The Voice of Chitral since 2004
Friday, 17 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے آخری دنوں بھرتی کئے گئے افراد کو فارغ کیا جائے- جاوید اختر رکن  صوبائی کونسل پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا

Posted on

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے آخری دنوں بھرتی کئے گئے افراد کو فارغ کیا جائے- جاوید اختر رکن  صوبائی کونسل پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا

چترال (چترال ٹایمز رپورٹ )پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی کونسل کے رکن جاوید اختر نے نگران صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کے آخری دنوں میں مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بھرتی کئے گئے افراد کو فارغ کیا جائے اور اس عمل کی شفاف انکوائر ی کیا جائے۔ ایک اخباری بیان میں جاوید اختر نے کہا کہ انصاف کے دعویداروں نے بھرتی کے اس عمل کے ذریعے سیاسی بنیادوں پر اپنے منظور نظر افراد کو من پسند آسامیوں پر تعینات کیا ہے جو کہ انصاف کے نام پر بد نما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی بیوروکریسی نے حکمران جماعت کا ساتھ دیکر حقداروں کا حق مارتے ہوئے من پسند افراد کی تعیناتی کے لئے راہ ہموار کی اور بدعنوانی کا اتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنددنوں میں سینکڑوں ملازمین کی بھرتی کا عمل بدعنوانی اور منظور نظر افراد کو نوازنے کی طرف واضح اشارہ دیتی ہے جوکہ سابقہ حکومت کے دور میں ہوئی ہے، اس عمل سے جہاں حقداروں کا حق مارا گیا وہیں سیاسی مفاد کے حصول کیلئے کوششیں کی گئی ہیں جوکہ غیر قانونی ہے۔

جاوید اختر نے کہا کہ عمران خان نے جب فوری اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات کی تو خیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت کے کلیدی ذمہ داروں کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے عمران خان سے چند دنوں کی مہلت لی، اس مہلت کا مقصد خزانے کو صاف کرنا اور منظور نظر افراد کو من پسند آسامیوں پر تعینات کرنا تھا جس میں سابقہ صوبائی حکومت کامیاب ہوگئی۔ انہوں نے صوبائی گورنر غلام علی، نگران وزیر اعلیٰ اعظم سمیت الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح تحریک انصاف کے من پسند بیوروکریٹس کو تبدیل کیا گیا ہے اسی طرح سابقہ حکومت کے آخری ایام میں سینکڑوں کی تعداد میں بھرتی کئے گئے افراد کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے اور اس سارے عمل کی انکوائری کرکے ملوث افراد کو سزا دیجائے، اس عمل میں بدعنوانی کو واضح کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ چند دنوں میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد کو بھرتی کیا گیا۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
73124

پی ٹی آئی حکومت میں آکر اپنے مطابق نیب قانون بنالے، سپریم کورٹ

پی ٹی آئی حکومت میں آکر اپنے مطابق نیب قانون بنالے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)نیب ترامیم کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت آئے تو وہ اپنے مطابق نیب قانون بنا لے۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پرسماعت چیف جسٹس پاکستان کی زیرسربراہی 3 رکنی اسپیشل بینچ نے کی۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے اقوام متحدہ،یورپی یونین اور افریقی یونین کے انسداد کرپشن کنونشن کے حوالے دیے گئے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق کرپشن کے حوالے سے کچھ بینچ مارک ہیں، جنہیں برقرار رکھنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے کسی نے بتایاکہ ابھی یو اے ای بھی منی لانڈرنگ کے کمزور قوانین کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہے۔اپ کیس میں بنیادی حقوق پر بات کریں۔ وکیل نے کہا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ فیئر ٹرائل اور اور برابری کا حق بھی، ان ترامیم سے پہلے چیئرمین نیب کے پاس اختیا ر تھا کہ کسی کی بھی بینک کی تفصیلا ت طلب کر سکتے تھے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عوامی پیسے کے غلط استعمال سے بھی عوام کا اعتماد خراب ہوتا ہے۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آپ کی باتیں پارلیمنٹ کے لیے اچھی تقریر ہے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تو کوئی سننے کو تیار نہیں۔ انہیں جو کرنا ہے وہ کرنا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے جواب دیا کہ بات سننے کے لیے پارلیمنٹ میں ہونا بھی چاہیے۔اگر آپ انتخابات جیتتے ہیں تو اپنی ترامیم لائیں۔وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا ہر ملک کرپشن قوانین اور سزاوں کو سخت کرنے کا کہہ رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث صاحب کا خیال ہے جو چھوٹ گئے، ان کو پکڑنا مشکل ہوگا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ ان کو پھر سے پکڑ لینا۔ہر سیاسی جماعت کی جب اپنی حکومت آتی ہے تو وہ قوانین بناتی ہے۔ اگر نیب قوانین پسند نہیں تو تحریک انصاف کی حکومت آئے تو وہ اپنی خواہش کے مطابق قانون بنا لے۔چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ ایک جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قانون نے بتا یا کہ ہمارے کسی دوسرے قانون میں پارلیمنٹ میں تو بحث نہیں ہوئی لیکن کمیٹی جس پر سارے موجود تھے، وہاں کافی بحث ہوئی ہے، لہذا اگر نیب ترامیم میں بھی کوئی بحث ہوئی ہے تو اس کمیٹی کی تفصیلات فراہم کردیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ سوئس اکاؤنٹس کیس میں کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا۔ نیب ریفرنسز میں بھی اصلی دستاویزات نہ ہونے سے ملزمان بری ہوئے اور نیب نے کہہ دیا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر 31 اے ختم نہ ہوتا تو اسحاق ڈار واپس نہیں آسکتے تھے۔ ایسی ترامیم فائدے کے لیے کی جاتی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا بطور قوم ہم یہ سب افورڈ کرتے ہیں۔ روز بریت کے لیے درخواستیں آرہی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو عوام اس کو ووٹ نہیں دیں گے۔ کیا عدالت پارلیمنٹ کو ترامیم لانے سے روک دے؟۔خواجہ حارث نے کہا کہ پورا نظام مفلوج کیا جا رہا ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جتنا آپ دلائل دیں گے، ہم میچ سے دْور ہوتے جائیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ترامیم ختم ہونے سے کیا عدالتوں کے احکامات ختم ہو جائیں گے؟، جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ قوانین کو بحال بھی کرسکتی ہے۔ ان قوانین کے ذریعے تو کہہ دیا گیا کہ اگر سرکار کا پیسہ نہ ہو تو کرپشن نہیں گئی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

