The Voice of Chitral since 2004
Friday, 22 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال شندور روڈ کے لیے 347 ملین روپے ریلیز، ٹی ٹی آر ایف کا ریلیز فنڈ  ناکافی قرار دیتے ہوئے مذید فنڈریلیزکرنے کا مطالبہ 

چترال شندور روڈ کے لیے 347 ملین روپے ریلیز، ٹی ٹی آر ایف کا ریلیز فنڈ  ناکافی قرار دیتے ہوئے مذید فنڈریلیزکرنے کا مطالبہ

اپرچترال ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) تورکھو تریچ یوسی روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چترال شندور روڈ کے لیے جاری 347 ملین روپے نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اس میگا پراجیکٹ کے لیے ’مونگ پھلی کے دانے‘ کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے چترال شندور روڈ کے لیے پیر کو 347 ملین روپے جاری کر دیے تھے۔ٹی ٹی آر ایف نے کہا ہے کہ بار بار مطالبے کے باوجود حکومت کی جانب سے اس اہم میگا پراجیکٹ کے لیے اتنا کم فنڈز ریلیز کرنا ایک مذاق ہے۔ ٹی ٹی آر ایف نے نشاندہی کی ہے کہ ریلیز کردہ فنڈ تو ٹھیکیدار کے پہلے سے موجود لائبیلیٹیز میں ایڈجسٹ ہوں گے اور اس اہم منصوبے پر کام تو نہیں ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈلائن 2024 تھی جو کہ گزر چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت چترال میں ایک اور ’بونی بزند روڈ کی طرح کا بیمار منصوبہ پال رہی ہے جس کی اگلے 15 سال میں بھی تکمیل ممکن نہیں۔

ٹی ٹی آر ایف نے کہا کہ جس طرح مونگ پھلی کے دانوں کی طرح اس اہم منصوبے کے لیے فنڈ جاری کے جارہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ تورکھو روڈ کی طرح یہاں بھی مونگ پھلی کے دانے جتنا فنڈ ریلیز کرکے ٹھییکدار کی جھوٹی سچی لائبیلیٹیز بنائی جاتی ہے اور پھر محکمے کے افسران، وزارت کے کرتا دھرتا اور ٹھیکیدار مل کر ان فنڈز کوایسے مدات میں ایڈجسٹ کرتے ہیں اور علمی، معیاری اور بروقت کام کے بجائے مصنوعی ہل جل ہوتی ہے اور پھر حسب روایت سردیا آجاتی ہے اور کنٹریٹر بھاگ جاتے ہیں۔

ٹی ٹی آر ایف نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر مواصلات علیم خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم منصوبے کے لیے فوری اور مناسب فنڈ جاری کرکے اس پر کام کا دوبارہ آغاز کیا جائے۔

ٹی ٹی آر ایف نے یاد دہانی کی ہے کہ وزیراعظم کی شہرت ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے اور بروقت مکمل کرنے کی رہی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم چترال کے اس اہم منصوبے کے حوالے سے بھی اپنی شہرت کو برقرار رکھیں گے۔

ٹی ٹی آر ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر کان نہیں دھرا گیا اور اس منصوبے پر کام فوری شروع نہیں کیا گیا تو پورے چترال میں لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔

chitraltimes chitral booni mastuj shandur road under construction 1

chitraltimes chitral booni mastuj shandur road under construction 16

chitraltimes chitral booni mastuj shandur road under construction 15

chitraltimes chitral booni mastuj shandur road under construction 13

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged ,
97787

 چترال شندور روڈ پر چودہ دنوں کے اندر کام شروع نہ کیا گیا توارندو سے لے کر بروغل تک بھرپوراحتجاج پرمجبورہونگے۔ سی ڈی ایم پریس کانفرنس 

