The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی کابینہ کا  اجلاس، دس لاکھ خاندانوں کے لیے رمضان پیکج، شہدا پیکج اور تعلیم و صحت منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

صوبائی کابینہ کا  اجلاس، دس لاکھ خاندانوں کے لیے رمضان پیکج، شہدا پیکج اور تعلیم و صحت منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا اور انہیں ڈاکٹرز اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عمران خان کے آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو اس کا واضح مطلب ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کے مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے۔

صوبائی کابینہ مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان سے فوری طور پر ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کرائی جائے تاکہ ان کی صحت سے متعلق پائے جانے والے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں پر پولیس تشدد جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ایم این اے اور ایم پی ایز پر تشدد کی سامنے آنے والی تصاویر انتہائی دردناک ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے علی زمان کو اڈیالہ جیل کے باہر سے اٹھا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سادہ کپڑوں میں تشدد کرنے والے عناصر دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ صوبائی حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ علی زمان اور ان کے ساتھی پر تشدد کرنے والوں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ آن لائن کھلی کچہری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایک سیشن مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے تمام سیکرٹریز، وزرا، ڈی جیز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ہفتہ وار بنیادوں پر کھلی کچہری کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر کھلی کچہری کو ترجیح دی جائے تاہم صوبائی سطح پر کم از کم ہفتے میں ایک آن لائن کھلی کچہری لازمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے وسائل یا رسائی کی کمی کے باعث عوام اب گھروں سے اپنی آواز حکام تک پہنچا سکیں گے۔ ترقیاتی امور پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اے ڈی پی 2026-27 پندرہ فروری تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور امید ہے کہ اس پر کام مکمل ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اے ڈی پی 2026-27 پر بریفنگ کا آغاز اسی ماہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اے ڈی پی 2025-26 پر کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو اسی ماہ فاسٹ ٹریک پر ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے تمام لوازمات فوری مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف ملنا شروع ہو اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچیں

۔یہ اجلاس بدھ کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکر ٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، متعلقہ انتظامی سیکر ٹریزاور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔بعد ازاں اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک میں دس لاکھ سے زائد غریب خاندانوں کو ریلیف دینے کے لئے فی خاندان 12 ہزار 500 روپے رمضان سپورٹ پیکج دینے کی منظور ی دی گئی ہے۔یہ امداد ہر مستحق خاندان کے سربراہ کو براہِ راست ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے دی جائے گی۔ مفلس، بیواؤں، یتیموں، معذور، ٹرانس جینڈر اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو ترجیحی دی جائے گی جبکہ سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین اس کے اہل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 190 شہداء کے اہل خانہ کے لیے 496 ملین روپے شہدا پیکچ کے طور پر اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔اسی طرح کابینہ نے پیچیدہ اور مہنگے ترین علاج والے امراض میں مبتلامستحق مریضوں کے لیے مالی امداد بھی منظور کی۔معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ قرآن بورڈ کی تشکیل نو کرتے ہوئے کابینہ نے بورڈ کے 19 اراکین کی تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی منظوری دی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات کے تحت کابینہ نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز کے اراکین کی تقرری، خیبر پختونخوا کالاش میرج بل اور ہندو میرج (ترمیمی) بل منظور کیے۔ شفیع جان کے مطابق کابینہ نے خیبر پختونخواویمن ایمپاورمنٹ پالیسی برائے سال 2026تا2030 منظور کی۔یہ پالیسی چھ اہم اہداف کا احاطہ کرتی ہے جن میں معاشی سرگرمیوں میں شرکت، روزگار کی ضمانت،سماجی خدمات تک رسائی اور انسانی ترقی، سیاسی و سماجی قیادت میں فعال کردار،قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی،ڈیجیٹل اقدامات میں شمولیت اور رسائی،موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے دوران تحفظ یقینی بنانے کے لئے اقدامات شامل ہیں۔

معاون خصوصی شفیع جان کے مطابق صوبے میں فوڈ سیکورٹی اقدامات کے تحت کابینہ نے175,000,میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی، جس کی کل لاگت 19 بلین روپے سے زائد بنتی ہے۔ اسی طرح کا بینہ نے ملک میں چینی کی سپلائی کو مستحکم اور شفاف بنانے کے لئے شوگر کی ڈی ریگولیشن کی منظوری دی ہے۔شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے گبرال کالام اورمدین ہائیڈروپاور منصوبوں کے لئے اضافی مالی معاونت کے لئے لائحہ عمل کی منظوری دی تاکہ صوبے کی توانائی کے ان اہم منصوبوں کو تیز کیا جا سکے۔تعلیم کے شعبہ میں اہم فیصلے کرتے ہوئے کابینہ نے ہائی و ہائر سیکنڈری سکولوں میں 325غیر فعال کمپیوٹر/آئی ٹی لیبز کو فعال کرنے اور958 سکولوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی کی منظوری دی۔اس فیصلے کا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خیبر پختونخوا حکومت کی آرٹیفیشل اینٹیلی جنس سے جڑے تعلیمی اقدامات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اسی طرح کابینہ نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 175 سکولوں میں شروع ٹیلی تعلیم پائلٹ پروجیکٹ کی لاگت میں اضافہ کی منظور دی۔ اس سکیم کے ذریعے سائنس، میتھ، آئی ٹی اور انگلش میں آن لائن تعلیم فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ضلع ٹانک میں تحصیل کنڈی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ معاون خصو صی کے مطابق کابینہ نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں جاری پولیس انفراسٹرکچر پروجیکٹس، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈی آئی خان کے لیے اضافی گرانٹ اورآر۔ ایچ۔سی نظام پور ضلع نو شہرہ کو کیٹگری-ڈی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے پروجیکٹ اورہزارہ ڈویژن میں چھوٹے ڈیری فارمرز کی آمدنی بڑھانے کے لیے جاری ایک منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے دائرہ اختیار میں آر۔ پی۔ سی،مین ہول کورز کی تنصیب کا منصوبہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا گیا جس کی منظوری دی گئی اسی طرح باڑہ، ضلع خیبر میں فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اسی طرح کھلاڑیوں کی حوصلہ افزا ئی کے مقصد کے تحت بیرون ملک کک باکسنگ چیمپیئن شپ میں شرکت کے لئے کھلاڑی جادران خان کے لیے 1.5ملین روپے گرانٹ جبکہ مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کے لیے محکمہ سپورٹس کو20 ملین روپے گرانٹ کی فراہمی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے پروٹیکٹڈ، ریزرو اور گزارہ جنگلات کے احاطے کو کسی بھی ترقیاتی سکیم کے لئے استعمال میں لانے کی ایس او پیز میں ترامیم منظور کیں تاکہ ہائیڈرو پاور منصوبوں سے جڑے پاور ڈسٹریبیوشن کاموں کو مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیوں کے شیڈول میں توسیع کے حوالے سے ایک مراسلہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے کی منظوری بھی دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
117982

صوبائی کابینہ کا اجلاس; پنجاب حکومت کے رویے، وفاقی فنڈز اور گورننس پر سخت مؤقف

صوبائی کابینہ کا اجلاس; پنجاب حکومت کے رویے، وفاقی فنڈز اور گورننس پر سخت مؤقف

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اپنے حالیہ تین روزہ پنجاب دورے کے دوران پنجاب حکومت کے رویّے پر سخت تحفظات کا اظہار کیاہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت کا رویّہ غیر جمہوری، غیر اخلاقی اور قابلِ مذمت ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ دورے کے دوران خیبر پختونخوا کے کابینہ اراکین کو تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے مسلسل راستے بند کیے گئے، بازاروں کو زبردستی بند کروایا گیا، پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے پر ریسٹ ایریاز بند کروائے گئے اور مزارِ اقبال پر حاضری کے دوران لائٹس بھی بند کر دی گئیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ رویّہ اخلاقی اور ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے دوران اس قسم کا طرزِ عمل نہ صرف تشویش ناک بلکہ ناقابلِ فہم ہے۔ قومی یکجہتی کے متقاضی حالات میں نفرت آمیز رویّے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کے اس رویّے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کے ساتھ روایات سے بڑھ کر حسنِ سلوک کیا جائے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں کسی کو بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے ذمے خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی وزارتِ خزانہ نے منگھڑت پروپیگنڈے کے ذریعے فسکل ریلیز سے متعلق میڈیا ٹرائل کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو دیے گئے فنڈز کی مکمل تفصیلات سامنے لائے اور خیبر پختونخوا کے بقایاجات کا دیگر صوبوں کے بقایاجات سے موازنہ بھی پیش کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ بقایاجات کے حوالے سے باضابطہ خطوط لکھے جائیں اور تحریری جوابات حاصل کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی اور صحت و تعلیم کو صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق ہیلتھ اور ایجوکیشن خیبر پختونخوا حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں اور ان شعبوں میں بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز, سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کابینہ اجلاس کے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں اسلامی اصولوں کے تحت تکافل کمپنیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اس منظوری کے تحت خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی قائم کی جائیں گی۔ کابینہ نے جنرل تکافل کمپنی کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کمپنی کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 میں خیبر بینک کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صوبے میں اس نوعیت کا کوئی نیا ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جنرل تکافل کمپنی صحت اور دیگر رسک سے متعلق معاملات دیکھے گی، جبکہ فیملی تکافل کمپنی خاندان کے سربراہ کی وفات کی صورت میں خاندان کی کفالت کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ سیف سٹی منصوبے کا آغاز پہلے مرحلے میں پشاور سے کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان سمیت مزید اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سیف سٹی منصوبے میں نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، جہاں بعض اہداف پر 80 فیصد جبکہ دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دیگر شہروں میں بھی سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

سکوپ آف ورک میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی ضرورت پیش آئی، جس کی منظوری کابینہ نے دے دی۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات اجلاس میں پیش کی گئیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے لیے نامنکلیچر کی منظوری دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط پر پورا اترنے کی صورت میں ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔

پانچ آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی شفیع جان نے گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
116857

صوبائی کابینہ کا اجلاس: ریڑھی بان قانون، نئے ضلع ‘بر سوات’ اور سیکیورٹی اداروں کے لیے اربوں کے پیکیجز کی منظوری

صوبائی کابینہ کا اجلاس: ریڑھی بان قانون، نئے ضلع ‘بر سوات’ اور سیکیورٹی اداروں کے لیے اربوں کے پیکیجز کی منظوری

پشاور( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے کے وعدہ شدہ فنڈز، جو سہ ماہی بنیادوں پر جاری ہونے تھے، تاحال مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ریلیز نہیں کیے گئے۔ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ضم اضلاع کے عوام کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ترقیاتی اور فلاحی کام جاری رکھے جائیں۔ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کی بہنوں کے ساتھ مسلسل غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منگل کے روز واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس میں زہریلا کیمیکل شامل تھا، جس کے باعث وہاں موجود پرامن سیاسی کارکنان، پارلیمنٹیرینز، پارٹی قیادت اور عمران خان کی بہنوں کی طبیعت خراب ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس نوعیت کے غیر انسانی اور غیر جمہوری اقدامات جمہوری روایات کے منافی ہیں جن کی صوبائی حکومت بھرپور مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو سیاسی انتقام کی بجائے ملکی معیشت پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ پاکستان کی معیشت تباہ حال ہے اور دن بدن مزید کمزور ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ، زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور دیگر تمام معاشی اشاریے مسلسل نیچے جا رہے ہیں، مگر وفاقی حکومت عوامی فلاح کی بجائے صرف عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔

گورننس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے خود فیلڈ وزٹس کا آغاز کر دیا ہے اور تمام صوبائی وزراء اور ان کے سیکرٹریز کو ہدایت کرتاہوں کہ وہ ہر پندرہ دن میں لازمی طور پر اپنے تفویض کردہ اضلاع اور متعلقہ محکموں کے فیلڈ وزٹس کریں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ وزٹس سے عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم رہتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے گڈ گورننس روڈ میپ پر آئندہ کابینہ اجلاس میں چیف سیکرٹری سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی اور کابینہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کی سماجی و معاشی ترقی، امن و امان اور گورننس سے متعلق اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے احساس ریڑھی بان (اسٹریٹ وینڈرز) لائیولی ہُڈ پروٹیکشن ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے، جسے جلد صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد ریڑھی بانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ قانون کے تحت ہر شہر میں ریڑھی بانوں کے لیے جگہیں متعین ہوں گی جہا ں وہ بہتر ماحول میں ریڑھی بانی کر سکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ریڑھی بانی سے وابستہ ہیں اور قانونی تحفظ ملنے سے ریڑھی بانی ایک باقاعدہ کاروباری حیثیت اختیار کرے گی، جس کے ذریعے آسان روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ احساس ریڑھی بان قانون کے نفاذ کے بعد ریڑھی بان اپنے کاروبار کے لیے مختلف حکومتی قرضہ سکیموں سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق کابینہ نے “بر سوات” کے نام سے نئے ضلع کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر مٹہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پشاور میں سموگ کی روک تھام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو صورتحال کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی جس کے بعد مستقل حل کے لئے اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جن میں الیکٹر رکشے متعارف کروانا، درختوں اور سبزا میں اضافہ کرنا اور دیگر انتظامی اقدامات اٹھانا شامل ہوں گے۔

شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کابینہ نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)اور سپیشل برانچ کی استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کی منظوری دی۔اس سلسلے میں سی ٹی ڈی کے لیے 17 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے، جس میں سے سات ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جبکہ سپیشل برانچ کے لیے 14 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز سے اسلحہ، بکتر بند گاڑیوں کی خریداری، نئی بھرتیاں اور دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پروموشن آف ڈیجیٹل پیمنٹ بل 2025کی بھی منظوری دی، جس کے تحت دو سال کے دوران 170 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 21 خدمات کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے تحت لایا جائے گا۔

معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق کابینہ نے ڈی آئی خان میں سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین کے لیے 20 بستروں پر مشتمل پولی کلینک ہسپتال کے قیام کے لیے اراضی محکمہ محنت کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اسی طرح مانسہرہ میں قبرستان کی زمین کے لیے نان اے ڈی پی سکیم کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے چیف سیکرٹری سروس ڈیلیوری یونٹ کے قیام، ہری پور میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور تعمیر کے منصوبے کے لیے اضافی لاگت، اور پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔صوبائی کابینہ کا 43 واں اجلاس جمعہ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکر ٹری ہوم، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل نے شرکت کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
116651

صوبائی کابینہ کا اجلاس، محکمہ تعلیم میں اساتذہ کے لیے ای ٹرانسفر پالیسی 2025 کی منظوری دے دی گئی

صوبائی کابینہ کا اجلاس، محکمہ تعلیم میں اساتذہ کے لیے ای ٹرانسفر پالیسی 2025 کی منظوری دے دی گئی

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ناحق قید اور مسلسل آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قید میں انہیں سردیوں کا سامان بھی فراہم نہیں کیا جا رہا، اور عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن چلانا انتہائی شرمناک اقدام ہے۔ صوبائی حکومت اس ناروا اور غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ این ایف سی اجلاس میں صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے سب کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کی سربراہی صوبائی مشیر خزانہ کریں گے۔ اس کمیٹی کی سفارشات وفاق کو پیش کی جائیں گی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے کے حقوق کے لیے تمام سیاسی اور قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ این ایچ پی اور این ایف سی کے بقایاجات کے حوالے سے ہر ہفتے وفاق کو خط ارسال کیا جائے تاکہ تمام ریکارڈ برقرار رہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم سات سال میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے، اور 532 ارب روپے ابھی بھی بقایا ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے نئے تعینات شدہ سیکرٹریز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقرری مکمل میرٹ پر ہوئی ہے، اور توقع کی جاتی ہے کہ آپ میرٹ کی بالادستی کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی محکمے میں کرپشن کی شکایت موصول ہوئی تو فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں کی سفارشات فروری کے وسط تک پیش کریں، اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ تمام ترقیاتی کام عوام کی سہولت کے لیے ہوں۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں اساتذہ کے لیے ای ٹرانسفر پالیسی 2025 کی منظوری کے وقت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ نئی پالیسی بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق ہے اوراس سے میرٹ اور شفافیت کی بالادستی یقینی ہوگی اور اساتذہ اپنی توجہ تعلیم کے اصل مقصد پر مرکوز رکھ سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر پابندی عائد ہے، اور 400 سے زائد سفارشیں موصول ہونے کے باوجود کسی کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ کابینہ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ای ٹرانسفر پالیسی میں موجودہ سکول میں مدتِ تعیناتی، سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو اور سالانہ نتائج جیسے اہم اشاریے شامل ہیں۔ مزید برآں، معذوری، بیوہ، علیحدگی، اور شوہر یا بیوی کی تعیناتی کو بھی پالیسی میں وزن دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے 42ویں کابینہ اجلاس کے دیگر فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے اچھی طرزِ حکمرانی، بہتر عوامی خدمات اور کمزور طبقوں کی معاونت کے لیے اہم فیصلے کیے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے شعبہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا تفصیلی جائزہ لیا اور ای ٹرانسفر پالیسی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے لیے ’گڈ گورننس روڈ میپ‘ کے اہداف کی تکمیل کے لیے دو ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی جس میں پرائمری سکولوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری، ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں نئی اصلاحات شامل ہیں۔اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کابینہ نے خیبرپختونخوا ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی سیڈمنی کے لئے تین سو ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی، جس سے صوبے بھر خصوصاً ضم اضلاع کے طلبہ کو وظیفے فراہم کیے جائیں گے۔

کابینہ نے صوبے کے پہلے آرگن ڈونر مرحوم جواد خان کے اہل خانہ کو عمرہ پر بھیجنے کے لئے21 لاکھ روپے کی گرانٹ کی بھی منظور دی۔معاونِ خصوصی کے مطابق کابینہ نے مختلف انتظامی امور کی منظوری بھی دی، جن میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے لیے نامزدگی، ہائر ایجوکیشن اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ٹریننگ پشاور کے ڈائریکٹر کی تعیناتی، اور دو اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ایم ٹی آئی بنوں تبادلہ شامل ہے۔غربت کے خاتمے کے لیے شروع کئے گئے احسا س روزگار پروگرام کے لئے کابینہ نے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ پروگرام بے سہارا افراد کو 60 ماہ کی مدت میں بلاسود قرضے فراہم کر ے گا تاکہ وہ اپنا کاروبار قائم یا وسعت دے سکیں۔

اس پروگرام سے 8 ہزار مستحق افراد مستفید ہوں گے۔ اسی طرح کابینہ نے ضلع خیبر میں باڑہ ریور کینال سسٹم کی بہتری کے لیے بھی فنڈ منظور کیا۔کابینہ اجلاس میں خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال پشاور کے لئے 2130.165ملین روپے اور جمرود میں ہیلتھ سائنسز انسٹی ٹیوٹ کے لئے 454.156ملین روپے فنڈ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے ویکسینیٹرز کے لیے 253.160 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری دی۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی پالیسی بورڈ کے لیے 60 ملین روپے جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے لیے 1573.84ملین روپے کے اضافی فنڈ بھی منظور کیے گئے تاکہ ہسپتال میں مزید طبی آلات خریدے جاسکیں۔معاون خصوصی شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ٹرائبل میڈیکل کالج کے قیام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی اور ایک کینسر کے مریض کے علاج کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔

کابینہ نے 260 فیملی ویلفیئر سنٹرز کے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری دی، جس کی نئی لاگت 1976.093 ملین روپے ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ سمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بورڈکو 200 ملین روپے کی ایک بار کی گرانٹ دے کر اسے خود کفیل بنانے کا ہدف دیا گیا۔ دو زرعی تحقیقاتی اداروں کو سینٹر آف ایکسیلنس میں اپ گریڈ کرنے کے لیے پراجیکٹ فنڈ میں اضافہ کیا گیا۔مزید برآں، کابینہ نے قائدِ اعظم مزار فنڈ کے لیے 5 ملین روپے کی گرانٹ منظور کی، “قائدِ اعظم مزار فنڈ “بانی پاکستان کے مزار کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے بنایاگیا ہے۔ یہ فنڈ وفاقی وزارتِ نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔اس فنڈ میں وفاق، صوبے اور عوام حصہ ڈالتے ہیں۔ کابینہ نے تیراہ میدان کے علاقے شلوبر قمبر خیل کے واقعہ میں زخمی ہونے والے افرادکے لیے فی کس 25 لاکھ روپے کے معاوضے کی منظوری دی، ساتھ ہی پشاور ہائی کورٹ کے ججوں کے لیے دو بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی بھی منظوری دی۔

کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی ایک متفقہ قرارداد وفاق کو ارسال کرنے کی منظوری بھی دی، جس میں جنوبی وزیرستان اپر میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
116430

صوبائی کابینہ کا اجلاس، نئی پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی،  گندم کے ذخیرے اور خریداری سے متعلق امور، ترقیاتی سکیموں کی اضافی فنڈنگ اور دیگر فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے 

صوبائی کابینہ کا اجلاس، نئی پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی،  گندم کے ذخیرے اور خریداری سے متعلق امور، ترقیاتی سکیموں کی اضافی فنڈنگ اور دیگر فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 41ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کی پالیسی گائیڈ لائنز دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس کا واضح روڈ میپ دے چکی ہے اور سرکاری امور میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اجلاسوں میں آن لائن شرکت کو تر جیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ سرکاری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزراء کی حالیہ پریس کانفرنس کو غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسا رویہ عوام کو اشتعال دلانے اور جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کی صوبائی حکومت بھرپور مذمت کرتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عمران خان پورے پاکستان کے لیڈر ہیں جبکہ ان کی اہلیہ ایک غیر سیاسی اور باپردہ خاتون ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گڈ گورننس اور شفافیت کے فروغ کے لیے صوبے کے تمام سرکاری، خودمختار اور نیم خودمختار اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے کی جائیں گی اور کسی بھی قسم کی سرکاری بھرتی نجی ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے نہیں ہوگی۔انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن کے حالیہ اجلاس میں صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے تمام شرکاء نے صوبے کے اصولی مؤقف کی تائید کی ہے، تاہم این ایف سی میں ضم اضلاع کا 1375 ارب روپے کا شیئر شامل نہ ہونا ایک سنگین ناانصافی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے طورخم بارڈر کی 55 روز سے بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر کی ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ افراد کے لیے کھانے پینے اور تمام ضروری سہولیات کی فوری فراہمی کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے سول افسران بالخصوص ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے اور ان کی خریداری میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔کابینہ کا 41 واں اجلاس جمعہ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اورایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔

کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی مخصو ص نشستوں کی تقسیم کار فارمولے، صوبے کی نئی پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی، ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی رپورٹ، گندم کے ذخیرے اور خریداری سے متعلق امور، 9اور10 مئی کے سیاسی مقدمات کا معاملہ، خیبر پختونخوا شوکر کین اور شوگربیٹ بورڈ کی تشکیل،ترقیاتی سکیموں کی اضافی فنڈنگ اور دیگر فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔

معاون خصوصی اطلاعات نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستوں سے متعلق تقسیم کار فارمولے میں جنوبی وزیر ستان کے دو اضلاع میں تقسیم ہونے کے بعد ان دواضلاع میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ مزید غور خوض اور مشاورت کے لئے کابینہ کمیٹی کے سپرد کیا۔ یہ کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کریگی۔اسی طرح خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی بھی مزید غور و خوض کے لئے کابینہ کمیٹی کے سپردکی گئی۔ شفیع جان نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا شوگر کین اور شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ 2025-26 کے لئے ملز کے نمائندوں کے ناموں کی منظوری دی گئی۔

