Chitral Times

Nov 12, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • زندگی خاک نہ تھی مگر خاک اُڑاتے گزری۔۔۔۔۔ میر سیما آمان

    March 17, 2018 at 7:43 pm

    بے حسی یہ نہیں کہ کوئی آپ کے سا منے مر جا ئے اور آپ کچھ نہ کر سکیں۔بے حسی یہ کب ہے کہ آپ گھر کے کام کاج نہیں کرتے۔آپ سودا سلف نہیں لاتے،کوئی ذمہ داری نہیں اُٹھاتے،،،بے حسی تو یہ ہے کہ آپ دوسروں کی خا طر اپنی معمولات میں ذرا بھی تبد یلی گوارا نہ کر سکیں۔بے حسی تو یہ ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ اپکے اپنے لئے ہو۔بے حسی یہ ہے کہ اپ صرف اپنی ’’بوریت‘‘ کے لمحوں میں دوسروں کو وقت دینے کا ’ناٹک ‘ کریں۔بے حسی تو یہ ہے کہ اپ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کسی کے دل کو تسلی دینے کے لئے مصلحتا جھوٹ نہ بول سکیں۔۔بے حسی تو یہ ہے کہ اپ سبھی کچھ کرتے ہیں بس دوسروں کے جذبوں کا احساس نہیں کر پاتے۔۔آ ج کا انسان نہایت حساس ہے مگر محض مقابلے کے لئے ۔۔کبھی کبھار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ’’بے حس‘‘ ہونا اس حساسیت سے بہتر ہے جس نے ہمیں روبوٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔انسان چلتے پھرتے کسی مشین کا نام نہیں تھا۔۔انسان تو گوشت پوست سے بنا احساسات و جذبات کا مرکب تھا۔انسان تو وہ تھا جسے ا شرف المخلو قات کا نام دیا گیا۔جو کسی بڑے ادارے میں تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود حقوق اﷲ اور حقوق ا لعباد کا بھر پور ادراک رکھتا تھا پھر نہ جانے کو نسے سانحے ہوئے کہ اچھے بھلے انسان روبوٹ بنتے چلے گئے۔۔یہ روبوٹ اگر مرد کی صو رت میں ہے تو اسے اچھی طرح یاد ہے کہ صبح ہوتے ہی روزگار پہ جانا ہے ۔واپسی پر سوداسلف،فلاں کے گھر دعوت پہ۔کسی شام کسی کی میت پر تو کسی شام کسی کی شادی۔۔واپس گھر اور اگلے ایسے ہی ایک اور دن کی تیاری۔۔۔۔یہ روبوٹ اگر عورت کی صورت میں ہیں تو صبح ہو تے ہی ناشتہ بنانا بچوں کو سکول بھیجنا،جھو ٹے برتن ۔میلے کپڑے۔گھر کی صفائی۔ کھانا پکانا اور کھلانا۔۔۔یہ ہیں ہم اور ہماری ذندگیاں۔۔۔۔۔ کبھی کبھار میرا دل کرتا ہے میں کسی ایسے سیارے میں جاوں جہاں عورتوں کا غم ’’جھو ٹے برتن ‘‘ د ھونے کے علاوہ بھی کچھ ہو،،جہاں مردوں کے لئے روزگار ذند گی کی سب سے بڑی ڈپر یشن نہ ہوں۔جہاں ماوں کے خواب اعلی عہدے نہ ہوں ۔۔جہاں بو ڑھے والدین تنہائی کا شکار نہ ہوں ،کوئی ایسا سیارہ جہاں صرف ہم ہو اور ہمارے غریب FEELINGS۔۔جہاں کوئی اپنی خواہشات پر شرمندہ نہ ہو۔۔مگر یہ ممکن ہی کسطرح ہے ۔۔۔۔ کہنے کا مقصد مُحض اتنا ہے کہ دُ نیا بہت بڑی جگہ ہے ،اور ہم سب ایک نقطے کی مانند…نقطوں کے اس ہجوم میں ’’’نظر ‘‘‘ صرف وہی آتا ہے جو بارش میں بھی روئی ہوئی آنکھوں کی پہچان رکھتا ہو۔جو کسی کی ہنسی میں چھپی نمی کو محسوس کر سکے۔جو ایسا وجدان رکھتا ہو جو ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے غم بھی د ھونے کا ہنر جانتا ہو۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ اکسویں صدی کی اعلی تعلیمی میعار ۔مہذب اور روشن خیال معاشرہ اور با لخصوص ہماری حد سے بھری ہوئی ’’سمجھ داریوں ‘‘ نے ہمیں انسانیت سے گرا کر مشینوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ مگر ہر ممکن بحثیتِ انسان ہماری کوشش ہو نی چاہیے کہ ہم انسان بنیں ’رو بوٹ‘ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

  • error: Content is protected !!