 چترال شندور روڈ پر چودہ دنوں کے اندر کام شروع نہ کیا گیا توارندو سے لے کر بروغل تک بھرپوراحتجاج پرمجبورہونگے۔ سی ڈی ایم پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں سڑکوں کی تعمیرو بحالی کے لئے جدوجہد کرنے والی سول سوسائٹی تنظیم چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے چیرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ نے چترال شندور روڈ پر کام کی گزشتہ کئی مہینوں سے بندش اور ٹھیکہ دار کی طرف سے روڈ مشینری چترال سے باہر منتقلی کے بارے میں وفاقی وزیر مواصلات سے باضابطہ طور پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کام کی بندش سے چترالی عوام میں سخت بے چینی اور اضطراب پھیل گئی ہے اور یہ موجودہ حکومت کے لئے انتہائی باعث شرم ہے جس سے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں کسی کو منہ دیکھانے کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں سی ڈی ایم کے سینئر رہنماؤں لیاقت علی، ساجد اللہ ایڈوکیٹ،عبدالولی خان ایڈوکیٹ، شاہ کریز، سید برہان شاہ ایڈوکیٹ، عنایت اللہ اسیر، حاجی شیر حکیم، قاضی وقار ایڈوکیٹ اور دوسروں کی معیت میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اگر ٹھیکہ دار کو ان کی مشینری سمیت چترال واپس لاکر چو دہ دنوں کے اندر اندر کام شروع کرے اور تین انتہائی خطرناک مقامات دنین، برنس اور مستوج پر سڑک اور پلوں کو دریا بردگی سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا تو حکومت پر چترالی عوام کا اعتماد بحال ہوگا ورنہ ارندو سے لے کر بروغل تک سراپا احتجاج بن جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پلاننگ کمیشن نے گرم چشمہ روڈ کے پراجیکٹ کی منظوری کو موخر کردی ہے جبکہ کالاش ویلیز روڈ میں ضلعی انتظامیہ کے پاس دستیاب دو کروڑ روپے زمین مالکان کو ادا کرکے کام شروع کرنے میں تاخیر ی حربے استعمال کئے جارہے ہیں جبکہ لواری ٹنل کے چترال سائیڈ پر اپروچ روڈ پر چار سالوں سے کام کی بندش بھی حکومت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔

انہوں نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے مقامی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت سے اس سنگین مسئلے کے بارے میں رابطہ کرکے حالات کی سنگینی کے بارے میں انہیں آگاہ کریں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سید سے اس بارے میں وضاحت چترالی عوام کے سامنے لے آئے کہ ان کے دور حکومت میں اس منصوبے کی پوزیشن کیا تھی۔ سی ڈی ایم کے رہنماؤں نے چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی سے مطالبہ کیا کہ وہ چترالی عوام کے ووٹوں کا حق ادا کرے اورعلاقے کے لئے موت وحیات کا درجہ رکھنے والی اس منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرانے کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے جس میں چترالی قوم بھی ان کے ساتھ شریک ہوگی۔ انہوں نے ضلعی لیول پر آل پارٹیز کی طرف سے حکومت کو پہلے سے دی گئی الٹی میٹم کی حمایت کرتے ہوئے سی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ان کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک ہی صورت ارندو سے بروغل تک عوام کا احتجاج پر اترکر علاقے کومطالبے کی منظوری تک مکمل پہیہ جام ہڑتال کے زریعے کاروبار زندگی کو معطل کرنا ہے اور حالات خود بخود اس طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ این ایچ اے چترال میں سڑکوں کو دریا بردگی سے بچانے میں مجرمانہ غفلت سے کام لے رہی ہے جس کا ثبوت چترال شہر میں دنین کے مقام پر دیکھا جارہا ہے جوکسی بھی وقت چترال بونی روڈ کو منقطع کرنے کا باعث بن سکتی ہے جبکہ مستوج کے مقام پر ٹرک ابیل پل بھی کسی بھی وقت دریا میں گرنے کے قریب ہے۔

chitraltimes cdm press confrence

chitraltimes cdm press confrence chitral press club

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
73996

آل پارٹیز کا ہنگامی اجلاس، چترال شندور روڈ پر کام دوبارہ شروع کرنے کیلئے دس دن کا ڈیڈ لائن  

