Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ” فرینڈ ریکوئسٹ” …………..میرسیما آمان

    July 17, 2019 at 12:22 am

    کچھ عرصہ پہلے جب نیا نیا موبائل کا دور آیا تو منچلوں نے یہ گیم شروع کیا کہ خود سے گیارہ ڈیجٹس کے نمبرز بنا کر ڈائل کرکے دیکھتے کہ آیا یہ نمبر کسی لڑکی کا ہے یا نہیں،،اگر شومئی قسمت کال لڑکی ریسو کرتی تو وارے نیارے جاتے لیکن اگر کال ریسیو کرنے والا کوئی مرد ہوتا تو اس نمبر کے اللہ ہی حافظ ہوجاتے۔

    یہ گیم بڑھتا گیا ،بڑھتا گیا حتی کہ خطرناک موڑ تک پہنچ گیا۔ بالاآخر ان رانگ کالز سے بننے والے تعلقات ” بلیک میلینگ سے ہوتے ہوئے طلاق کے کیسزز سے لیکر خود کُشیوں تک پہنچ گئیں۔۔یوں کہیں گھر اُجڑ گئے کہیں زندگیاں بُجھ گئیں،،دیس کی کہیں ما ئیں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دُ عا ئیں مانگنے لگیں کہ یا اللہ ” گیم اوور ” ہو جائے ، ” موبائل فونز “‘ کا بیڑا غرق ہوجائے،، یہ دُعا ا بھی شرف ِ قبولیت تک بھی نہیں پہنچی تھی کہ ” سوشل میڈیا ” نامی ایک اور طوفان اگیا،،

    اس بار اس طوفان کی زد میں آنیوالے محض ”نوجوان “” نہیں بلکہ اس طوفان نے شادی شدہ مردوں عورتوں ، بوڑھوں سے لیکر بچوں تک سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔۔اب ”’ دیس کی ما ؤں کو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ وہ جوان ہوتی اولاد کی حفاظت کریں یا سوشل ایپز میں ” غرق ” اپنے شوہروں پر نظر رکھیں۔۔۔ بحر حال سماجی رابطوں کے ذرائع میں سب سے مقبول فیس بُک نامی ویب سائٹ ہے جسمیں اکثریت محض ذیادہ سے ذیادہ ” لا ئک ” اور ”کمنٹس ” لینے کی لالچ میں پانچ ہزار تک لوگوں کو ایڈ کر لیتے ہیں،،اور انکو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ایک ہی شخص کتنے ناموں کے ساتھ انکے ساتھ ایڈ ہے۔۔

    فیس بک کی دنیا میں تھوڑا بھو نچال اُ س وقت آیا جب سندھ کی ایک آسکر ایوارڈ یافتہ خاتوں شرمین عبید نے ایک ڈاکٹر پر ہر اسمینٹ کا کیس دائر کرنے کی بات کی۔۔واقعہ میڈیا کی ذینت تب بنا جب شرمین نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس معاملے کے متعلق ٹوئٹ کیا ۔۔اس خاتوں کی شکایت پر اس ڈاکٹر کو ملازمت سے معطل بھی کیا گیا بعد میں اس کیس کا کیا بنا مجھے یا د نہیں لیکن یہ اچھی طرح سے یاد ہے کہ دو سال پہلے جب یہ واقعہ ہوا تو میرے وطن کے کم از کم ۸۰ فیصد سے ذائد لوگوں کو اس ڈاکٹر سے سخت ہمدردی ہوئی اور اُس خاتون کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔

    مسئلہ یہ تھا ہی نہیں کہ عوام ڈاکٹر سے ہمدردی کرتے یا ایک عورت کے بیان کو محض اسلئے تنقید کا نشانہ بناتے کیو نکہ وہ عورت ہے جو کہ بھر پور طریقے سے کیا گیا،، عوام کے پاس سوچنے اور سمجھنے کا پوائنٹ صرف یہ تھا کہ کیوں اور کسطرح ایک فرینڈ ریکوئسٹ جیسا معمولی قدم ” ہر یسمنٹ ” کا کیس بننے جا رہا تھا۔۔۔ کیوں// مگر افسوس اقبال کی قوم کو سوچنے کی بیماری ہی کب لگی ہے یہاں تو ازل سے بغیر سوچے سمجھے ( میری طرح )) بے تکا بولنے کا عارضہ لاحق ہے،،بحرحال کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی پروڈکٹ چاہے وہ کپڑے دھونے والی مشین ہو یا موبائل فونز یا سماجی رابطوں کے ذرائع یہ تمام چیزیں انسان کی سہولت کے لئے ایجاد کیے گئے ۔مرد اور خواتین دونوں کا حق ہے کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور گبھراہٹ کے انھیں استعمال کریں۔۔مگر افسوس کا مُقام ہے کہ ہم نے سہولت کی ہر چیز کو بالخصوص خواتین کے لئے مضر بنا رکھا ہے۔۔

