The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 6 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے،عوام کا جینا محال ہو چکا ہے مگر امپورٹڈ حکمران اپنی لوٹ مار اور شاہ خرچیوں میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ

مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے،عوام کا جینا محال ہو چکا ہے مگر امپورٹڈ حکمران اپنی لوٹ مار اور شاہ خرچیوں میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل نام نہاد سیاسی رہنماﺅں کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے اور وہ عوام میں اپنی حیثیت مکمل طو رپر کھو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم ٹولہ عام انتخابات کے انعقاد سے خوفزدہ ہے ۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکمران مہنگائی کے نام پر ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کے خلاف سازش رچا کر اقتدار میں آئے مگر اب اُنہیں مہنگائی نظر نہیں آرہی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور عوام کا جینا محال ہو چکا ہے مگر امپورٹڈ حکمران اپنی لوٹ مار اور شاہ خرچیوں میں مصروف ہیں۔وزیراعلیٰ نے حیرت کا اظہار کیا کہ پی ڈی ایم کابینہ میں شامل سیاستدانوں کی اکثریت ہر وقت مہنگائی کے نام پر سراپا احتجاج رہتی تھی مگر آج یہ خاموش کیوں ہیں ۔ان لوگوں کا بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا ہے ۔ اگر یہ اپنے بیانیے پر قائم ہیں تو اُنہیں فوری طورپر مستعفی ہوجانا چاہیئے اور قوم سے معافی مانگنی چاہیئے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو عوام کے مسائل سے کبھی کو ئی سروکار رہا ہی نہیں ۔ یہ کل بھی اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے کھڑے تھے اور آج بھی اپنی لوٹی ہوئی دولت کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے اپنی کرپشن چھپانے اور مزید لوٹ مار کا راستہ ہموار کرنے کیلئے قومی اداروں کی ساکھ کو بھی داﺅ پر لگا دیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ امپورٹڈ حکمران جھوٹے بیانیے کے سہارے زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے اور وہ خود بھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عام انتخابات کے میدان میں اُترنے سے عاری ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ جتنی چاہیں کوشش کرلیں، انہیں ہر حال میں اپنی سازشوں کا حساب دینا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ملک کے مختلف حلقوں میں حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے سب کچھ واضح کر دیا ہے کہ عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج یا کل جب بھی عوام کی عدالت لگے گی ، پی ڈی ایم ٹولے کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُن کیلئے کہیں بھی راہ فرار نہیں رہی ۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی اور اب امپورٹڈ کابینہ خیبرپختونخوا میں مالی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ اس مقصد کیلئے اُس نے خیبرپختونخوا کے جائز حقوق روک رکھے ہیں جو بلاشبہ ایک غیر جمہوری رویہ ہے ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم ٹولہ جو چاہے مرضی کر لے ، عوام کے دلوں سے پی ٹی آئی کی مقبولیت کو نہیں نکال سکتے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ہمیشہ عام آدمی کی فلاح و ترقی کو ترجیح دی ہے اور ہمہ گیر چیلنجز کے باوجود عوام کی فلاح پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔صوبائی حکومت کے اُٹھائے گئے فلاحی و ترقیاتی اقدامات کے مثبت نتائج ہر سطح پر واضح ہیں ۔ امپورٹڈ حکمرانوں کو یہ سب کچھ ہضم نہیں ہو رہا اسلئے وہ صوبائی حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ امپورٹڈ کابینہ جتنی بھی کوشش کر لے ، ہم اُسے اُس کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور صوبے کے حقوق لیکر رہیں گے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
69427

مہنگائی کی کمرٹوٹنے کی نوید ۔ محمد شریف شکیب

وفاقی وزراء نے عوام کو نوید سنائی ہے کہ رواں سال کے دوران مہنگائی کی کمر ٹوٹے گی۔ مہنگائی کی لہر آتے ہی حکومت نے ہر گھر کو صحت کارڈ دیا،عوام کو احساس راشن کارڈ دینے جارہے ہیں جس پر انہیں ضروری اشیائے خوردونوش کی خریداری پر 30فیصد سبسڈی ملے گی امسال بھی گندم اور چاول کی ریکارڈ فصل متوقع ہے۔اسی اثناء میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں ایک درخواست جمع کرائی ہے کہ بجلی کی قیمت میں گذشتہ سال جون سے ستمبر تک کی سہ ماہی کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں عوام کی جیبوں سے 17ارب 85کروڑ روپے نکلوانے کی منظوری دی جائے۔

نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی درخواست پر سماعت 12جنوری کو ہوگی جس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا،کمپنیوں نے کیپسٹی چارجز کی مد میں 5 ارب 74 کروڑ روپے اور ڈسٹری بیوشن لاسز کی مد میں 9 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے۔دوسری جانب نیاسال شروع ہونے کے پہلے ہی دن حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیاتھا۔ تندور گرم دیکھ کر گیس کمپنیاں بھی عوام کا خون نچوڑنے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے لئے گیس قیمتوں میں بھی اضافے کی درخواست دی سکتی ہیں۔فنانس بل کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ سے مہنگائی کی نئی لہر آنے کا بھی خدشہ ہے اگرچہ وزارت خزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ منی بجٹ سے عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