کابینہ کو صوبے میں گندم کے ذخیرے اور بین الصوبائی نقل و حمل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی جس پر کابینہ نے پہلے سے متعین کردہ کمیٹی کو اضافی گندم کی خریداری کے معاملے میں بوقت ضرورت اقدامات اٹھانے کا اختیار دے دیا۔اجلاس میں کڈنی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے دو مریضوں کے علاج کے لئے مالی امداد کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پلان اور ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز کے تحت فنڈز کی فرہمی کی منظوری دی گئی تاکہ جاری منصوبوں کو جلد از مکمل کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں سی ٹی ڈی کے لئے 150 ملین روپے سپشل گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

معاون اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کابینہ اجلاس میں پیش کی گئیں جن پر عمل درآمد کی کابینہ نے منظوری دے دی۔اجلاس میں ریڈیو پاکستان پشاورکے واقعہ کی انکوائری کا معاملہ صوبائی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے سپرد کرنے کے بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اور 10 مئی کو سیاسی انتقام کے تحت جو مقدمات درج کئے گئے ہیں اور جن کے ثبوت بھی دستیاب نہیں ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

chitraltimes cm kp sohail afridi chairing 41th cabinet meeting

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
116263

صوبائی کابینہ کا اجلاس، بعض سکولوں اور کالجوں کو پائلٹ بنیادوں پر آوٹ سورس کرنے  اور سرکاری کالجوں میں عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی گئی

صوبائی کابینہ کا اجلاس، بعض سکولوں اور کالجوں کو پائلٹ بنیادوں پر آوٹ سورس کرنے  اور سرکاری کالجوں میں عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی گئی

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا کابینہ کا 39 واں اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت جمعرارت کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اورایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے، اس فیصلے کی روشنی میں تین ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے،ان عارضی اساتذہ کی بھرتی پر سالانہ تین ارب روپے لاگت آئے گی۔

اسی طرح صوبائی کابینہ نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کو بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کے لئے موزوں قرار دینے کی منظوری دی جس کی رو سے ایسوسی ایٹ ڈگری ہولڈرز بھی بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کے لئے اہل تصور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کالج اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید بتایا کہ کابینہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے غیر منقولہ جائیداد کے انتقال پر عائد فیڈرل ٹیکس کو عدالت میں چیلنج کرنے کی منظوری دی ہے،غیر منقولہ جائداد کے انتقال پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔

اجلاس میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں سیاحتی مقامات میں انفراسٹرکچر کی بہتری، تزین و آراش اور صفائی کے لئے گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر اتھارٹیز کو ایک ارب روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سرکاری سکولوں میں انرولمنٹ کی شرح کو بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے بعض سکولوں اور کالجوں کو پائلٹ بنیادوں پر آوٹ سورس کرنے کی منظوری دی گئی جس کے تحت ایسے سکولوں اور کالجوں کو آوٹ سورس کیا جائے گا جن میں انرولمنٹ انتہائی کم ہو۔انہوں نے کہا کہ آوٹ سورسنگ سے ان تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور آوٹ سورسنگ کے بعد بھی ان سکولوں میں تعلیم بالکل مفت فراہم کی جائے گی اور تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ کابینہ نے جائیداد میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ویمن پراپرٹی رائیٹس رولز 2025 کی منظوری بھی دی۔

اجلاس میں ویمن کمیشن کی نئی چئیرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے ضلع پہاڑ پور اور ضلع اپر سوات کے ناموں سے دو نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اسی طرح کابینہ نے خیبر پختونخوا ماؤنٹین ایگریکلچر پالیسی کی منظوری دی،جس سے خیبر پختونخوا ماونٹین ایگریکلچر پالیسی متعارف کروانے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا۔ اجلاس میں فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری دی گئی،فارمیسی سروسز پالیسی ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی پالیسی ہے، کابینہ نے شہری علاقوں میں شجرکاری کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے 10 کروڑ روپے جبکہ دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لئے پانج، پانچ کروڑ روپے کی منظوری دی۔ کابینہ نے باجوڑ، تیراہ، کرم، وانا و دیگر اضلاع میں واقعات کے دوران شہداء کے لواحقین کے لئے خصوصی معاوضوں کی منظوری بھی دی۔

اجلاس میں کینسر اور بون میرو کے دو مریضوں کے علاج معالجے کے لئے 45 لاکھ روپے کی منظوری دیدی گئی۔ مشیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کے لئے بھی گرانٹس ان ایڈ کی منظوری دی۔ اجلاس میں صحت اور خصوصی بچوں کی تعلیم کے شعبوں میں کام کرنے والے تین غیر سرکاری تنظیموں کے لئے بھی چار کروڑ روپے گرانٹس ان ایڈ اور ڈبلیو ایس ایس سی ہری پور کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔اسی طرح رائیٹ آف وے پالیسی 2022 کے تحت رائیٹ آف وے چارجز ختم کرنے کی بھی اجلاس میں منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پشاور بنوں کو ہاٹ ڈی آئی خان میں ایف جی تعلیمی اداروں بی ایس بلاکس بنانے کے لئے نان ا ے ڈی پی سکیم کی بھی منظوری دی گئی۔مشیر اطلاعات نے بتایاکہ کابینہ نے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغانستان کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف فنڈ سے رقم استعمال کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
114442

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد منصوبوں کیلئے گرانٹ کی منظوری کے ساتھ کم از کم اجرت 36 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دیدی گئی

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد منصوبوں کیلئے گرانٹ کی منظوری کے ساتھ کم از کم اجرت 36 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دیدی گئی

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا کابینہ کا 38واں اجلاس جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔اجلاس کے فیصلوں سے متعلق وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بتایاکہ کابینہ نے عوامی فلاح، صحت عامہ، امن و امان، سیاحت و آثارِ قدیمہ اورجنگلات سے متعلق اہم اقدامات اور مختلف قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔جن میں بدلتے ہوئے میڈیا رجحانات اور تعلقات عامہ کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ صوبائی حکومت کی کمیونیکیشن سٹریٹجی کی منظوری بھی شامل ہے۔

مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ کابینہ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو 1247.500ملین روپے گرانٹ کی فراہمی کی منظوری دی جو باجوڑ کے بعض دیہات میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو خوراک اور غیر خوراک امداد کی فراہمی پر خرچ ہو گی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ یہ فنڈز فوری جاری کیے جائیں تاکہ بے گھر خاندانوں کی ضروریات کا بہتر طریقے سے خیال رکھا جا سکے۔

بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ امن و امان کے شعبے میں کابینہ نے ملک سعد شہید پولیس لائن کی دوبارہ تعمیر، داؤدزئی اور ویسٹ کینٹ پولیس اسٹیشنز کے لیے رہائشی ہاسٹلز، پشاور میں پانچ نئے تھانے اور آٹھ پولیس چوکیاں قائم کرنے کے نان اے ڈی پی منصوبے کی منظوری دی جس پر3625ملین روپے لاگت آئے گی۔ اس کے علاوہ نوشہرہ کے علاقے اکبرپورہ میں چار کنال زمین نئے تھانے کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی گئی، صوابی میں نئی تعمیر شدہ سب جیل کو ڈسٹرکٹ جیل کا درجہ دینے،پرانی جیل سے قیدیوں کی منتقلی اور 165 پوسٹوں کی نئی جیل کو شفٹنگ کی منظوری بھی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مانسہرہ کے آر۔ ایچ۔سی، اوگی کو کیٹیگری-ڈی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے، آؤٹ سورس کئے گئے صحت مراکز کے لئے فنڈفلو میکانیزم اور رخسانہ مدر اینڈ چائلڈ ٹرسٹ ہسپتال کے لیے ایک کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں کالاش و بہائی برادری کے تہواروں کے لیے9.5ملین روپے کی منظوری دی گئی۔اسی طرح شہری ٹرانسپورٹ کے لیے بی آر ٹی پشاور کو مزید 50 بسوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے لیے نوشہرہ میں ملک کے سب سے بڑے سفاری پارک کے قیام کی منظوری دی گئی جس کے لیے 560 ایکڑ زمین محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کی گئی۔ اسی طرح ٹانک کے علاقے بند پیرو میں 14 ہزار 718 ایکڑ بنجر زمین پرجنگلات اگانے اور وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے اسے محکمہ جنگلات کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کابینہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ ریسٹ ہاؤس کے تاریخی حصے کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے، اسلام آباد میں خیبرپختونخوا آرٹس اینڈ کرافٹس ڈسپلے سنٹر قائم کرنے اور ڈیموں والے اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لیے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا حصہ 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی منظوری دی۔ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے لیے کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو فنڈ کے منصفانہ استعمال کے لئے سفارشات مرتب کرے گی۔بیرسٹرڈاکٹر سیف کے مطابق دیگر فیصلوں میں ہیلتھ کیئر کمیشن رولز آف رجسٹریشن و لائسنسنگ کی منظوری، خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن رولز 2017 اور اسٹامپ ایکٹ 1899 میں ترامیم شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کم از کم اجرت 36 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری بھی دی۔مزید برآں ڈیرہ اسماعیل خان میں نادرا آفس کے قیام کے لیے عمارت کی فراہمی، صوبائی محتسب کے لیے ایم بی ایس-2 سکیل، ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک مریض کے گردہ کی ٹرانسپلانٹ کے لیے 60 لاکھ روپے امداد اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والے نیشنل یوتھ گیمز 2025 میں صوبائی دستے کی شمولیت کے لیے خصوصی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس کوفوڈ سیکورٹی کے حوالے سے گندم اور دیگر اجناس کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران بعض اجناس خاص کر گندم کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم صوبے میں گندم کے ذخائر اطمینان بخش ہیں اور ضرورت کے مطابق مزید خریداری کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں افغانستان کے زلزلہ متاثرین کیلئے 10 کروڑ روپے امداد کی منظوری کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں شہداء، ملک میں سیلابی صورتحال کے دوران اور افغانستان میں زلزلے سے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
113718

صوبائی کابینہ کا اجلاس، کالاش وادی کی سڑکوں کے لیے اراضی کی خریداری کے لئے 1583.807 ملین روپے اور بونی بوزوند تورکہو روڈ کی تعمیرکے لیے 507.241 ملین روپے کی فنڈنگ کی منظوری دی گئی

صوبائی کابینہ کا اجلاس، کالاش وادی کی سڑکوں کے لیے اراضی کی خریداری کے لئے 1583.807 ملین روپے اور بونی بوزوند تورکہو روڈ کی تعمیرکے لیے 507.241 ملین روپے کی فنڈنگ کی منظوری دی گئی

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 36 واں اجلاس منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں کئی اہم امور پر فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے صوبے کے امن و امان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ملک دشمن عناصر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کسی کو قبول نہیں، کیونکہ اس سے سب یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے شروع دن سے صوبے میں امن کے لئے جرگوں کا سلسلہ شروع کیا ہے،ان کوششوں کا مقصد دہشتگردی کے خلاف عوام کو آن بورڈ کرنا اور ان کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردی جس طرح سے پھیل رہی ہے یہ قابل قبول نہیں، حکومت کی عملداری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن اور لوگوں کا انخلاء ہماری حکومت کی پالیسی نہیں ہے، نہ ہم نے کسی کو آپریشن کی اجازت دی ہے اور نہ ہی آپریشن ہو رہا ہے۔باجوڑکے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باجوڑ کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کے لئے جرگے نے بہت کوششیں کیں،مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ٹارگیٹڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں،دفعہ 144 مقامی آبادی کے تحفظ کے لئے لگایا جا رہا ہے،ٹارگیٹڈ کارروائیوں کے نتیجے میں جو لوگ رضا کارانہ طور پر اپنی مرضی سے گھر بار چھوڑ رہے ہیں، انہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی،ان لوگوں کو بروقت سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کاروائیوں میں سویلین کا نقصان قابل قبول نہیں چاہے وہ کسی کی بھی طرف سے ہو۔

