The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

عشریت میں لواری ٹنل اپروچ روڈ پر تعمیراتی کام کو بند کرنے کے حوالے سے مجھ سے منسوب خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ محمد داود

عشریت میں لواری ٹنل اپروچ روڈ پر تعمیراتی کام کو بند کرنے کے حوالے سے مجھ سے منسوب خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ محمد داود

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کی معروف کاروباری شخصیت اور سینئر گورنمنٹ کنٹریکٹر محمد داود نے کہاہے کہ عشریت کے مقام پر لواری ٹنل اپروچ روڈ پر کام بند کرنے سے میرا کوئی تعلق نہیں، مجھ سے منسوب یہ خبرمن گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ میں نے کام بندکروایا ہے اور نہ بند کرنے کیلئے کسی ادارے کو درخواست دیا ہے۔ جبکہ چترال کے بعض ناعاقبت اندیشن افراد سوشل میڈیا کا سہارا لیکر مجھے بدنام کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،

چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ آیون سے تعلق رکھنے والے ایک ٹھیکہ دار نے لواری ٹنل اپروچ روڈ پر مرمتی کام بند کروایا ہے ، یہ خبر کسی شر پسند شخص نے پوسٹ کیا ہے جس کو بعض فیس بکی صارفین نے کاپی پیسٹ کرکے چترال کے عوام کو گمراہ کرنے اور مجھے بدنام کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، جوکہ قابل مذمت ہے۔ محمد داود نے بتایا کہ انھوں نے ایک درخواست چند متعلقہ محکموں کو دیا ہے جس میں این ایچ اے کے زیر انتظام مختلف سڑکوں کی مرمتی اور بحالی کا کام ایک ٹھیکہ دار کو دیتے ہوئے تمام ضروری طریقہ کار اور ایس او پیز کو نظرانداز کر کے دینے اور کرپشن کا ذکر ہے ، جس میں لواری ٹنل ٹال ٹیکس، اپروچ روڈ اور گرم چشمہ روڈ کی مرمت اور بحالی کا کام بھی شامل ہے ۔

داود نے بتایا کہ این ایچ اے کے بعض حکام اّسی ایک ٹھیکہ دار کو نوازتے ہیں جوگزشتہ سال بھی عشریت اور بکرآباد ودیگرمقامات پر ترکول اور مرمتی کام ناقص کرکے یہاں سے رفو چکر ہوگیا تھا جس کے خلاف سوشل میڈیا میں ثبوت اب بھی موجود ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نے درخواست میں صرف یہی لکھا ہے کہ چترال کے مختلف مرمتی کاموں کو ایک ہی ٹھیکہ دار کو دیتے وقت ضروری قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث سرکاری خزانے کو کم از کم پندرہ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے اور اس کرپشن کی نشاندہی میں نے اپنی درخواست میں کی ہے۔

انھوں نے مذید بتایا کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ پر اگرمیری درخواست پر کام بند کردیا گیا ہے تو گرم چشمہ روڈ پر بھی کام بند ہونا چاہیے تھا اور لواری ٹنل پر ٹال ٹیکس بھی بند ہونا چاہیے تھا مگر ایسا کچھ نہیں ہے ،

انھوں نے چترال کے سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ لواری ٹنل اپروچ روڈ پر کام بند ہونے کی وجہ معلوم کریں اور چترال کے اس انتہائی اہمیت کے حامل کام کو معیار اور مقدار کے مطابق مکمل کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے سوشل میڈیا صارفین سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی خبر کو تحقیق کے بعد شائع کیا کریں ایسا نہ ہو کہ آپ کی وجہ سے کسی کو بہت بڑا نقصان پہنچے ، اور بعد میں اسکا ازالہ بھی ممکن نہ ہو۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
112338

لواری ٹنل اپروچ روڈ (چترال سائیڈ) پر تعمیراتی کام کا آغاز، مقررہ وقت میں  تعمیر کا کام مکمل ہوگا، ترجمان پی ایم ایل این چترال 

Posted on

لواری ٹنل اپروچ روڈ (چترال سائیڈ) پر تعمیراتی کام کا آغاز، مقررہ وقت میں  تعمیر کا کام مکمل ہوگا، ترجمان پی ایم ایل این چترال

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) چترال کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں چترال کے عوام کے لیے ایک خوشخبری دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ (چترال سائیڈ) پر طویل انتظار کے بعد بالآخر تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ نے خود موقع پر جا کر دعا خیر کے ساتھ اس اہم منصوبے کا افتتاح کیا۔

جواد کنسٹرکشن کمپنی کے پراجیکٹ منیجر اسلم ریس نے میڈیا کو بتایا کہ نیشنل ہائی و اتھارٹی (NHA) نے انہیں اس منصوبے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ روڈ کل چار کلومیٹر طویل ہوگی، جس میں سے ایک کلومیٹر پر اسفالٹ (asphalt) بچھایا جائے گا جبکہ باقی تین کلومیٹر حصے پر ریجیڈ یعنی سیمنٹ کنکریٹ کا کام کیا جائے گا۔ اس اہم منصوبے پر 49 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور کام کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔

پراجیکٹ مینیجر نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام مکمل کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ عشریت نالہ سمیت چار مختلف مقامات پر آرسی سی پل بھی تعمیر کیئے جائیں گے،  نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ نے اس موقع پر وفاقی حکومت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، اور بالخصوص وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین بریگیڈیئر (ر) خالد علی رانجھا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے چترال کے اس اہم مسئلے پر عملی قدم اٹھایا۔
یہ منصوبہ نہ صرف چترال کے عوام کے لیے سفری آسانی فراہم کرے گا بلکہ علاقے کی معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے گا۔

chitraltimes lowari approach road construction started 2

chitraltimes lowari approach road construction started 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
111004

لواری ٹنل پراجیکٹ سینتالیس سال گزرنے کے باوجود بھی نامکمل، سیاح اور مسافرمشکلات سے دوچار

چترال ( محکم الدین ) پاکستان کی تاریخ کا سب سے منفرد اور طویل العمر پراجیکٹ لواری ٹنل اپنی آغاز سے اب تک سینتالیس سال گزرنے کے باوجود بھی نامکمل ہے ۔ جس کی وجہ سے مسافر و سیا ح اذیت اور مشکلات سے دوچار ہیں ۔ خصوصا چترال سائڈ پر سست روی کے شکار تعمیری کام سے خدشہ ہے کہ منصوبے کی تکمیل میں مزید دس سال لگیں گے ۔ لواری ٹنل منصوبے کو 2013 میں اپروچ روڈ سمیت مکمل ہونا تھا ۔ لیکن 2021 میں بھی یہ روڈ مکمل نہیں ہے ۔جس کی وجہ سے مسافر مصیبت میں گرفتار ہیں ۔

پراجیکٹ کی ایگزیکیوٹنگ ایجنسی نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے۔ جس کی غفلت اور بے حسی کیوجہ سے مقامی لوگ اور سیاح مصیبت سے دوچار ہیں ۔ اس حوالے سے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر تعمیری کام میں تیزی لانے اور اسے جلد مکمل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانےکی یقین دھانی کی تھی ۔ لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے ۔ کہ اس کے نتائج تاحا ل سامنے نہیں آئے ۔ بلکہ سست روی کاشکار کام اب تو بالکل بند ہی ہو چکا ہے ۔ چترال پشاور جانے والے مسافروں اور سیاحت کی غرض سے چترال آنے سیاحوں نے لواری کے مقام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ کہ پوری دنیا میں اپنی امن پسندی ، مہمان نوازی ، اور قدیم کلچر کی وجہ سے مشہور چترال کے راستے سب سے زیادہ خطرناک اور خستہ حال ہیں ۔ جس پر سفر کرنا خود کو موت کے منہ میں دینے کے مترادف ہے ۔ لیکن سابقہ اور موجودہ حکومتوں نے سڑکوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے عوام اور مسافروں کوسہولت دینے کیلئے ہوتے ہیں لیکن یہاں اس کا بالکل الٹ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لواری ٹنل پر مسافروں کو بارہ بجے سے دو بجے تک بلاوجہ روکا جاتا ہے ۔ جبکہ من پسند گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ انتظار میں بیٹھے بیمار ، معذور خواتین اور بچوں کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کئی جگہوں پر مختلف اداروں کی الگ الگ چیکنگ بھی مسافروں اور سیاحوں کیلئے زحمت کا باعث بن چکا ہے ۔ اس لئے مختلف اداروں کی ایک جگہ پر چیکنگ سے سیاحوں اور مسافروں کی مشکلات میں کمی ہو سکتی ہے ۔ مسافروں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر مواصلات مراد سعید سے پر زور مطالبہ کیا ۔ کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ کو فوری مکمل کیا جائے ۔ اور چترال سائڈ پر تعمیری کام کو چیک کیا جائے ۔ جو دیر سائڈ کے کام کے مقابلے کا نہیں ہے ۔

chitraltimes lowari approch road
chitraltimes lowari approch road chitral
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , ,
50070