دوسری جانب ساڑھے تین سو ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی بات ہورہی ہے۔ سیلز ٹیکس میں اضافے سے ملک کی بائیس کروڑ آبادی میں سے اکیس کروڑ 80لاکھ افراد براہ راست متاثر ہوں گے۔ صرف بیس لاکھ متمول افراد ہی سیلز ٹیکس میں اضافے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ جن میں بڑے بڑے سرمایہ دار، صنعت کار، جاگیر دار، کارخانے دار، سیاست دان اور قومی خزانے سے لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور دیگر مراعات پانے والے شامل ہیں۔ جب مصنوعات کارخانے سے پیک ہوکر مارکیٹ میں پہنچتی ہیں تو صنعت کار سیلز ٹیکس دیتا ہے۔پھر ہول سیل ڈیلر پرچوں فروشوں کو مال بیچ کر اس پر سیلز ٹیکس دیتا ہے۔

پرچوں فروش گاہکوں کو مال فروخت کرکے سیلز ٹیکس دیتا ہے اور آخر میں گاہک قیمت کے ساتھ سیلز ٹیکس ادا کرکے مال خریدتا ہے۔ سیلز ٹیکس بارہ روپے سے بڑھا کر سترہ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ جبکہ ایک ہی چیز پر چار مرتبہ ٹیکس لگاکر حکومت درحقیقت بیس روپے اضافی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ صرف سیلز ٹیکس کے نفاذ سے سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے ملازمین، دیہاڑی دار مزدور، کسان اور غریب لوگوں کو چاول، دالوں، مصالحہ جات، آٹا، چینی، گڑ، نمک، صابن، سرف، ٹوتھ پیسٹ، چکن، گوشت، گھی، کوکنگ آئل اور روزمرہ ضرورت کی دیگر اشیاء کی خریداری پر اضافی رقم خرچ کرنی ہوگی۔ پٹرولیم مصنوعات، گیس، بجلی، ایل پی جی اور ایل این جی کی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ اضافہ ہورہا ہے۔جس کی وجہ سے روزمرہ ضرورت کی ہر چیز ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگی ہوتی جارہی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پوری کرکے ایک ارب ڈالر قرضے کی قسط وصول کرنا حکومت کی مجبوری ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط میں بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات میں اضافہ بھی شامل ہیں۔ ابھی انٹرنیٹ اور موبائل ری چارج پر ٹیکسوں میں اضافے کے اثرات بھی ظاہر ہونا باقی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر رواں سال مہنگائی میں کمی کا کوئی امکان دور دور تک بھی نظر نہیں آرہا۔ حکومت کو جھوٹی تسلیاں دینے کے بجائے عوام کو صاف صاف بتادینا چاہئے کہ مہنگائی کی ایک اور کمر توڑ لہر کے لئے قوم تیار رہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
56926

مہنگائی غربت بے بسی اور بے حسی کی کہانی

شاہ عالم علیمی یہ میں اور چچا خدا بخش اتفاق سے ایک ساتھ مقامی یوٹیلٹی اسٹور میں داخل ہورہے ہیں۔ چچا خدا بخش میرے ہمسائے ہیں اور اسلام آباد کے نواحی علاقے میں یہ یوٹیلٹی اسٹور اگرچہ ہمارے گھر سے کافی دور ہے لیکن بیس روپے بچانے کے چکر میں، میں اور چچا خدا بخش اور بیسیوں دوسرے لوگ اس سرکاری اسٹور سے ہی سودا سلف لیتے رہے ہیں۔ دو سال پہلے تک ہمارے گھر کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک اسٹور ہوا کرتا تھا لیکن پھر تبدیلی ائی اور وہ اسٹور ختم کردیا گیا۔ صرف وہ نہیں بلکہ ملک بھر میں سینکڑوں ایسے ہی یوٹیلیٹی اسٹورز ختم کردیے گئے۔

یہ اسٹور سابق امر جنرل پرویز مشرف کے برامد شدہ وزیراعظم شوکت عزیز کے دماغی اختراع تھے اور ان چند اچھے کاموں میں سے تھے جو امروں اور ان کے ٹکنوکریٹ مددگاروں نے کیا۔ خیر دیکھیئے اج یہ اسٹور بھی خالی خالی نظر ارہا ہے۔ دو مہینے پہلے تک اس اسٹور میں چیزیں دستیاب ہوتی تھیں اج الماریاں خالی پڑی ہیں۔ چچا خدا بخش کو ایک تھیلا اٹا ایک کلو گھی ایک دو کلو چاول چاہیے۔ تینوں اشیا غائب ہیں۔ مجھے جو چار پانچ چیزیں چاہیے ان میں سے صرف ایک دستیاب ہے۔ چچا بخش کے چہرے پر پریشانی تو دروازے سے داخل ہوتے ہوئے ہی میں نے محسوس کیا تھا جب انھوں نے فکرمند انکھیں اٹھائے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے ‘کی حال اے پتر تاڑا’ کہا تھا اور پھر میرے پوچھنے پر ‘شکر، شکر’ کا تکرار کرکے خاموش ہوئے تھے۔