انہوں نے کہا کہ وفاق نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، صوبائی حکومت اس سلسلے میں ہوم ورک کر رہی ہے۔طویل اجلاس کے بعدکابینہ نے کئی اہم ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کی منظوری دی جن میں محکمہ زراعت ایکسٹینشن کے لیے گریڈ 9 کی 36 نئی فیلڈ اسسٹنٹ کی آسامیوں،انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسزکے لیے اراضی کی خریداری اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی کی سڑکوں کی تعمیر کے لیے منصوبے کی لاگت میں اضافہ شامل ہے۔ اس سیاحتی منصوبے کی نئی لاگت 3,500 ملین روپے سے بڑھا کر 4,278.276 ملین روپے کر دی گئی ہے۔ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے لیے مارکیٹ بیسڈ سیلری پالیسی 2025 کے تحت عملے کی بھرتی کی منظوری دی گئی تاکہ کرپشن کے خلاف کارروائیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔لوئر تناول بیر ویلی کو کمیونٹی مینیجڈ گیم ریزرو قرار دینے کی منظوری دی گئی، جس سے مقامی جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

کابینہ نے کئی اہم قوانین اور ترامیم کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دی، جن میں ویسٹ پاکستان ہسٹوریکل مساجد اور شرائنز فنڈ سیس (ترمیمی) ایکٹ 2025, خیبر پختونخوا انڈومنٹ فنڈ (کلاش کمیونٹی) بل، 2025اور صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس (ترمیمی) ایکٹ، 2025 شامل ہیں۔خیبر پختونخوا انڈومنٹ فنڈ (کلاش کمیونٹی) بل کے تحت کلاش کمیونٹی کی سماجی و ثقافتی تحفظ کے لیے 100 ملین روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔اجلاس میں دیہی علاقوں میں صفائی کے کلینلیس پروگرام کی منظوری دی گئی، جسے پہلے سال صوبائی حکومت فنڈ کرے گی اور بعد میں یہ خود انحصاری اختیار کرے گا۔اسی طرح کالاش وادی کی سڑکوں کے لیے اراضی کی خریداری کے لئے 1583.807 ملین روپے اور بونی بوزوند تورکہو روڈ کی تعمیرکے لیے 507.241 ملین روپے کی فنڈنگ کی منظوری دی گئی۔باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں عارضی طور پر بے گھر افراد کا کیمپ قائم کرنے کی منظوری دی گئی، اور پی ڈی ایم اے کو فوری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔پی ڈی ایم اے سویلین وکٹمز کمپنسیشن ریگولیشنز 2019 کے تحت، تیراہ، خیبر واقعے کے متاثرین کے لیے خصوصی معاوضہ کی منظوری دی گئی۔ مرنے والوں کے لواحقین کو 10 ملین روپے اور زخمیوں کو 2.5 ملین روپے دیے جائیں گے۔خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز اپیلیٹ ٹریبونل کے دو اراکین کو بدانتظامی کی بنیاد پر عہدے سے ہٹانے کی منظوری بھی دی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
112922

صوبائی کابینہ کا اجلاس، بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 50 نئی ڈیزل-ہائیبرڈ بسوں کی خریداری، بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز ودیگر کی منظوری دیدی گئی

Posted on

صوبائی کابینہ کا اجلاس، بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 50 نئی ڈیزل-ہائیبرڈ بسوں کی خریداری، بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز ودیگر کی منظوری دیدی گئی

پشاور ( نمائندہ چترلا ٹائمز ) خیبر پختونخوا کابینہ کا 34واں اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت جمعہ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔کابینہ نے بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 50 نئی ڈیزل-ہائیبرڈ بسوں کی خریداری کی منظوری دی، واضح رہے کہ عوامی مطالبے اور روٹ میں اضافے (چھ روٹس) کی وجہ سے مزید بسوں کی ضرورت تھی۔

ابتدائی طور پر ٹرانس پشاور نے 220 بسیں حاصل کی تھیں، بعد ازاں 2022 میں 24 مزید بسیں شامل کی گئیں، جس سے کل تعداد 244 ہوگئی ہے۔اجلاس میں صوبائی حکومت اور پاک قطر ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے درمیان معاہدے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے چترال کے ارندو گول اور اپر کوہستان فارسٹ ڈویژنز میں غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی کے استعمال سے متعلق طریقہ کار کے نفاذ کے لئے کمیٹی تشکیل دی۔ کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ رولز 2021 میں ترمیم کی منظوری دی،نئی ترمیم کے تحت بڈنگ کی مدت 60 دونوں سے کم کرکے 30 دن کردی گئی ہے۔

کابینہ نے ایرا کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے بقایاجات کی ادائیگیوں کے لئے نان اے ڈی پی سکیم کی منظوری دی۔ اجلاس میں بالاکوٹ مانسہرہ میں کٹیگری ڈی ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے پر آنے والی اضافی لاگت کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید طبی آلات کی خریداری کے لئے 346 ملین گرانٹ کی منظوری دی۔ اجلاس میں بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح کابینہ نے کینسر کی مریضہ پروین مختار کے علاج کے لئے دس لاکھ روپے امداد کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ریسرچ سینٹر کے قیام کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دی گئی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا این جی اوز رولز 2024 میں ضروری ترمیم کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں ضلع خیبر اور مہمند کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے لئے دو گاڑیوں کے خریدنے اور گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے صوبائی محتسب کی خالی آسامی پر روباب مہدی کی تعیناتی کی منظوری دی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے بجٹ برائے مالی سال 25۔2024 کی منظوری دیدی گئی۔ کابینہ نے گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی۔ چونکہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اس لئے صوبائی حکومت نے ٹرانسفارمرز کی مرمت پر خرچ ہونے والی رقم کی ادائیگی کے لئے وفاقی حکومت سے معاملہ اٹھا نے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈبلیو ایس ایس سیز اور ٹی ایم اوز کی بجلی کے بلوں کے بقایاجات کی بک ایڈجسمنٹ کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔

کابینہ نے مکھنیال ایریا کو ہری پور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں شامل کرنے کی منظوری دیدی اور اس سلسلے میں مروجہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لئے کابینہ کی کمیٹی تشکیل دیدی۔ اجلاس میں کلچر، ٹورازم اینڈ ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے رولز آف بزنس میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ کابینہ نے سوات، ایبٹ آباد اور ڈی ائی خان میں زمونگ کور قائم کرنے کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبے کو زمونگ کور پشاور میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا کے تمام رورل ہیلتھ سنٹرز کی بحالی اور 50 آر ایچ سیز کو چوبیس گھنٹے فعال سہولیات میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی لاگت کو 934.322 ملین روپے سے بڑھا کر 1707.47 ملین روپے کر دی ہے۔مزید برآں، ”خیبرپختونخوا کے تمام بنیادی مراکز صحت کی بہتری اور 200 بی ایچ یوز کو 24/7 اسکلڈ برتھ اٹینڈنٹس مراکز میں تبدیل کرنے” کی سکیم کی لاگت بھی 1652.166 ملین روپے سے بڑھا کر 2961.110 ملین روپے کر دی گئی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
111122

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، مختلف ایکٹ میں ترامیم کی منظوری اور پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کے رویے کی شدید مذمت

Posted on

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، مختلف ایکٹ میں ترامیم کی منظوری اور پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کے رویے کی شدید مذمت

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا کابینہ کا 31 واں اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کے رویے کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ واقعے کے تناظر میں بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے، ہم بھارت کے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مودی سرکار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پہلگام واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے اور یہ واقعہ بھارتی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا اور کہا کہ بھارتی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے پاکستان کے خلاف زہر اگل رہی ہے،اگر بھارتی حکومت اس واقعے کی آڑ میں کسی بھی جارحیت کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی،ملک کی سا لمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ ہمیشہ سے خطے کے امن کے لئے خطرہ رہا ہے۔کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا چیریٹیز ایکٹ 2019 کے سیکشن 12 میں ترامیم کے لیے مجوزہ بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس ترمیم کے تحت خیراتی اداروں کی رجسٹریشن ہر دو سال بعد ازسرنو کی جائے گی۔اسی طرح کابینہ نے ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو رولز 1968 میں ایک نیا حصہIX-Aشامل کرنے کی منظوری دی، جو کہ ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشنز 121، 122(2)، 129(1)، 148 اور 182 کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اس نئی ترا میم میں زمین کی حد بندی اور ناجائز قابضین کی بے دخلی سے متعلق اصول وضع کیے گئے ہیں۔کابینہ نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے دو ممبران کی تقرری کی منظوری بھی دی۔

علاوہ ازیں، کابینہ نے خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کو بچت شدہ فنڈز میں سے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم تنخواہوں اور دفتری اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔کابینہ نے پشاور بی آر ٹی سروسز کی رواں مالی سال میں بلا تعطل روانی کے لیے ایک ارب روپے کی سبسڈی/گرانٹ کی منظوری بھی دی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی منظور شدہ مشترکہ قرارداد نمبر 132 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”خیبرپختونخوا اسمبلی مجوزہ ترامیم برائے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ آزاد صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔

اسمبلی صحافتی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور صحافتی آزادی پر پابندی اور ان کو دبانے کی کسی بھی کارروائی کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کو سفارش کرے کہ ان تمام متنازعہ، غیر جمہوری اور جابرانہ ترامیم کو واپس لیا جائے۔”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سوشل ویلفیئر، سپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق بزنس رولز 1985 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت یہ محکمہ ہر سال جینڈر پیرٹی کی رپورٹ صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کرے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
101617

 صوبائی کابینہ کا اجلاس، سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کی فراہمی کے لئے فنڈ کی فراہمی کی منظوریدی گئی،  کڈنی، لیور، بون میرو ٹرانسپلانٹ کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔بیرسٹر سیف

Posted on

 صوبائی کابینہ کا اجلاس، سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کی فراہمی کے لئے فنڈ کی فراہمی کی منظوریدی گئی،  کڈنی، لیور، بون میرو ٹرانسپلانٹ کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔بیرسٹر سیف

اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی، کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی شرکت

*اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلے*

*شعبہ تعلیم میں اقدامات*
کابینہ اجلاس میں سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کی فراہمی کے لئے فنڈ کی فراہمی کی منظوری دی گئی ہے، مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف
کتابوں کی معیاری چھپائی اور دوبارہ استعمال سے متعلق پلان تیار کر کے کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
کابینہ اجلاس میں نئے تعلیمی سال میں داخلہ لینے والے بچوں کو مفت بستوں کی فراہمی کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا، حکام کو پلان کابینہ کے آئیندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

کابینہ اجلاس میں تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کے داخلے کے لئے حکمت عملی ترتیب دینے پر غور کیا گیا،
کابینہ نے ایسے بچوں کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا،

*پی ٹی سی کونسلز کے لئے فنڈ*
کابینہ اجلاس میں پیرنٹ ٹیچر کونسل کے لئے سالانہ فنڈ پانچ ارب سے بڑھا کر سات ارب کرنےکی منظوری بھی دی گئی
کابینہ اجلاس میں پی ٹی کونسلز کے ذریعے فنڈ کے مؤثر استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی

*صحت کارڈ ٹرانسپلانٹ و امپلانٹ سیکم کا آغاز*
کابینہ نے صحت سہولت کے تحت مفت ٹرانسپلانٹ و امپلانٹ سروس دینے کا فیصلہ کیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
کڈنی، لیور، بون میرو ٹرانسپلانٹ کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی
کوکلئیر انپلانٹ کا خرچہ بھی حکومت برداشت کرے گی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
اگلے مرحلے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کو صحت کارڈ میں شامل کیا جائے گا،

*میڈیسنل کینابیس*
کابینہ نے علاج، تحقیق و صنعتی مقاصد کے لئے کینابیس پلانٹ کو استعمال میں لانے کے لئے رولز کی منظوری دی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

*پشاور رنگ روڈ*
پشاور رنگ روڈ وارسک ٹو ناصر باغ لنک کی تعمیر کے لئے نان اے ڈی پی سکیم کی منظوری دی گئی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

*پشاور واٹر سپلائی*
مہمند ڈیم سے پشاور کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے واٹر سپلائی سکیم کی منظوری دی گئی, بیرسٹر ڈاکٹر سیف

*ٹی ایم اے کو مشینری کی فراہمی*
صوبے کے 132 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کو سینٹیش سروسز کے لئے مشینری کی خریداری کے لئے 3.6 ارب روپے مرحلہ وار فنڈ کی منظوری دی گئی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

*اپرینٹائسشپ رولز*
نوجوانوں کو فنی مہارت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے اپرینٹائسشپ رولز کی منظوری دی گئی،
رولز کی منظوری سے نوجوانوں کو کارخانوں میں کام سیکھنے کے مواقع فراہم ہوں گے، مشیر اطلاعات

*دینی مدارس کے لئے گرانٹ*
کابینہ نے دینی مدارس کے لئے مختص گرانٹ کی رقم 30 ملین سے بڑھا کر 100ملین کرنے کی منظوری دی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

*ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایکٹ*
اجلاس میں خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایکٹ 2025 کی منظوری دی گئی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

*انسپکشن ٹیم*
گورنر انسپکشن ٹیم اور صوبائی انسپکشن ٹیم کو ضم کرنے کی منظوری دی گئی
قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد گورنر انسپکشن ٹیم کی افادیت نہیں رہی تھی جس کو اب صوبائی انسپکشن ٹیم میں ضم کردیا گیا
صوبائی انسپکشن ٹیم کی کارکردگی مستحکم کرنے کے لئے کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی، مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
101090

صوبائی کابینہ کا اجلاس، صوبے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر شعبے میں میگا منصوبے متعارف کرنے کے عزم کا اعادہ،  تمام پناہ گاہوں میں افطار کے انتظامات کی اصولی منظوری بھی دی گئی

صوبائی کابینہ کا اجلاس، صوبے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر شعبے میں میگا منصوبے متعارف کرنے کے عزم کا اعادہ،  تمام پناہ گاہوں میں افطار کے انتظامات کی اصولی منظوری بھی دی گئی

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) ایک سال مکمل ہونے پر خیبرپختونخوا کابینہ نے صوبے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر شعبے میں میگا منصوبے متعارف کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔یہ عزم جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت منعقدہ کابینہ کے 26ویں اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی اور کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان کامیابیوں کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے جو 25 کلیدی شعبوں میں 625 حقیقی کامیابیوں پر مشتمل ہے۔اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے کابینہ اور محکموں کی مثالی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کامیابیاں شدید چیلنجز کے باوجود حاصل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہیں بولیں گے ہمارا کام بولے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران منعقدہ کابینہ کے 25 اجلاسوں میں مجموعی طور پر 661 فیصلے کیے گئے جن میں سے 610 پر عملدرآمد ہو چکا ہے اور مجموعی کامیابی کی شرح 92 فیصد ہے۔ اجلاس میں عوامی مالیاتی نظم و نسق، سروس ڈیلیوری، بنیادی ڈھانچہ، عوامی خدمات تک رسائی، شفافیت، سماجی تحفظ، اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، تعلیم، سیاحت، ثقافتی ورثے، اور صحت کی سہولیات جیسے شعبوں میں کامیابیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں خودکش حملے کی مذمت کی اور شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

کابینہ نے لیبیا میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے خیبرپختونخوا کے 16 افراد کے ورثاء کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے خصوصی معاوضہ دینے کی منظوری دی۔کابینہ نے صوبے کی تمام پناہ گاہوں میں افطار کے انتظامات کی اصولی منظوری بھی دی۔کابینہ نے سمگلنگ کی روک تھام کے لئے 12 صوبائی اور بین الصوبائی مشترکہ چیک پوسٹوں کے قیام کی منظوری دی، جو خیبر، مالاکنڈ، جنوبی وزیرستان، نوشہرہ، کوہاٹ، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں قائم کی جائیں گی۔

اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت سے 3.11536 ارب روپے فنڈز کی درخواست کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔کابینہ نے حمزہ فاؤنڈیشن کے لیے 10 ملین روپے سالانہ گرانٹ ان ایڈ جاری کرنے کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ ایسی خدمات کو صحت کارڈ اسکیم میں شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں چھ ٹائپ ڈی ہسپتالوں کے لئے جاری منصوبے کی لاگت میں اضافے اور دو دیگر ہسپتالوں کا انتظام محکمہ صحت کے تحت کرنے کی منظوری دی، نیز پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا بیرون ملک علاج کے منتظر حسنین کے علاج کے لیے مالی امداد کی منظوری بھی دی۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ فنڈ فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

مزید برآں، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز پالیسی بورڈ کے اراکین کی تقرری، جسمانی معذور افراد کی بحالی کے منصوبے کے چوتھے نظرثانی شدہ پی سی ون، پاکستان انجینئرنگ کونسل کی گورننگ باڈی کے لیے یو ای ٹی پشاور کے وائس چانسلر کی نامزدگی اور باجوڑ میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے منصوبے کو اے ڈی پی میں شامل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے سوات میں ونئی سے گاٹ روڈ کو آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی۔پشاور میں بزرگ شہریوں کے لیے سینیئر سٹیزن کلب کی عمارت کی تزئین و آرائش کے لیے 80 ملین روپے مختص کرنے اور عمارت کو لوکل گورنمنٹ سے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے خیبر پختونخوا روڈ ٹرانسپورٹ آرڈیننس 1961 کے سیکشن 4 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت 365 کلومیٹر سے زیادہ کے روٹ پر چلنے والی پبلک سروس گاڑیوں اور ٹرکوں میں دو ڈرائیورز رکھنا لازمی ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں 2000 سے 5000 روپے تک جرمانہ جبکہ مسلسل خلاف ورزی پر 5000 سے 10000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

کابینہ نے صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کی قرارداد نمبر 133 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی، جو کشمیری عوام کے حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ کشمیری عوام ہم سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں اور ان کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جانا چاہیے۔کابینہ نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رمضان المبارک کے چاند دیکھنے کے اجلاس کے انتظامات کے لیے ایک ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
99677

صوبائی کابینہ کا اجلاس، رمضان پیکج، گرلز کمیونٹی اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی، نرسنگ انٹرنشپ ودیگر کےعلاوہ ارباب نیاز اسٹیڈیم  کا نام تبدیل کرکے ”عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم ” رکھنے کی منظوری دی

صوبائی کابینہ کا اجلاس، رمضان پیکج، گرلز کمیونٹی اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی، نرسنگ انٹرنشپ ودیگر کےعلاوہ ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم  کا نام تبدیل کرکے ”عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم ” رکھنے کی منظوری دی

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 25واں اجلاس پشاور میں جمعے کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکریٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔ کابینہ نے رمضان/عید امدادی پیکیج کے لئے فنڈکی منظوری دے دی، جو صوبے بھر میں غریب، نادار، بیواؤں، یتیموں اور خواجہ سرا افراد کو فراہم کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ یہ امداد مستحق خاندانوں کو بینکوں اور ایزی پیسہ کے ذریعے 15 رمضان سے پہلے شفاف طریقے سے فراہم کی جائے۔ اس پیکیج سے 10 لاکھ سے زائد مستحق خاندان مستفید ہوں گے، ہر خاندان کو 10,000 روپے دیے جائیں گے اور بینک/ڈسبرسنگ چارجز صوبائی حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ مستحق افراد کو پوری رقم پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ رمضان کا آغاز 28 فروری یا یکم مارچ کو متوقع ہے، اس لیے تمام سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو فروری کی تنخواہیں اور پنشن 25 فروری 2025 کو ایڈوانس میں ادا کی جائیں۔ کابینہ نے ایبٹ آباد پبلک اسکول اینڈ کالج میں زیرتعلیم 15 یتیم طلبہ کے لیے 4.920 ملین روپے سالانہ گرانٹ کی منظوری دی۔

مزید برآں، کابینہ نے 3,687 اساتذہ کی 9 ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 1,028.673 ملین روپے کے فنڈز مختص اور جاری کرنے کی منظوری دی، تاکہ صوبے بھر میں 2,325 گرلز کمیونٹی اسکولوں میں زیرتعلیم 181,233 طالبات کی تعلیم بلا تعطل جاری رہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اسکولوں کے مستفید طلبہ کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ کوئی بھی لڑکی تعلیم سے محروم نہ رہے۔ کابینہ نے بی ایس نرسنگ پروگرام 2020 کے پہلے بیچ کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک سال کے لیے 458 نرسنگ انٹرن شپ نشستوں کی تخلیق کی منظوری دی، جس پر مجموعی طور پر 170.376 ملین روپے لاگت آئے گی، اور ہر انٹرن کو 31,000 روپے ماہانہ معاوضہ دیا جائے گا۔

کابینہ نے محکمہ اوقاف کے لیے مالی سال 2024-25 کے دوران 400 ملین روپے بطور گرانٹ ان ایڈ جاری کرنے کی منظوری دی، تاکہ واجب الادا تنخواہوں، پنشنز اور دیگر اخراجات کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈکے لیے 332.563 ملین روپے کی بچت اور جمع شدہ منافعے کو تنخواہوں اور معمول کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی، جو کہ محکمہ خزانہ کے قواعد سے مشروط ہو گی۔ کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے کیڈٹ کالج سوات فیز III کے قیام کے لیے اراضی کی قیمت میں 298.481 ملین روپے سے 468.013 مفلین روپے تک اضافے کی منظوری دی۔

کابینہ نے موٹر وہیکلز رولز 1969 میں ترامیم کی منظوری دی، جس کے تحت سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو بس/ٹرک اڈوں کا معائنہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، کابینہ نے سائنس و ٹیکنالوجی محکمے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کے رولز آف بزنس 1985 میں ترامیم کی منظوری دی۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا سٹی/تحصیل لوکل گورنمنٹ (رولز آف بزنس) 2022 میں مختلف ترامیم اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے سیکشن 25(1) میں ترمیم کی منظوری دی، جس سے مقامی منتخب نمائندوں کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔ کابینہ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پروستھیٹک اینڈ آرتھو ٹک سائنسز (PIPOS) کے بورڈ آف مینجمنٹ کی تشکیل نو کی منظوری دی۔ کابینہ نے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم شاہی باغ کا نام تبدیل کرکے ”عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم شاہی باغ، پشاور” رکھنے کی منظوری بھی دی۔

chitraltimes kp cabinet meeting 25th chaired by cm kp 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
99392

صوبائی کابینہ کا اجلاس۔ اپر چترال میں جوڈیشل کمپلیکس اور ایمرجنسی کے اعلان کی ایکس فیکٹو کی منظوری کے ساتھ صوبے میں متعدد منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

Posted on

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس۔ اپر چترال میں جوڈیشل کمپلیکس اور ایمرجنسی کے اعلان کی ایکس فیکٹو کی منظوری کے ساتھ صوبے میں متعدد منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی کابینہ کا 16 اجلاس، وفاقی حکومت سے پشتون امن جرگے کی قرار داد پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ،بیرون ملک سے لائی جانے والی جسد خاکیوں کو ان کے آبائی علاقوں تک ریسکیو1122 کے ذریعے کی منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کی منظوری، ڈیجیٹل میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے قیام کی منظوری دیدی گئی

صوبائی کابینہ نے پختون امن جرگے کی پیش کردہ قرارداد سے متعلق پیشرفت پر وفاقی حکومت سے وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا اور تجویز دی ہے کہ کمیٹی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت صوبائی اسمبلی میں تمام پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل ہو،اوروفاقی حکومت اس کمیٹی کی سفارشات کے مطابق وفاقی حکومت سے جڑے مطالبات پر پیشرفت یقینی بنائے۔ صوبائی کابینہ نے صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کی کوششوں سے جرگے کے پر امن انداز میں انعقاد کو سراہا اور موقف اختیار کیا کہ جرگے نے اپنے مطالبات پر مشتمل قرارداد پیش کی ہے اور اب اس پر پیشرفت کرنی ہے،صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ جو مطالبات صوبائی حکومت سے متعلق ہیں انہیں صوبائی اسمبلی میں پیش کرکے اتفاق رائے پیدا کی جائے گی۔صوبائی کابینہ کا 16و اں اجلاس وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔

صوبائی کابینہ نے ریلیف ڈپارٹمنٹ کو پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پر ایک ڈیسک قائم کرنے کے لئے اقدامات شروع کرنے کی اجازت دی تاکہ بیرون ملک سے لائی جانے والی جسد خاکیوں کو ان کے آبائی علاقوں تک ریسکیو1122 کے ذریعے کی منتقلی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس ضمن میں کابینہ نے تین ایمبولینسوں کی خریداری کے لیے 36 ملین روپے کی گرانٹ اور ریسکیو 1122 کو پی او ایل اور ایم اینڈ آر کے تحت ماہانہ 0.7 ملین روپے کا بجٹ کی منطوری دی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی ضرورت کے تحت سہولت فراہم کی جائے گی۔
دیگر اہم ایجنڈا ٓئٹمزپر فیصلہ کرتے ہوئے صوبائی کابینہ نے بورڈ آف ریونیو سے پاکستان کسٹمز کو کسٹم ہاؤس اور ویئر ہاؤسز کی تعمیر کے لیے ڈی آئی خان میں 40 کنال زمین کی منتقلی کی منظوری دی، پاکستان کسٹمز ایف بی آر کی ویلیوایشن ٹیبل کے مطابق زمین کے لیے 128.8 ملین روپے کی مارکیٹ قیمت ادا کرے گا۔

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے شیڈول -1 میں ترمیم کی منظوری دی، جس سے اطلاعات و تعلقات عامہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل میں ایک ڈائریکٹوریٹ آف ڈیجیٹل میڈیا قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔یہ تجویز محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے صوبے میں ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ،مقبولیت اور استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کی گئی جس کو سرہاتے ہوئے صوبائی کابینہ نے رول آف بزنس میں ڈیجیٹل میڈیا کو شامل کرنے کی منظوری دی تاکہ ایک ڈیجیٹل میڈیا ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔

کابینہ نے یکسپلوسیوپر قومی پالیسی تشکیل دینے کے لئے وفاقی حکومت کی تجویزسے اتفاق کیا۔ اگرچہ یہ موضوع 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل کیا گیا ہے اور اسے صرف ایسی ترمیم کے ذریعے واپس لیا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کے تمام صوبوں پر مساوی اثرات ہیں، اس لیے ملک کی سطح پریکساں قانون سازی کی ضرورت ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبہ سندھ نے پہلے ہی وفاقی حکومت کویہ اختیار دے چکا ہے اور پنجاب کے صوبے کی بھی یہی رائے متوقع ہے۔

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا سول سروس (تقرری، ترقی اور تبادلہ) رولز 1989 میں ترامیم کی منظوری دی جس کے تحت خواجہ سراؤں کے لیے BS-15 اور نیچے کی آسامیوں میں 0.5% کوٹہ مخصوص کیا گیا ہے۔ اس کوٹے پر انتخاب موزونیت کے مطابق ہوں گا، جس میں صوبے کے سماجی و ثقافتی ماحول کو مدنظر رکھا جائے گا۔ امیدوار کو میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا اور تقرریاں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ امیدواروں کی رجسٹریشن سے مشروط ہوں گی۔ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں صرف 457 رجسٹرڈ خواجہ سرا ہیں۔

سابقہ فاٹا کے علاوہ ڈومیسائل رکھنے والے ملازمین کی مشترکہ اپیل قبول کرتے ہوئے صوبائی کابینہ نے کابینہ کے12ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی چوتھی شرط پر نظرثانی کرتے ہوئے دیگر اضلاع کے ڈومیسائل کے حامل ملازمین کے لیے جزوی نرمی کی منظوری دی۔

کابینہ نے پروڈکشن بونس یوٹیلائزیشن کمیٹی کے چیئرمین کی نامزدگی کے لیے رہنما اصولوں اور پروڈکشن بونس رہنما اصولوں 2024 میں ترامیم کی منظوری دی پیٹرولیم ایکسپلوریشن اور پروڈکشن پالیسی 2012 کے تحت، پروڈکشن بونس اس وقت ادا کیا جاتا ہے جب کسی پیداوار ی علاقے سے تیل اور گیس کی تجارتی پیداوار شروع ہو جاتی ہے۔یہ پالیسی صوبائی حکومت کو گائیڈ لائنزجاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

کابینہ نے پارکس اور ہارٹیکلچر اتھارٹی بل 2024 کے مسودے کی منظوری دی اور تمام غیر آؤٹ سورس شدہ انسپیکشن ہٹس اور ریسٹ ہاؤسز کو سیاحت کے محکمے سے واپس آبپاشی اور جنگلات کے محکموں کو دینے کی منظوری دی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام انسپیکشن ہٹس کی لیز کے اختتام پر انہیں ان کے متعلقہ محکموں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ کابینہ نے ضلع اورکزئی میں تین کمیونٹی گیم ریزور کے قیام کی بھی منظوری دی۔

کابینہ نے خیبر ضلع میں بر قمبر خیل کی 12 کلومیٹر سڑک کی بہتری/کشادگی اور بحالی کی لاگت اور خیبر ضلع میں 7 کلومیٹر باڑہ بائی پاس کی لاگت میں اضافے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ضلع ٹانک میں آر سی سی پلوں کی تعمیر کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (خیبر پختونخوا) ایکٹ 2019 کے تحت بالائی چترال میں ایمرجنسی کے اعلان کی ایکس فیکٹومنظوری بھی دی۔ ضلع میں ایمرجنسی 2 اگست 2024 سے 30 اگست 2024 تک مون سون سیلاب کے دوران امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے نافذ کی گئی تھی۔ سرچ اینڈ نامینیشن کونسل کی سفارش پر صوبائی کابینہ نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن پالیسی بورڈ میں ڈاکٹر نوشیروان برکی کی شمولیت کی منظوری دی۔

خیبر پختونخوا انسانی حقوق کے فروغ، تحفظ اور نفاذ کے ایکٹ 2014 کی سیکشن 13 کے تحت صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایسی غیر سرکاری تنظیموں جوانسانی حقوق کے میدان میں کام کر رہی ہیں کے لئے قواعد 2024 کے مسودے کی منظوری دی۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کے چار ممبران کی نامزدگی کی منظوری دی۔ کابینہ نے اپر چترال اور دیر لوئر میں جوڈیشیل کمپلیکس کی تعمیر اور زمین کے حصول ومنتقلی؛ گومل یونیورسٹی سے زرعی یونیورسٹی ڈی آئی خان کو ڈیری کالونی ڈی آئی خان میں منتقل کرنے؛ خیبر پختونخوا کے لیے ڈیجیٹل گورننس اقدام کے عنوان سے اے ڈی پی اسکیم میں ترمیم؛ خیبر پختونخوا میں دینی مدارس/دارالعلوم کے لیے امداد؛ مانسہرہ میں ماڈل اسکول کی تعمیرکی لاگت میں اضافے، ضلع شانگلہ میں جوان مرکز کے قیام؛ اور مسکان یتیم خانہ انسٹی ٹیوٹ اور اومنگ اسپیشل چلڈرن اسکول سوات کی اپ گریڈیشن کے لیے مالی معاونت کی بھی منظوریاں دیں۔

صوبائی کابینہ نے خیبر میڈیکل کالج کے شعبہ فرانزک میڈیسن کے لیے فنڈز اور خیبر پختونخوا پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2012 کے سیکشن 14(iii) کے تحت احساس نوجوان، روزگار اور ہنر پروگراموں کے ذریعے نرم قرضوں کی فراہمی کے لیے اخوت اسلامی مائیکروفنانس کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے صوبے کے سرکاری کالجوں میں فیس معافی فنڈ کے تحت انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی بھی منظوری دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
94753

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، صوبہ بھر میں رحمت العالمین کانفرنسوں کے سرکاری سطح پر انعقاد ،مزدوروں کی کم سے کم اجرت 36000 روپے ماہانہ مقرر کرنے اورپولیس کے لئے 10 مزید بکتر بند گاڑیاں خریدنے کی منظوری دیدی گئی

Posted on

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، صوبہ بھر میں رحمت العالمین کانفرنسوں کے سرکاری سطح پر انعقاد ،مزدوروں کی کم سے کم اجرت 36000 روپے ماہانہ مقرر کرنے اورپولیس کے لئے 10 مزید بکتر بند گاڑیاں خریدنے کی منظوری دیدی گئی

\پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا بارہواں اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا۔ صوبائی کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔ کابینہ نے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لئے ضلع ٹانک اور لکی مروت کے لئے 791 نئی آسامیوں اور دہشتگردی کے کیسوں کی موثر پیروی کے لئے خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی میں پراسیکیوٹر کی 16 آسامیوں جبکہ پولیس کے لئے 10 مزید بکتر بند گاڑیاں خریدنے کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے قانون کے مسودے کی منظوری دیدی جس میں سمند پار پاکستانیوں اور ان کے خاندان والوں کے مسائل کے حل کا طریقہ کار اور سمندر پار پاکستانیوں کے شکایات کے ازالے کا مربوط نظام وضع کیا گیا ہے

وزیر اعلی سمندر پار پاکستانیوں کے کمیشن کے سربراہ ہونگے۔کابینہ نے صوبہ بھر میں رحمت العالمین کانفرنسوں کے سرکاری سطح پر انعقاد کی منظوری دیدی۔ یہ کانفرنسز صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر منعقد کئے جائیں گے جن میں نعت خوانی اور قرآت کے مقابلوں کے علاوہ سیرت النبی پر خصوصی نشستیں بھی منعقد کئے جائیں گے۔کابینہ نے خیبرپختونخوا رجسٹریشن آف برک کلن بل 2024 کے مسودے کی منظوری دیدی۔اس قانون سازی کا مقصد صوبے میں اینٹ کے بھٹوں کی رجسٹریشن اور بہتر انتظام و انصرام کے لئے ایک جامع اور موثر ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا ہے۔اس قانون پر عملدرآمد سے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کے اسباب کا تدارک ممکن ہوسکے۔ کابینہ نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت 36000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کی منظوری دیدی۔کابینہ نے خیبر پختونخوا جیل خانہ جات (ترمیمی) ایکٹ، 2024 میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت جیل اسٹاف کے لئے ٹریننگ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جائے گا کابینہ نے صوبے میں کھلاڑیوں کی بہتر فلاح و بہبود کے لئے خیبر پختونخوا اسپورٹس انڈومنٹ فنڈز کے لیے 500 ملین روپے کی منظوری دیدی۔

کابینہ نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں جوان مرکز کے قیام کی منظوری دی۔کابینہ نے سیڈار گالف کورس کی 962 کنال اراضی کی ملکیت کو ڈپٹی کمشنر سوات سے کھیل و سیاحت کے محکمے کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اسی طرح کابینہ نے خیبر پختونخوا پیدائش، انتقال، شادی اور طلاق یا شادی کی تحلیل (رجسٹریشن اور سرٹیفیکیشن) کے قواعد 2021 اور خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ فیسکل ٹرانسفر رولز 2016 کے قاعدہ 23 میں ترمیم کی منظوری دی۔ کابینہ نے صوبے کے 13 اضلاع میں حالیہ سیلاب کی ایمرجنسی رسپانس سرگرمیوں کے دوران کیے گئے 8.835 ملین روپے جبکہ کرغزستان سے پاکستانی طلباء کی واپسی کے دوران ہونے والے 143.59 ملین روپے کے اخراجات کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے اقتصادی بحالی اسکیم ”شمالی وزیرستان کے کاروبار کی بحالی (مرحلہ دوم) کے لئے موجودہ مالی سال 2024-25 کے لئے مختص رقم کو بڑھا کر 1500.000 ملین روپے کرنے کی منظوری دیدی۔کابینہ نے عید پیکیج فنڈ کے غیر استعمال شدہ رقم کو فلاحی شراکت فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔فلاحی شراکت فنڈ صوبائی حکومت کا ایک نیا اقدام ہے جس سے غرباء کو سپورٹ کیا جائے گا، صوبائی کابینہ کے اراکین نے اس فنڈ میں پہلے ہی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔

کابینہ نے انجینئر صاحبزادہ شبیر کے نام کی بطور ممبر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) خیبر پختونخوا کے لئے تین سال کی مدت کے لئے منظوری دی ہے۔کابینہ نے مال مویشیوں سے انسانوں کو منتقل ہونے والی بیماریوں کے تدارک کے لئے زنوٹیک ڈیزیز کنٹرول ایکٹ، 2024′ کے مسودے کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے ‘خیبر پختونخوا اینیمل فیڈ سٹف اور کمپاؤنڈ فیڈ ایکٹ، 2024’ کے مسودے کی بھی منظوری دیدی جس کا مقصد صوبے میں فیڈ سٹف اور کمپاؤنڈ فیڈ کی تیاری، اسٹوریج، سپلائی اور نقل و حمل کے فروخت اور مارکیٹنگ کو ریگولیٹ کرنا ہے۔کابینہ نے ضلع کرک، ہنگو اور کوہاٹ کے لئے تیل اور گیس کی رائلٹی کے حصے کو موجودہ 10% سے بڑھا کر 15% کرنے کی منظوری دیدی۔کابینہ نے جی ٹو جی بنیادوں پر پشاور سیف سٹی پراجیکٹ پر عملدرآمد کی منظوری دیدی، کابینہ نے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے بطور سپلیمنٹری گرانٹ 2.2 ارب روپے کی بھی منظوری دیدی۔ کابینہ نے محکمہ صحت میں سابقہ فاٹا کے مختلف کیٹیگری کے ملازمین کو ریگولیرائز کرنے کے لئے موجودہ مالی سال کے دوران پابندی میں نرمی اور نئی اسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی۔ اسی طرح کابینہ نے ایف سی پی ایس پارٹ ٹو کے لئے 190 stipendiary slots تخلیق کرنے کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے صوبے کے مختلف کٹیگری پریس کلبوں کے لئے سالانہ گرانٹ ان ایڈ برائے مالی سال 25-2024 کے علاوہ صوبے کے مختلف بارز کے لئے بھی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا سروس ٹریبونل ایکٹ میں چند ضروری ترامیم کی بھی منظوری دیدی۔

کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 56 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ قرارداد میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کو فلسطینی آزادی کی جدوجہد کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد میں فلسطینی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی مکمل حمایت کی گئی ہے، عالمی برادری فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ کرے۔ کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 35 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔ قرارداد میں انسانی حقوق کمیشن کی رائے کی توثیق کی گئی ہے جو جنرل اسمبلی کی قرارداد 1991/24 کے تحت تشکیل دی گئی، عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات میں مطلوبہ ثبوت کی کمی تھی، انسانی حقوق کمیشن چلائے گئے مقدمات مختلف حقوقِ آزادی اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے خلاف ہیں، انسانی حقوق کمیشن عمران خان کی عمر 71 سال ہونے کے پیش نظر انہیں جسمانی اور ذہنی صحت کے خطرات کا سامنا ہے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو غائب کر دیا گیا ہے اور ملک بھر میں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے، انسانی حقوق کمیشن نے اپنے موقف میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، عمران خان کی جبری حراست کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔ کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 50 کو وفاقی حکومت کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ قرارداد میں سابقہ ایم این اے مراد سعید کے خلاف جھوٹے مقدمات کے خاتمے اور ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد نمبر 65, 66 & 67 کو وفاق کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔قراردادوں کے ذریعے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے 76 سالہ غیر قانونی قبضے کا خاتمہ کیا جائے۔

بھارتی حکومت کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے استحصال کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا، کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کے طور پر جانا جاتا ہے، 1947 کے معاہدے کے تحت، کشمیر کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا تھا جو بھارت سے ہضم نہ ہوا اور جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا، مقبوضہ کشمیر کے ہمارے بھائی اور بہنیں بھارتی قابض افواج کی بربریت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کابینہ نے صوبائی اسمبلی کے مشترکہ قرارداد نمبر 48 کو وفاق کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔ قرارداد میں جرمنی میں افغان شرپسندوں کی جانب سے پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

chitraltimes cm chairing kp cabinet meeting 12th

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
92636

نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد منصوبوں کی منطوری

Posted on

نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد منصوبوں کی منطوری

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 9 واں اجلاس بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔نگران کابینہ اراکین اور چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاءسے اپنے خطاب میں نگران وزیراعلیٰ نے نئے کابینہ اراکین کو خوش آمدید کہا۔ نگران حکومت کے آئینی و قانونی اختیارات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ آئین اور الیکشن کمیشن ایکٹ میں نگران حکومت کا مینڈیٹ واضح ہے، نگران صوبائی حکومت اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں تک محدود رہے گی، یہ مکمل طور پر غیر سیاسی حکومت ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ نگران صوبائی حکومت کو امن و امان اور مخدوش مالی صورتحال کے دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانا نگران حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اعظم خان کا کہنا تھا کہ آمدن کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کا زیادہ تر دارومدار وفاقی حکومت پر ہے،سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں خیبر پختونخوا کا حصہ 19 فیصد بنتا ہے لیکن اس وقت صوبے کو این ایف سی کا صرف 14.6 فیصد حصہ مل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے وقت صوبے کو این ایف سی کا تین فیصد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ ضم اضلاع کی تیز رفتار ترقی کے لئے صوبے کو سالانہ 100 ارب روپے دینے کابھی وعدہ ہوا تھا۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اس مد میں وفاق کی طرف سے صوبے کے 500 ارب روپے بنتے ہیں لیکن اب تک صوبے کو اس مد میں صرف 103 ارب روپے ادا کئے گئے ہیں اوراس صورتحال میں قبائلی اضلاع کی ترقی ممکن نہیں ہے۔اعظم خان نے کہاکہ اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں اب تک وفاق کے ذمے 1200 ارب روپے واجب الادا ہیں اور بحیثیت وزیر اعلیٰ یہ تمام معاملات تحریری طور پر گذشتہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھا چکا ہوں۔انہوں نے صوبائی وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ نگران وفاقی حکومت کے ساتھ ان تمام معاملات کا فالو اپ کریں۔اپنی حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نگران صوبائی حکومت روزمرہ کے حکومتی معاملات میں شفافیت، میرٹ اور بہتر طرز حکمرانی پر خصوصی توجہ دے گی اور اس سلسلے میں انتظامی سیکرٹریوں کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں. انہوں نے محکموں کے انتظامی سیکرٹریز پر زور دیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اپنے متعلقہ وزرائ کو صحیح اور دیانتدارانہ مشورے دیں،وزرائ  اور سیکرٹریز اپنے محکموں میں بہتر طرز حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں اور محکموں میں اگر مالی بے ضابطگیوں کے کوئی کیسز ہوں تو ان کی نشاندہی کرکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں۔

بدھ کے روز نگراں صوبائی کابینہ کے ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں 7 نکات شامل تھے جن میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے پی سی۔I میں نظر ثانی کی منظوری، پشاور میں فورینسک سائنس لیبارٹری کا قیام،انسداد دہشتگردی عدالتوں کے لیئے ایڈمنسٹریٹو جج کی نامزدگی اور پولیس پبلک سکول کے اساتذہ کے کیس سے متعلق امور شامل تھے۔ نگراں صوبائی کابینہ نے اپنے اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون کا جائزہ لیتے ہوئے جانی خیل بنوں پولیس سٹیشن کے پی سی ون میں نظر ثانی اور پشاور میں فورینسک سائنس لیبارٹری کے قیام کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ کی فراہمی کی منظوری دی۔ان منصوبوں کی تکمیل سے خیبر پختونخوا میںدہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

اسی طرح نگران کابینہ نے انسداد دہشتگردی عدالتوں کے لئے چیف جسٹس پشاور ہائی کو رٹ کی سفارش پر سینئر جج جسٹس اشتیاق ابراہیم خان کی بطور ایڈمنسٹریٹیو جج نامزدگی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ضلع کوہاٹ میں قائم کئے جانے والے وومن اینڈ چلڈرن لیاقت میموریل ٹیچنگ ہسپتال اور نیشنل پروگرام فار ایمپرومنٹ آف واٹر کورسز ان پاکستان فیزII- منصوبوں کے پی سی ون کو دوبارہ نظر ثانی کے لیئے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (PDWP) کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں صوبائی محتسب آفس کے ملازمین کے سروس رولز کا ایجنڈا بھی زیر غور آیا جس پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پولیس پبلک سکول کے اساتذہ کے عدالت میں کیس کے حوالے سے قائم کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں۔ کابینہ نے ان سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے عمل در آمد یقینی بنانے کی لئے نگرں صوبائی وزیر سید مسعود شاہ کی سر براہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78420

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، خیبر پختونخوا منرل آکشن رولز 2022  اور مالاکنڈ ڈویژن میں تعینات عدالتوں کے 80 معاونین قاضیوں کی مدت ملازمت میں توسیع ودیگرامور کی بھی منظوری

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، خیبر پختونخوا منرل آکشن رولز 2022  اور مالاکنڈ ڈویژن میں تعینات عدالتوں کے 80 معاونین قاضیوں کی مدت ملازمت میں توسیع ودیگرامور کی بھی منظوری

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا میں 19 میں سے 9 اکنامک زونز لانچ کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ 05 نئے اکنامک زونز پر کام جاری ہے۔ ان اکنامک زونز میں مجموعی طور پر 340 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔ اسپیشل اکنامک زونز اور اکنامک زونز میں 1672 صنعتیں قائم ہیں جبکہ 167 بیمار صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ نئے اور اسپیشل اکنامک زونز میں مزید 363 نئے صنعتی پلاٹس الاٹ کیے گئے ہیں۔ ان صنعتی سرگرمیوں سے ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔اکنامک زونز سے 9 فیصد خواتین اور 91 فیصد مردوں کو روزگار حاصل ہوا ہے۔ جبکہ ان میں شہریوں کو 48 ہزار سے زائد براہِ راست روزگار کے مواقع ملے ہیں۔ یہ بات منگل کے روز وزیر اعلی کی صدارت میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتائی گئی۔

وزیر اعلٰی محمود خان نے اس سلسلے میں اکنامک زونز ڈیولپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور ادارے کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی۔ صوبائی کا بینہ نے سی ای او ازدمک جاویداقبال کے کنٹریکٹ میں تین سال توسیع کی منظوری دے دی۔ صوبائی کابینہ کا 84 واں اجلاس سول سیکرٹریٹ کے کیبنٹ روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئیر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ کابینہ نے وکلاء کے لئے ممنوعہ بور لائسنسوں کے اجراء کی منظوری دیدی. وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کا دائرہ عوام تک وسعت دینے کے لیے بھی کمیٹی طریقہ کار وضع کرے کابینہ نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صنعتی شعبے میں ٹائر جلانے پر ایک سال کے لئے پابندی کا فیصلہ کیا۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا منرل آکشن رولز 2022 کی منظوری دی۔ اسی طرح صوبے میں سرکاری دفاتر میں (Paper less) ماحول اور ای گورنینس کے لئے صوبائی وزراء، معاونین خصوصی اور مشیروں کے لئے محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کے پی کے آٹی بورڈ کے تعاون سے ڈیجیٹل لٹریسی ٹریننگ کے انعقاد کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں ڈیجیٹل لٹریسی پر کابینہ ارکان کے ساتھ ٹریننگ سیشن بھی ہوا۔ صوبائی کابینہ نے ڈرافٹ خیبر پختونخوا منرل آکشن رولز 2022 اور شریعہ نظام عدل ریگولیش کے پیراگراف 6۔اے کی روشنی میں مالاکنڈ ڈویژن میں تعینات عدالتوں کے 80 معاونین قاضیوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی بھی منظوری دے دی۔صوبائی کابینہ نے اینٹی ریپ(انوسٹیگیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں سپیشل جنسی جرائم کی تفشیش کے ایک خصوصی یونٹ (SSIOUs) کے قیام کی منظوری دی۔صوبائی کا بینہ نے ضلع مردان میں اوقاف کی لیز اراضی پر 6 سپورٹس گراونڈز کے تعمیر کی منظوری دے دی جن میں وومن یونیورسٹی مردان کے قریب 50کینال پر گراونڈ کی تعمیر، شہباز گڑھی 30کینال، غلہ ڈھیر50کینال، شامت پور 30کینال، طوروخاص 20کینال اور یوسی کنڈر میں 40کینال پر گراونڈ کی تعمیر شامل ہے۔ اسی طرح صوبائی کابینہ نے اوقاف کی 30کینال لیز اراضی پر صوابی سپورٹس کمپلیکس کی اپ گریڈیشن اور اوقاف ہی کی 66کینال لیز اراضی پر محب بانڈہ ضلع مردان میں سپورٹس گراونڈ کی تعمیر کی منظوری دے دی۔

کابینہ نے حفظ الرحمان کو بطور ٹیکنوکریٹ ممبر لوکل گورنمنٹ کمیشن تعیناتی اور تحصیل کونسل (پروسیجر فار کنڈکٹ آف بزنس اینڈ میٹنگز) بائی لارز 2022 کی بھی منظوری دیدی۔ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے سیکشن 113کے تحت صوبائی حکومت کومقامی حکومتوں کے لئے ماڈل بائی لازبنانے کا اختیار حاصل ہے۔ مذکورہ بائی لاز بھی ماڈل بائی لاز ہیں جن سے تمام مقامی حکومتوں کے معاملات اور اُمور میں یکسانیت یقینی بنائی جاسکے گی۔ اسی طرح بوسنیا کے شہر بی ہیک(Bihac) اور ایبٹ آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز صوبائی کا بینہ کے غورو خوص کے لیے پیش کی گئی کا بینہ نے اس سلسلے میں دونوں شہروں کے متعلقہ حکام کے دستخط کے لیے مفاہمت کی یاداشت تیار کرنے اور مفاہمت کی یاداشت کو وزات خارجہ کے توسط سے Bihac سٹی کے حکام کو بھیجنے کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا پرونشل ہاوسنگ اتھارٹی سروس رولز 2010کو منسوح کرنے کی منظوری دیدی کیونکہ پرونشل ہاوسنگ اتھارٹی سروس ریگولیشنز 2022کی منطوری کے بعد مزکورہ سروس رولز کی مزید ضرورت نہیں رہی۔

صوبائی کابینہ نے ضلع ایبٹ آباد میں ملک پورہ کے علاقے محلہ قاضی میں سڑک کی تعمیر کے لئے 24.11 مرلہ زمین محکمہ پولیس سے محکمہ مواصلات کو منتقل کرنے کی منظوری دے۔ اس سڑک کی تعمیر سے 15000 کی آبادی مستفید ہو گی۔اسی طرح صوبائی کابینہ نے ضلع دیر پائیں میں نئے تحصیل تالاش، ضلع ملاکنڈ میں اتمانخیل کے نام سے نئے تحصیل کے قیام اور ضلع مانسہرہ میں تناول کے نام سے نئے تحصیل کی منظوری دی۔ صوبائی کا بینہ نے مانسہرہ میں بجلی کے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے چکسیر شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ملازم آصف ولد زمین خان کو 10لاکھ روپے کے خصوصی معاوضہ پیکج کی منظوری دیدی۔اسی طرح بنک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرکے ممبران کی خالی آسامیوں کے لئے عابد ستار اور ڈاکٹر عالیہ ہاشمی خان کے ناموں کی منظوری دیدی۔

chitraltimes chief minister chairing kp cabinet meeting

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
69167

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے اور رولز کی منظوری  دیدی 

Posted on

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے اور رولز کی منظوری  دیدی

پشاور (چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے محصولات اور سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اعلان کردہ 10 ارب روپے کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے تمام قا نو نی و سیاسی راستے اختیار کیے جائیں گے اور شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے انصاف کا دروازہ بھی کٹکٹھا ئیں گے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے سیلاب کی تباہکاریوں کے مستقل تدارک کے لیے دریائے سوات پر ڈیم کی تعمیر کے لیے سروے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف سیلابی صورتحال کا مستقل تدارک ممکن ہوگا بلکہ بجلی کی پیداوار اور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، صوبائی چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو اور صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔

کابینہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلا عات و تعلقا ت عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کئے جانے والے سروے ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ متاثرین کی اپنے گھروں میں واپسی اور بحالی کو جلد از جلد یقینی بنایا جا سکے۔ کا بینہ کو بتا یا گیا کہ خیبر پختو نخوا وہ واحد صوبہ ہے جس نے متا ثرین کو ادائیگیا ں شروع کر دی ہے اور سروے مکمل ہو نے پر تمام ادئیگیا ں کر دی جا ئیں گی۔وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان نے اس موقع پر کابینہ کے نئے رکن بابر سیلم سواتی کو صوبائی مشیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے ساتھ تعصب برتتے ہوئے ابھی تک سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اعلان کردہ دس ارب روپے ادا نہیں کیے جبکہ بجلی کے خالص منافع کے تحت واجب الادا اربوں روپے کی رقم کی ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی جس کا مقصد صوبے کو معاشی مشکلات سے دوچار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری نظام میں ایسا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کو وسائل کی ادائیگی میں دانستہ تاخیر کی وجہ صوبہ مالی مسائل کا شکار ہے تاہم صوبہ مختلف مدات سے اپنے مالی مسائل کے لیے وسائل کا بندوبست کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے مستقبل میں دریاو¿ں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے تجاوزات کو ختم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ سیلاب کی صورت میں زیادہ نقصان نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے سیلابی صورتحال کے مستقل تدارک کے لیے دریائے سوات پر ڈیم بنانے کے لیے سروے کی بھی ہدایت کی اس ڈیم کی تعمیر سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی چھوٹے ڈیموں کی تعمیر و بحالی پر کام شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے تمام بورڈز اور اتھارٹیز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی متعلقہ رولز اور قوانین پر نظرثانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے صوابی کی تحصیل رزڑ کو سب ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری دی۔ کابینہ اجلاس میں بلدیاتی نمائندوں کو متعلقہ قوانین کے تحت اعزازیہ دینے کی منظوری دی گئی۔

اس پر سالانہ 1479.365 ملین روپے لاگت آئے گی۔ اسی طرح کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے تحت تحصیل و سٹی کونسل کے کنوینئر کا انتخاب باقاعدہ الیکشن کے ذریعے کرانے کی منظوری دی جبکہ اس الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے غیر تدریسی ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی استعداد بڑھانے اور عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بجٹ سپورٹ پروگرام پر گفت و شنید کرنے کی منظوری دی جبکہ کابینہ نے سیلاب سے تباہ حال ایریگیشن چینلز اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایشیا ئی تر قیا تی بینک سے آسان شرائط پر 60 ملین ڈالر قرضہ لینے کے لیے بات چیت شروع کرنے کی اجازت دینے کی بھی منظوری دے دی۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے گریڈنگ ٹرانسمشن کمپنی کیلئے 96 ملین روپے سپلیمنڑی گرانٹ کی فراہمی کی اصولی منظوری دی۔ صوبائی کابینہ نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے خیبر پختونخوا کنزرونسی اینڈ بائیو سفیر ریزرو رولز 2022 اور خیبر پختونخوا انوائرمنٹل امپروومنٹ فنڈ (KP-EIP)بورڈ رولز 2022 کی منظوری دی۔ ان رولز میں بورڈ کے اجلاسوں،  بورڈ کے فیصلوں،  بورڈ کے کمیٹیوں اور ماہرین کی ہائرنگ اور معاوضے سے متعلق جیسے ضروری امور شامل ہیں۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا فارسٹری کمیشن ایکٹ 1998 میں ترامیم کی منظوری دی جس کے تحت وزیراعلیٰ کمیشن کے چیئرپرسن جبکہ وزیر ماحولیات یا متعلقہ ایڈوائزر یا وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی وائس چیئرپرسن ہوں گے۔ صوبائی کابینہ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بٹ خیلہ کے قیام کے لئے ظفر پارک بٹ خیلہ میں محکمہ بلدیات کی ملکیتی 18 کنال اراضی محکمہ اعلی تعلیم کے نام پرمنتقل کرنے اور حلقہ 69 ارمڑ بالا میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قیام کے لئے محکمہ آبپاشی کی 3 کنال اور 3 مرلہ اراضی کی ملکیت محکمہ اعلی تعلیم کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ٹرانس پشاور کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ساخت میں ضروری ترامیم کی منظوری دی۔اس کے تحت خیبر پختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر کو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بطور Ex-Officio ممبر شامل کیا جائے گا۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات/علاقوں میں کمرشل مقاصد کے لیے غیر موزوں 59 ریسٹ ہاوسز کی ان کے متعلقہ محکموں (جنگلات، مواصلات وتعمیرات،آبپاشی اور بلدیات) کو واپس کرنے کی منظوری دی۔

صوبائی کابینہ نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کو مربوط بنانے اور صوبے میں ہونے والے نقصانات سے وفاق کو آگاہ کرنے کے لیے صوبائی سطح پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں ”پراونشل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر” PFRCC کے قیام کی منظوری دی۔ کابینہ نے محکمہ ہاو¿سنگ کی تقریباً 7 کنال اراضی محکمہ ایریگیشن کو منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔صوبائی کابینہ نے محکمہ ہاو¿سنگ کی تقریبا 7 کنال اراضی محکمہ ایریگیشن کو منتقل کرنے اور پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سابقہ فاٹا کے ریٹائرڈ یا ریٹائر ہونے والے 21 خاصہ دار فورس کے بیٹوں یا ریٹائرڈ ہونے والے خاصہ داروں کی جانب سے نامزد کردہ افراد کو EWZIKHASADARS” “کے طور پر فورس میں شامل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اسی طرح صوبائی کابینہ نے ڈرافٹ پیڈو ایکٹ 2022 کی منظوری دے دی۔ اس ایکٹ کی منظوری سے پیڈو ہائیڈل ڈیولپمنٹ فنڈ کیلئے فنڈ ریزنگ کی مجاز ہوگی۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارشات کی روشنی میں 3 شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں میں سے عامر خان جدون کو خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ صوبائی کابینہ نے ہائیڈل ڈیویلپمنٹ فنڈ آرڈیننس 2001 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دی۔

chitraltimes kp cabinet meeting oct 2022

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
67342