Posted on

آل پارٹیز کا ہنگامی اجلاس، چترال شندور روڈ پر کام دوبارہ شروع کرنے کیلئے دس دن کا ڈیڈ لائن

چترال (نمایندہ چترال ٹائمز )ال پارٹیز کا ایک ہنگامی اجلاس اج چترال پریس کلب میں منعقد ہوا جس میں جے آئی,  جے یو آئی, پی پی پی، اے این پی،  مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی،  تجار یونین ڈرائیور یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقریرین نے حکومت اور این ایچ اے کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دس دن کے اندر اگر چترال بونی روڈ پر بلیک ٹاپنگ پر کام شروع نہ کیا گیا تو چترال بونی روڈ کو کام شروع ہونے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا ،

مقریرین نے کہا کہ تقریباً اسی کلومیٹر پکی سڑک کی ترکول کو اکھاڑ کر ٹھیکیدار سائٹ سے غائب ہو گیا ہے واضح رہے کہ اس روڈ کو کئ سال قبل سی اے ڈی پی نے کروڑوں روپے سے تعمیر کیا تھا اور ایک چائنیز کمپنی نے اس کا ٹھیکہ لے کر بنایا تھا اور کچھ عرصہ قبل حکومت نے اس روڈ کو این ایچ کے حوالے کرنے کے بعد اس کو دوبارہ تعمیر کرنے پر کام شروع کیا تھا اب نامعلوم وجوہات کی بنا پر ترکول اکھاڑ کر روڈ کو کھنڈر میں تبدیل کر کے ٹھیکےدار فنڈ کی عدم فراہمی کا کہ کر کام بند کیا ہے جس کے ضلع کے عوام کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر میں اب چار گھنٹے لگتا ہے مقریرین میں سابق ضلعی ناظم حاجی مغفرت شاہ جے آئی عبدلوالی خان ایڈووکیٹ مسلم لیگ ن شریف حسین پی پی قاض نسیم جے یو آئی ایم آئی خان ایڈوکیٹ اے این پی بشیر احمد تجار یونین اخلاق احمد ڈرائیور یونین وغیرہ شامل تھے

chitraltimes all parties and civil society press confrence

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
73973

چترال شندور روڈ پی ٹی آئی حکومت کا فلیک شپ منصو بہ ہے سیا سی بو نے اس بڑے منصو بے سے دور رہ کر ہی عافیت محسوس کریں گے۔عبدالطیف 

چترال شندور روڈ پی ٹی آئی حکومت کا فلیک شپ منصو بہ ہے سیا سی بو نے اس بڑے منصو بے سے دور رہ کر ہی عافیت محسوس کریں گے۔عبدالطیف

چترال ( چترال ٹایمز رپورٹ ) ایک ارب مختص رقم 17ارب روپے کی ریلیز، اس قسم کی بونگیاں صرف کریڈیٹ کی بیماری میں مبتلا وہ نا اہل لو گ لگا سکتے ہیں جو انگلی کٹا کر شہیدوں میں نا م لکھوا نا چا ہتے ہیں چار سال خواب خر گوش میں رہنے کے بعد اب اگر بول بھی پڑے ہیں تو سر پیٹنے کو جی کر تا ہے۔ چترال شندور روڈ پی ٹی آئی کی حکومت کا فلیک شپ منصو بہ ہے سیا سی بو نے اس بڑے منصو بے سے دور رہ کر ہی عافیت محسوس کریں گے۔ا ن خیا لات کا اظہار تحریک انصاف چترال کے سینئر رہنما اور قو می اسمبلی کے سابق امیدوار عبد اللطیف نے حا لیہ دنوں میں جے یو آئی کی طرف سے پھیلا ئی جا نے والی خبروں، جس میں چترال شندور روڈ کا کریڈیٹ لینے کی نا کا م کو شش کی جا رہی ہے پر تبصرہ کر تے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان نا اہل افراد کو منصو بے کی بنیا د کا ہی علم نہیں اس کے با ؤ جود غلط پرو پیگینڈہ کر کے خود کو عوام کے سامنے مزید رسوا کر نے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں کہا کہ یہ منصو بہ تحریک انصاف کی حکومت میں منظور ہو ا تھا اس وقت اس کی تعمیر کا تخمینہ 16ارب 75اکروڑ 50لا کھ روپے لگا یا گیا تھا اور اسی لا گت پر اس کو ٹینڈر کیا گیا اور کا م کا باقاعدہ آغا ز بھی کیا گیا۔ لیکن چو نکہ اس وقت تک روڈ کی تعمیر میں استعمال ہو نے والی نجی زمینات کا پی سی ون تیا ر نہیں ہوا تھا جو بعد میں تیار کر کے منصو بے کو دوبارہ نظر ثا نی کے لئے ایکنک بھجوا یا گیا جس میں زمینات کی خریداری کے لئے چار ارب 88کروڑ 90لا کھ روپے کی رقم بھی شا مل کی گئی اس طرح اس منصو بے کا کلی تخمینہ 21ارب روپے سے تجاوز کر گیا جو سات مہینوں سے ایکنک میں منظوری کے لئے پڑا رہا اب جب کہ اس پی سی ون کی منظوری دے دی گئی ہے تو اس میں صر ف زمینوں کی لا گت کا اضا فہ کیا جا چکا ہے لیکن دوسری طرف بنیا دی قواعد سے نا بلد نا م نہاد لیڈران یہ پرو پیگینڈہ کر تے ہوئے نظر آتے ہیں کہ شندور روڈ کے لئے 17ارب روپے ریلیز کر دئیے گئے ہیں۔

ان عقل پر ما تم ہی کیا جا سکتا ہے کہ جس منصو بے کے لئے ما لی سال 2022-23کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے مقا بلے میں وہ 17ارب روپے ریلیز کرنے کا ڈنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔ سیا سی بد د یا نتی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے اتنے بڑے منصو بے کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کا ایک ایسا بھونڈا طریقہ اختیار کیا گیا ہے جس سے ان کو تو شرم نہ آئے لیکن چترالی قوم شرم محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس طرح کا کوئی پروپیگینڈہ byکرنے سے پہلے امپورٹڈ حکومت کے کارندے اپنے سیا سی گورو شوباز شریف سے تھوڑی مشاورت بھی کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہو گا۔ ورنہ کوے کی چال چل کر خود کو مزید رسوا کر یں گے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
66789

ایکنک نے چترال شندور روڈ اور لواری ٹنل روڈ ٹنل اینڈ ایکسس روڈز نظرثانی پراجیکٹ کی منظوری دیدی

Posted on

ایکنک نے چترال شندور روڈ اور لواری ٹنل روڈ ٹنل اینڈ ایکسس روڈز نظرثانی پراجیکٹ کی منظوری دیدی