مقامی محاورے میں شکر عام مستعمل ہے جس کا مطلب ضروری نہیں کہ بندہ بالکل خوش باش اور خوشحال ہے بس کسی بھی حال میں شکر کرتے رہنا چاہیے۔ یہی صابرین کا طرز کلام ہوتا ہے۔ مگر چچا خدابخش کو شکر یعنی چینی بھی چاہیے جس کے بیغیر چچا صبح ناشتے میں ایک ادھ پراٹھہ کے ساتھ چائے نہیں پی سکتا مگر چینی دستیاب نہیں ہے۔”ابھی ابھی ختم ہوگئی جناب”۔ یہ اسٹور کے سنئیر مینجر مجھے بتارہا ہے۔ چچا خدا بخش پریشانی کی وجہ سے خاموش ہے۔ کیونکہ صبح صبح میں نے خود اپنے ہمسائے شہزاد صاب کی دوکان سے چینی خریدی تھی ایک کلو 160 روپے تھا۔ شہزاد صاب نے کہا، شاہ صاب 170 کی ہوگئی ہے آپ کو 160 کا دے رہا ہوں۔ میں نے کوئی بات نہیں کی۔ کیونکہ اج کل ہر صبح اٹھتے ہی اپ کسی اور چیز کی توقع کریں یا نہ کریں لیکن تبدیلی کی توقع ضرور رکھ سکتے ہیں۔ یعنی تبدیلی ہر صبح شام دوپہر ہر وقت اتی رہتی ہے،  اس دن رات کو پٹرول پر اٹھ روپے فی لیٹر کے ساتھ ائی تھی۔ 
بہرحال یوٹیلٹی اسٹور کے سنئیر منیجر سے میں پوچھ رہا ہوں،  “لیکن جناب گھی چاول دالیں اٹا کچھ بھی نہیں ہے اپ کے پاس”؟      “اٹا تو دو مہینے سے نہیں ارہا میں تو مسلسل ریکوسٹ request  بھیج رہا ہوں لیکن نہیں ارہا ہے”۔ یہ صاحب مسکراتے ہوئے مجھے بتارہا ہے۔ ماحول مایوس کن ہے اور اس میں چچا خدا بخش کے فکرمند چہرے نے مزید اضافہ کیا ہوا ہے۔ مجھے اپنی فکر نہیں ہے کیونکہ میں ایک اکیلے ویلے ادمی ہوں۔ چچا خدا بخش کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ایک عدد بیگم بھی ہے۔ دو بچے بالترتیب ساڑھے سات اور نو سال کے ہیں اور بچیاں بھی کچھ بڑی نہیں دس گیارہ بارہ سال کی ہوں گی۔

چچا ابھی ساٹھ سال کی عمر میں داخل ہوچکے ہیں۔ چند سال پہلے تک ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرتے تھے پھر ‘ضعیف العمری’ کی وجہ سے کمزور پڑ گئے اور کمپنی نے کام سے نکال دیا اور اب چچا ایک ریڑھی پر کچھ پھل فروٹ بیج کر گزارا کررہے ہیں۔ اسٹور سے میں نے ایک دو چیزیں خرید کر کاونٹر پر بل دینے ایا تو رسید میں ایک فقرے کا اضافہ تھا یعنی “سبسڈی-29 روہے”۔ مجھے انتیس روپے کی سبسڈی ملی ہے۔ مگر غور کرنے سے مضحکہ خیز معاملہ، معاف کیجئے گا، تبدیلی نظر اتی ہے۔ یعنی جس چیز کی قیمت ایک سو ستر روپے تھی اس کی قیمت پہلے دو سو اسی روپے کردی گئی ہے۔ اور پھر اس دو سو اسی روپے میں سے مجھے  سبسڈی ملی ہے۔ دس روپے بقایا نقدی کے بجائے ٹافیاں پکڑائی جا رہی ہے۔

دل کرتا ہے ناناپٹیکر کی طرح پوچھوں’ کیا ہے یہ!  لیکن خیر یہ ہم خودی کو بلند کرکے  اس اسٹور سے نکل ائے۔ اسٹور کے منیجر نے مزید بتایا تھا کہ اٹا آ بھی جائے تو ہمارا کوٹہ ایک سو چالیس تھیلا ہے اور وہ اس پورے شہر کے لئے ناکافی ہے۔ فقط ایک سو چالیس تھیلا!  مجھے معلوم ہے چند مہینے پہلے رمضان کے مہینے سبسڈائیزڈ subsidized  چینی اٹا لینے کے لئے خواتین و حضرات یہاں ہی باہر ایک ادھ کلو میٹر لمبی لائن لگاکر کھڑے رہتے تھے۔ میں نے ان کی ایک عدد تصویر کھینچی تھی اور دل ہی دل میں کہا تھا اس قوم کی قسمت میں زلت و رسوائی ہی کیوں لکھی ہے؟  خیر اج کل ایک طرف مہنگائی اور بےروزگاری کی چیخ و پکار ہے تو دوسری طرف بتایا جارہا ہے کہ دنیا میں جو مہنگائی ہے اس کے مقابلے میں پاکستان میں تو ہے ہی نہیں۔