حقیقی آزادی مارچ کل سے دوبارہ شروع ہوگا: فواد چوہدری

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا حقیقی آزادی مارچ کل سے دوبارہ شروع ہوگا، عمران خان تیسرے ہفتے میں لاکھوں لوگوں کے ساتھ راولپنڈی میں ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ تحریک انصاف کا حقیقی آزادی مارچ کل سے دوبارہ شروع ہوگا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں آج گوجرانوالہ اور لاہور ڈویڑن کے ذمہ داران کی میٹنگ ہوگی جس کے بعد سینیئر لیڈر شپ کا اجلاس ہوگا۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی پہنچنے کی تاریخ میں اب کوئی توسیع نہیں، عمران خان تیسرے ہفتے میں لاکھوں لوگوں کے ساتھ راولپنڈی میں ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67843

قیام پاکستان سے لیکرابتک کسی نے ماحول پر توجہ دی ہے،تووہ پی ٹی آئی حکومت ہے۔وزیرزادہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) محکمہ جنگلات کی طرف سے مون سون سیزن کی شجرکاری مہم کی تقریب چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ، ایف پی سی سی آئی خیبر پختونخوا کے کوارڈینیٹر سرتاج احمد خان، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عبداللطیف اور محکمے کے افسران موجود تھے۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر زادہ نے کہاکہ ایک وقت تھاکہ منتخب نمائندے آپس میں مل کر جنگلات کو کاٹ کھاجانے کی منصوبہ بندی کرتے تھے اور وزیر اعظم عمران خان کی وژن کے مطابق نیا پاکستان میں ایک وقت وہ آگیا ہے کہ ہر طرف جنگلات کو بچانے اور نئے درخت لگانے کی فکر اور منصوبے بن رہے ہیں اورٹین بلین ٹری سونامی جیسے عظیم اور تاریخی منصوبے کو دنیا کے سامنے بطور ماڈل پیش کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماحول اور درختوں کی طرف اگر کسی نے قیام پاکستان سے لے کر اب توجہ دی ہے، تووہ پی ٹی آئی حکومت ہے۔

سرتاج احمد خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ آنے والے دورمیں وہی قومیں کامیاب ہوں گے اور اپنی بقا برقرار رکھ سکیں گے جن کے پاس جنگلات کی دولت موجود ہو اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اس بنیادی اہمیت کو نہ صرف محسوس کی ہے بلکہ اس پر عملی اور جنگی بنیادوں پر اقدامات ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ چترال میں جنگلات کو بچانے کی سخت ضرورت ہے جوکہ ملکی کی آبائی وسائل کا 27فیصد پورا کرتا ہے اور یہاں ماحول میں بگاڑ آنے پر ملک کو ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ جنگلات ہی گلیشیروں کی سب سے بڑی محافظ ہیں۔ ڈی ایف او فارسٹ ڈویژن چترال نے بھی جنگلات کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہاکہ ٹیوب والے پودے سال بارہ مہینے کامیابی سے بار آور ہوسکتے ہیں۔ اس موقع پر مہمانان نے ہوٹل کے سبزہ زار میں ایک ایک پودا لگاکر مہم کا باقاعدہ آعاز کردیا۔

chitraltimes plantation chitral wazir zada1
chitraltimes plantation chitral sartaj
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
50929

پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے غریبوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔سلیم خان

پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے غریبوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔سلیم خان

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) سابق صوبائی وزیر اور پی پی پی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن سلیم خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری میں خوفناک اضافہ ہوا ہے جس سے غریبوں کے لئے جینا بھی مشکل ہوگیا ہے جبکہ چترال کے دونوں اضلاع اس دور حکومت میں ترقی کے دور میں مزید پیچھے چلے گئے اور پی ٹی آئی کی آٹھ سالہ صوبائی حکومت نے ضلع میں میگاپراجیکٹ لانا تو دور کی بات،یہاں پر جاری ترقیاتی کام بھی رول بیک کردئیے جن میں گرم چشمہ اور بمبوریت روڈ شامل ہیں۔

پارٹی کے مقامی رہنماؤں انجینئر فضل ربی جان، عالم زیب ایڈوکیٹ، قاضی فیصل، محمد حکیم ایڈوکیٹ، شریف حسین, ابولائس رامداسی، عبدالرزاق براموش، بشیر احمد اور دوسروں کی معیت میں چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چترال کو درپیش مسائل بیان کرتے ہوئے سی پیک روٹ سے چترال کو خارج کرنے، اہم روڈ منصوبوں کو ختم کرنے اور لواری ٹنل کی چترال سائیڈ پر اپروچ روڈ پر کام کی بندش سمیت دوسرے مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ سابق صدر آصف زرداری نے چکدرہ چترال گلگت روڈ کو سی پیک منصوبے میں شامل کروایا تھاجس سے اس علاقے کی ترقی کا مستقبل وابستہ تھالیکن عمران حکومت نے اس عظیم منصوبے سے چترال کو محروم کرکے چترال شندور روڈ کا لولی پاپ دے دیا ہے جوکہ قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہاکہ گرم چشمہ اور بمبوریت روڈ کے ٹینڈر بھی گزشتہ دور حکومت میں ہوچکے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے ان منصوبوں کو سرد خانے کی نذر کرکے چترال دشمنی کی حد عبور کردی۔ سلیم خان نے کہاکہ ایک طرف حکومت سیاحت کو ترقی دینے کی بات کرتے ہوئے نہیں تھکتی تو دوسری طرف سیاحتی اہمیت کے حامل وادیوں میں سڑکوں اور چترال شہر میں واقع سڑکوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جس سے یہاں آنے والے سیاح مایوس ہوکر واپس جاتے ہیں۔ سلیم خان نے یونیورسٹی آف چترال کے لئے زمین کی خریداری میں حکومت کی ناکامی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بلند بانگ دعوے کرنے والے آٹھ سالوں میں ایک انچ زمین بھی خریدنے میں ناکام ہوئے اور اس بار بھی حکومت نے اربوں روپے منظوری کی سبز باغ چترالی عوام کو دیکھا دی ہے جوکہ گزشتہ سالوں کی طرح یہ بھی محض اعلان ثابت ہوں گے۔

پی پی پی کے رہنمانے کہاکہ لینڈ سیٹلمنٹ پر ان کی پارٹی کا موقف واضح ہے کہ اس میں مختلف علاقوں کے چراگاہوں،بنجر زمینات، ریور بیڈ اورجنگلات کو ان علاقوں کے عوام کے نام پر درج کیا جائے اور موجودہ حالت میں لینڈ سیٹلمنٹ چترال کے عوام کو ہر گز منظور نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے چترال میں معدنیات کو ایک امریکن کمپنی کو غیر قانونی پر لیز پر دے دی ہے جبکہ اس پر پابندی عائد تھی اور اس کمپنی کا مالک پی ٹی آئی کو الیکشن مہم میں بھاری بھاری چندہ دہندہ ہے جوکہ اس وقت بھی آزاد کشمیر میں الیکشن کے لئے پی ٹی آئی کی فنانسنگ کررہا ہے۔

سلیم خان نے گولین گول ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ سے چترال کے لئے رائیلٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس بجلی گھر سے صوبائی حکومت کو ملنے والی رائلٹی کا 5فیصد پر چترال کا حق ہے جس کا حساب چترالی عوام کو پیش کیا جائے۔ انہوں نے چترال کے ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی اور ایم پی اے مولانا ہدا یت الرحمن کا نام لئے بغیر کہاکہ وہ ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں اپنے علاقوں بروز اور نوگرام تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ وہ پوری چترال کے منتخب نمائندے ہیں اور انہیں اس امتیازی سلوک کو ترک کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پی پی پی لیڈر فریال تالپور نے چترال میں صرف ماربل کی 2500مربع کلومیٹر پر محیط رقبے کی لیز لے رکھی ہے جبکہ دوسرے معدنیات کی لیز میں وہ ہرگز ملوث نہیں ہے۔

chitraltimes ppp saleem khan addressing press confrence
chitraltimes ppp saleem khan addressing press confrence1
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
50340