اسلام آباد ( نمایندہ چترال ٹایمز ) ایگزیکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) نے چترال – بونی – مستوج – شندور روڈ (153 کلومیٹر) کی بہتری اور چوڑائی سے متعلق وزارت مواصلات کے اس منصوبے پر تبادلہ خیال کیا اور اس کی منظوری دیدی جس کی لاگت 17,783.193 ملین ہے یہ منصوبہ 36 ماہ میں مکمل ہوگا۔ نظرثانی شدہ منصوبے میں چترال شہر سے شروع ہونے والے 153 کلومیٹر طویل 2-لین سنگل کیریج وے کی تعمیرجو بونی اور مستوج کے قصبوں سے گزر کر خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحد پر شندور کے قریب ختم ہوگا۔ ECNEC نے نظرثانی شدہ لواری روڈ ٹنل اینڈ ایکسس روڈز پراجیکٹ کی کل تخمینہ لاگت کی منظوری بھی دی۔ جو 27,960.48 ملین روپے کے FEC کے ساتھ۔ 4,273.970 ملین لواری ٹنل نیشنل ہائی وے N-45 کا حصہ ہے۔ یہ نوشہرہ سے نکلتا ہے، مردان، مالاکنڈ، چکدرہ سے ہوتا ہوا چترال پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ دیر اور چترال کے اضلاع کو ملانے والے دیر اور دروش کے درمیان واقع ہے۔ یہ منصوبہ 8.5 کلومیٹر اور 1,9 کلومیٹر لمبائی کی دو سرنگوں پر مشتمل ہے، ٹنل کمپلیکس میں 04 پل، دو پورٹلز اور پلوں کے ساتھ لنک رسائی سڑکیں شامل ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
66701

چترال شندور روڈ اور چترال کالاش ویلی روڈ پر تعمیراتی کام اگر دوبارہ بند ہوا تو اسکے خلاف زبردست احتجاج کریں گے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ 

چترال شندور روڈ اور چترال کالاش ویلی روڈ پر تعمیراتی کام اگر دوبارہ بند ہوا تو اسکے خلاف زبردست احتجاج کریں گے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)چترال کے مختلف مکاتب فکر نے اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہارکیا ہے کہ ایک ٹیم چترال کالاش ویلی اور چترال شندورروڈ کی انکوائری کیلئے چترال آرہی ہے، ان سڑکوں کی انکوائری کے حوالے سے مختلف خبریں چترال میں گردشی کررہی ہیں کہ نیب یا دوسرے ادارے کی  ٹیم کی انکوائری کی صورت میں تعمیراتی کام انکوائری مکمل ہونے تک روک د یا جائیگا۔ جوکہ علاقے کیلئے کسی صورت نیک شگون نہیں ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی بونی مستوج روڈ اور بونی تورکہو روڈ پر انکوائری کی آڑ میں کئی برسوں تک تعمیراتی کام بند رہی۔ اور علاقے کے عوام کو انتہائی کوفت اور اذیت سے گزرنا پڑا۔

waqas ahmad
چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے چیئرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے معیار اور مقدار کو جانچنے کیلئے متعلقہ ادارہ اور کنسلٹنٹ کے علاوہ ضلعی انتظامیہ موجود ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کام کی کوالٹی کیلئے طریقہ کار وضع کرے۔ اور ٹھیکہ دار سے معیار کے مطابق کام لے۔ تاکہ  سیاحتی اور دفاعی لحاظ سے اہمیت کے حامل یہ سڑکیں معیارکے مطابق تعمیر ہو۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا کہ نیب یا کسی دوسرے ادارے کی ٹیم اگر انکوائری کیلئے چترال آجاتی ہے تو وہ چترال اور چترال کے عوام کی حق میں بالکل بھی نہیں ہے انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مبینہ طور پر ان سڑکوں کی تعمیر کیلئے فنڈز نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ تعمیراتی کام بند کروانے کیلئے حکومت مختلف بہانہ ڈھونڈ رہی ہے۔جس کے خلاف ہم پرزور مذاحمت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے تورکہو روڈ پرانکوائری کی وجہ سے چھ سال کام بند ہوا، اور مستوج روڈ پر بھی دو دہائی تک کا م نہیں ہوا۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے حکومت اور نیب کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انکوائری کے بہانے چترال کی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈالا جائے۔ اگر حکومت اور نیب یا کویی دوسرا ادارہ  بہ ضد رہی تو ان کے خلاف چترال میں زبردست احتجاج کیا جائیگا۔جبکہ عوام میں انتہایی اشتعال پایا جاتا ہے۔اس صورت حال میں عوامی احتجاجی کو روکنا انتظامیہ کیلیے ممکن نہیں رہےگی۔