    دوسری بات یہ ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو ایک تو بغیر سوچے سمجھے استعمال کرنے کے عادی ہیں دوم ہم ہر چیز کو محض تفریح کا زریعہ سمجھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔۔یہی وجہ کہ ہر ”’ ایجاد ”’ ذحمت بن چکی ہے۔۔۔ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ہر جاب کی کوئی کرائٹیریا ہوتی ہے دنیا کے کسی بھی خطے میں جا ئیں ۔موچی کو شیف نہیں بنا یا جا سکتا ۔۔ یہ ہم سب کو پتہ ہے مگر آج تک ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ بالکل اسی طرح ہر ایجاد بھی استعمال کے کچھ شرا ئط رکھتی ہے۔۔

    اب جہاں تک بات فرینڈ ریکوئسٹ سے ہریسمنٹ کے کیس کا ہے تو کم ازکم ایک شخص جب کسی کو فرینڈ ریکوئسٹ بیجھتا ہے تو اسکے ذہن میں ” مقصد ” کا واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا جس کو ہم ریکوئسٹ بھیج رہے ہیں ہم کس نیت سے بھیج رہے ہیں۔۔ آیا ہمارا مقصد نیک ہے بھی یا نہیں۔۔یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک انجان شخص آپکو ریکوئسٹ بھیجتا ہے اسکے بعد اگر کوئی ریکوئسٹ اسیپٹ کرلیں تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ میسنجر میں ہیلو ہائی شروع کر دیتے ہیں یہاں تک ذاتی ذندگیوں میں کودنا تک شروع کردیتے ہیں۔۔

    یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ اسطر ح کے لوگ اپنی عمر ، عہدہ ، شخصی وقار کسی بھی چیز کی پرواہ کئے بغیر بس دوستیاں گانٹنے میں لگے رہتے ہیں ،،مزے کی بات یہ کہ اکثر ان حضرات کے اپنے ہی دوست احباب فیک آئی ڈی بنا کر انکو بے وقوف بناتے رہتے ہیں اور پیٹھ پیچھے ان حضرات کا خوب مذاق بنا یا جاتا ہے۔۔

    بحر حال ان تمام کا مقصد محض اتنا ہے کہ فیس بک اور اس قسم کے تمام زرائع انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے ذمرے میں آتے ہیں جب ہم انھیں استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں انکے استعمال کا مقصد واضح ہونی چاہیے۔۔

    ان کا مقصد کم از کم یہ ہرگز نہیں کہ ہم دوسروں کی ذندگیوں میں بلا وجہ دخل انداذی کریں،،یا انکے ویب سائٹس سے معلومات حاصل کر کے انھیں غلط راستوں پر استعمال کریں،،،ہمارے یہاں ایک تو سشل میڈیا ” بول کے لب ازاد ہیں تیرے ” کے مصداق ہوچکا ہے جسکا بد ترین مُظاہرہ ہمیں آئے روز مختلف پیجز یا گروپس میں دیکھنے کو ملتا ہی رہتا ہے،دوم اکژیت نے ان ویب سائٹس کو محض دوسروں کی ذاتی معلومات اکھٹا کرنے اور ان معلومات کو اگے پھیلانے کا ذریعہ سمجھا ہوا ہے۔

    مختصرا یہ کہ جب بھی کبھی بغیر کسی نیک مقصد کے کسی انجان شخص کو کال کریں میسیج یا فریند ریکوئسٹ بھیجیں یا کسی بھی شخص کے بارے منفی کمنٹ کا ارادہ کریں تو براہ مہربانی ایک لمحے کے لئے یہ ضرور سوچیے گا کہ آپکا ایک غلط قدم دوسروں کی ذندگیوں میں کہیں ”’ غلط واقعات ” کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔

    اور یہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہیے کہ ہر سوشل ایپ استعمال کرنے والا مرد یا خواتین اپنی ایک ذاتی زند گی زاتی رشتے اور ذاتی تعلقات رکھتے ہیں ہمیں نہیں پتہ ہوتا کہ کون کن حالات سے گزر ر ہے ہیں، اور مرد اور عورت کسی بھی انسان کا سوشل ایپ استعمال کرنے کا مقصد خود کو ” پبلک ” کرنا ہرگز نہیں ہوتا،،لہذا دوسروں کی زندگیوں میں بے جا مُداخلت کرکے اُنھیں کوفت میں مبتلا کرکے کسی بھی قسم کی سوشل گردی کو فروغ دے کر ہم نہ صرف اپنا وقار گراتے ہیں بلکہ ان حرکتوں سے ہم ان ایجادات کو بھی معاشرے مین ایک گالی بنادیتے ہیں۔۔

    لہذا ہمیں ماننا ہوگا کہ ہر جاب کی طرح فیس بک واٹس ایپ انسٹا گرام ٹوئٹر وائبر اور اس قسم کے تمام چیزیں کچھ ” کرائٹریا “” رکھتے ہیں انھیں استعمال کرنے سے پہلے ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اس کرائٹیریا پر پورا اُترتے ہیں بھی یا نہیں ؟؟۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!