Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بزمِ درویش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی قربانی۔۔۔۔۔۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

    August 30, 2018 at 10:39 pm

    میں حیران پریشان پھٹی نظروں سے اپنے سامنے گو شت کے ڈھیر کو دیکھ رہا تھا ‘معا شرے کے با اثر اور بڑے آدمی کا ڈرائیور کا غذ کی چٹ پر لکھے ہو ئے ناموں کے گھروں میں جا جا کر بکرا عید کی رانیں اور گو شت کے پیکٹ بانٹتا پھر رہا تھا اِس چکر میں ڈرائیور نے میرے گھر کی ڈور بیل بجا ئی ‘ میں با ہر نکلا تو اُس نے مجھے دیکھتے ہی گاڑی کی ڈگی اٹھا ئی مجھے پا س بلا یا اور کہا سر آپ بکرے کی ران ‘ اونٹ کا گوشت ‘ گا ئے کا گو شت یا قیمہ کیا پسند کریں گے ‘ میں اِس کا روائی کے لیے بلکل بھی تیا رنہیں تھا کا ر کی ڈگی شاندار شاپروں میں اچھے طریقے سے بنا یا ہوا گو شت اور قیمہ رانوں کے ساتھ بہت قرینے سے سجا یا ہوا تھا ۔ ڈرائیور میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ گو شت کی دوکان سجا کر شہر میں گھو م رہا تھا اب میری باری پر میرے گھر آگیا تھا وہ مُجھ سے پو چھ رہا تھا جناب آپ کو کیا پیش کروں ‘ قربانی کا فلسفہ کیا ہے قربانی کے ذریعے کس طرح تقویٰ کا حصول ملتا ہے ڈرائیور اور اِس کا مالک تقویٰ اور قربانی کے فلسفے کی سرعام دھجیاں بکھیرتے پھر رہے تھے‘ ڈرائیور مُجھ سے بھی یہی توقع کر رہا تھا کہ میں بھی گو شت پر ٹوٹ پڑوں گا اپنی مر ضی کا گو شت اٹھا کر احسان مند نظروں اور شکریہ کے ساتھ گھر چلا جاؤں گا ۔ میں نے گو شت کو دیکھا ڈگی کو پکڑ کر بند کر دیا اور کہا اِس گو شت پر میرا حق نہیں ہے میرے حصے کا گو شت تم اپنے گھر یا دیگر ملا زموں میں با نٹ دینا ‘ ڈرائیور نے حیران کن نظروں سے مجھے سر سے پا ؤں تک گھو را جیسے میرے سر پر سینگ نکل آئے ہو ں جا کر گاڑی میں بیٹھا اور تیزی سے گا ڑی بھگا کر لے گیا ۔ میں حیران نظروں سے اُسے جاتا ہوا دیکھتا رہا آکر کر سی پر بیٹھ گیا لیکن میرے دما غ میں سوچ کے دریچے کھلتے چلے گئے بکرا عید ہما را اہم مذہبی فریضہ ہے لیکن دنیا بھر میں جا ری عالمگیر ما دیت پرستی کی روش اِس اہم فریضے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ما دیت پر ستی مذہب سے دور اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسان کے ظاہر و باطن کو چاٹے جا رہی ہے ‘ مادیت پر ستی تھور بن کر انسان کو کھائے جا رہی ہے قربانی جو خدا کی رضا نفس کشی اور تقویٰ کے حصول کا ذریعہ ہے ہم نے اِسے بھی دنیا پر ستی کے رنگ میں رنگ دیا ہے آپ اِس عید پر عوامی کر دار اور روئیے کو ملا حظہ فرمائیں ‘ وطن عزیز میں دولت مندوں نے اِس مذہبی فریضے کا کس طرح سر عام مذاق اڑایا ہے ‘ مہنگے اور قد آور جانور نما ئش کے لیے خریدے پھر اُن جانوروں کو گلیوں محلوں میں سجا کر دوسرے لوگوں کو اپنی امارت کا رعب دکھانے کے لیے پھرا یا تاکہ دوسرے لوگوں پر ان کی دولت کا بھر پور اثر پڑ سکے ۔ مہنگے جانور لے کر ان کی تصویریں اور ویڈیوز بنا کر اپنے دوستوں اور رشتہ دار وں کو بھیجنا‘ دوسروں کو احساس کمتری میں مبتلا کر نا‘ اپنی اما رت کے اشتہار لگا نا ‘ دوسروں کو دکھا نا کہ ہم آپ لوگوں سے زیادہ امیر ہیں ہم مہنگی قربانی افورڈ کر تے ہیں ہم دوسروں سے زیا دہ امیر اور اہم ہیں ایک دوسرے سے مقابلہ با زی میں آخری حدوں سے گزر جا نا خدا کی رضا کے حصول کے لیے نہیں بلکہ دولت کے بے پنا ہ استعمال اِس نیت سے کر نا کہ لوگوں پر دولت کا رعب پڑسکے ہر قسم کے جانور بہت زیاد ہ مقدار میں لانا پھر لوگوں کو بتا نا کہ ہم نے اتنے بڑے گائیں اور اونٹ زبح کئے ہیں ۔ قربانی کے دن اور پھر اگلے دو دن اپنے رشتہ داروں دوستوں کی پر تعیش دعوتیں کر نا معاشرے کے با اثر بندوں کو گو شت بھیجنا اِس عید پر مجھے کسی نے فون کیا جناب قربانی کے لیے آپ کونسا جانور پسند کر یں گے ‘ ہما رے پاس بہت سارے بکرے بیل اور اونٹ ہیں آپ کی خد مت میں کیا پیش کریں ‘ میں نے جب حیرانی سے پو چھا کیوں جناب تو وہ بو لے ہم ہر سال اپنے دوستوں کو قربانی کے جانور گفٹ کر تے ہیں اب چونکہ آپ بھی دوستو ں میں شامل ہیں تو حکم کریں کیا خدمت کریں ‘ سرکاری افسران دھڑے سے اُن لوگوں کو حکم جا ری کر تے ہیں جنہیں اُن سے کام ہوتا ہے کہ یہاں پر اِس بار قربانی کے جانور اچھے نہیں آئے اِس لیے اپنے شہر یا گاؤں سے تندرست صحت مند جانور قربانی کے لیے بھیج دیں پھر جب جانور آجائیں تو رسمی طور پر پو چھنا کتنے پیسے تو آگے سے پھنسے ہو ئے بندے کہتے ہیں جناب ہما ری طرف سے تحفہ قبو ل کریں ‘ تحفہ وصول کر نے والے فاتحانہ نظروں سے گھر والوں کو چسکا لے کر اپنی اس ڈکیتی کی واردات کو سنا تے ہیں یا لوگوں سے ادھا ر جانور لے کر معاشرے کے سامنے ناک اونچی رکھتے ہیں ۔ نما ئشی کلچر ہما ری ہڈیوں تک کو چاٹ چکا ہے نما ئش اور دوسروں پر رعب ڈالنے کے لیے ہم انسانیت کی آخری حدوں سے بھی گزر جا تے ہیں ‘ آپ قربانی کا دن ‘ قربانی کا گو شت اور دعوتوں کا اگر بغور مشاہدہ کریں تو آپ کو جو حقیقت واضح نظر آتی ہے وہ ہے نما ئش اور امارت کا رعب یہی وہ امیر لو گ ہیں جن کے گھروں میں قربانی کے لیے جانوروں کی قطاریں لا ئی جاتی ہیں لیکن جب اِن ڈھیروں جانوروں کے گو شت کی تقسیم کو آپ دیکھیں تو غریب مسکین جب گو شت کے حصول کے لئے اِن کے گھروں پر آتے ہیں تو سیکو رٹی گارڈ دھکے دے کر اِن غریبوں کو دور بھگا دیتے ہیں ہما رے معا شرے میں آج بھی کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو غربت کی لکیر سے بہت نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو سار ا سال امیروں کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہیںیہ لو گ بیچارے سارا سال انتظار کر تے ہیں کہ بکرا عید پر جی بھر کر یہ بھی گو شت کھا سکیں گے اور