یادرہے کہ جنرل پرویز مشرف نے شندور کے مقام پر بونی مستوج روڈ اور مستوج پل کیلیے فنڈز منظور کیے تھے اوربونی مستوج روڈ پر کام شروع ہوا تھا اور اس وقت 48کروڑ روپے اس کیلیے ریلیز بھی ہوچکے تھے اور بعد میں شہزادہ محی الدین کی درخواست پر صدر آصف علی زرداری نے بونی تورکہو روڈ کیلیے فنڈز منظور کیے تھے۔ مگر بدقسمتی سے دونوں سڑکوں پر کرپشن کے الزام میں ادارہ اور ٹھیکہ داروں کو مختلف انکوایریز کا سامنا کرنا پڑا،اور کئی برسوں تک انکوائری میں رہے ، ترقیاتی کام بند ہوگئے۔ پرواک کے مقام پر پہنچائے گئے ترکول وہیں پہ چوری یا خراب ہوگئے ، اخرکار سابق ایم این اے شہزادہ افتخار نے ڈھائی سال جدوجہد کرکے وہ انکوائری ختم کرائے تب جاکے ان منصوبوں کیلئے دوبارہ فنڈز منظور ہوئے۔ اب چونکہ موجودہ سڑکوں کواور بھی کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے اس صورتحال میں اگر کام بند ہوا تو عوام انتہایی مصایب کا شکار ہوگی۔ صرف متعلقہ ادارہ اور ٹھیکہ دار کو فائدہ ہوگا جس طرح پہلی انکوائری کے بعد عدالت کے زریعے ٹھیکہ دار وں نے اپنے منافع سمیت تمام بقایا جات وصول کیے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
66182

چترال شندور روڈ پر ہرچین اور شاہی داس نالہ میں شدید طغیانی اور سیلابی صورت حال ، ہزاروں مسافر پھنس گیے ، ایک گاڑی دریا برد 

Posted on

چترال شندور روڈ پر ہرچین اور شاہی داس نالہ میں شدید طغیانی اور سیلابی صورت حال ، ہزاروں مسافر پھنس گیے ، ایک گاڑی دریا برد

اپر چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) شندور فیسٹول سے واپس آنے والے ہزاروں مسافر ہرچین اور شاہی داس کے مقام پر نالہ میں شدید سیلابی صورت حال کے پیش نظر پھنس گیے ہیں ، ان مسافروں میں بچے اور خواتین بھی شامل ، ایک گاڑی سیلابی ملبے تلے دب گیی۔ تاہم کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ۔

شندور روڈ پر شاہی داس اور ہرچین لشٹ نالہ میں شدید طغیانی اور سیلابی صورت حال کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیوں میں ہزاروں مسافر پھنسے ہویے ہیں۔ ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گی ہے  ، عینی شاہدین کے مطابق این ایچ اے کی غفلت کی وجہ سے لوگ انتہایی مصایب کا شکار ہیں۔ شندور فیسٹول سے واپس انے والے افراد کا کہنا ہے کہ دن کے وقت اگر ہیوی مشینری سے کام لیا جاتا تو یہ نوبت نہ اتی ، اب شام کے وقت پانی کی بہاو میں مذید اضافہ ہوگیا ہے ۔ جبکہ نزدیکی ہوٹل یا رہایش کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے رات بھر مسافروں کو جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں کھلے اسمان تلے رات گزارنا پڑے گا۔ انھوں نے صوبایی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

chitraltimes vehicle drown into rive at shanur road

chitraltimes chitral shandur road blocked at shahidas and herchin nala 2 chitraltimes chitral shandur road blocked at shahidas and herchin nala 4 chitraltimes chitral shandur road blocked at shahidas and herchin nala 5 chitraltimes chitral shandur road blocked at shahidas and herchin nala 6 chitraltimes chitral shandur road blocked at shahidas and herchin nala 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
63152