Chitral Times

Dec 10, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلع کونسل چترال کا سال 2018-19کا بجٹ پیش کردیا گیا

    August 29, 2018 at 10:25 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈسٹرکٹ ناظم چترال مغفرت شاہ نے بدھ کے روز ضلع کونسل چترال میں سال 2018-19کا بجٹ پیش کردیا جوکہ سیلری کی مد میں 3833.071میلین روپے ، نان سیلری کے ا خراجات جاریہ کی مدمیں 166.335میلین روپے ، ضلع کونسل گرانٹ کی مد میں 14.072میلین روپے اور ضلعی اے ڈی پی کی مد میں 200.547میلین روپے پر مشتمل تھا۔ ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اپنی بجٹ تقریر میں ضلع ناظم مغفرت شاہ نے عمران خان کو وزیر اعظم اور محمود خان کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک بادپیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیاکہ وہ چترال کی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو چترال کی ترقی میں بھرپور مدد فراہم کریں گے جس کے عوام کئی بنیادی سہولیات سے محروم اور مختلف النوع مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اپنی اس عزم کا اعادہ کیاکہ چترال کی ترقی اور غربت وپسماندگی کے خاتمے کے لئے ضلع کونسل میں موجود تمام ارکان کو ساتھ لے کر آگے جانے کو تیار ہیں۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس پر بحث کا آغازکرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رحمت غازی ، پی پی پی کے غلام مصطفی ، جے یو آئی کے مولانا عبدالرحمن ، شیر محمد ، محمود الحسن مفتی، جماعت اسلامی کے مولانا جمشید احمد، مسلم لیگ (ن) کے محمد حسین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاکہ 2017ء کے اے ڈی پی بجٹ کا ایک کوارٹر بھی ریلیز نہیں ہوئی ہے جس سے ضلعی حکومت اور ممبران کونسل کو پیش آمدہ مشکل کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے بجٹ کی ریلیز میں غیر ضروری شرائط عائد کرنے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ اگر مرکزی حکومت صوبائی حکومت پر کوئی شرط عائد نہیں کرتی تو یہ شرائط آخر صوبائی حکومت کی طرف سے ضلعی حکومت پر کیوں لگائے جاتے ہیں۔ بجٹ پر بحث جمعرات کے روز جاری رہے گی ۔ ارکان کونسل نے محکمہ ہائے صحت اور پاپولیشن ویلفیر کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہاکہ دوسرے محکمہ جات پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور ناقص کارکردگی کے حامل محکموں کے نان سیلری بجٹ روک دی جائے گی جبکہ ان دونوں محکمہ جات کی کارکردگی کو مزید جانچنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ جات کے افسران کی غیر حاضری پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔

    ……………………………………………………………………………………………………………………………………………….
    ضلع ناظم کی بجٹ تقریر کا مکمل متن
    معزز حاضرین!

