Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائے سرُود………….”م” محبت اور مامتا ………. شہزادی کوثر

    April 26, 2019 at 3:46 pm

    قدرت کے اسرارانسانی عقل کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔وہ اپنی تخلیقات کو ایسی انفرادیت بخشتی ہے کہ عقل حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتی ہے۔ ذہنی،جسمانی،نفسیاتی، اور شعوری دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں اور مٹھاس کے ساتھ نت نئے انداز میں سامنے آتی ہے۔ ہر انسان کا انداز دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، جذباتی دنیا کی تزین وآرائش وقت اور عمر کے ساتھ نئی سے نئی کیفیت میں بدل جاتی ہے۔ بچپن میں جذبات کی نوعیت انتہائی معصوم ہوتی ہے ،جوانی میں جذبات بھونچال ذدہ ہو جاتے ہیں اور ادھیڑ عمر میں ان کی کیفیت سنجیدہ اور ٹہرے ہوئے پانی کی سی ہو جاتی ہے جس میں صرف پتھر پھینکنے سے ہی ارتعاش پیدا ہوتا ہے،جس میں مرد و عورت کی تخصیص نہیں ہوتی لیکن ماں کے روپ میں گویا جذبات کو مجسم کیا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہےجب عورت کو حقیقی خوشی اور شادمانی سے نوازا جاتا ہے۔ اُ س وقت وہ صحیح معنوں میں بڑی ذمہ داری اور مرتبے کی مستحق بن جاتی ہے۔ اگر زندگی کی تلخیوں سے اس کا دل کرچی ہوا ہو یا حالات کے بے رحم پنجوں نے اس کی خوشیاں نوچنے کی کوشش کی ہو وہ سارے غم اور برسوں کے دکھ تخلیقی لمحے کی لذت میں تحلیل ہو کر رہ جاتے ہیں ۔اسی لمحے کو پا لینے کے لیے وہ اذیت اور مصیبت اپنے سر لیتی ہے جس کا عشر عشیر بھی اگر مرد کے حصے میں آئے تو وہ حوصلہ ہار بیٹھے گا۔ اس لمحے عورت کی پوری دنیا اس کی آنکھوں میں سمٹ آتی ہے اور اس کا وجود ایسی آنکھ بن جاتا ہے جس کا مرکز و محور اسکا معصوم بچہ ہوتا ہے۔ اس کے کان وہی نغمہ سننا چاہتے ہیں جو بچے کی سانسوں میں موجود ہوتا ہے۔وہ پیار و محبت کی دیوی اپنی تمام اداسیوں کو خوشی میں لپیٹ لیتی ہے۔ اس وقت کوئی بھی پیمانہ ان کی شادمانی کو نہیں ناپ سکتا۔ انہیں پوری کائنات مسکراتی محسوس ہوتی ہے۔وقت گزرتا جاتا ہے مگر ممتا کی گرمی برقرار رہتی ہے جو بچوں پر نثار کرتی ہوئی انہیں اپنا ہوش نہیں رہتا۔ دنیا میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں جو اس محبت کو ڈیفائن کر سکے تمام زبانیں اور الفاظ ہار جاتے ہیں پوری کائنات کا علم اس محبت کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بکھر جاتا ہے جوصرف محسوس کی جا سکتی ہے بیان نہیں۔اس دوران وہ ماں اپنی ذات سے بے نیاز ہوتی ہے یا خود کو کہیں رکھ کر بھول جاتی ہے۔ ان کی مانگ کبھی ہونٹوں پر نہیں آتی وہ صرف دینا جانتی ہے انہیں لینے سے سروکار نہیں ہوتا۔ ہم انکی محبت اور ممتا کا حق ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اتنے بڑے رتبے پر فائز ہے جس کے سامنے ہم سب کنگال ہیں۔زندگی کے کتنے خوفناک حالات کا سامنا کرتی یا کڑے امتحان سے گزرتی ہے وہ کسی پے ظاہر نہیں ہونے دیتی۔ زندگی کی تیز دھوپ میں جھلستی ہے لیکن بچوں کے لیے چھتنار درخت بن کرٹھنڈی چھاوں مہیا کرتی ہے۔ انکی مثال بھیڑوں کے رکھوالے کی سی ہے جو چھاوں میں نہیں بیٹھا کرتا۔ ان کی قربانیوں کی فہرست بہت طویل ہوتی ہے، وہ صرف سلگنا جانتی ہے بھڑکنا نہیں کیونکہ ان کی سلگن ہی گھر کو بکھرنے سے بچاتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں خود پر اختیار نہیں ہوتا ممکن ہوتا تو اپنی چمڑی سے جوتے بنا کراپنے بچوں کو پہنائے ۔ان کی ہمدردی رحم اور شفقت دل سے پھوٹتی ہے۔ بچے ہی انکی کل کائنات ہوتے ہیں جن کے لیے وہ انگاروں پر بھی چلنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ اپنی محرومیوں کا ازالہ بچوں کی کامیابی میں تلاش کرتی ہے۔ ایک ہی وقت میں انہیں بہت سے عہدوں پر تائعنات کیا جاتا ہےلیکن کہیں سے بھی شکایت کا موقعہ نہیں دیتی۔ بیک وقت وہ دھوبی، ڈش واشر،کائونسلر،نرس، ڈاکٹر، ٹیچر،سوئپر،کک سب کچھ بنتی ہی مجال ہے کسی ایک طرف سے بھی کوتاہی کرے،قدرت نے انہیں ہر فن مولا بنا کر بھیجا ہے ہمیں انکو ماننا اور سراہنا ہے۔ ان کی زندگی میں حرف ” م” بڑا اہم ہے، یہی انہیں ماں کا رتبہ دیتا ہے اسی کی وجہ سے ان کی انا کے پر جھڑ جاتے ہیں جس سے ایک اور ‘م’ اس کی جگہ لیتی ہے،،،، محبت، ممتا،،ان کے بدلے میں ہمیں اپنا پیار نچھاور کرنا ہے تاکہ ہماری طرف سے اس حسن کی دیوی کے حضورحقیر سا نذرانہ ہو۔ اس ٹنشین سے بھری دنیا اور گھٹن ذدہ ماحول میں آکسیجن کا واحد ذریعہ اور ہماری جنت وہی ہیں۔ اللہ تعالی سب کی ماوں کو سلامت رکھے تا کہ زمانے کے بے رحم تھپیڑے کھا نے کے بعد دکھتے وجود کو اپنی جنت کے حوالےکر کے ہم کچھ لمحے آرام کر سکیں ۔۔۔

    اس کار گاہِ زیست میں گھبرائے جب بھی دل
    سر رکھ کے ماں کی گود میں سو جانا چاہئیے

  • error: Content is protected !!