بہرحال ان کی بات بھی صیح ہوسکتی ہے اور ان کی بھی۔ کیونکہ اج تک اس ملک میں کوئی ایسا پیدا ہی نہیں ہوا جس کی بات غلط ہوئی ہو۔ دوسری طرف زمانہ ایسا ہے کہ یہاں سارے دلیل بیکار اور ساری منطق فضول ہے۔ آپ کہہ دیں کہ امریکہ میں مہنگائی ہے تو روزگار بھی تو ہے۔ برطانیہ میں مہنگائی ہے تو سہولیات بھی تو ہے سعودیہ میں مہنگائی ہے تو لوگوں کو ریاست مدد بھی فراہم کررہی ہے۔ ایران میں مہنگائی ہے تو سوشیل سکیورٹی بھی تو ہے۔ بنگلادیش میں مہنگائی ہے تو کم از کم امدنی بھی تو ہے۔۔۔۔

سب بیکار ہے سب فضول ہے۔ یہ کہنا بھی فضول ہے کہ چینی Chinese مزدور کے پانچ دن کی تنخواہ اور پاکستانی مزدور کے مہینے یا ایک سوئزرلینڈ کے ایک شہری کے ایک گھنٹہ کی تنخواہ اور پاکستانی مزدور کے ایک مہینہ کی تنخواہ برابر ہے۔ یہ سب بھی دیوانے کی بھڑ ہے یا طوطی کی اواز نقار خانے میں۔ بھلا شاہ جہاں یا جلال الدین اکبر اور ان کے چیلوں کا عوام الناس کے مسائل سے کیا دلچسپی؟  زیادہ سے زیادہ ہمدردی ہو تو حاکم وقت مہنگائی کو ٹالنے کے لئے صدقہ خیرات دے سکتا ہے بس!  دیکھ لیں ڈالر 178 پر ہے مہنگائی بے روزگاری اور غربت ہمالیہ کی چوٹی سے اوپر گئی لیکن دوسری طرف فارما کمپنیوں شوگر مافیا اور ایگریکلچر مافیا اور رئیل اسٹیٹ کے ٹائیکونز اور دوسرے مافیاز کے وارے نیارے ہورہے ہیں۔ اور سب پر مستزاد حاکم وقت کی بے حسی (بے بسی؟) معنی خیز ہے!  

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
54855

مہنگائی کا شتر بے مہار ۔ محمد شریف شکیب

کورونا وباء نے پوری دنیا کی معیشت کا ہلاکر رکھ دیا ہے۔امریکہ، برطانیہ، ارجنٹائن، بلجیم، فرانس، نیدر لینڈ اور جرمنی جیسے ترقیافتہ ممالک میں بھی لوگ مہنگائی کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق برطانیہ میں پٹرول کا بحران سراٹھانے لگا ہے۔ پاکستان میں بھی مہنگائی نے عوام کی کمردوہری کردی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے حوالے سے جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 14.33فیصدپرپہنچ گئی۔ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 57.14 فیصد اضافہ ہوا۔ مرغی کا گوشت110روپے سے 270 روپے فی کلو تک جاپہنچا۔چھوٹے گوشت کی قیمت گذشتہ تین سالوں میں 700 روپے فی کلوسے بڑھ کر 1250 روپے فی کلو ہوگئی۔

بڑا گوشت 480 روپے سے650 روپے فی کلو ہوگیا۔ انڈے90 روپے فی درجن سے180 روپے فی درجن ہوگئے۔کوکنگ آئل کی قیمت 120روپے لیٹر سے 310روپے لیٹر ہوگئی۔ پٹرول کی قیمت تین سالوں میں 68روپے فی لیٹر سے 123روپے فی لیٹر تک جاپہنچی۔پٹرول، ڈیزل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اب ہفتہ وار بنیادوں پر اضافہ ہونے لگا ہے۔ تیل اور بجلی کے دام بڑھنے کے ساتھ ہر چیز کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ حکومت نے مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت بیس ہزار روپے مقرر کررکھی ہے۔ حالانکہ 95فیصد نجی ادارے اپنے ملازمین کو حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم اجرت نہیں دیتے۔ اور اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی میکینزم بھی نہیں ہوتا۔

بیس ہزار ماہانہ تنخواہ میں آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کا ماہانہ بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ماہرین معاشیات بھی نہیں بناسکتے۔ تین وقت کے کھانے پر چھ سات سو روپے لگ ہی جاتے ہیں۔ صرف جسم و جان کا تعلق برقرار رکھنے پر ہی مہینے میں پندرہ بیس ہزار روپے لگ جاتے ہیں۔ یوٹیلٹی بلز، بچوں کے تعلیمی اخراجات،ان کے لئے کپڑے، جوتے اور دیگر ضروریات کہاں سے پوری کئے جائیں۔غمی خوشی ہر انسان کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ بیماری کی صورت میں علاج کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ ادویات کی قیمتوں میں بھی تقریباً ہر مہینے اضافہ ہورہا ہے۔اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں۔

