عشریت میں لواری ٹنل اپروچ روڈ پر تعمیراتی کام کو بند کرنے کے حوالے سے مجھ سے منسوب خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ محمد داود
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کی معروف کاروباری شخصیت اور سینئر گورنمنٹ کنٹریکٹر محمد داود نے کہاہے کہ عشریت کے مقام پر لواری ٹنل اپروچ روڈ پر کام بند کرنے سے میرا کوئی تعلق نہیں، مجھ سے منسوب یہ خبرمن گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ میں نے کام بندکروایا ہے اور نہ بند کرنے کیلئے کسی ادارے کو درخواست دیا ہے۔ جبکہ چترال کے بعض ناعاقبت اندیشن افراد سوشل میڈیا کا سہارا لیکر مجھے بدنام کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،
چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ آیون سے تعلق رکھنے والے ایک ٹھیکہ دار نے لواری ٹنل اپروچ روڈ پر مرمتی کام بند کروایا ہے ، یہ خبر کسی شر پسند شخص نے پوسٹ کیا ہے جس کو بعض فیس بکی صارفین نے کاپی پیسٹ کرکے چترال کے عوام کو گمراہ کرنے اور مجھے بدنام کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، جوکہ قابل مذمت ہے۔ محمد داود نے بتایا کہ انھوں نے ایک درخواست چند متعلقہ محکموں کو دیا ہے جس میں این ایچ اے کے زیر انتظام مختلف سڑکوں کی مرمتی اور بحالی کا کام ایک ٹھیکہ دار کو دیتے ہوئے تمام ضروری طریقہ کار اور ایس او پیز کو نظرانداز کر کے دینے اور کرپشن کا ذکر ہے ، جس میں لواری ٹنل ٹال ٹیکس، اپروچ روڈ اور گرم چشمہ روڈ کی مرمت اور بحالی کا کام بھی شامل ہے ۔
داود نے بتایا کہ این ایچ اے کے بعض حکام اّسی ایک ٹھیکہ دار کو نوازتے ہیں جوگزشتہ سال بھی عشریت اور بکرآباد ودیگرمقامات پر ترکول اور مرمتی کام ناقص کرکے یہاں سے رفو چکر ہوگیا تھا جس کے خلاف سوشل میڈیا میں ثبوت اب بھی موجود ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نے درخواست میں صرف یہی لکھا ہے کہ چترال کے مختلف مرمتی کاموں کو ایک ہی ٹھیکہ دار کو دیتے وقت ضروری قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث سرکاری خزانے کو کم از کم پندرہ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے اور اس کرپشن کی نشاندہی میں نے اپنی درخواست میں کی ہے۔
انھوں نے مذید بتایا کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ پر اگرمیری درخواست پر کام بند کردیا گیا ہے تو گرم چشمہ روڈ پر بھی کام بند ہونا چاہیے تھا اور لواری ٹنل پر ٹال ٹیکس بھی بند ہونا چاہیے تھا مگر ایسا کچھ نہیں ہے ،
انھوں نے چترال کے سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ لواری ٹنل اپروچ روڈ پر کام بند ہونے کی وجہ معلوم کریں اور چترال کے اس انتہائی اہمیت کے حامل کام کو معیار اور مقدار کے مطابق مکمل کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے سوشل میڈیا صارفین سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی خبر کو تحقیق کے بعد شائع کیا کریں ایسا نہ ہو کہ آپ کی وجہ سے کسی کو بہت بڑا نقصان پہنچے ، اور بعد میں اسکا ازالہ بھی ممکن نہ ہو۔