    مجھے خوشی ہے کہ میں آج ضلعی حکومت کاتخمینہ بجٹ برائے مالی سال 2018-19ء ؁ اس ایوان کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں ضلعی حکومت کی چوتھی بجٹ اس مغزز ایواں میں پیش کر رہا ہوں۔ چترال گزشتہ کئی سالوں سے قدرتی آفات کا شکار رہا ہے جسکی وجہ سے پورے ضلعے میں انفرااسٹرکچیر تباہ ہو چکے ہیں اور معمول کی ملی والی فنڈز سے اں نقصانات کا ازالہ ناممکن ہے اور دہشت گردی کی وجہ سے چترال میں سیاحت9/11 کے بعد بری طرح متاثر ہوا جو اس واقعے سے پہلے بہت تیزی سے ترقی کررہا تھا اور ضلعے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا تھا ایک دم سے صفر ہو گیا چونکہ دنیا کی بہت سے ممالک میں ٹورزم (سیاحت) ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ان ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اللہ پاک نے ہمارے ضلعے کو سیاحوں کیلئے جنت بنایا ہے اور ضلعی حکومت صوبائی اور مرکزی حکومت کی تعاوں سے سیاحت کو ترقی دینے کی کوشش کر رہی ہے او ر اس سلسلے میں چترال کو سی پیک کے الٹرنیٹ روٹ میں شامل کیا گیا ہے، لاوری ٹنل کے اپروچ روڈز پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس کے بعد چترال کو گلگت بلتستان سے ملایا جائے گا جس کے بعد علاقے میں سیاحت مزید ترقی کریگا۔ صوبائی اور مرکزی حکومت چترال کو قدرتی زخائر سے مالامال سنٹرل ایشئائی ممالک کے ساتھ تا جکستان کے زریعے ملانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ اس کی تعمیر سے علاقے میں معاشی انقلاب ائیگا۔اسی طرح مقامی سطح پر ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن سے سیاحت کی ترقی میں مدد ملے گی ۔ گولین میں شندور کی طرز پر سپورٹس گالہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ملک کے اندر اور باہر سے سیاح ائینگے اور سیاحت کو ترقی ملے گی۔
    ضلعی حکومت کی کو ششوں سے سال 2015 اور بعد میں تباہ شدہ 15 پلوں میں سے9 پل اور بہت سے روڈز بحال کئے جا چکے ہیں ۔ ان تمام تباہ شدہ انفرا اسٹریکچر کی بحالی کیلئے سر توڑ کوشش جاری ہے ۔صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں 1550ملین روپے Allocate کئے ہیں جو روان مالی سال کے دوران محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو جاری کئے جائینگے۔حالیہ باروشوں کی نتجے میں خراب ہونے والے روڈز مثلا یارحون۔جنجرت دروش،را ئین، ورکوپ، وارڈاپ اور پریپ روڈز بحال کئے گئے ہیں۔
    محکمہ پبلک ہیلتھ نے بہت سے پرانے واٹر سپلائے سکیموں کی بحالی کے ساتھ نئے سکیموں پر کام کرے گی ۔جس سے آبادی کے ایک بڑے حصے کو پینے کا صاف پانی ملے گا۔
    سال2015 کے سیلاب میں ریشن پاور ہاوس کے تباہ ہونے کے بعد وہ تمام علاقے اندھیرے میں رہے جن کو اس پاور ہاوس سے بجلی ملتی تھی۔ گولین پاور ہاوس کی تکمیل کے بعد ان تمام علاقوں میں روشنی ائی ہے اور سپلائے لائیں کی حستہ حالی کی وجہ ساے اپر چترال میں لوڈ شیڈینگ ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے زمہ دران سے رابطے میں ہیں اور انہوں نے خراب لائین کی درستگی کیلئے فنڈز دینے کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پورے چترال میں لوڈشیڈینگ حتم ہوگی اور جن علاقوں میں ابھی تک بجلی نہیں ہے وہاں کے آبادی بھی اس نعمت سے مستفید ہونگے۔
    ستمبر 2016 میں پی پی ایف کی تعاوں سے اسلام آباد میں ڈونر کانفرنس کے بعد چترال کے تمام Stake Holders کی مشاورت سے پانچ سالہ ترقیاتی پلان بنایا گیا تھا جس کو پی پی ایف کی تعاون سے Chitral Growth Strategy کی شکل دیکر شائع کیا جا چکا ہے جو چترال کی ترقی کے سلسلے میں ایک مستند Documentہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ڈونر کانفرنس میں 5سال کیلئے 5 ارب روپے کی فنڈنگ کا وعدہ ہوا تھا اور مزید فنڈنگ کیلئے ایک ڈونر کانفرنس اس سال ستمبرکے پہلے ہفتے میں بلانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اور رب زولجلال سے امید ہے کہ مزید ڈونر ملیں گے اور ایک5 سے10سال کیلئے Multi Sectorial پرگرام کا اغاز کیا جائیگا جو چترال کی ترقی میں اہم کردار ادا کریگا۔
    میں اس ایواں کی وساطت سے مرکزی حکومت اور دوسرے زمہ دران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنہون نے ہمارے مطالبے پر GLOF پراجیکٹ کی فیز IIکی منظوری دی جو ضلعی حکومت کی بڑی کامیابی ہے اور اسکی مدد سے ان علاقوں میں بہت سے کام ہوسکتے ہیں جنکا موسمی تبدیلی کی وجہ سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
    جنابِ کنوینیر!
    چونکہ آج کی یہ نشست ضلعی حکومت کی بجٹ کے منظوری کے سلسلے میں بلائی گئی ہے لہذا میں اپ کی اجازت سے ضلعی حکومت چترال کا بجٹ تخمینہ برا ئے مالی سال 2018-19 اس معزز ایوان کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

    چونکہ ضلعی حکومت چترال کا بجٹ سازی کے سلسلے میں وسائل کا انحصار تما م تر صوبائی حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹس پرہے اور امسال صوبائی حکومت کی طرف سے ضلعی حکومت کووسائل کے جو تخمینہ اعدادو شمارملے ہیں اُن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

    مد
    تخمینہ رقم)ملین میں)

    سیلری (تنخواہ و الاؤنسز)
    3833.071

    نان سیلری(اخراجاتِ جاریہ)
    166.365

    ڈسٹرکٹ کونسل گرانٹ (لوکل کونسل گرانٹ کا 20فی صد)
    14.062

    ضلعی سالانہ ترقیاتی فنڈ(District ADP)
    200.547

    صوبائی حکو مت کی طرف سے مختص کردہ مذکورہ تخمینہ وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال 2018-19کیلئے ضلعی حکومت نے جو بجٹ ترتیب دی ہے اب میں اسے اس ایوان کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ ضلعی حکومت چترال کے ماتحت محکمہ جات کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسز
    (Salary) کا تخمینہ بجٹ مذکور ہ مد میں صوبائی حکومت کی جانب سے مختص کردہ رقم جس کا کل حجم 3833.071ملین روپے ہے کو مد نظر رکھ کر رترتیب دیا گیا ہے اور اسی طرح اخراجاتِ جاریہ(Non Salary)کی مد میں ملنے والی تخمینہ رقم 166.365ملین کو مد نظر رکھتے ہوئے نان سیلری بجٹ ترتیب دی گئی ہے ۔جن کی تفصیل لف ہذا ہے۔ (لفِ “الف”)