کاروباری طبقہ کسی نہ کسی طرح اپنا گذارہ کرہی لیتا ہے کیونکہ اسے ہول سیل مارکیٹ سے چیز مہنگی ملے گی تو اس کے پرچون ریٹ بڑھادے گا۔ تنخواہ دار طبقہ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ کیونکہ مہنگائی کے تناسب سے اس کی تنخواہ نہیں بڑھتی۔ اس لئے کچھ لوگ تو گھر کا چولہا گرم رکھنے کے لئے دو دو نوکریاں کرتے ہیں جبکہ باقی لوگ ایک وقت کا کھانا کم کرکے اخراجات کو بجٹ کے اندر رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ عوام باشعور ہیں انہیں کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر معاشی کساد بازاری کا علم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کمرتوڑ مہنگائی کے باوجود لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نہیں نکلے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ گھر کے واحد کفیل کواحتجاج کے دوران کچھ ہوگیا یا وہ گرفتار ہوکر جیل پہنچ گیا تو زیر کفالت افراد کا کیا بنے گا۔ حکومت نے عوام کو کھلی مارکیٹ کی نسبت سستی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لئے جگہ جگہ سرکاری سٹور کھول رکھے ہیں حکومت سرکاری سٹور پرفراہم کی جانے والی اشیاء گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، آٹا، چینی، مصالحہ جات پراربوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے مگر سٹور پر سبسڈی والی اشیاء دستیاب نہیں ہوتیں یہ سامان ویئرہاؤس سے براہ راست اوپن مارکیٹ پہنچ جاتی ہے۔ پاکستان کے عام شہری کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ اس کے لئے اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا کشمیر، فلسطین، افغانستان کے مسائل، امریکہ کے ساتھ تعلقات، کرکٹ کی بحالی، نیب اپوزیشن محاذ آرائی، حکومت الیکشن کمیشن تنازعے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سٹاک ایکس چینج کے کاروبار، ڈالر کی اونچی اڑان اور سیاست دانوں کی دیگر پسندیدہ موضوعات سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52951

مہنگائی ملک کا ایک ایسا آتش کدہ، جس میں عوام جھلستے جا رہے ہیں – قادر خان یوسف زئی



مہنگائی کا ایک ایسا عفریت ملک پر حاوی ہوتا جارہا ہے جس کے سدباب کی ایسی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آرہی، جس کے سبب عوام کو ریلیف مل سکے۔ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ پیٹرولم مصنوعات میں ہر پندرہ دن بعد اضافہ ہے۔ ایک عام مزدور کی اجرت اس کے گھر کا چولہا جلانے کے لئے بھی ناکافی ہے، اس وقت 102 ڈالر ماہانہ اجرت ہے، اس محدود آمدنی کی وجہ سے پسماندہ طبقہ اشیاء ضروریہ کی گرانی کے سبب مسلسل معاشی عذاب کاسامنا کررہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور گرانی میں ملوث مافیاز کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن اس کے ثمرات سے عوام ابھی تک محروم ہیں، کیونکہ جہاں عالمی کسازد بازاری کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی جا رہی ہیں تو روپے کی قدر گرنے کے باعث بھی بھاری بوجھ تلے عوام نیچے آچکے ہیں، اس بوجھ کی کمی کے لئے حکومت کی جانب سے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں کسی قدر اضافہ تو کردیا جاتا ہے لیکن وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر نہیں ہوتا، لیکن دوسری جانب نجی سیکٹر میں ملازمین کی تنخواہ میں کسی قسم کا کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، غیر محفوظ ملازمت کی وجہ سے متوسط طبقہ بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار رہنے کی وجہ سے، نفسیاتی الجھنوں اور گھریلو مسائل میں الجھ گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان چپقلش کی وجہ سے عوا م کے دیرینہ مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں، ان کی توجہ بدقسمتی سے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور پوائنٹ اسکورنگ تک محدود ہے، ان کے پاس موجودہ حالات کے لئے کوئی ایسی مربوط منصوبہ بندی نہیں جس کی وجہ سے عوام سکون کا سانس لے سکیں۔


