Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائے سرُود …………درد و الم اور انسان………….شہزادی کوثر

    March 28, 2019 at 7:40 pm

    انسان بڑا عجیب مخلوق ہے ،اتنی ذہنی طاقت اسے بخشی گئی ہے کہ پیچیدہ مسائل کا حل فورا نکال لیتا ہے۔ستاروں سے بھی آگے قدم رکھنے کی جستجو میں سرگرداں ہے۔ پورا نظام شمسی اس کے قدموں کی دھول میں گم ہو جاتا ہے۔ بڑی سے بڑی بلا اور آفت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور اس سے نمٹنا بھی جانتا ہے،لیکن کبھی کبھی احساسات اور جذبات کی دنیا میں بے بس اور نا فہم بچے کی طرح روئیہ رکھتا ہے۔ کسی کو دکھ اور تکلیف میں دیکھ کر افسردہ ہو جاتا ہے،کسی کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کی تحریر اس کو وحشت ذدہ کر دیتی ہے،کسی کی آہ اور بد دعا کے بارے میں سوچ کر سہم جاتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ مجھ سے ہر کوئی خوش ہو، میں سب کے لیے کچھ کروں، میری طرف سے کسی کو دکھ نہ پہنچے۔۔۔ بعض دفعہ وہ چاہ کر بھی کسی کا برا نہیں چاہ سکتا۔ وہ اس لیے کہ انسان کی فطرت نیک ہے۔ وہ ایسی ہستی کا شاہکار ہے جو رحمان و رحیم ہے ۔اس صفت کی جھلک اس نے اپنے شاہکار میں بھی رکھی ہے، لیکن بعض دفعہ انسان اس صفت سے عاری نظر آتا ہے۔ اپنے اوپر فرضی غم اور کیفیت طاری کر کے وہ بہت سے خوشگوار لمحات سے محروم رہ جاتا ہے۔ کسی سے بات نہ کر کے خود کو اذیت دیتا ہے یا کوئی ان دیکھا غم اپنے وجود پر خود سے نازل کر کے اس بھٹی میں جلتا رہتا ہے۔ بات کچھ بھی نہیں ہوتی مگر اپنی اس خود ساختہ کیفیت کی بدولت وہ نہ صرف اپنے ساتھ برا کرتا ہے بلکہ اپنے ساتھ جڑے ہوئے لوگوں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے، ۔ یہ کیفیت نوجوان نسل میں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ خود اذیتی کی کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان کسی پریشانی کا اظہار نہ پا کر یا قوت برداشت کی کمی کی وجہ سے ایسا روئیہ اپناتا ہے۔ کچھ لوگ زیادہ توجہ چاہ رہے ہوتے ہیں جو نہ ملنے کی وجہ سے ان کا مزاج برہم ہو جاتا ہے، یا بہ یک وقت بہت سارے کام منصوبہ بندیاں اور بہت سے لوگ دماغ میں گھوم رہے ہوتے ہیں جنہیں صحیح وقت نہ دے پانے کی وجہ سے یہ کیفیت طاری ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھار انسان کی انتہا پسندی اس کی وجہ بنتی ہے، ایسے لوگوں کو ان کی اپنی صحبت خراب کرتی ہے، کیونکہ وہ دوسروں سے روٹھے رہتے ہیں۔ کاش انہیں اندازہ ہو کہ زندگی کتنی انمول اور خوبصورت ہے،ذرا سی مصروفیت یا تھوڑی سی پریشانی کی وجہ سے وہ دوسروں کی دل آزاری کا سبب بن جاتے ہیں ،ہو سکتا ہے کہ یہ حالت ان کے لیے وقتی ہو مگر دوسروں کے لیے مستقل درد سر ہے۔ زندگی نام ہے ہنس ہنس کے جیے جانے کا،، حقیقی زندگی اور تخیلاتی دنیا میں بڑا فرق ہے اس لیے تصوراتی دنیا کو ایک طرف رکھ کر ہنسی خوشی عذاب جھیلنے والے ہی زندگی کا مطلب جاننے لگتے ہیں ۔ ابن آدم کو غم والم سے استثنا حاصل نہیں جو وقتا فوقتا اس پر برستے ہوئے انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر چکنا چور کر دیتے ہیں۔ اس وقت وہ ہنگامہ برپا کرے یا نہ سنائی دینے والے سسکیوں سے فریاد کرے تقدیر پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا،اپنے نصیب کے پیچھے ڈنڈا لے کر وہ نہیں دوڑ سکتا، اپنی روح تڑپتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں سوائے صبر کے، تب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ چیزیں لازمئہ حیات ہیں ، صرف میں ہی ان کا شکار نہیں ہر کوئی پریشانی میں مبتلا ہے لیکن اظہار نہی کر پاتا۔ ایسے ہی دوسرون کے دکھوں کا احساس دل میں پیدا ہو تو انسان شکر کرنا سیکھ جاتا ہے اور بلا جواز زندگی میں تلخی گھولنے کی کوشش نہیں کرتا اور زندگی کے بارے میں خوشگوار تاثرات نہ صرف اس کے ذہن کوبدلتے ہیں بلکہ معاشرے کے لوگوں میں بھی اچھی سوچھ پیدا کرتے ہیں بقول اشفاق احمد۔۔۔ درد وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہو ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے۔

  • error: Content is protected !!