The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت محکمہ فارسٹ کا اجلاس، جنگلات کی قانونی درجہ بندی کا اصولی فیصلہ

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت محکمہ فارسٹ کا اجلاس، جنگلات کی قانونی درجہ بندی کا اصولی فیصلہ

پشاور ( چترال ٹائمز رپرٹ ) صوبے میں جنگلات کے رقبے میں خاطر خواہ اضافے کیلئے صوبائی حکومت کے وژن کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جنگلات کے تحفظ ، ان کے بہتر انتظام و انصرام کیلئے ان جنگلات کی قانونی درجہ بندی کااصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضم اضلاع میں جنگلات کی قانونی درجہ بندی کا فیصلہ تمام قبائلی اضلاع کے عوام، قبائلی عمائدین اور دیگر تمام شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔


یہ فیصلہ پیر کے روزوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ محکمہ جنگلات کے ایک اجلاس میں کیا گیا،تاہم معاملہ حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ صوبائی وزراءاشتیاق ارمڑ ،انور زیب خان اور اقبال وزیرکے علاوہ ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظفر علی شاہ، سیکرٹری جنگلات اسلام زیب ، سیکرٹری قانون مسعود احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مقامی لوگوں اور عمائدین سے مشاورتی عمل کی روشنی میں ان اضلاع کے جنگلات کو گزارا فارسٹ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔اجلاس میں موجود ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراءاور ممبران صوبائی اسمبلی نے بھی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ضم اضلاع کے قیمتی جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے اور ان کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

منتخب عوامی نمائندوں نے اس سلسلے میں مقامی لوگوں کے مفادات کے تحفظ اور ا ±ن کی ضروریات کا خیال رکھنے کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قانونی درجہ بندی کے بعد بھی ضم اضلاع کے جنگلات مقامی لوگوں اور کمیونٹی کی ملکیت ہی رہیں گے اور صوبائی حکومت صرف ا ن کے تحفظ اور بہتر انتظام و انصرام کیلئے اقدامات اٹھائے گی جبکہ مقامی آبادی کی جلانے کی لکڑی اور ذاتی گھروں کی تعمیر کیلئے درکاری لکڑی کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھا جائے گااور وہ اپنی ذاتی ضروریات کیلئے جنگلات سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ان جنگلات کی درجہ بندی کے بعد ا ±ن کے انتظام و انصرام کیلئے جامع مینجمنٹ پلان تشکیل دیا جائے گااور اس مینجمنٹ پلان کی تشکیل میںبھی مقامی لوگوں اور دیگر شراکت داروں سے بھر پور مشاورت کی جائے گی۔


واضح رہے کہ ان جنگلات کی قانونی درجہ بندی کے بعد ان سے حاصل ہونے والی کل آمدن کا 20 فیصد حصہ انتظامی اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت کو حاصل ہو گا جبکہ باقی 80 فیصد آمدن مقامی آبادی اور کمیونٹی کو ملے گی تاہم اجلاس میں ضم اضلاع کے عوام کے وسیع تر مفاد میں پانچ سالوں کیلئے صوبائی حکومت کا 20 فیصد حصہ بھی مقامی آبادی کو دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے موسمیاتی تغیرات اور ماحولیاتی آلودگی کے چیلنجز کو قومی اور بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کا واحد موثر طریقہ جنگلات کا تحفظ ہے اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلئے کلین اینڈ گرین مہم شروع کررکھی ہے۔ قبائلی اضلاع میں پائے جانے والے جنگلات کو وہاں کی اصل خوبصورتی اور علاقے کے عوام کا سرمایہ ہیں جن کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں جنگلات کو فروغ دے کر وہاں کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے، علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ ضم اضلاع کے جنگلات کے انتظام وانصرام کیلئے مینجمنٹ پلان کی تشکیل میں مقامی آبادی سے بھر پور مشاورت یقینی بنائی جائے اور پلان کے تحت مقامی آبادی کی جلانے اور تعمیراتی لکڑی کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھا جائے۔ وزیر اعلی نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں جنگلات کے تحفظ اور جنگلاتی رقبے کے اندر پائی جانے والی معدنیات سے استفادے کے عمل میں توازن قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنائی جائے کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والی اقدامات کی وجہ سے وہاں پر معدنیات کے کام سے وابستہ مقامی لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔
<><><><><><><>

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی طرف سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے شہداءکے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات کوبذدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ان واقعات میںملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ اور انہیں جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ صوبائی حکومت شہداءکے ورثاءکو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات میں تین سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔


یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے شہداءکے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ان واقعات میں زخمی سکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لئے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ ملک میں امن و امان کے لئے سکیورٹی فورسز کو قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ملک میں امن کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس طرح کے بذدلانہ واقعات سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کرسکتے ۔
<><><><><><><><>

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , ,
51061

نیو رول آف لاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

یوروپی یونین نے خیبر پختونخوامیں شامل ہونے والے قبائلی اضلاع میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ”نیورول آف لا“پروگرام متعارف کرادیاہے جس کا مقصدقبائلی اضلاع میں قانون کی حکمرانی کا فروغ اور فوجداری نظام انصاف کوبہتربنانا ہے۔20ملین یورو کی مالی معاونت پر مشتمل یہ پروگرام 2025 تک جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی،صنفی مساوات، خواتین کو بااختیار بنانے، منشیات اور جرائم پر قابو پانے کے لئے قائم ادارے بھی پروگرام میں معاونت کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں شامل قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی، کرم، مہمند، باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان کو آزادی کے بعد بھی ستر سالوں تک دانستہ طور پر سرزمین نے آئین رکھا گیا۔

انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری محکموں اور عدالتوں نے کام توشروع کردیا ہے۔ مگر ان پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے شدت پسندوں نے اسے اپنا گڑھ بنادیا تھا۔ علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور امن کی بحالی کے لئے قبائلی عوام اور افواج پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں۔قبائلی عوام تک امن کی بحالی کے ثمرات پہنچانے کے لئے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی مالی و فنی معاونت سے سستے اور فوری انصاف کی فراہمی، خواتین اورکم مراعات یافتہ طبقے کے حقوق کے تحفظ، قانون کی عمل داری اورمختلف شعبوں میں خدمات کا معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔پروگرام کے تحت کمزور طبقات کو مفت قانونی امداد اور تنازعات کے متبادل حل کے ساتھ شہریوں کو قانون کے بارے میں آگاہی کے ذریعے انصاف تک رسائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

نیورول آف لاء پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمدنے کہا کہ ”مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر، خاص طور پر خواتین، کم مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقات کے لئے انصاف تک رسائی کوبڑھانے اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لئے کام کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑانے صوبائی حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو شہری حقوق کے تحفظ اور انصاف تک رسائی میں صوبے کو درپیش مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کا ایک اہم موقع قرار دیا اور کہا کہ ”خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں ” کوئی بھی پیچھے نہ رہے ”کے اصول پر پختہ یقین رکھتی ہے۔قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کرنا آسان نہیں تھا مگر اسے ناممکن بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

قبائلی عوام نے اس ملک کی آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں ان تک آزادی کے ثمرات پہنچانا ریاست کا فرض اور قبائلی عوام کو بنیادی حق تھا۔قبائلی علاقوں کو پسماندہ رکھنے اور وہاں کے محب وطن عوام کو بنیادی شہری حقوق سے محروم رکھنے میں جہاں ماضی کی حکومتیں قصور وار ہیں وہیں قبائلی علاقوں کے مراعات یافتہ لوگوں نے بھی دانستہ طور پر اپنے عوام کو بے خبر اور پسماندہ رکھا تھا تاکہ قبائلی علاقوں کے وسائل پر قابض رہ سکیں۔ قبائلی سرداروں، ملکوں، مشران، عمائدین اور پولے ٹیکل انتظامیہ کے ساتھ وسائل اور اختیارات بانٹنے والوں کو اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے علاقے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہئے۔

توقع ہے کہ نیو رول آف لاء پروگرام کے نفاذ سے اگلے چار سالوں میں خدمات کا معیار بہتر بنانے اور قبائلی عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اور لوگوں کے معیار زندگی میں فرق نظر آنے لگے گا۔ سانپ کا کاٹا رسی سے ڈرتا ہے۔ ماضی میں قبائلی عوام کی ترقی کے نام پراربوں روپے کی خرد برد ہوئی ہے۔ قبائلی عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ نیاپروگرام فوٹو سیشن تک محدود نہیں رہے گا اور اس کے ثمرات قبائلی عوام تک بنیادی شہری حقوق سے آگاہی، فوری انصاف کی فراہمی اور مادی فوائد کی صورت میں حاصل ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50020