پاکستان میں غریب اور متوسط طبقے پر پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے سے براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں  اس وقت پیٹرول کی قیمت 123روپے 80 پیسے اور ڈالر 170کی اڑان بھر رہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ ذرائع نقل وحرکت اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے، ملازمت پیشہ افراد کے لئے پیٹرولم مصنوعات کے اضافے سے سبزی، گوشت، دالیں، آٹا،چینی، تیل، گھی وغیرہ سب مہنگا ہوجاتا ہے چونکہ اس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیداواری لاگت کا بڑھنا قرار دیا جاتاہے۔ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو روکنے کے لئے متبادل ذرائع بھی دستیاب نہیں، عوام اشیا ء ضروریہ میں خوردنوش کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ انسانی زندگی کی ناگزیز ضرورت ہے،دو وقت کے بجائے ایک وقت کا کھانا بھی پیٹ بھر نہیں کھا سکتے، دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غریب طبقہ تو تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھنے کے لئے غذائی ضرورت کو پوری کرسکے، بچوں کی تعلیم کے لئے سرکاری اسکولوں کا مناسب معیار نہ ہونے کے باعث متوسط طبقہ اپنے بچوں کو کسی اچھے اسکول میں بھی داخل کراتا ہے تو اس کی فیس آسمان سے چھو رہی ہوتی ہیں، اگر بچوں کی تعداد تین سے زیادہ ہوں تو ان کے پڑھائی کے اخراجات، ٹیوشن اور ٹرانسپورٹ کی فیس ادا کرنے کے لئے گھر کے کفیل کو اپنی خواہشات کا گلہ گھوٹنا پڑتا ہے، کم تنخواہ میں گذارا کرنے کے لئے خوشحال زندگی کا تصور مقفود ہوتا جارہا ہے، نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین دوہرے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بغیر اوور ٹائم  ملے، طے شدہ وقت سے زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے، ان پر ایسی ذمے داریوں کا بوجھ بھی لاد دیا جاتا ہے، جو ان کی نہیں ہوتی، لیکن ملازمت بچانے یا اچھی ملازمت کی تلاش کرنے تک انہیں گھٹے ہوئے ماحول میں رہنے کی عادت اختیار کرنی پڑتی ہے جس کے باعث ان کا مزاج و اطوار میں نفسیاتی الجھنیں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور تلخ مزاجی اور چڑ چڑے پن کی وجہ سے ان کی استعداد اور تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو معاشرے میں بوکھلاہٹ کا شکارسمجھا جانے لگتا ہے، جس سے ڈیپریشن اور سماجی الجھنیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔


حکومت کی جانب سے مہنگائی کے جواز کے لئے حیرت انگیز بیانات آنے سے عوام کے زخموں پر مزید نمک پاشی ہوتی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ”پاکستان میں تیل کی قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں، ان کے مطابق کہ جب آپ نے تیل باہر سے خریدنا ہے تو قیمتیں بڑھیں گی، اصل کامیابی ہے کہ پچھتر فیصد آبادی کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے“۔ عوام کو یہ فلسفہ کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ اگر موازنہ کسی بھی دوسرے ملک سے کرنا مقصود ہے تو پھر ان کی اشیا ء ضروریہ کا تقابل بھی سامنے رکھا جائے، کہ آیا اُن ممالک میں اگر پیٹرولم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں تو کیا آٹا،چینی، گھی، تیل، دالیں، گوشت وغیرہ کی قیمت بھی کم ہیں، یہ افسوس ناک امر ہے کہ اس کا تقابل نہیں کیا جاتا ہے کہ اُن ممالک میں عوام کو زندگی کی بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتیں کئی گنا کم ہیں، ذخیرہ اندوزی اور لوٹ کھسوٹ کے لئے مافیاز کا ایسا کردار بھی نہیں ہے جیسا  اب  دیکھنے میں آتا ہے۔

حکومت کو توازن برقرار رکھنے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ان مافیاز کو لگام دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو سیاسی چھتری کا استعمال کرکے اربوں روپے کی کرپشن کرتے ہیں اور عوام کی معاشی کمر کو توڑ نے میں کوئی کسر نہیں رکھتے، بظاہر لاکھوں روپے گاڑی رکھنے والوں کے لئے چند روپوں کا اضافہ کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن غریب اور متوسط طبقہ، قیمتوں میں معمولی اضافے سے ہر اُس اشیا کی قوت خرید سے دور ہوتا چلا جاتا ہے جو اس کے اور اس کے اہل خانہ کے لئے اہمیت کا حامل ہے، پھلوں اور غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کے اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے نئی نسل میں قوت مدافعت میں کمی اور جسمانی و ذہنی کمزوری کے اثرات نمایاں ہوتے نظر آرہے ہیں، ناتوانی کے باعث ایک ایسی نسل کا دور سامنے آرہا ہے جنہیں غذائی کمی کا سامنا ہوگا اور اشرافیہ انہیں اپنا معاشی غلام بناتے چلے جائیں گے۔


بدترین صورت حال یہ بھی ہے کہ ملک کو خطے میں تبدیل ہوتی صورت حال کے باعث دہشت گردی کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، سلگتے ہوئے عوام کو مہنگائی کے ظالمانہ سسٹم نے ایک ایسے حصار میں جکڑ لیا ہے کہ عوامی حلقے بے یقینی میں خیال آرائی کرتے ہیں کہ کیا نادیدہ اور مافیاز حکومت پر حاوی تو نہیں، ملکی ڈیمو گرافک تبدیلیوں، اشرافیہ کے شاندار محلات نما عمارات پر مبنی نئی آبادیاں اور ان مکانوں کی بیش بہا قیمتوں کے آرائش کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے کہ تین فیصد طبقہ 97 فیصد عوام پر مسلط ہے۔ مہنگائی ملک کا ایک ایسا آتش کدہ ہے جس میں عوام جھلستے جا رہے ہیں، عوام کو مختلف النوع مذہبی، فرقہ وارنہ، لسانی اور قوم پرستی کا ایک ایسا میٹھا زہر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے بھی آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہتے۔

