The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 30 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال یونیورسٹی کو ایک ایسا یو نیورسٹی بنایا جائے گا ۔ جہاں پڑھنے کیلئے وسطی ایشیا سے سٹوڈنٹ آئیں گے۔ غزالہ انجم ایم این اے 

چترال یونیورسٹی کو ایک ایسا یو نیورسٹی بنایا جائے گا ۔ جہاں پڑھنے کیلئے وسطی ایشیا سے سٹوڈنٹ آئیں گے۔ غزالہ انجم ایم این اے

چترال ( نمایندہ چترال ٹائمز ) ایم این اے چترال غزالہ انجم نے کہا ہے کہ چترال یونیورسٹی کو ایک ایسا ہو نیورسٹی بنایا جائے گا ۔ جہاں پڑھنے کیلئے وسطی ایشیا سے سٹوڈنٹ آئیں گے ۔ میں چترال یونیورسٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر وہ دروازہ کھٹکھٹاوں گی ۔ جہاں سے میری یونیورسٹی اور میرے طلبہ کو کچھ ملنے کی امید ہو ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز چترال یونیورسٹی میں ایک تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ، کہ پاکستان مسلم لیگ ملک کی ترقی و خوشحالی اور لوگوں کو سہولت دینے پر یقین رکھتی ہے ۔ یہ نوجوانوں کو ادھم مچانے اور انہیں ہنگاموں پر لگانے کی تعلیم نہیں دیتا ، اور حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو اپنے پاؤں کھڑا کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا سکیں ۔ اسی مقصد کے تحت وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم اور وزیر اعظم لون سکیم کے تحت نوجوانوں کو مواقع مہیا کئے گئے ہیں کہ وہ ان سے استفادہ حاصل کر سکیں اور اپنے گھر و والدین کا سہرا بننے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں ،

انہوں نے کہا  کہ محترمہ مریم نواز وزیر اعلی پنجاب نے مجھے ملاکنڈ ڈویژن کیلئے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کا کوآرڈنیٹر مقرر کیا ہے ۔ اور اسی بنیاد پر میں چترال یونیورسٹی آئی ہوں ۔ تاکہ مجھے یونیورسٹی کے مسائل سے آگاہی ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میری کوشش ہو گی ۔ کہ چترال یونیورسٹی میں زیر تعلیم تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ سکیم سے مستفید کروں ، اس سلسلے میں وزیر اعظم سے خصوصی درخواست کروں گی ۔

غزالہ انجم نے کہا ، کہ پاکستان خدا کے فضل سے بلندیوں کی طرف جا رہا ہے ۔ وہ ممالک جو پاکستان کو ایک دہشت گرد اور ڈیفالٹ سے دو چار ملک کے طور پر دیکھ رہے تھے ۔ انڈیا کے خلاف ہماری بہادر فوج کی فضائی ، سمندری اور زمینی اعلی کارکردگی کی بدولت دس گنا بڑے دشمن کو شکست فاش دینے کےبعد اب پاکستان سے تعلقات استوار کرنے کیلئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں ۔ اور پاکستان پر اعتماد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ اب تو اللہ پاک نے پاکستان کو حرم کی پاسبانی بھی سونپ دی ہے ۔ اور یہ پاکستان کیلئے فخر اور سعادت کی بات ہے ۔ اور پوری اسلامی دنیا کی نمایندگی پاکستان کو حاصل ہو چکی ہے ۔ انہوں نے چترال یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، اساتذہ کی خدمات کی تعریف کی ۔ کہ وہ شہری سہولیات سے دور چترال آکر چترال کے طلبہ کو زیور تعلیم سے بہراور کر رہے ہیں ۔

ایم این اے چترال غزالہ انجم نے بعد آزان زیر تعمیر چترال یونیورسٹی کی عمارت کا معائینہ کیا ۔ اور اطمینان کا اظہار کیا ۔ تقریب سے پروفیسر ظہور الحق دانش اور سوشل ایکٹی وسٹ عنایت اللہ اسیر نے بھی خطاب کیا ۔

chitraltimes mna ghazala anjum visit chitral university 2 chitraltimes mna ghazala anjum visit chitral university 1 ghazala

chitraltimes mna ghazala anjum visit chitral university 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
114316

چترال یونیورسٹی کے تین اسسٹنٹ پروفیسرز کی مستقل بنیادوں پر تقرری

Posted on

چترال یونیورسٹی کے تین اسسٹنٹ پروفیسرز کی مستقل بنیادوں پر تقرری

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) یونیورسٹی آف چترال کے ڈاکٹر محمد صاحب خان کو شعبہ اردو میں مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کردیا گیا ہے ۔ ان کا تعلق تورکہو اپر چترال سے ہے ، اسی طرح ڈاکٹر سید انورعلی شاہ کی شعبہ انگریزی میں مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ پروفیسر تقرری ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سید انور کا تعلق موریرموڑکہو اپر چترال سے ہے ۔ دریں اثنا ڈاکٹر سید فہدعلی شاہ کو بھی شعبہ معاشیات میں مستقیل بنیادوں پر اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کیا گیا ہے۔ان کا تعلق سید آباد لوئیر چترال سے ہے ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
75977

چترال یونیورسٹی کی بلڈنگ سید آباد میں خریدی گیی زمین پر فورا تعمیر کی جایے۔ ایون کی چھ ویلج کونسلوں کا مشترکہ مطالبہ 

چترال یونیورسٹی کی بلڈنگ سید آباد میں خریدی گیی  زمین پر فورا تعمیر کی جایے۔ ایون کی چھ ویلج کونسلوں کا مشترکہ مطالبہ

چترال ( محکم الدین ) ایون میں چھ ویلج کونسلوں کے چیرمین ، کونسلرز اور علاقائی عمائدین کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت سابق ممبر جندولہ خان ایون کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا ۔ یہ اجلاس چیرمین ویلج کونسل ایون ون وجیہ الدین اور چیرمین وی سی ایون ٹو محمد رحمن کے مشترکہ دعوت پر طلب کیا گیا تھا ۔۔ اجلاس میں شرکاء نے اس امر کا اظہار کیا ۔ کہ یونین کونسل ایون چترال بھر میں واحد آمدنی والا یونین کونسل ہے ۔ لیکن افسو س کا مقام ہے کہ اس کے ساتھ ہر حکومت میں سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیاہے۔ خصوصا سڑکوں ، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات کے حوالے سے اسے آج تک پسماندہ رکھا گیا ہے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا ۔ کہ اب حکومتی بے توجہی اور غفلت و امتیازی سلوک برداشت نہیں کی جائے گی ۔ اور ہر ممکن قربانی دےکر درپیش مسائل کے حل کیلئے جدو جہد جاری رکھی جائے گی ۔ اور عدالت سے لے کر احتجاج تک کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر تین قرار دادیں منظور کی گئیں۔ جن میں سید آباد میں چترال یونیورسٹی کی زرخرید 166 کنال زمین پربلڈنگ کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا ۔ اور اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا ۔کہ ایک طرف ملک اور خیبرپختونخوا حکومت معاشی مسائل سے دوچارہے ۔ دوسری طرف سید آباد میں یونیورسٹی کی زمین موجود ہونے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ صوبائی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اربوں روپے خرچ کرکےسین کے مقام پرزرعی زمینات خریدنےپر بضد ہے ۔ جوکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کی سازش معلوم ہوتی ہے ۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا ۔ کہ یونیورسٹی کی تعمیر سید آباد میں موجودزمین پر ہی کی جائے ۔

اجلاس میں ایون کالاش ویلیز روڈ کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ کہ روڈ کی تعمیر انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔ روڈ کی زد میں آنے والے زمینات کے مالکان کو معاوضہ دینے کیلئے فنڈ ناکافی ہے ۔ اور جو فنڈ موجود ہے ۔ اسے انتظامیہ لوگو ں کو ادا نہیں کر رہا ۔ اور سڑک پر کام کرنے والی مشینریز بھی دوسری جگہ منتقل کرنے کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں ۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا ۔ کہ زمین مالکان کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے فنڈ مہیا کرکے روڈ کی تعمیر کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے ۔ اجلاس میں ایون گرلز کالج کی تعمیر میں مسلسل تاخیر کو انتظامیہ ہائر ایجوکیشن کی غفلت لا پرواہی اور عدم دلچسپی قرار دیا گیا ۔ اور اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ فوری طور پر خرید کردہ سائٹ پر کالج کی تعمیر شروع کی جائے جو گذشتہ 7 سالوں سے رکا ہوا ہے ۔ اگر شنید کے مطابق یہ سائٹ نان فزیبل ہے ۔ تو متعلقہ انجینئر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔ اور مالک زمین سے اس زمین کا تبادلہ کرکے دوسری فزیبل زمین لے کر کالج کی تعمیر کی راہ ہموار کی جائے۔ تاکہ بچیاں تعلیمی محرومی سے بچ سکیں ۔

اجلاس میں چیرمین وی سی بمبوریت خلیل الرحمن ، چیرمین رمبور سلطان خان ، چیرمین بریر برس خان ، چیرمین گہریت عبد الحکیم ، اقلیتی کونسلر اونت بیگ ، کونسلر ابو ذر غفاری ، استاد محمد آمین ، قاری اسرار احمد ، ، صہیب عمرکے علاوہ سابق ناظم عبد المجید قریشی ، معروف کاروباری شخصیت حاجی محمد خان ، سابق ناظم رحمت الہی ، سابق ڈی او قاضی عابد ، مولانا عبد لرحمن ، سابق سپروائزر جعفر علی، سابق ڈی ایس پی محمد صابر اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

chitraltimes ayun ijlas on chitral uni

chitraltimes ayun ijlas on chitral uni 2 chitraltimes ayun ijlas on chitral uni 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
64110

