں حسین دوشیزئیں قربان کیے جاتے تھے
ان سب کو کس نے بچایا
جو بھوک افلاس سے مرے
جو موزی امراض سے مرے
ان سب کو کس نے بچایا
یہاں مشتری بادشا جب بوڑھا ہوتا ہےتو
خود اس کا بیٹا ہوو اسے ہاتھ سے پکڑ کر باہر پھینک دیتا ہے
کیا اسے کسی نے بچایا؛ ایسا اس نے سوچا اور تیز تیز چلنے لگا
او وہ خود خدا بھی تھا
پھر بھی نہ بچ پایا؛ اس نے مزید سوچا مزید تیز قدم بڑھایا
باز اسے گھور رہا تھا اور وہ قدم بڑھا رہا تھا
ایسا ہی ہوتا ہے قدرت کا نظام بدلتا ہے اور نہ ہی بدل سکتا ہے
وہ اب دور بہت دور نکل چکا تھا
تاہم باز کی تیز نظروں سے اوجھل نہیں تھا


شیئر کریں:
Posted in شعر و شاعریTagged
17195