    جناب والا!
    اس سال ترقیاتی فنڈز کی مد میں صوبائی حکومت نے ضلعی حکومت کیلئے 200.547ملین روپے مختص کئے ہیں۔جو کہ ترقیانی منصوبوں پر خرچ کئے جائینگے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبائی حکومت نے پچھلے مالی سال کے لئے مختص کردہ ضلعی سالانہ ترقیاتی فنڈ زجو کہ165.890ملین روپے تھاضلعی حکومت کو ریلیز نہیں کئے جس کی وجہ مالی سال 2016-17کے دوران تشاندہی شدہ و منظور شدہ ترقیاتی اسکیموں کے لئے جاری کردہ رقم کی متعلقہ عمل درآمد کنندہ اداروں کی جانب سے 60%سے کم خرچ کرنا ہے جو کہ ہمارئے لئے لمحہ فکریہ ہے اور اں اداروں کی نااہلی کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے تراقیاتی سکیمز ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہوئے بلکہ اکژ سکیم پر کام ہی شروع نہیں ہوا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے جاری شدہ فنڈز کی بر وقت استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ صوبائی حکومت کی طرف سے مختص شدہ فنڈز کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ ہواور یوں مالی سال کیلئے مختص شدہ رقم ترقیاتی منصوبوں پراسی مالی سال کے دوران خرچ ہوں اور اگلے سال اس مد میں ملنے والی رقم پر کٹوتی کے بجائے فارمولے کے تحت اضافہ ہوں۔ میں ایک بار پھر انکو تاکید کرتاہوں کہ سال 2015-16 اور سال 2016-17 کے تراقیاتی سکیمز مکمل کریں بصورت دیگر انکے حلاف تادیبی کاروائی کی جائیگی۔کیونکہ انکی خراب کارکردگی کی وجہ سے پوری چترال متاشر ہوراہا ہے اسلئے انکو اپنی قبلہ درست کرنی چاہئے اور ضلع کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
    جناب کنوینیر!
    امسال ضلع کونسل کو ملنے والی گرانٹ کا حجم 14.062ملین روپے ہیں جو کولوکل کونسلز کے لئے مختص کر دہ رقم کا 20فی صد ہے اور یہ رقم ڈسٹرکٹ کونسل کے اخراجاتِ جاریہ بشمول اعزازیہ معزز اراکینِ کونسل ، الائنسز، دوسرے مراعات اوردفتری امور کی انجام دہی کے سلسلے میں اٹھنے والے دیگر اخراجات پر خرچ کئے جائینگے۔

    جناب والا!
    چونکہ گذشتہ مالی سال2017-18 کا نظر ثانی شدہ بجٹ مقا می حکومتوں کاعام انتخابات 2018کے سلسلے میں معطل کئے جانے کی وجہ سے اس ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکا تھالہذا مذکورہ بجٹ بھی اس ایوان کے سامنے منظوری کیلئے پیش کی جاتی ہے۔ نظر ثانی شدہ بجٹ2017-18 کا خلاصہ لف ہذا ہے۔(لف “ب”)

    جناب کنوئیر صاحب !
    صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ ناظم ، ڈسٹرکٹ نائب ناظم اور AD لوکل گورنمنٹ کے لئے نئے گاڑی خریدنے کی Notification/Order جاری کئے تھے۔لیکن ADP میں فنڈز کی قلت کی وجہ سے گزشتہ سالوں میں گاڑی خریدنے کے لئے رقم مختص نہیں کیا جا سکا۔ اب چونکہ ڈسٹرکٹ ناظم کے ساتھ جو گاڑی ہے اس نے تقریبا اپنی عمر پوری کر لی ہے اور اس کی مرمت اور روڈ میں چلانے کے قابل بنانے میں مسلسل مرمت کرنی پڑھتی ہے ۔اس لئے میری تجویز ہے کہ اس سال کے ADPمیں ضلع ناظم کے لئے مناسب گاڑی خریدنے کے لئے رقم مختص کیا جائے۔

    آخر میں، میں اس معزز ایوان سے گذارش کرونگا کہ مذکورہ تخمینہ بجٹ برائے مالی سال 2018-19کو منظور کیا جائے تاکہ اس کو بروقت محکموں کو دیا جا سکے اور وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ اسکے علاوہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے عملے کو بجٹ سازی کے حوالے سے ایک ماہ کا بنیادی تنخواہ بطور اعزازیہ بھی دینے کی منظوری کی بھی سفارش کرتا ہوں۔
    اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وسلام
    ڈسٹرکٹ ناظم چترال

  • error: Content is protected !!