The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے کا اختیار ہے کہ سرپلس مشکل دنوں، مستقبل کے بڑے منصوبوں یا صوبے کے قرضوں کیلئے بطور بفر رکھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

Posted on

صوبے کا اختیار ہے کہ سرپلس مشکل دنوں، مستقبل کے بڑے منصوبوں یا صوبے کے قرضوں کیلئے بطور بفر رکھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وفاقی حکومت سے صوبے پر دباؤ ڈال کر ہمیں چیلنج یا بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
سرپلس بجٹ یقینی نہیں ہے منحصر ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس کتنا وصول کرتی ہے صوبے کو ٹیکس محصولات کتنے منتقل ہوتے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے سرپلس بجٹ بارے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاضل رقم صوبائی حکومت کی ملکیت ہوتی ہے صوبائی حکومت کے پاس ہی رہتی ہے صوبے کا اختیار ہوتا ہے کہ سرپلس مشکل دنوں کیلئے مستقبل کے بڑے منصوبوں کیلئے یا صوبے کے قرضوں کیلئے بطور بفر رکھے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے رواں مالی سال میں 150 ارب روپے کی بچت کی ہے جس سے روزانہ 6 کروڑ روپے منافع کما رہے ہیں تاکہ قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے پر دباؤ ڈالے تو ہمیں چیلنج یا بلیک میل نہیں کیا جا سکتا سب جانتے ہیں صوبائی حکومت کے طور پر ہم 31 ارب روپے سے زیادہ قرض نہیں لے سکتے اگر اس حد سے تجاوز کریں تو وفاقی حکومت ہمیں دیوالیہ قرار دے کر معاشی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ گزشتہ 15 مہینوں سے صوبہ وفاق کے دباؤ سے کہیں زیادہ آزاد طریقے سے کام کر رہا ہے اور خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی اس مؤقف کو مزید جرات مندی سے پیش کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے نے رواں مالی سال کیلئے 100 ارب روپے کا سرپلس ہدف مقرر کیا تھا لیکن ہم ماشائاللہ 120 ارب سے زائد فاضل رقم ظاہر کرنے جا رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس کے علاوہ صحت کارڈ پر 35 ارب روپے اور اے ڈی پی پلس پر 30 فیصد سے زیادہ اخراجات کیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پرانے واجبات کی ادائیگی کی اور ضم شدہ اضلاع ترقیاتی ضروریات کے لیے 60 ارب روپے سے زیادہ کی برج فنانسنگ کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ سال کے لیے ہم نے 157 ارب روپے سرپلس بجٹ کا تخمینہ لگایا ہے اے ڈی پی اور موجودہ اخراجات کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سرپلس بجٹ یقینی نہیں ہے منحصر ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس کتنا وصول کرتی ہے اور صوبے کو ٹیکس محصولات کتنے منتقل کرتے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ رواں سال وفاق نے ایک کھرب سے بھی کم ٹیکس جمع کیا جس کی وجہ سے ہماری منتقلی میں 90 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ اگر ٹیکس محصولات میں مزید کمی اتی ہے تو ہمارا سرپلس ختم ہو جائے گا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ امید ہے آئندہ سال آخر تک خیبر پختونخوا کے مجموعی قرض کا 40-50 فیصد فنڈز موجود ہونگے اور عمران خان کا وژن تھا کہ قرضوں سے نجات حاصل کی جائے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ریکارڈ درستگی کے لیے جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ صرف خیبرپختونخوا فاضل رقم پیدا کر رہا ہے جبکہ باقی تمام صوبے خسارے میں جا رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مارچ 2025 تک پنجاب کے 441 ارب روپے، سندھ کے 395 ارب روپے سرپلس ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے 111 ارب روپے اور بلوچستان کے 105 ارب روپے سرپلس ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
111309

وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کیلئے صرف 54 کروڑ روپے رکھے ہیں اور خیبرپختونخوا کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبہ بھی نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

Posted on

حکومت کے مطابق ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد تک بڑھ جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے مطابق 15 فیصد بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس میں صرف 30 فیصد کپاس کی پیداوار میں کمی شامل ہے جس کی درامد پر پانچ ارب ڈالر اضافی خرچ ہوں گے اس طرح گندم کی پیداوار میں کمی کے باعث تین ارب ڈالر کی گندم کی درامدات پر خرچ ہونگیصرف زراعت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کی امپورٹ کرنی پڑے گی اور یہ 10 ارب ڈالر ملک اور کسانوں کا نقصان ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مہنگائی کے بارے میں حکومت دعوی کر رہی تھی کہ مہنگائی 4.5 فیصد یا 4.7 فیصد ہے اب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ اگلے سال مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد پر جائے گی۔

مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس سال پاکستان کی جی ڈی پی ایک لاکھ 14 ہزار ارب تھی اور اگلے سال ایک لاکھ 29 ہزار ارب روپے ہو جائے گی جبکہ اس میں ترقیاتی اخراجات کیلئے صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں اور اس سال وفاقی حکومت کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہی جبکہ صوبوں کو بھی کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس ایک ہزار ترقیاتی اخراجات میں 120 ارب روپے جو پیٹرول میں ریلیف نہیں دیا گیا تھا جس سے بلوچستان میں سڑک بنا رہے ہیں شامل ہے جس کا مطلب ہے کہ اپ نے ایک سال میں صرف 880 ارب روپے کی پی ایس ڈی پی رکھی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام میں سپورٹس پانی ماحولیات کے بارے میں بات ہوتی تھی اس میں بھی ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 65 ارب روپے مختص کیا گیا تھا جس کو کاٹ کر صرف 45 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس پر صوبوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ جن صوبوں کے منصوبے 75 فیصد سے زیادہ مکمل ہو جائیں گے ان کو ترجیح دی جائے گی اس میں ہماری صوبے کے دو سڑک جو تقریبا نویں فیصد مکمل ہوئے ہیں کے بعد ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جو سراسر نا انصافی ہے جس کا میں نے حکومت کو اج کے اجلاس میں بتا بھی دیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ مہنگائی ایک فیصد پر لائے ہیں تو شرح سود 11 فیصد کیوں ہے اس سال سود کی ادائیگی میں دو سے دو ڈھائی ہزار ارب روپے کی بچت ہونی چاہیے جس کو اپ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ نہیں کر رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق 118 ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر دیا گیا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد ہو جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی اور 39.5 ارب روپے ترسیلات زر کا تہمینہ رکھا گیا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ ایک ہزار ارب روپے کی پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کو صرف 54 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ بلوچستان کو 120 ارب روپے کے علاوہ 20 ارب روپے دے رہے ہیں اس طرح سندھ کو 47.1 ارب روپے مختص کیے ہیں اسی طرح گلگت بلتستان اور کشمیر کے لیے 37 ارب روپے اور 45 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے لیے صرف 70 ارب روپے رکھے ہیں اور رواں سال ضم اضلاع کو 70 ارب روپے میں سے صرف 34 ارب روپے ملے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اس سال پنجاب کا ترقیاتی بجٹ ہزار ارب روپے جبکہ سندھ کا 1100 روپے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 433 ارب روپے ہوگا وفاق خیبر پختونخواہ کو ضم اضلاع کا حصہ نہیں دے رہا جو ناانصافی ہے۔ خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ کہ رواں سال خیبر پختونخوا کو وفاق سے 300 ارب روپے کم ملیں گے صرف رواں سال 42 ارب روپے این ایف سی کے مد میں خیبر پختونخوا کو کم ملے ہیں وفاق نے ٹیکس کے مد میں مئی کے مہینے تک ایک ہزار ارب روپے کم جمع کیے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کو اس سال 90 ارب روپے کم ملیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت سابقہ فاٹا ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کا ایوارڈ جاری کریں اور جو آبادی کے حساب سے حصہ بنتا ہے وہ فل الفور مہیا کریں اگر نہیں دے رہے تو جو بجٹ میں اعلان کرتے ہیں کم از کم وہ تو فراہم کیا کریں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں ان کی حکومت نہیں بنی ہے اس لیے ان کو فنڈز فراہم نہیں کرتے جو نا انصافی پر مبنی ہے جبکہ خیبرپختونخوا نے ائی ایم ایف شرائط بھی پورے کیے ہیں اور حکومت خود اس کا اعتراف بھی کر رہی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
110645

خیبرپختونخوا رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے جاری فنڈز میں 55.72 فیصد خرچ کیے گئے ہیں،مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

Posted on

خیبرپختونخوا رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے جاری فنڈز میں 55.72 فیصد خرچ کیے گئے ہیں،مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
اے ڈی پی بندوبستی و ضم اضلاع اور اے آئی پی کی مد میں چھ ماہ کیلئے 190,000 ملین روپے کے فنڈز مختض کیے گئے تھے جس میں سے 79,584 ملین روپے ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے ہیں، اے ڈی پی بندوبستی و ضم اضلاع اور اے آئی پی کی مد میں 44,352 ملین روپے کے فنڈز خرچ کیے گئے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا سالانہ ترقیاتی فنڈز بارے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے جاری فنڈز میں 55.72 فیصد خرچ کیے گئے ہیں اور اے ڈی پی بندوبستی و ضم اضلاع اور اے ائی پی کی مد میں چھ ماہ کیلئے ایک لاکھ نوے ملین 190,000 روپے کے فنڈز مختض کیے گئے تھے جس میں سے 79,584 ملین ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے ہیں اور اے ڈی پی بندوبستی و ضم اضلاع اور اے ائی پی کی مد میں 44?352 ملین روپے کے فنڈز خرچ کیے گئے ہیں

ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اے ڈی پی بندوبستی اضلاع کیلئے 120,000 ملین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے تھے جس میں سے 60,948 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں اور اے ڈی پی بندوبستی اضلاع میں تقریباً 33,467 ملین روپے کے فنڈز 55 فیصد خرچ کیے گئے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کیلئے اے ڈی پی ضم اضلاع کیلئے 30,000 ملین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے تھے جس میں سے 8,719 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں اور اے ڈی پی ضم اضلاع میں 5,115 ملین روپے کے فنڈز 59 فیصد خرچ کیے گئے ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ اسی طرح اے آئی پی میں 40,000 ملین روپے مختص ہو گئے تھے جس میں سے 9,916 ملین روپے کے فنڈز جاری ہو چکے ہیں اور اے آئی پی میں 5,769 ملین روپے کے فنڈز 58 فیصد خرچ کیے گئے ہیں –

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
97635