انسانی زندگی کو بچانے کے لئے جس طرح دہشت گردوں کی تخریب کاری کا سدباب جتنا ضروری ہے، وہیں عوام دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ تاریخ ساز دورانیہ کب آئے گا جب ان کے مسائل کے حوالے سے درد مندی کا مشاہدہ کرتے ہوئے مثبت اقدامات کئے جائیں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے تالیف قلوب اور بحالی کے اقدامات پر توجہ دی جائے، ارباب اختیار مہنگائی کے بڑھتے سونامی کے متبادل اقدامات کی حکمت عملی اپنائے اور سار بوجھ پہلے سے کچلے ہوئے طبقے پر ڈالنے سے گریز کرے۔ مافیاز کے خلاف ایک ایسا آپریشن کیاجائے جو ضرورت بلا امیتاز ایک ایسا نتیجہ خیز اور بے رحم ہو کہ وہ نشانہ عبرت بنیں اور یہ کاروائی قوم کو نظر آئے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52860

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کا چترال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کا چترال پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) عوامی نیشنل پارٹی چترال نے صوبائی صدر خواتین ونگ خدیجہ چترالی اور ضلعی صدر اے این پی لوئر چترال عیدالحسین کی زیرقیادت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف اتوار کے روز چترال میں ایک ریلی نکالی ۔ اور پریس کلب چترال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ جس میں بڑی تعداد میں اے این پی کے مقامی رہنما اور کارکنان موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خدیجہ سردار ، عیدالحسین ، ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ اور صلاح الدین طوفان نے کہا ۔ کہ موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی بد ترین سلیکٹڈ حکومت ہے۔ جس کی نا اہلی اور کرپشن کی وجہ سے ملک دیوالیہ پن کو شکار ہو چکا ہے ۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ۔ بے روز گاری انتہا کو پہنچ گئی ہے ۔ اور نوجوان تعلیمی اسناد لے کر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ اور غریب طبقہ زندگی کی قید سے آزاد ہونے کیلئے خود کشیاں کر رہےہیں ۔ لیکن نا اہل حکومت اور ان کے سپورٹرز کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ کیونکہ کرپشن سے تجوریاں بھری جارہی ہیں ۔ جن کی وجہ سے عوام کیلئے سوچنے اور مسائل کم کرنے کے حوالے سے ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان موجودہ نااہل اور عقل سے عاری افراد پرمشتمل حکومت کی وجہ سے آئی ایم ایف اور دیگر بیرونی قرضوں میں ڈوب گیا ہے ۔ جہاں سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی عوام کے ساتھ کئے گئےایک کروڑ نوکریاں نظر آئے ہیں اور نہ پچاس لاکھ گھروں سے کوئی ایک گھر دیکھنا نصیب ہوا ہے ۔ الٹا جن لوگوں کے پاس سایہ تھا ۔ نا اہل حکومت نے ایسے لاکھوں لوگوں کے سر سے چھت اور روزی روٹی بھی چھین لی ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو سانپ سونگھ گیا ہے ۔ اور کوئی بھی اس نا انصافی اور مہنگائی کے خلاف میدان میں آنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔یہ عوامی نیشنل پارٹی ہی ہے ۔ جو اس ظلم اور زیادتی کے خلاف میدان میں اتری ہے ۔ اور عوام کو اس حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے ہمارا بھر پور ساتھ دینا ہو گا ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ جن کی بھیساکیوں پر موجودہ حکومت قائم ہوئی ۔ آخر ان لوگوں کی پاکستان کے بائیس کروڑ عوام سے کیا دشمنی تھی ۔ کہ اس نا اہل کا انتخاب کیا ۔ اب تو اس کی ناقص کارکردگی دیکھنے کے بعد تو اس کو چلتا کرنا چاہئیے ۔ تاکہ قوم اور ملک مزید تباہی سے بچ جائے ۔ خدیجہ چترالی نے کہا ۔ کہ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر پاکستان کا جو حشرکیا ۔ اب تو لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ۔ کہ ہمیں ہمارا پرانا پاکستان ہی واپس کیا جائے۔ جہان نہ اتنی کرپشن ، ظلم ،مہنگائی ، بے روزگاری تھی اور نہ غریب لوگ محروم و مایوس ہو چکے تھے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ اے این پی نے چترال میں اپنے دور حکومت میں اربوں روپے تعلیم ، صحت ، آبپاشی اور آبنوشی سکیموں پر خرچ کی ۔ اور بلا سود قرضے دیے ۔ جن کا دروازہ موجودہ حکومت نے مکمل طور پر بند کر دیا ہے ۔ اور کوئی بھی ایک پراجیکٹ یہاں نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال یونیورسٹی آج بھی اپنی عمارت سے محروم ہے ۔ پرانی عمارت کا رنگ تبدیل کر نے کے سواکچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ خدیجہ چترالی نے مہنگائی کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے پر ضلع تحصیل ویلج قیادت و کارکناں کے جذبے کو سراہا ۔ اور کہا ۔ کہ موجودہ حکومت نے محکمہ ہیلتھ اور ریسکیو 1122 کے ملازمین کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے ۔ اورا امیدواروں سے تین تین لاکھ روپے لئے گئےہیں ۔ صدر عید الحسین نے موجودہ حکومت کی طرف سے اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کیلئے میڈیا پر بے جا پابندیوں کی پر زور مذمت کی اور کہا ۔ کہ اس سلسلے میں ہماری پارٹی صحافت کی آزادی کیلئے صحافیوں کا بھر پور ساتھ دے گی۔

chitraltimes anp chitral protest against price high khadija
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , ,
52589