پھر عید سے پہلے ہی لاکھوں جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ شہروں کا رخ کرتے ہیں چاروں طرف ہمیں جانور ہی جانور نظر آتے ہیں تو دل میں خوش ہو تے ہیں یہ غریب لو گ کہ ہم بھی پیٹ بھر کر گو شت سے لطف اندوز ہو نگے لیکن عید کے دن یہ مسکین یتیم غریب لو گ خا لی جھو لیاں پھیلا ئے اِن امیروں کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑے ہو کر ذلیل ہو تے ہیں تو بے چارگی سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں پہلے تو گھر والے اِن کو کہتے ہیں کہ ابھی قربانی نہیں ہو ئی ابھی گو شت نہیں بنا یہ بیچارے ایک در سے دوسرے در پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں واپس جب دوبارہ سے انہی دروازوں پر آتے ہیں تو بند دروازوں کے اندر سے ہی سیکو رٹی گارڈ حقارت سے کہتے ہیں کہ گو شت ختم ہو گیا ہے آپ لیٹ آئے ہو اور اگر کسی گھر سے ملے بھی تو چند ہڈیا ں چھیچھڑے چربی کے دو چار ٹکڑے جو جانوروں کی غذا ہو تی ہے یہ نام نہاد دولت مند چند ہڈیاں اور چھیچھڑے دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے گو شت بانٹ بھی دیا ہے ہما ری بے حسی کا لیول یہ ہے کہ ایک بندہ ایک دن بڑے تفاخر سے یہ کہہ رہا تھا کہ میں نے آزمائش کے طور پر پچھلی عید کا گوشت اِس عید تک فریج میں سٹور کیا ہوا تھا یعنی لوگ ایک سال تک گو شت فریجوں میں فریز کر لیتے ہیں جیسے ہی قربانی کا گو شت گھر آتا ہے تو اُس کے حصے کر دئیے جاتے ہیں یہ فریج کے لیے یہ وی آئی پی لوگوں کو بانٹنے کے لیے یہ دعوت کے لیے ‘ ہمارا معاشرہ جو بانجھ ہو چکا ہے جو صحرا میں بدل چکا ہے وہ فلسفہ قربانی اور خدا کی رضا کو یکسر فراموش کر بیٹھا ہے تما م عبا دات کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے یہ تو ہم محبوب خدا ﷺکی امت ہو نے کا فائدہ اٹھا تے ہیں جو آقاکریم ﷺ کی درخواست پر حق تعالی نے امت محمدی ﷺ پر عذاب نہ لانے کا وعدہ کر لیا ورنہ پہلی اُمتیں ایسی ہی گمراہیوں پر خدا کے عذاب کو دعوت دیتیں تھیں لیکن اگر ہم امت محمدی ﷺ نہ ہو تے تو حضرت آدم ؑ کے بیٹوں کی طرح ہما ری بھی زیا دہ تر قربانیاں قبو لیت کی سند سے محروم رہتیں ۔ ہم جو ناک اونچی اٹھا ئے پھرتے ہیں ہما ری قربانیاں ٹھکرا کر اللہ تعالی دنیا میں ہمیں رسوا کر دیتا ۔ اگر ہم بکرا عید کے ثمرات اور ثواب کو پانا چاہتے ہیں تو یہ اُسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم معاشرے کے پسے ہو ئے طبقوں کو بھی اپنی خو شیوں میں شامل کریں ہر انسان کی یہ خواہش ہو تی ہے کہ کو ئی ایسی عبادت ادا کر دے جس کے کر نے سے خدا تعالی راضی ہو جائے اور ہم خدا کے محبوب بندوں میں شامل ہو جا ئیں اِس کے لیے ضروری ہے نما ئشی عبادت کی بجا ئے خلو صِ نیت سے خدمت خلق کے جذبے کے تحت عبادت کریں تا کہ با رگاہِ الٰہی میں قبول ہو جائے ۔

  • error: Content is protected !!