Chitral Times

Apr 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

AKRSP چترال کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔..تحریر: منظورعلی شاہ

Posted on
شیئر کریں:

چترال کے پی کے کاایک دور افتادہ ضلع ہے رقبہ کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہونے کی وجہ سے حکومتی ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے اس کے باوجود ضلع چترال صوبے کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں Literacy Rate خواندگی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ جہاں ترقیاتی کام سب سے زیادہ ہوئے ہیں جہاں بنیادی صحت کی سہولتیں بہت بہتر ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ترقیاتی کاموں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اس کا سادہ سا جواب یہی بنتا ہے کہ چترال میں NGOs خاص کر کے AKDN کے اداروں کی بدولت چترال ایک دور افتادہ ضلع ہونے کے باوجود ترقی کے میدان میں صوبے کے دوسرے اضلاع سے کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہے۔
چترال خاص کر کے اپر چترال کی ترقی AKDN کی مرہون منت ہے AKESP کی بدوت لیٹریسی ریٹ وہ بھی خواتین کی شرح خاندگی صوبے کے دوسرے اضلاع کی نسبت سب سے زیادہ ہے آج کل AKESP کوالٹی آف ایجوکیشن کے اوپر زور شور سے کام کر رہی ہے۔ AKHSP کی کارکردگی ہمیشہ مثالی رہی ہے۔ ضلع کے دور افتادہ علاقوں مثلاََ لاسپور، بروغل، ریچ، کھوت وغیرہ میں سنٹر قائم کیے ہیں جہاں بہترین بنیادی صحت کی سہولتیں فراہم کیے جا رہے ہیں۔AKDN کے دوسرے ادارے کمیونٹی کی خدمت میں ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ جہاں تک AKRSP کا تعلق ہے علاقے کی اقتصادی ترقی Economic Development معاشی ترقی اور Hydral Power پن بجلی گھروں کی تعمیر میں نمایاں کردارادا کیے ہیں آج سے کوئی 35 سال پہلے چھوٹے پن بجلی گھروں کے ذریعے علاقے کومنور کرنے کی کوشش شروع کی تھی جو ابھی بھی MHP کی صورت میں جاری ہے۔ AKRSPنے لوگوں کو تنظیمات کے ذریعے کام کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ ہزاروں کی تعداد میں دیہی تنظیمات تشکیل دئیے جو کہ علاقے کی ترقی کے لیے میر کاروان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لوگوں کو شعور دئیے ان میں خود اعتمادی پیدا کیے ، مل جول کر کام کرنے کا ہنر سکھایا۔ جن کی بدولت آج کل ہم اربن ایریا کے لوگوں سے بھی کافی سیکٹر میں آگے ہیں۔
مجھے 2011 ؁ء سے AKRSP کے ساتھ مل کر SDC کے تعاون سے 500KW کے MHP بنانے کا موقع ملا۔ مجھے AKRSP کو بہت قریب سے جانچنے کا تجربہ ہوا۔ میں کئی مرتبہ Steering Committee میں شریک رہا۔ مجھے احساس ہوا کہ Donorکو قائل کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ Donor کسی بھی NGOs کو آنکھیں بند کرکے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ ان کو قائل کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ Proposal اورReport تیار کرنا ڈونر کو Presentation دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہی AKRSP کا اعجاز ہے کہ دنیا کے نامی گرامی Donor AKRSPپر بھروسہ کرتے ہیں اور فنڈ فراہم کرتے ہیں جو کہ علاقے کی بہتری کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں مجھے کھوت کے ہمارے بھائیوں کی پریس کانفرنس اورمیرے دوست کریم اللہ صاحب کے AKRSP کے بارے میں تنقید کے نشتر اور شکایتوں کے انبار پڑھنے کا موقع ملا ۔ جسمیں انہوں AKRSP کی اعلیٰ قیادت کوتنقید کا نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ میں یہاں AKRSP کی ترجمانی نہیں کر رہا ہوں اور نہ مجھے ترجمان بننے کا کوئی شوق ہے البتہ اپنے 7 سالہ عملی تجربے کی بنیاد پر صرف اتنا عرض کر رہا ہوں کہ AKRSP جناب RPM سردار ایوب صاحب کی قیادت میں جوعظیم کام سر انجام دے رہی ہے ان کی مثال AKRSPکی تاریخ میں موجود نہیں ہے۔
علامہ اقبال ایک لیڈر کی خوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
نگاہ بلند سخن دلنواز جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کاروان کے لیے
اقبال نے لیڈر کی جو خصوصیات بیان فرائیں ہیں وہ تمام خصوصیات ہمارے محترم RPM سردارایوب اور ان کی ٹیم کے اندر موجود ہیں۔ آپ ہی کی کوششوں کی وجہ سے AKRSP آج کل میگا پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔ PPF, PEDO کے 55 سے زیادہ بجلی گھروں کی تعمیر AKRSP کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ 800KW کے ایک اور 500KW کے دو بجلی گھر تعمیر ہورچکے ہیں اورعلاقے کو بجلی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چترال کے دور افتادہ علاقے لاسپور اور پاور یارخون میںPre-paid میٹر متعارف کروائیں ہیں اور ان علاقوں میں Round the Clock بجلی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار یوٹیلٹی پاؤر کمپنی پبلک لمیٹیڈ قائم کیے ہیں جو کہ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ Section 41 (3) کمپنی Ordinance کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔
اس کے علاوہ چترال کے طول و عرض میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے میں جناب سردار ایوب اور ان کی ٹیم کی خلوص، محنت اور عزم شامل ہے۔
یہاں میں حضرت علامہ اقبال کا ایک اور شعر عرض کرتا ہوں۔
اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا۔
میں اپنے دوستوں سے سوال کرتا ہوں کہ ہم نے علاقے کی ترقی کے لیے کیا کردار ادا کیے ہیں کیا صرف AKRSP کے اوپر تنقید کرنے سے ہمارے سارے مسائل حل ہونگے ہمیں خود آگے آنا ہوگا اوراپنے بہترین صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرکے اپنے علاقے کو ترقی دینا ہوگا۔ بحیثیت تعلیم یافتہ ہمیں اپنے لیے نہیں جینا ہے بلکہ دوسروں کے لیے زندہ رہنا ہے۔ اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھیں ۔ ہمیشہ تحقیق کے بعد کئی ادارے یا شخصیات پر مثبت تنقید کریں۔ اپنا کردار ضرور ادا کریں کیونکہ علاقہ آپ کا ہے ، ادارہ آپ کا ہے ، چترال ہمارا ہے ، اس کی ترقی کا انحصار ہماری بہترین کارکردگی پر ہے نہ کہ فضول اور غیر ضروری تنقید پر ۔
آئیے ہم سب چترال کی ترقی کے لیے سوچیں۔ ادارو ں پر تنقید کرنے کی بجائے اداروں کے ساتھ تعاون کر ینگے ان کی مدد کرینگے اور جو لوگ اچھے کام کررہے ہیں ان کے ہاتھ مضبوط کرینگے ان کا احترام کرینگے۔ اور ان کی عظیم کاموں کی تعریف کرینگے۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

منظورعلی شاہ
ڈائریکٹر شندور یوٹیلٹی کمپنی پبلک لمیٹیڈ


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
10505