چترال یونیورسٹی منصوبے پر پیشرفت کو یقینی بنایاجائے۔کمشنر ملاکنڈ

Posted on

چترال یونیورسٹی منصوبے پر پیشرفت کو یقینی بنایاجائے۔کمشنر ملاکنڈ

یونیورسٹیوں کی تعمیر میں معیار پر خصوصی توجہ دی جائے، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی

سوات (نمائندہ چترال ٹائمز) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کی زیرِ صدارت کمشنر آفس سیدو شریف میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف یونیورسٹیوں میں جاری ترقیاتی کاموں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سوات، چترال، بونیر، شانگلہ، ملاکنڈ، دیر اپر اور دیر لوئر میں قائم یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور زیر تعمیر یونیورسٹیوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز و دیگر حکام نے شرکت کی۔ متعلقہ حکام نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کو یونیورسٹیوں سے متعلق مالی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی نے ترقیاتی کاموں میں بروقت پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہاکہ تعمیراتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اراضی کے حصول میں یونیورسٹیوں کو معاونت فراہم کرے تاکہ ترقیاتی کام تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹیوں کو درپیش مشکلات کا ہر صورت حل نکالا جائے گا اور متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے چترال یونیورسٹی انتظامیہ کو خصوصی ہدایت کی کہ یونیورسٹی منصوبے پر پیشرفت یقینی بناتے ہوئے پرو جیکٹ کو بروقت مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال ضلع کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

chitraltimes commissioner malakand shaukat ali yousufzai chairing vcs meeting

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
61678

جامعہ چترال کاپہلا بجٹ اور طلبہ و طالبات کیلئے ڈریس کوڈ کی بھی منظوری

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) یونیورسٹی آف چترال کے شعبہ تعلقات عامہ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ جامعہ چترال کے سینیٹ کا پہلا اجلاس پیر 28جون کو صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم و پرو چانسلر جامعہ چترال کامران خان بنگش کی زیرِ صدارت گورنرہاءوس پشاور میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں جامعہ چترال کے پہلے بجٹ برائے مالی سال 2021-22 کی منظوری دی گئی ۔ یونیورسٹی کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے جامعہ کی اب تک کی کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور شرکاء کو بتایا کہ جامعہ کی آنلائن لرننگ منیجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) کی بدولت کروناوباء کی حالیہ لہر کے دوران طلباء کو درسی مواد اور تدریسی سہولیات بلاتعطل بہم پہنچانا ممکن ہواجسے شرکاء نے بھرپورسراہا ۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ چترال جیسے دورافتادہ علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کیلئے جامعہ کی انتظامیہ نے کیمپس تک خصوصی فائبرآپٹک لائین نصب کی ہے ۔ اس سے پہلے جامعہ کی پہلی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد کیاگیاتھا جس میں آئندہ مالی سال کیلئے مجوزہ بجٹ کے نکات پر تفصیلی بحث کے بعد سینڈیکٹ کو پیش کرنے کی سفارش کی گئی ۔

بجٹ کے علاوہ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے دس مزیدنکات پر غورو خوص کے بعدکاروائی کی سفارش کی جس میں سر فہرست جامعہ کیلئے فنانشل رولز کی تیاری کیلئے کمیٹی کی تشکیل، مختلف فیس اسٹرکچر یعنی سمسٹر فیس، امتحانی فیس، امتحانی ڈیوٹیوں کیلئے مجوزہ معاوضہ، ہاسٹل فیس، ٹرانسپورٹ فیس، مدرسیں کیلئے ورک لوڈ، جامعہ کے اندر جاری شعبوں اور تعلیمی پروگراموں کی ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری سر فہرست ہیں ۔ بعدازاں یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کا اجلاس کا انعقاد مورخہ 19جون کو پشاور میں کیا گیا ۔ جس میں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات پر غوروخو ص کے بعد منظوری دی گئی جبکہ بجٹ کی سینیٹ سے منظوری کی سفارش کی گئی ۔

مزید برآں سینڈیکیٹ نے جامعہ کیلئے سٹیچوٹس کی تیاری کیلئے کمیٹی تشکیل دی ۔ اور جامعہ کے طلبہ و طالبات کیلئے ڈریس کوڈ کی بھی منظوری دی ۔ پرو چانسلر نے مختصر وقت میں جامعہ چترال کی مستحکم بنیادوں پر تدریسی، تحقیقی اور انتظامی پیشرفت کو نہایت خوش آئند قرار دیا اور انفارمیشین ٹیکنالوجی کی مثبت استعمال کو دوسری یونیورسٹیوں کیلئے قابل تقلید قرار دیا ۔ انہوں نے جامعہ چترال کو شمالی علاقوں کی ترقی کا دروازہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں سینٹرل ایشیا اور افغانستان سے ہزاروں طلبا اس یونیورسٹی سے مستفید ہوں گے ۔

chitraltimes University of Chitral Senate meeting photo
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , ,
49683