چترال شندور روڈ کے لیے 347 ملین روپے ریلیز، ٹی ٹی آر ایف کا ریلیز فنڈ ناکافی قرار دیتے ہوئے مذید فنڈریلیزکرنے کا مطالبہ
چترال شندور روڈ کے لیے 347 ملین روپے ریلیز، ٹی ٹی آر ایف کا ریلیز فنڈ ناکافی قرار دیتے ہوئے مذید فنڈریلیزکرنے کا مطالبہ
اپرچترال ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) تورکھو تریچ یوسی روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چترال شندور روڈ کے لیے جاری 347 ملین روپے نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اس میگا پراجیکٹ کے لیے ’مونگ پھلی کے دانے‘ کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے چترال شندور روڈ کے لیے پیر کو 347 ملین روپے جاری کر دیے تھے۔ٹی ٹی آر ایف نے کہا ہے کہ بار بار مطالبے کے باوجود حکومت کی جانب سے اس اہم میگا پراجیکٹ کے لیے اتنا کم فنڈز ریلیز کرنا ایک مذاق ہے۔ ٹی ٹی آر ایف نے نشاندہی کی ہے کہ ریلیز کردہ فنڈ تو ٹھیکیدار کے پہلے سے موجود لائبیلیٹیز میں ایڈجسٹ ہوں گے اور اس اہم منصوبے پر کام تو نہیں ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈلائن 2024 تھی جو کہ گزر چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت چترال میں ایک اور ’بونی بزند روڈ کی طرح کا بیمار منصوبہ پال رہی ہے جس کی اگلے 15 سال میں بھی تکمیل ممکن نہیں۔
ٹی ٹی آر ایف نے کہا کہ جس طرح مونگ پھلی کے دانوں کی طرح اس اہم منصوبے کے لیے فنڈ جاری کے جارہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ تورکھو روڈ کی طرح یہاں بھی مونگ پھلی کے دانے جتنا فنڈ ریلیز کرکے ٹھییکدار کی جھوٹی سچی لائبیلیٹیز بنائی جاتی ہے اور پھر محکمے کے افسران، وزارت کے کرتا دھرتا اور ٹھیکیدار مل کر ان فنڈز کوایسے مدات میں ایڈجسٹ کرتے ہیں اور علمی، معیاری اور بروقت کام کے بجائے مصنوعی ہل جل ہوتی ہے اور پھر حسب روایت سردیا آجاتی ہے اور کنٹریٹر بھاگ جاتے ہیں۔
ٹی ٹی آر ایف نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر مواصلات علیم خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم منصوبے کے لیے فوری اور مناسب فنڈ جاری کرکے اس پر کام کا دوبارہ آغاز کیا جائے۔
ٹی ٹی آر ایف نے یاد دہانی کی ہے کہ وزیراعظم کی شہرت ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے اور بروقت مکمل کرنے کی رہی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم چترال کے اس اہم منصوبے کے حوالے سے بھی اپنی شہرت کو برقرار رکھیں گے۔
ٹی ٹی آر ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر کان نہیں دھرا گیا اور اس منصوبے پر کام فوری شروع نہیں کیا گیا تو پورے چترال میں لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔










