Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تعلیم ’’ڈگری‘‘کے لیے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔زاہدہ نوربین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

    January 27, 2018 at 11:03 pm

    میں ہر روز یونیورسٹی میں ہزار قسم کی لڑکیوں کو دیکھتی ہوں اور انسانوں میں موجود رنگا رنگی اور گونا گونی کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہوں کہ اﷲپاک نے انسانوں کو نہ صرف مختلف ظاہری اشکال کے ساتھ پیدا کیا ہے بلکہ ان کے طور طریقے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
    عقل تو سب کے پاس ایک جیسی ہے لیکن اس عقل کے ذریعے سے مختلف سوچنے اور کچھ کر دکھانے کی صلاحیت کم ہی لوگوں میں موجود ہوتی
    ہے۔
    پرائمری،سکینڈری، اور انٹرمیڈیٹ یہ وہ تمام مراحل ہیں جن میں سے ایک انسان گزر کر پھر یونیورسٹی لیول میں پہنچ جاتا ہے اور یہ مرحلہ انسان کے لیے بہت معنی رکھتا ہے کیونکہ اسی کو بنیاد بنا کر وہ اپنی عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے۔اور اگر اس کی یہ بنیاد ہی کمزور ہو تو وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جاہل کہلاتا ہے کیونکہ اس کی سولہ سالہ تعلیم کا کیا فائدہ جس سے وہ استفادہ نہ کر سکے۔
    بد قسمتی سے ہمارے ملک کا تعلیمی نظام خراب ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو امتحانوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے،جب بچے کلاس میں بیٹھتے ہیں تو ان کے ذہن میں بس یہی بیٹھایا جاتا ہے کہ انھوں نے کتاب کی فلاں چیزسے لیکر فلاں تک یاد کرنی ہے کیونکہ یہی چیز اسی طرح امتحان میں پوچھی جا ئے گی،افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح سے ہم نمایاں نمبروں سے پاس تو ہو جاتے ہیں مگر یہی ذہنیت آگے بھی ہمارے ساتھ رہ جاتی ہے اور یونیورسٹی لیول کہ جس میں ایک انسان اپنا مستقبل تیار کر لیتا ہے اگر اس سوچ کے ساتھ آجائے تو وہ اپنے پاؤں میں خودہی کلہاڑی مار رہا ہوتا ہے۔
    ہم میں سے ۹۰فی صد اسٹوڈنٹس تعلیم صرف ڈگری کے لیے حاصل کرتے ہیں ،ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ہمارے پاس بس ڈگری ہو اور لوگ ہمیں دیکھ کر یہ کہیں کہ فلاں یونیورسٹی جاتی ہے،ہم ہر چیز دکھاوے کے لیے ہی کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہمیں دیکھیں اور رشک کریں۔
    اگر ہم کلاس میں امتحانوں کو اپنے ذہنوں میں سوار کر کے بیٹھنے کے بجائے اس نئی سوچ کے ساتھ آئیں کہ آج ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں ،کچھ نیا دریافت کر لیتے ہیں تو ہمارے اندر ایک واضح فرق آئے گا اور یہ مثبت ہو گا۔
    پاکستان کے مشہور اینکر پرسن اور کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم’’ڈگری‘‘میں اسی موضوع کو بیان کیا ہے کہ ہر وہ طالب علم چاہے وہ گولڈ میڈلیسٹ ہی کیوں نہ ہو اگر آپ اپنی اس تعلیم سے کچھ نہیں سیکھاکہ جس کا اطلاق آپ آگے چل کرنہ سکے تو آپ کی وہ سولہ سالہ تعلیم اور فرسٹ کلاس ڈگری محض ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔
    جاوید چوہدری کا یہ کالم’’ڈگری‘‘ہر عالب علم کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثت رکھتی ہے کیونکہ اس میں موجود کہانی ہماری اپنی کہانی ہے کہ جس کا ہم کھبی بھی سامنا نہیں کرنا چاہتے اورزیادہ افسوس کی بات یہ ہے اگر آج ہم نے اس کا سامنا نہیں کیا تو کل ہم بھی جب کسی جگہ پہ انٹر ویو کے لیے جائیں گے تو ہماری بھی خدانخواستہ یہی حالت ہوگی۔
    اس مضمون کا اختتام میں جاوید چوہدری کے اپنے الفاظ کے ساتھ کروں گی اور یہ امید کرتی ہوں کہ جاوید چوہدری کا کالم’’ڈگری‘‘ جو کہ ہے تو بہت پرانا مگر ہر دور کے لیے یہ لکھا گیا ہے اس کے کالم کو پڑھنے کے بعد کم از کم ۱۰ میں سے۲میں مثبت فرق ضرور آئے گا۔

    جاوید چوہدری لکھتے ہیں:
    ’’میری شدید خواہش ہے کہ میں روز کسی نہ کسی یونیورسٹی جاؤں اور وہاں موجود طالبعلموں سے ایک سوال کروں،کیا تم کوئی ایسا ہنر جانتے ہو جو تمہیں فوری طور پر روزی دے سکے،تم جس کی مدد سے اپنا بوجھ اٹھا سکو،جس جس نوجوان کا جواب ہاں ہو اسے ڈگری دے دی جائے اور جو انکار کرئے اسے ڈگری کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے کیونکہ جو ڈگری آپ کو ہنر نہیں دیتی،وہ ڈگری کاغذ کے معمولی ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی،وہ محض وقت کا ضیاع ہوتی ہے‘‘۔

  • error: Content is protected !!