مہنگائی کی ساتویں لہر ۔ محمد شریف شکیب

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 47پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کردی گئی۔ نیپرا یکم ستمبر کو سماعت کرے گا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جولائی میں مجموعی طور پر 15 ارب 21کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، ہائیڈل سے 29.94فیصد، کوئلے سے 15.29 فیصد، مہنگے فرنس آئل سے 10.28 فیصد، مقامی گیس سے 8.68، درآمدی ایل این جی سے 20.01 فیصد اور ایٹمی پلانٹ سے 10.59 فیصد بجلی پیدا کی گئی.

جولائی کے لئے ریفرنس فیول لاگت 5 روپے 27 پیسے فی یونٹ مقرر تھی اور جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 6 روپے 74 پیسے فی یونٹ رہی۔ نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اگر پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست منظور کرلی تو یہ رواں سال بجلی کی قیمت میں ساتویں بار اضافہ ہوگا۔ اور گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی قیمت سولہ روپے یونٹ پڑنے کا امکان ہے۔ موجودہ حکومت کے تین سالوں میں بجلی کی قیمت میں اٹھارہ مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔

اس کے باوجود حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری تین سال پہلے سبکدوش ہونے والی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے بجائے تیل سے بجلی پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دی گئی۔ کیونکہ اس سودے میں کمیشن کی صورت میں حکمرانوں کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ پہنچ رہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مفلوج نظام کوواپس ٹریک پر لانے کے لئے وقت اور وسائل درکارہوتے ہیں۔موجودہ حکومت تین سالوں تک سابقہ حکومتوں کو کوستی رہی ہے اور عوام نے بھی ان کے موقف کی تائید کی اور اصلاح احوال کے لئے حکومت کو مہلت دیتے رہے۔ مگراب سابق حکمرانوں کو موردالزام ٹھہراکر راہ فرار اختیار کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

تیل،گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے۔ گذشتہ تین سالوں میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہوگئی ہیں اور تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دو سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو مہنگائی بڑھنے کا ادراک ضرور ہے،وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اس کا اظہار بھی بار ہا کرتے رہے ہیں مگر اس کا تدارک کرنے اور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے کچھ نہیں کیا جارہا۔چند شہروں میں لنگر خانے کھولنا مہنگائی کا توڑ نہیں۔ نہ ہی منتخب عوامی نمائندوں اورسرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافے سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔

سرکاری ملازمین ہڑتال، جلسے اور دھرنے دے کر اپنی تنخواہیں بڑھا دیتے ہیں عوام کیا کریں۔وہ اگر احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلیں گے تو ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور فاقوں کی نوبت آئے گی۔ حکومت کو سب سے پہلے اپنی انتظامی مشینری کو لگنے والی زنگ نکالنی ہوگی۔تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے لئے دھرنے دینے والوں کو ڈیوٹی سرانجام دینے پر مجبور کرنا ہوگا۔ مارکیٹ اکانومی کو کنٹرول کرنے کے لئے مجسٹریسی نظام کی بحالی ناگزیر ہے۔ پرائس ریویو کمیٹیاں اپنی افادیت کب کی کھوچکی ہیں۔ ائرکنڈیشنڈ دفتروں میں بیٹھ کر اشیائے ضروریہ کے نرخ مقرر کرنے والوں کے پاس اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانے کا کوئی مکینزم نہیں ہوتا۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ہر مہینے جاری کئے جاتے ہیں سرکاری کرایہ نامہ اور مسافروں سے وصول کئے جانے والے کرائے میں آسمان زمین کا فرق ہوتا ہے۔ دس پندرہ سال پہلے کسی کلرک نے کمپیوٹر پر کرایہ نامہ کا شیڈول بنایا ہوتا ہے۔ اوپر تاریخ تبدیل کرکے وہی کرایہ نامہ آج بھی جاری کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دس سال پہلے پٹرول کی قیمت 35روپے اور پشاور سے مردان کا کرایہ آٹھ روپے تھا۔ آج پٹرول 120کا اورکرایہ 80روپے ہوگیا ہے۔مگر بابو لوگوں کو خبر ہی نہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ تو حکومت نے کیا تھا۔ یہاں لاکھوں افراد اپنے لگے بندھے روزگار سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔دو وقت کا کھانا کھانے والے اب ایک ہی وقت کھانے پر اکتفا کر رہے ہیں حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ حق غریبوں سے نہ چھینے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51726