Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئس کریم اور کلفی کے نام پر غیر معیاری اشیاء چترال پہنچ گئے ہیں ۔ ضلعی انتظامیہ نوٹس لیں۔۔۔عوامی حلقے

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں سردیوں کی کٹھن دن ختم ہوتے ہی ڈاون ڈسٹرکٹ کے مختلف کاروباری حلقے چترال کا رخ کئے ہوئے ہیں۔ ان میں دو طبقوں سے چترال کے عوام انتہائی تکلیف اور مصائب کا شکار ہیں ۔ مختلف مکاتب فکر نے چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے داد رسی کا مطالبہ کیاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دو نمبری اشیاء خوردونوش سے چترال کے عوام پہلے سے متاثر ہے ۔ چترال کے بڑوں میں ہارٹ آٹیک اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں ضلعے میں عام ہوگئی ہیں ۔ اب آئس کریم ، چاکلیٹ اورکلفی کے نام پر غیر معیاری اشیاء چترال پہنچا دئیے گئے ہیں۔ جو بڑوں کے ساتھ بچوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ صحت سے متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چیزوں میں ایسی کمیکل شامل کیا جاتا ہے جوانتہائی مضر صحت ہیں۔ جو بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں ۔ انھوں نے ضلعی انتظامیہ سے غیر معیاری اشیاء کے نام پر معصوم بچوں کے جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھیں ضلع بدر کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔

علاقے کے عوام نے انتظامیہ سے دوسرا مطالبہ چترال بازار میں پھیلے ہوئے بھکاریوں سے چترال کو صاف کرنے کا بھی مطالبہ کیاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نیچے شہروں سے خواتین کی مختلف گروہ کئی کئی بچوں کے ساتھ چترال پہنچ گئی ہیں ۔ اور بازار کے مختلف مقامات پر ڈھیرہ ڈالنے کے ساتھ بچوں کو بازار اور محلہ وغیرہ میں پھیلادئیے ہیں۔ جن کی ماضی کا ریکارڈ چترال میں درست نہیں ۔جن میں بعض چوری اور غلط کاموں میں ملوث رہے ہیں۔ لہذا ان کو بھی آبائی علاقوں کو واپس بھیجنے کا بندوبست کیا جائے ۔


شیئر کریں: