صوبے کا اختیار ہے کہ سرپلس مشکل دنوں، مستقبل کے بڑے منصوبوں یا صوبے کے قرضوں کیلئے بطور بفر رکھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وفاقی حکومت سے صوبے پر دباؤ ڈال کر ہمیں چیلنج یا بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
سرپلس بجٹ یقینی نہیں ہے منحصر ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس کتنا وصول کرتی ہے صوبے کو ٹیکس محصولات کتنے منتقل ہوتے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے سرپلس بجٹ بارے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاضل رقم صوبائی حکومت کی ملکیت ہوتی ہے صوبائی حکومت کے پاس ہی رہتی ہے صوبے کا اختیار ہوتا ہے کہ سرپلس مشکل دنوں کیلئے مستقبل کے بڑے منصوبوں کیلئے یا صوبے کے قرضوں کیلئے بطور بفر رکھے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے رواں مالی سال میں 150 ارب روپے کی بچت کی ہے جس سے روزانہ 6 کروڑ روپے منافع کما رہے ہیں تاکہ قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے پر دباؤ ڈالے تو ہمیں چیلنج یا بلیک میل نہیں کیا جا سکتا سب جانتے ہیں صوبائی حکومت کے طور پر ہم 31 ارب روپے سے زیادہ قرض نہیں لے سکتے اگر اس حد سے تجاوز کریں تو وفاقی حکومت ہمیں دیوالیہ قرار دے کر معاشی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ گزشتہ 15 مہینوں سے صوبہ وفاق کے دباؤ سے کہیں زیادہ آزاد طریقے سے کام کر رہا ہے اور خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی اس مؤقف کو مزید جرات مندی سے پیش کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے نے رواں مالی سال کیلئے 100 ارب روپے کا سرپلس ہدف مقرر کیا تھا لیکن ہم ماشائاللہ 120 ارب سے زائد فاضل رقم ظاہر کرنے جا رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس کے علاوہ صحت کارڈ پر 35 ارب روپے اور اے ڈی پی پلس پر 30 فیصد سے زیادہ اخراجات کیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پرانے واجبات کی ادائیگی کی اور ضم شدہ اضلاع ترقیاتی ضروریات کے لیے 60 ارب روپے سے زیادہ کی برج فنانسنگ کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ سال کے لیے ہم نے 157 ارب روپے سرپلس بجٹ کا تخمینہ لگایا ہے اے ڈی پی اور موجودہ اخراجات کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سرپلس بجٹ یقینی نہیں ہے منحصر ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس کتنا وصول کرتی ہے اور صوبے کو ٹیکس محصولات کتنے منتقل کرتے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ رواں سال وفاق نے ایک کھرب سے بھی کم ٹیکس جمع کیا جس کی وجہ سے ہماری منتقلی میں 90 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ اگر ٹیکس محصولات میں مزید کمی اتی ہے تو ہمارا سرپلس ختم ہو جائے گا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ امید ہے آئندہ سال آخر تک خیبر پختونخوا کے مجموعی قرض کا 40-50 فیصد فنڈز موجود ہونگے اور عمران خان کا وژن تھا کہ قرضوں سے نجات حاصل کی جائے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ریکارڈ درستگی کے لیے جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ صرف خیبرپختونخوا فاضل رقم پیدا کر رہا ہے جبکہ باقی تمام صوبے خسارے میں جا رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مارچ 2025 تک پنجاب کے 441 ارب روپے، سندھ کے 395 ارب روپے سرپلس ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے 111 ارب روپے اور بلوچستان کے 105 ارب روپے سرپلس ہیں۔
